بنیادی صفحہ / صریر / کیا شخصی آزادی اپنے اختتام کی طرف ہے؟؟؟

کیا شخصی آزادی اپنے اختتام کی طرف ہے؟؟؟

کتاب: ٹیکنالوجی اور ہم 

مصنف: ڈاکٹر شاداب منور موسی 

تبصرہ: زکریا خان 

آج پرنٹنگ پریس کی غیر معمولی سہولیات کے نتیجے میں ہر روز نئی نئی کتابوں کا شائع ہونا تو  گویا ایک عام سی بات ہوگی لیکن ان میں چند ہی کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو ہماری توجہ حاصل کرپاتی ہیں اور جنہیں ہم ٹھہر کر پڑھنا بھی چاہتے ہوں۔ حال میں ایسی ہی ایک کتاب “ٹیکنالوجی اور ہم” شائع ہوئی ہے اس کتاب کے مصنف اورنگ آباد سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شاداب موسیٰ ہیں۔ یہ کتاب بنیادی طور پر ہر آن ترقی کرتی ٹیکنالوجی اور اس کے اس سیاہ پہلو سے بحث کرتی ہے جو مکمل طور پر انسانی زندگی کو اپنی دسترس میں لے لینا چاہتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے قدرے تفصیل سے یہ بات بتائی کہ کس طری Big-Tech کمپنیاں اپنے صارفین کےدل و دماغ کو، ان کے سوچنے سمجھنے کے ڈھنگ کو، حتی کہ ان کی پسند اور ناپسند کو قابو میں کر رہی ہیں،اس طرح کہ لوگ وہی کچھ دیکھیں جو یہ دکھانا چاہتے ہیں ہیں، اسی طرح سمجھیں جس طرح یہ سمجھانا چاہتے ہیں، اپنے اطراف میں ہورہی چیزوں کو اسی طرح دیکھیں اور قبول کریں جس طرح یہ قبول کروانا چاہتے ہیں۔ یہاں تک کہ انسان اپنی زندگی کے فیصلوں میں بھی ان کمپنیوں پر انحصار کرنے لگ جائے کیونکہ وہ آپ کو اور آپ کی نفسیات کو آپ سے زیادہ جانتے ہیں۔ اس موقع پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب ان بڑی کمپنیوں کے لیے کیوں کر ممکن ہوا یا ہو رہا ہے؟ یہ کتاب اس سوال کا جواب بھی پیش کرتی ہے۔ surveillance capitalism یا سرمایادارنہ نگرانی نظام کے تحت ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ “اس عمل میں لوگوں کا لوکیشن ٹریک کرنا، سرچ ہسٹری ،محفوظ کیے گئے فون نمبرات، انٹرنیٹ براؤز کرنے کی ہسٹری، اور بائیو میٹرک ڈیٹا وغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ آپ سوتے کب ہیں اور بیدارکب ہوتے ہیں، کتنی دیر موبائل کی بیٹری چارج کرتے ہیں اس طرح کی معلومات کی ایک طویل فہرست ہے۔” 

کتاب یہ راز بھی آشکار کرتی ہے کہ کس طرح گوگل فیس بک اور امیزون جیسی بڑی کمپنیاں اپنے صارفین کو ٹریک کرتے ہوئے ان کے ڈیٹا کو فروخت کر رہی ہیں۔ اور پھر اسے بڑی تجارتی کمپنیاں اپنی مصنوعات کی تشہیر اور فروغ کے لیے استعمال کررہی ہیں جسے”اٹینشن اکانومی “کہا جاتا ہے۔ جس کے ذریعے سے ان کمپنیوں کو ہر سال اربوں ڈالر کی مالیت کا فایدہ ہو رہا ہے۔ کتاب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح آزادی کا دم بھرنے والوں نے شخصی آزادی اور پرائیویسی کو سرے سے ختم کرکے رکھ دیا۔ 

ڈاکٹر صاحب نے بڑے مدلل حوالوں اور مثالوں کے ذریعے سے یہ بھی بتایا کہ ان کمپنیوں کے اقدامات کا تعلق انفرادی شخصیات یا محض تجارتی اغراض کے لیے نہیں ہے بلکہ اس سے کہیں آگے بڑھ کر لوگوں کے جمع شدہ ڈیٹا کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ مصنف نے امریکہ کی ایک آرگنائزیشن کیمبریج انالیٹکاکی مثال دی کہ کس طری اس نے بڑی کمپنیوں سے ڈیٹا خرید کر اس کا تجزیہ کرتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ کو الیکشن جیتنے میں مدد کی۔ آپ لکھتے ہیں ” اس ضمن میں کیمبریج انالیٹکا نے 16 انتخابی میدانوں میں 5.13 ملین ایسے ووٹروں کی نشاندہی کی اور ان کی جائے سکونت وغیرہ کو مد نظر رکھتے ہوئے مشورہ دیا کہ کہاں سے ریلی نکالی جائے، کن کن دروازوں کو کھٹکھٹایا جائے اور ٹیلی ویژن میں اشتہار دیے جائیں”۔ اسی بنیاد پر مصنف نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ ان سب کو حکومتوں اور دیگر افراد کی جانب سے مضبوط اقدامات کے ذریعے نہ روکا گیا تو وہ دن دور نہیں جب جمہوریت کے ستون زمین بوس ہو کر رہ جائیں گے اور شخصی آزادی کا وجود باقی نہیں رہے گا۔ 

مختلف حوالوں سے آپ نے بتایا کہ یہ کمپنیاں اپنے Apps کو کچھ اس طرح ڈیزائن کررہی ہیں کہ وہ استعمال کنندگان (یوزرس)کے لیے انتہائی دلچسپ بن جائیں اور صارفین اس سے زیادہ سے زیادہ وقت چمٹے رہیں۔ جس کے سبب انتہائی مضر اثرات لوگوں کی نفسیات اور جذبات پر ہورہے ہیں۔ جیسے مایوسی، تنہائی پسندی، احساس کم تری، لوگوں سے وحشت اور چڑچڑا پن وغیرہ۔ 

کتاب کے آخری حصے میں ڈاکٹر صاحب نے کسی حد تک ان سب سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے کچھ حل بھی تجویز کیے ہیں۔ مثال کے طور پر پروفیسر کال نیوپورٹ کے “ڈیجیٹل مینیمالزم” Digital Minimalism کو پیش کرتے ہیں جو کہ تین اصولوں پر مبنی ہے۔ (1) بے ترتیبی مہنگی ثابت ہوتی ہے۔ (2) اصلاح ضروری ہے۔ (3) ارادہ کرنا اطمینان بخش ہے۔ جس کے ذیل میں کچھ مشورہ دیے گئے، جیسے کہ آپ ہر چیز خریدنے اور استعمال کرنے (خصوصا ایپس) سے پہلے یہ دیکھیں کہ واقعی اس چیز کی آپ کو کتنی ضرورت ہے؟ یہ دیکھیں کہ آپ کی ضرورت کیا کسی اور آسان طریقے سے بھی پوری ہو سکتی ہیں؟ کیا یہ چیز واقعی آپ کے کام میں معاون بن سکتی ہے؟ اور اسی طرح اپنے موبائل میں ایپس کو کم سے کم کرنے کی کوشش کریں۔ پھر اسی کے ساتھ ایک “ڈیجیٹل بریک” کا مشورہ دیا گیا۔ یعنی آپ 30 دن کے لیے تمام غیر ضروری سوشل میڈیا اور ٹیکنا لوجی سے دور ہو جائیں۔ اس وقفہ میں اپنی زندگی کے معمولات پر ازسر نو غور کریں۔ اہم اور غیر اہم میں فرق کریں، اور اپنے دوستوں اور رشتےداروں سے ملاقاتیں کریں، ورزش اور چہل قدمی جیسی عادتوں کو اپنا معمول بنائیں تاکہ آپ کی نفسیاتی اور جسمانی دونوں صحت بہتر سے بہتر ہو سکے۔ 

دوران مطالعہ ایک احساس یہ بھی رہا کہ مصنف باتوں کو تیزی سے سمیٹ لینا چاہتے ہیں۔ بعض جگہ ضرورت سے زیادہ اختصار کا احساس ہوا تو کئی جگہ زبان بہت تکنیکی محسوس ہوئی، ممکن ہے یہ اس موضوع کی مجبوری ہی ہو لیکن شاید اسے مزید آسان فہم بنایا جا سکتا ہے۔ 

کتاب کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ مصنف نے جگہ جگہ بہت مدلل تحقیقی حوالے پیش کیے ہیں جس سے کتاب کی قدر و قیمت میں بہت اضافہ ہوگیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ تاریخ کے ہر دور میں طاقتور طبقے نے ہمیشہ سے عام انسانوں کی آزادی اور خصوصاً ذہنی و فکری آزادی کو سلب کرنے، اسے غلام بنانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ یہ کتاب بنیادی طور پر آزادی کو سلب کرنےکے لئے ہورہی آج کی کوششوں سے ہم  کو گہرائی سے واقف کراتی ہے ، جن کا ہمیں احساس بھی نہیں ہونے دیا جا رہا۔ یہ حال سے بحث کرتے ہوئے مستقبل کی طرف رہنمائی کی ایک کوشش ہے۔ میری رائے میں یہ کتاب ہر کسی کو پڑھنا چاہیے۔ اور خاص کر نوجوانوں کے لیے یہ انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ تمام نوجوانوں کو لازمی طور پر اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

(کتاب حاصل کرنے کے لیے واٹس ایپ کریں:   8447622919)

For Order, Contact +91 8447622919
Email [email protected]

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

ادبی صحافت آزادی کے بعد

تبصرہ:محمد عارف اقبال مصنف: عبدالحیّ اردو کے جواں سال محقق ڈاکٹر عبدالحئی ...