بنیادی صفحہ / نظر / جناح کے ساتھ ہندوستانی مؤرخین کی زیادتی

جناح کے ساتھ ہندوستانی مؤرخین کی زیادتی


شرجیل امام


جب بھی محمد علی جناح خبروں میں آتے ہیں، ہندوستانی مسلمان اپنے ہندو راشٹر وادی دوستوں کے عدم تحفظ کے جذبات کو بغیر کسی بنیاد کے بڑھاوا دینے لگتے ہیں اور ملک اور کمیونٹی کو نقصان پہنچانے کے لئے پاکستان کے بانی کی تنقید کرنے کے لئے باہر نکل آتے ہیں۔ ایسا تب بھی ہوا جب 2005 میں ایل کے آڈوانی نے ان کے مزار کی زیارت کی تھی۔ ایک دہائی کے بعد، ایسا ایک بار پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (ای یم یو)کے معاملے میں ہو رہا ہے۔ جدید ہندوستانی لوگ اور جناح کے درمیان کا رشتہ کافی الجھا ہوا ہے۔ ان کے تئیں، خاص طور پر ہندووں کا رویہ زبردست غصے اور پھٹکار کا ہے۔

جناح کی وطن پرستی کا پس منظر اس میں ایک اور پہلو جوڑ دیتا ہے۔ ان کو ایک ایسے انسان کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جس نے کرسی پانے کے ذاتی مقصد میں فرقہ وارانہ کیمپ کا دامن تھام لیا اور جس کی وجہ سے یہ ملک تقسیم ہوا۔ لیکن، نسلوں سے پڑھائے جا رہے سبق کے باوجود ہندوستانی مسلمانوں میں آج بھی تقسیم اور جناح کی کچھ یادیں بچی ہوئی ہیں۔ان میں سے بہت سے لوگوں کے لئے جناح تقسیم کے مرکزی کردار ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ پچھلی صدی میں‘ مسلم ہندوستان‘ کے سب سے عظیم رہنما بھی ہیں، جنہوں نے برٹش ہندوستان میں اس سرے سے اس سرے تک لاکھوں مسلمانوں کو جمع کرکے مسلم لیگ کو ایک قومی پارٹی بنایا۔ جناح کی تضاد والی امیج کو ایک دوسرے کے برعکس رکھنے میں قدرتی طور پر چھپی کشیدگی، وقت بہ وقت سطح پر آتی رہتی ہے، جیسا کہ ایک بار پھر اے ایم یو کے معاملے میں ہو رہا ہے۔وہاں جناح کی تصویر 1938 سے ہے، جو ہمیں اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ جناح کی اپنی ایک خاص شناخت‘ مسلم ہندوستان‘ کے سب سے اہم رہنماوں میں سے ایک کے طور پر تھی۔ یہ داخلی انتشار اور شورشرابا اس جانب بھی اشارہ کرتا ہے کہ ہندوستان کی عوام کو تقسیم سے پہلے کی اٹھا پٹک سے بھرے دس سالوں میں چلی بحثوں یا پاکستان کی تعمیر کی تحریک کے بارے میں ڈھنگ سے پتا نہیں ہے۔

اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ ہم پروپیگینڈہ سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اورراشٹر واد پر زبانی جمع خرچ کرنے کی سماجی ضرورت کے تحت رد عمل دیتے ہیں۔جناح پر پڑے راز کے پردے کو ہٹانے اور ایسے داخلی انتشار کو سلجھانے کے لئے یہ ضروری تھا کہ تقسیم پر ایک وسیع بحث کو ہمارے تعلیمی ڈھانچے کا حصہ بنایا جاتا۔ لیکن، (جناح کو) تقسیم کے وقت ہوئے تشدد کا قصوروار ٹھہرا دئے جانے کی حقیقت نے ان جیسی تاریخی شخصیت کے بارے میں جاننے کے راستے کو بند کر دیا ہے۔یہ تناسب سیاسی نمائندگی کی جائز مسلم مانگوں اور توقعات کے لئے جگہ نہ بنا پانے کی اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کانگریس کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اپنے بچاؤ میں کانگریس‘ ایک ملک‘ کے تکیہ کلام کو ہی بار بار دہراتی رہی ہے اور‘ ملک‘،‘ کمیونٹی‘ یا‘ جمہوریت‘ جیسے سنجیدہ عہدوں پر کسی فکری بحث کو اس نے ناممکن بنا دیا ہے۔ مسلم نمائندگی، الیکشن بورڈ اور مرکز و ریاست سے متعلق سوال کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان جھگڑے کی جڑ تھا۔

یہ وہ مسئلے تھے جن کو لیکر زیادہ تر مسلم پارٹیاں دو دہائیوں سے زیادہ وقت سے کانگریس سے یقین دہانی کی مانگ کر رہی تھیں۔جناح کے لندن سے لوٹ کر آنے اور 1934 میں مسلم لیگ کی کمان سنبھالنے کے بعد بھی انہوں نے ان مسائل پر کانگریس کے ساتھ کسی سمجھوتہ پر پہنچ جانے کی امید نہیں چھوڑی تھی۔ جناح نے سمجھوتہ پر پہنچنے کے لئے کانگریسی رہنماوں پر یقین جتانے کی کوشش بھی کی۔ ایسا سمجھوتہ کانگریس کی قیادت کے تئیں ہندوستانی مسلمانوں کے موہ بھنگ کو ٹال سکتا تھا۔ لیکن تقسیم پر بات کرتے وقت ان تین عہدوں پر شاید ہی کبھی بات کی جاتی ہے۔ اس کی جگہ تقسیم کے ہندوستانی بیان میں فرقہ پرستی، Pan-Islamismیا‘ نیو مدینہ‘ جیسے تصورات پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔زیادہ تر مسلم پارٹیوں نے حکومت ، خدمات اور فوج میں مسلمانوں کی نمائندگی کی گارنٹی کی مانگ کی تھی۔ انتظامیہ میں مسلمانوں کی ایک متعین حصیداری طے کرنے کی مانگ کی گئی تھی تاکہ وہ جانبداری کی وجہ سے پیچھے نہ رہ جائیں، جو بار بار ہونے والے مسلم مخالف گروہ بند تشدد کو دیکھتے ہوئے ایک حقیقی خطرہ تھا۔

مومن کانفرنس جیسی کچھ پسماندہ مسلم پارٹیوں نے اور زیادہ حفاظتی تدبیروں اور مسلمانوں کے اندر پسماندہ کمیونٹیوں کے لئے ریزرویشن کی مانگ رکھی تھی۔ اس سے بھی زیادہ اہم ہے کہ مسلم لیگ کے صدر کے طور پر جناح نے کانگریس سے فوج میں مسلمانوں کی حصیداری طے کرنے کی مانگ کی تھی، کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ‘ سیاسی حق، سیاسی طاقت سے ملتے ہیں‘ اور اگر دونوں کمیونٹی‘ ایک دوسرے کی عزت کرنا اور ایک دوسرے سے ڈرنا‘ نہیں سیکھتے ہیں، تو کوئی بھی سمجھوتہ کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔تیسرا اہم مدعا مستقبل کے ہندوستان میں مرکز کو دی جانے والی مربوط اہمیت کا تھا۔ مسلم اکثریت والی ریاستوں نے زیادہ حق دئے جانے کی مانگ رکھی جبکہ کانگریس دلی میں ایک زیادہ مضبوط مرکز والی حکومت کی حمایت میں تھی۔ ویٹو کا مدعا اس مرکز،ریاست سے متعلق مسئلے سے ہی جڑا ہے۔اگر مضبوط مرکز والی حکومت میں پارلیامنٹ میں ہندووں کی تعداد مسلموں کے تناسب میں تین گنی ہو اور ایک ایسا بل آتا ہے جس کی حمایت میں سارے ہندو ووٹ کرتے ہیں اور کوئی بھی مسلم ووٹ نہیں کرتا ہے، تو وہ بل تین چوتھائی اکثریت سے منظور ہو جائےگا۔

اس طرح سے کسی بھی مسلم نمائندے کے ذریعے ووٹ نہ کئے جانے کی حالت میں بھی اس بڑے بر صغیر کے پورے نظام کو متاثر کرنے والا کوئی قانون بنایا جا سکتا تھا۔جناح اس کو متناسب طریقے سے جمہوری? نہیں مانتے تھے اور انہوں نے کہا کہ یہ‘ بیلٹ باکس کے سہارے’ایک ملک کے ذریعے دوسرے ملک پر حکومت کرنے جیسا ہے اور اس سے بچاؤ کا ایک ہی راستہ مسلم کمیونٹی کو حکومت میں ویٹو طاقت دینا ہے۔

اوپر کی ساری مانگوں کا تعلق فرقہ وارانہ حقوق سے تھا۔ کانگریس نے اس لفظ کو اس سطح تک بدنام کر دیا کہ ہم اس لفظ کے پرانے اور زیادہ منطقی معنی کو ہی بھول گئے ہیں۔ فرقہ وارانہ کا معنی فرقے سے جڑا ہوا ہے۔نوآبادکار کے دور میں کئی مفکروں اور سیاست دانوں نے اسی معنی میں اس لفظ کا استعمال کیا ہے۔ لیکن کانگریس نے اس لفظ کا استعمال کچھ اس طرح سے کیا کہ ہم فرقہ وارانہ کو ایک منفی چیز ماننے لگے ہیں۔‘ فرقہ وارانہ‘ کا معنی سامنے والے کے خلاف نفرت یا تعصب رکھنا نہیں ہے۔ اس کا معنی، اپنی پہچان کو اپنے فرقے سے جوڑنا ہے۔ برٹش ہندوستان میں کئی ایسے فرقوں کی رہائش جن میں آپس میں شادیاں نہیں ہوتی تھیں۔ جو عمودی اور افقی طور پر منقسم تھے۔ مسلم اور ہندو ایسے دو عمودی منقسم فرقہ تھے۔ اس کے علاوہ ان کے اندر افقی ذات کی تقسیم بھی تھی۔ ہم آج بھی بینیڈکٹ اینڈرسن کی کتاب Imagined Communities کے اکادمی معنی میں ایک ملک نہیں ہیں۔جناح کا کہنا تھا کہ ہم ایک ملک تبھی بن پائیں?گے، جب ہم اقلیتی کمیونٹی کو محفوظ ہونے کا احساس دلا پائیں گے۔

اقلیتوں کی طرف سے بولنے والی پارٹی ایک فرقہ وارانہ پارٹی تھی۔ کانگریس نے‘ فرقہ وارانہ‘ کا معنی بدل دیا اور اس کو ایک حقارت بھرا لفظ بنا دیا۔ اسی طرح سے اس نے‘ سیکولرزم‘ لفظ کا غلط معنی نکالا اور اس کا غلط استعمال کیا اور اس کو مسلموں کو کسی بھی آئینی طاقتوں اور حقوق سے محروم رکھنے کا اوزار بنا دیا۔ اس طرح سے خود مختاری کا مسئلہ، فرقہ اور ملک کے درمیان کے رشتے کو لیکر بحث، یا کیا‘قوم‘ کا مطلب فرقے سے ہے یا ملک سے ہے، یہ سوال تقسیم کی بحث کے مرکز میں ہیں۔ کیا میرے پڑوسی کو بغیر کسی لیاقت اور پابندی کے میرے بدلے قانون بنانے کا حق صرف اس لئے ہے کہ وہ میرا پڑوسی ہے؟ کیا دو کمیونٹیز کو ایک ملک کہا جا سکتا ہے، جب وہ آپس میں شادی کی بات تو دور، ایک ساتھ کھانا بھی نہیں کھاتے ہیں؟ کیا اقلیت کمیونٹی کو، جن کے خلاف اکثریت کمیونٹی میں تعصب لبالب بھرا ہو، اپنے سارے حقوق کی سپردگی اکثریت کمیونٹی کے رہنماو?ں کے جھوٹے دلاسے کی بنیاد پر کر دینا چاہیے؟ کیا ایک مضبوط مرکز میں اقلیتوں کو ویٹو کا حق دئے بغیر اکثریت کمیونٹی کے تسلط کی اجازت ہونی چاہیے، جبکہ وہ اس بڑے براعظم میں آپ سے تین گنی تعداد میں ہو؟ کیا اکثریت کمیونٹی تین چوتھائی اکثریت ہونے کی طاقت پر آئین میں یک طرفہ طریقے سے ترمیم کر سکتا ہے؟ کیا ان افکار کے مدنظر کچھ ریاست، مثلاً، شمال مغرب اور مشرق کی ریاست الگ ہونے کا فیصلہ نہیں کر سکتے ہیں، کیونکہ ان کو ڈر ہے کہ ان کے ساتھ ناانصافی اور غلط سلوک کیا جا سکتا ہے؟

ان سارے سوالوں پر بڑے سے بڑا آزادخیال بھی ایک کٹر وطن پرست بن جاتا ہے اور ہندوستان کی یکجہتی اور عوام کے بھائی چارہ کی بات کرنے لگتا ہے۔ لیکن میرا ماننا ہے کہ یہ سوال ایک اکثر ہونے والی بڑی بحث کا صرف ابتدائی پوائنٹ ہیں اور جیسی جیسے ہندوستانی مسلمانوں کی حالت بدتر بنتی جائے?گی، یہ بحث بار بار ہوگی۔ جناح پر واپس لوٹتے ہوئے ہم یاد کر سکتے ہیں کہ مسلم لیگ کی کمان سنبھالنے کے بعد انہوں نے دو انتخابات میں پارٹی کی قیادت کی۔ کانگریس نے 1937 میں ہندو ووٹروں کو منظم کرتے ہوئے 70 فیصد سے زیادہ ہندو ووٹ اپنے کھاتے میں ڈال لیا، لیکن مسلم ووٹ یونئنسٹ پارٹی، مسلم انڈیپینڈنٹ پارٹی اور کرشک پرجا پارٹی جیسی کئی علاقائی پارٹیوں میں بٹ گیا تھا۔الانکہ، مسلم لیگ واحد پارٹی تھی، جس کو پورے ہندوستان میں ووٹ ملے اور جس کے کھاتے میں 10 فیصد مسلم ووٹ گئے۔

اس پوائنٹ پر کانگریس نے مسلم جماعتوں کے ساتھ کسی بھی اتحاد کے امکان کو خارج کر دیا۔ کئی کانگریسی اور جماعتی مسلمانوں نے اس کے بارے میں لکھا بھی ہے۔اتر پردیش اور بہار جیسے مسلم اقلیت ریاستوں میں ان کے دو سالوں کی حکومت کے دوران مسلموں کے خلاف تشدد میں اضافہ دیکھا گیا اور مسلمانوں کے درمیان مسلم لیگ کی مقبولیت بڑھتی گئی۔یہ یاد کرنا مفید ہوگا کہ مسلم لیگ کو مسلم پارٹیوں کو ہرانا تھا، کیونکہ کانگریس کو استثنیٰ کے طور پر ہی کوئی مسلم ووٹ مل رہا تھا۔ ان سالوں میں جناح نے جھارکھنڈ کی ایس ٹی پارٹیوں اور بی آر امبیڈکر جیسے ایس سی نمائندوں کے ساتھ اتحاد بنانے کی پیشکش کی اور اس کو عملی شکل بھی دی۔ 1946میں، جب انگریز ہندوستان چھوڑکر جانے کی تیاری کر رہے تھے، مسلم الیکشن بورڈ جناح کے پیچھے جمع ہو گیا تھا اور مسلم لیگ کو پورے برٹش ہندوستان میں قریب 80 فیصد مسلم ووٹ ملے۔ کانگریس اسی امکان سے ڈری ہوئی تھی، کیونکہ نہ کے برابر مسلم ووٹ ملنے کے باوجود یہ مسلموں کی نمائندگی کرنے کا دم بھر رہی تھی۔اس طرح آخری مرحلے کی بات چیت میں، جناح تمام مسلم سیاسی رجحانوں کے مشترکہ رہنما کے طور پر ابھر?کر آئے اور انہوں نے ان مانگوں کو دوہرایا، جو دہائیوں سے بات چیت کی میز پر رکھی ہوئی تھی۔ ان میں سے زیادہ تر مانگ کانگریس کو منظور نہیں تھیں اور انہوں نے کیبنیٹ مشن اسکیم کو بھی قبول?کر لینے کے بعد ٹھکرا دیا۔ یہ ایک حقیقت ہے، جس کا ذکر مولانا آزاد نے اپنی کتاب انڈیا ونس فریڈم میں کیا ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے یہ دلیل دینا مشکل ہے کہ مسلمانوں کے پاس تقسیم یا خانہ جنگی کے علاوہ اور بھی کوئی اختیار بچا ہوا تھا؟

1946انتخاب
ایک نکتہ جو قوم پرستانہ مباحثے میں تکرار کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے یہ ہے کہ 1946کے انتخاب میں ووٹنگ محدود تھی،اکثریت نے چوں کہ حق رائے دہی کا استعمال نہیں کیا تھا اس لئے مسلم لیگ کی فتح ہندوستانی مسلمانوں کی خواہشات کی صحیح طور پر نمائندگی نہیں کرتی ۔مسلمان درحقیقت ’سیکولر‘ تھے اور کانگریس کے حامی تھے۔اکثر یہ حوالہ دیا جاتا ہے کہ ووٹ دینے والوں کا تناسب ہندوستانی آبادی کا محض 11یا12فیصد تھا۔حالانکہ یہ اعداد و شمار بھی بے معنی ہیں کیوں کہ ان میں بچوں کو بھی شامل کرلیا گیاہے۔اگر ہم بالغ عمر آبادی کو پیش نظر رکھیں توووٹ دینے والوں کا تناسب 20 ہے۔مزید یہ کہ ووٹ دینے والی خواتین کی تعداد مرودوں کے مقابلے میں کافی کم تھی۔اگر ہم اعداد و شمار کا صنف کی بنیاد پر جائزہ لیں تو 10فیصد سے کم خواتین ووٹ دے رہی تھیں،جب کہ 40فیصد سے زائد مرد الیکٹوریٹ کا حصہ تھے۔اگر ہم اعداد و شمار کو اس طرح دیکھیں تو ہم ووٹنگ کے تناسب کو معمولی یا غیر اہم نہیں قرار دے سکتے۔مسلمانوں کے تناظر میں،برطانوی ہندوستان کے 4کروڑ میں سے ایک کروڑ سے زیادہ افراد کانام ووٹنگ لسٹ میں رجسٹر ڈ تھا۔جن میں مردوں کی غیر معمولی اکثریت تھی۔جن سیٹوں پر انتخاب ہوا ان میں جناح کی مسلم لیگ نے مسلمانوں کی طرف سے ڈالے گئے کل ووٹ کے 75فیصد ووٹ یعنی کل 4.5ملین ووٹ حاصل کیے۔ ساتھ ہی ساتھ مسلم لیگ نے وہ سیٹیں بھی جیت لیں جہاں مقابلہ نہیں تھا۔مسلم لیگ کی ریاست وار کارکردگی حسب ذیل تھی: (ملاحظہ فرمائیں ٹیبل 1)

محدود ووٹنگ کے آرگیومنٹ کے ساتھ ایک اور مسئلہ یہ تھا کہ اس کے ساتھ ایسے اعداد و شمار نہیں ہیں کہ جن کی بنیاد پر ہم ووٹ نہ دینے والوں کی ترجیحات کا اندازہ لگا سکیں۔کچھ ریاستوں میں جہاں مسلم لیگ مضبوط تھی ، مثلا بنگال یا مدراس،پارٹی کے لیے ملتے جلتے نتائج آسکتے تھے، اور دوسری ریاستوں میں یہ چند سیٹیں جیت سکتی تھی۔لیکن مسلم لیگ نے محدود لیکن بے حد اہمیت کی حامل ووٹنگ میں جوغیر معمولی برتری حاصل کی ،اس کی بنا پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مکمل ووٹنگ نتائج پر کوئی قابل ذکر اثرڈالتی ۔جب تک اس موضوع پر مزید کوئی تحقیق نہیں آجاتی، ’محدود ووٹنگ‘ کا دعوی ایک کمزور دعوی ہے جو تنہا یہ ثابت کرنے کے قابل نہیں ہے کہ مسلمانوں کی معتد بہ تعداد نے مسلم لیگ کی حمایت نہیں کی تھی۔
تقسیم کے بعدکے ہندوستان میں جناح پر ہونے والی بحثوں میں کچھ چیزوں کو بار بار دوہرایا جاتا ہے؛ان میں مذہبیت کی کمی، ان کی فرقہ پرستی، کس طرح انگریزوں نے اپنی پھوٹ ڈالو اورراج کرو کی پالیسی کے تحت ان کا استعمال کیا اور کس طرح سے انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کو اور کمزور کرکے ان کا نقصان کیا۔


غیرمذہبی ہونے کے الزام کو ثابت کر پانا مشکل ہے، کیونکہ ایسی ذہنیت کو ناپنے کا کوئی معیاری پیمانہ نہیں ہے۔ اسلامی قوانین کو لیکر ان کے خیال کیسے تھے، یا اسلام کیسے سماجی ڈھانچوں کو جنم دیتا ہے یا مسلم ممالک کی ارضی سیاسی حالت وغیرہ کو لیکر ان کی سمجھ کا اندازہ لگانے کے لئے ان کی تقریروں کو پڑھنا اور ان کے لمبے حکومتی کیریئر کے دوران ان کے ذریعے مجوزہ اصلاحوں کے بارے میں جاننا کافی ہوگا۔ان کی استعماری تعلیم کو اکثر ہندوستانی سچائیوں سے ان کے کٹے ہونے کی وجہ بتایا جاتا ہے۔ لیکن اس الزام میں بھی کوئی دم نظر نہیں آتا، کیونکہ زیادہ تر اعلیٰ رہنما غیرملک سے تعلیم لیکر لوٹے تھے۔


جیسا کہ ہم نے اوپر گفتگو کی، جناح کی فرقہ پرستی مثبت فرقہ پرستی تھی اور اس کو اس لفظ کے ہم عصر معنی کے پرزم کے سہارے نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ وہ یہ نہیں مانتے تھے کہ ہندوستان ایک ملک ہے، جیسا کہ ان کے ذریعے بار بار استعمال کئے جانے والے لفظ‘ براعظم‘ اور‘ بر صغیر‘ سے معلوم پڑتا ہے۔وہ کمیونٹی کے اس بحر اعظم میں ایک کمیونٹی کی نمائندگی کر رہے تھے اور اس عمل میں وہ صرف تعداد کی نظر سے کمزور کمیونٹی کے حقوق کو متعین کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔


یہ ایک باربار لگایا جانے والا الزام ہے اور باقی چیزوں کے علاوہ مختلف انتخابی بورڈ پر سوال اٹھاتا ہے۔ میں نے مختلف انتخابی بورڈ کے اوپر گفتگو کی ہے۔ اس کے علاوہ، مومن کانفرنس بھی مختلف انتخابی بورڈ کے چرمرانے کے بعد اپنا وجود نہیں بچا سکا اور پسماندہ مسلمانوں کی تنظیم بھی سکیورٹی شیلس کو ہٹا لئے جانے کے بعد نہیں ٹک سکے۔


دوسری طرف مشرقی پاکستان کے پہلے انتخابات میں پاکستان کانگریس نے 30 سے زیادہ سیٹوں پر جیت درج کی، کیونکہ وہاں مختلف انتخابی بورڈ کو بنائے رکھا گیا تھا۔ اس لئے یہ صحیح ہے کہ انگریز مسلموں اور ہندوو?ں کو منقسم کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مختلف انتخابی بورڈ یا اوپر گفتگو کئے گئے حاکمیت کے مسائل کی حقیقت میں کوئی بنیاد نہیں ہے اور یہ صرف اقتدار کے لئے حکمراں طبقے کے ذریعے کی جانے والی چالبازی ہے۔


آخر میں، تقسیم کے ذریعے اور کمزور کر دئے گئے ہندوستانی مسلمانوں کی شکایتوں پر آتے ہیں۔ پہلی بات، یہ صحیح ہے کہ تقسیم سے ہندوستانی مسلمانوں کا سب سے زیادہ نقصان ہوا، لیکن اس کے لئے جناح یا مسلم لیگ کو قصوروار ٹھہرانا تاریخ کا صحیح سبق نہیں ہے۔جناح کا کہنا تھا کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم تعداد کے حساب سے 15 فیصد ہیں یا 25 فیصد ہیں۔ جب تک ہمارے لئے خصوصی حفاظتی تدبیر نہیں کی جائے ?گی، ان کے پاس اقتدار پر اجارہ داری قائم کرنے کے سارے وسائل ہیں۔دوسرے لفظوں میں مسلم اکثریت ریاستوں نے ہندو تسلط والے مرکزی ہندوستان میں رہنے کی جگہ الگ ہونے کا فیصلہ کیا، کیونکہ ان کو اس کے علاوہ کوئی اور اختیار نظر نہیں آیا۔ اس لئے تقسیم کے لئے ان کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، یہ دراصل کانگریس کے ذریعے تیار کر دئے گئے حالات کا نتیجہ تھا۔دوسری بات، تقسیم کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کی تکلیف جناح کی دین نہیں ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کو قدامت پسند ہندو طاقتوں کے علاوہ جابرانہ ریاست کے ذریعے بھی مارا گیا ہے، جس نے ان کو پہلے دن سے ہی ہر میدان میں نمائندگی سے دور رکھا۔


جناح کے پاکستان میں بھی ہندووں کے لئے مختلف الیکشن بورڈ کا انتظام کیا گیا، لیکن ہندوستان میں مسلمانوں کو اس سے محروم رکھا گیا۔ ہمارا نقصان جناح نے نہیں، بلکہ کانگریس اور بی جے پی جیسے اس کے جانشینوں نے کیا ہے، جنہوں نے ہمارا استحصال کیا ہے۔جناح نے جو سوال اٹھائے، وہ آج بھی بامعنی ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت کمیونٹی ہونے کے ناطے ہندوستانی مسلمانوں کو اکثریت پسند جمہوریت سے کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ان کروڑوں گھرے ہوئے مسلمانوں کی سیاسی جدو جہد آنے والی صدیوں میں تکثیری جمہوریت کے معنوں کی تشریح کرے?گا۔ایایم یو سے جناح کی تصویر نہیں ہٹائی جانی چاہیے۔ بلکہ ہمیں ایسی اور ہزاروں تصویروں کی ضرورت ہے۔(بشکریہ دی وائر)

SHARJEEL IMAM
PhD Modern History
Jawahar Lal Nehru University
New Delhi
Email:[email protected]

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

“اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے”

ڈاکٹر حسن رضا، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز، نئی دہلی “امت ...