بنیادی صفحہ / رزم / جامعہ ہمدرد

جامعہ ہمدرد

محمد صادق پرویز

جامعہ ہمدردوطنِ عزیز ہندوستان کا عظیم اور معروف تعلیمی ادارہ ہے۔ ہزاروں طلبہ ہر سال یہاں کا رخ کرتے ہیں اور یوں اس ادارے میں کسبِ علم کا خواب شرمندئہ تعبیر ہوتا ہے۔ اعلیٰ اور معیاری تعلیم کا حصول ہرطالب علم کا بنیادی حق ہے۔ جامعہ ہمدرد میں اعلیٰ اور معیاری تعلیم کا معقول نظم ہے۔ جامعہ ہمدرد جنوبی دہلی کے تغلق آباد علاقہ میں واقع ہے۔ اس کا قیام ۱؍اگست ۱۹۸۹ء میں ہوا۔ اپنے قیام کے ابتدائی زمانہ سے ہی جامعہ ہمدرد ترقی کی منازل طے کرتا رہا اور ۲۰۱۷ء میں فارمیسی کے میدان میں ہندوستان میں اول مقام حاصل کیا۔

جامعہ ہمدرد کے قیام کا تاریخی پس منظر:

حکیم حافظ عبدالمجید نے جامعہ ہمدرد کے قیام کی ابتدائی کوشش کی۔ انھوں نے ایک چھوٹی سی یونانی کلینک قائم کی۔ ۱۹۰۶ء کی اس مخلصانہ کوشش کے نتیجے میں ہی ۱۹۸۹ء میں جامعہ ہمدرد کو Deemedیونیورسٹی کا درجہ حاصل ہوا۔ حکیم حافظ عبدالمجید اپنے وقت کے معروف حکیم تھے۔ ان کا اولین مقصد یونانی طب (Unani Medicine)کو سائنسی نصاب میں شامل کروانا تھا تاکہ یونانی میڈیسن مریضوں کے علاج میں اپنا تعاون پیش کرسکے۔
ان کے پیش نظر ’’ہمدرد‘‘ ایک اصطلاح تھی جس کا مفہوم وہ یہ فرماتے تھے کہ ہر قسم کے انواع خصوصاً انسان سے ہمدردی کا جذبہ رکھنا اور اُن کے درد سے ہم آہنگ ہونا ہے۔

ان کے اس نظریے کے جانشین اُن کے صاحبزادے حکیم عبدالحمید بنے اور ملک کی آزادی کے بعد انھوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ ایک تعلیمی ادارے کے قیام کو ممکن بنایا جاسکے تاکہ یہ ادارہ اسلامی تہذیب کی بازیافت میں اپنا تعاون پیش کرسکے۔ انھوں نے اس بات کا خصوصاً خیال رکھا کہ مریض کے علاج میں یونانی دواؤں کا استعمال کیا جائے۔ ۲۲؍شوال ۱۳۶۷ھ مسیحی کلینڈر کے مطابق ۲۸؍اگست ۱۹۴۸ء میں ’’ہمدرد‘‘ ایک تجارتی انٹرپرائزنامی ادارہسے ’’وقف‘‘ میں تبدیل ہوگیا۔ اپنے اولین مقصد کی بازیافت یعنی صحت اور تعلیم کے میدان میں اسلامی اقدار پر مبنی ادارے کے قیام کو یقینی بنانا۔ چنانچہ یہ ’’جدوجہد‘‘ ۱۹۶۴ء کے آغاز میں ہمدرد نیشنل فاؤنڈیشن میں تبدیل ہوگیا اور یہ چھوٹی سی کوشش وقت کے ساتھ ساتھ مستحکم اور پائیدار ہوتی گئی۔
اختصاصی میڈیکل و میڈیسن کے میدان میں سائنسی تحقیقات کو یقینی بنانے اور اپنے اولین مقصد کے حصول کے لیے جو مقصد اس ادارے کے قیام کے پیش نظر تھا۔ حکیم عبدالحمید اور اُن کے رفیق نے Indian Institutue of Islamic Studiesکا قیام کیا، جس کا مقصد اسلامی تعلیمات کو فروغ دینا اور اسلامی تعلیمات کے تعاون سے ہندوستانی سماج کی تشکیل کرنا تھا۔

۱۹۷۲ء میں ہمدرد کالج آف فارمیسی کا قیام عمل میں آیا اور فروغ انسانی وسائل (Ministry of Human Resource Development) کی جانب سے ہمدرد کو Deemedیونیورسٹی کا درجہ ملا۔
۱؍اگست ۱۹۸۹ء کو جامعہ ہمدرد کا جلسہ ہوا، جس میں مہمان خصوصی راجیو گاندھی تھے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں حکیم عبدالحمید کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’یہ ادارہ ملک کی اقلیت کے روشن مستقبل میں اہم کردار ادا کرے گا۔‘‘

جامعہ ہمدرد کے مختلف تعلیمی مراکز:

(۱) ہمدرد انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس اینڈ ریسرچ
(۲) اسکول آف یونانی میڈیسن
(۳) اسکول آف فارماسیوٹیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ
(۴) اسکول آف نرسنگ سائنس اینڈ Alliedریسرچ
(۵) اسکول آف کیمیکل اینڈ لائف سائنس
(۶) اسکول آف انٹرڈسپلنری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی
(۷) اسکول آف Humanitiesاینڈ سوشل سروس
(۸) School of Management and Business Studies
(۹) School of Open and Distance Learning

ہمدرد انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس اینڈ ریسرچ:

HIMSRکا قیام ۲۰۱۲ء میں عمل میں آیا۔ اس ڈیپارٹمنٹ کا مقصد طلبہ کو کم اخراجات پر معیاری تعلیم دینا ہے۔ HIMSR نے معاشی طور پر پسماندہ طلباء کو معیاری تعلیم دینے میں اپنا بھرپور تعاون پیش کیا۔ HIMSRنے اعلیٰ سطح پر حکیم عبدالحمید کے خوابوں کی سچی تعبیر پیش کی ہے۔ الحمدللہHIMSRاپنے قیام کے مقاصد پہ گامزن رہنے کے لیے کوشاں ہے۔
پروگرام آف اسٹڈی: ایم بی بی ا یس MBBS ( 4½سالہ کورس(
پوسٹ گریجویٹ کورس : MS/MD (۲ سالہ کورس)
MS Anatomy, MD Pathology, MD Community Medicine
ایم ایس سی پروگرام: ایم ایس سی Medical Microbiology,
Medical Physiology, Medical Bio-chemistry

گریجویٹ کورسس:

(1) Bachelor of Physiotherapy (BPT) 4 years
(2) Bachelor of Occupational Therapies (BOT) 4 years

ٖپیرا میڈیکل سائنس پروگروام:

(1) B.Sc. (Medical Laboratory Technique) 4 years
(2) B.Sc. (Emergency & Trauma Care Technique)
(3) B.Sc. in Optometry
(4) B.Sc. (Medical Imaging Technology)
(5) B.Sc. (Anasthesia & Operation Therate Technique)
(6) B.Sc. (Cardiology Laboratory Tehcnique)

اسکول آف یونانی میڈیسن

اسکول آف یونانی میڈیسن جامعہ ہمدرد کا قدیم ترین اسکول ہے۔ یہ ہمدرد طبی کالج کے نام سے معروف تھا۔ اس کا قیام ۱۹۶۳ء میں آیا۔اس اسکول کے ۱۴ ڈپارٹمنٹ ہیں۔ جس میں ۳ کورسس بہت اہم ہیں۔
(۱) کاملِ طب، وجراحت (BUMS) ۴ سالہ کورس
(۲) سرٹیفیکٹ کورس آف یونانی ڈسپنسری
(۳) ماہرِ طب، ۳ سالہ

اسکول آف فارماسیوٹیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ:

یہ اسکول جامعہ ہمدرد کا ایک اہم شعبہ ہے۔ ۲۰۱۷ء میں اس شعبہ نے ملک میں فارمیسی کے میدان میں اول مقام حاصل کیا۔ اس شعبہ کا قیام ۱۹۷۲ء میں ہوا۔ اس شعبہ کے طلباء اپنی تعلیم مکمل ہونے کے بعد ملک بھر کی معروف فارماسیوٹیکل کمپنیوں میں اپنیخدمت انجام دے رہے ہیں۔

پروگرام آف اسٹڈی:

(1) Bachelor in Pharmacy (B. Pharma), 4 years
(2) Diploma in Pharmacy (D.Pharma) 2 years
(3) M. Pharma (Master of Pharmacy) 2 years
(4) Ph.D. in Pharmacy

روفیدہ کالج آف نرسنگ:

روفیدہ کالج آف نرسنگ کا قیام ۱۹۸۳ء میں ہوا۔ مسلم سماج میں خدمتِ خلق کے میدان میں اس شعبہ کا تعاون امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ شعبہ ۱۹۹۴ء میں اپ گریڈ ہوکر کالج بنا۔ ڈپلوما، گریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ، اور پی ایچ ڈی کی ڈگری شعبۂ انڈین نرسنگ کاؤنسل کی جانب سے دی جاتی ہے۔
(1) B.Sc. (Hons) Nursing, 4 years
(2) Post Basic B.Sc. Nursing. 2 years
(3) M.Sc. Nursing, 2 years
(4) Ph.D. Nursing.

کیمیائی اور حیاتیاتی سائنس کا شعبہ:

اس شعبہ کا مقصد طلبہ کے اندر صحت اور ماحولیاتی سائنس کے میدان میں تحقیقات کا جذبہ پیداکرنا ہے۔ امراض کا تعین Molecular Levelپر پتا لگانا ہے۔ اس شعبہ سے تعلق رکھنے والے کورسس میںBiochemistry, Biotechnology, Botany, اور Chemistryہے۔ ان تمام کورسس میں پوسٹ گریجوشن اور پی ایچ ڈی کے مواقع موجود ہیں۔

اسکول آف انٹرڈسپلنری سائنس اینڈ ٹکنالوجی:

اس اسکول کے درج ذیل شعبے ہیں:
B.Tech, M.Tech & Ph.D. (Food Technology)
Ph.D. Bioinformatics, Ph.D. Chemoinformatics

اسکول آف انجینئرنگ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی:

اس کا قیام ۱۹۹۷ء میں آیا۔ اس کے تحت درج ذیل کورسیس چلائے جاتے ہیں۔
(1) B.Tech – Computer Science & Engineering 4 years
(2) B.Tech – Electronics and Communication 4 years
(3) B.C.A. 3 years
(4) M.Tech – Computer Science & Engineering 2 years
(5) M.C.A. 3 years
(6) Ph.D. Computer Science & Engineering
(7) Ph.D. in Computer Science.

اسکول آف ہیومانیٹیز اینڈ سوشل سرویسیز
(Humanities & Social Services)

یہ جامعہ ہمدرد کا قدیم اسکول مانا جاتا ہے۔ اس کے ۳ شعبے ہیں۔ جن میں شعبہ اسلامک اسٹڈیز بہت قدیم اور اہم ہے۔ جامعہ کے قیام کے مقاصد میں اس شعبہ نے غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔
شعبہ اسلامک اسٹڈیز B.A., M.A. & Ph.D.
Centre for Iranology Certificate Courses in Persian Language
UGC Centre for Federal Studies
اس کے علاوہ اسکول آف مینجمنٹ اینڈ بزنس اسٹڈیز میں MBA کے کئی کورسیس کے علاوہ PhD کے مواقع بھی ہیں۔
فاصلاتی تعلیم کا مرکز (School of Open & Distance Learning)بھی موجود ہے۔ جامعہ ہمدرد میں دہلی سے باہر کے طلباء کی رہائش کا معقول انتظام ہے۔ یہاں طلباء بہتر تعلیمی ماحول میں علم کی پیاس بجھاتے ہیں اور اپنی دنیا و آخرت کو سنوارتے ہیں۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پر ہندوتوا حملے کی عدالتی تحقیق کا ایس آئی او کا مطالبہ

اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پر ہندوتوا حملے ...