بنیادی صفحہ / تجزیہ ۔ قومی / اروند کا اونٹ، سرمایہ داروں کاپہاڑ

اروند کا اونٹ، سرمایہ داروں کاپہاڑ

چار سال قبل مہاراشٹر کے ایک سماجی کارکن انا ہزارے دہلی آکر بدعنوانی اور کرپشن کے خلاف ایک پْرزور مہم چھیڑتے ہیں۔ یہاں انھیں فعال اور سرگرم کارکنوں کاایک گروپ ملتاہے جس میں اروند کیجری وال نام کاایک جوان العمر کارکن بھی ہے جو بڑا سرکاری ملازم ہونے کے باوجود پہلے ہی سے یہ کام کررہاہوتا ہے یہاں تک کہ اس کام کی خاطر ملازمت چھوڑدیتا ہے۔ تحریک کی گونج پورے ملک میں سنائی دیتی ہے۔ کچھ دن بعد سیاسی موقف کے سوال پر گروپ میں پھوٹ پڑجاتی ہے۔ کچھ لوگ انّا کے ساتھ جاتے ہیں، کچھ اروند کے ساتھ رہتے ہیں۔ اروند اپنی سیاسی پارٹی بناتاہے جسے ابتدا میں بڑی پارٹیاں اور کاروباری کمپنیاں سنجیدگی سے نہیں لیتیں۔ مگر دہلی اسمبلی کے الیکشن میں ۲۸؍نشستیں جیت کر وہ سب کو حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ اکثریت نہ ہونے کے باوجود بڑی پارٹیاں اسے سرکار بنانے پر اُکساتی ہیں، جب بنالیتا ہے تو دوسرے ہی دن سے اس کی مخالفت شروع کردیتی ہیں۔ تنگ آکر وہ حکومت چھوڑدیتا ہے، پھر اس کے کمزور ساتھی بھی اسے چھوڑچھوڑکر جانے لگتے ہیں، لوک سبھا کے انتخابات ہوتے ہیں۔ دہلی کی ساتوں سیٹیں سرمایہ داروں کی پارٹی لے جاتی ہے۔ اروند ہمت نہیں ہارتا۔ آٹھ ماہ بعد دہلی اسمبلی کے الیکشن میں پھر پورے حوصلے کے ساتھ اترتا ہے، ستر میں سے ۶۷؍ سیٹیں لاتا ہے۔ سرمایہ داروں کی پارٹی پوری قوت جھونک دینے کے باوجود صرف تین پر ہاتھ مل کر رہ جاتی ہے۔
کہانی کے دو پہلو
اور یہ کہانی ہے ایک طرف تو ہمت، حوصلے، محنت، لگن اور ایک اچھے کاز کے لئے یکسوئی کے ساتھ کام کرنے کی اور دوسری طرف عوامی امنگوں، ضرورت مندوں اور روزمرہ کے مسائل میں آسانیاں ڈھونڈنے والوں کی۔ دارالحکومت دہلی کے عوام نے ایک نئی پارٹی کے نئے لیڈر سے یہی توقعات باندھ کر اس پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ لیکن اروند کیجری وال اور اس کی عام آدمی پارٹی کی اس غیرمعمولی کامیابی میں ایک بہت بڑا فیکٹر اور بھی ہے جس سے انکار کوئی بھی نہیں کرسکتا۔ وہ فیکٹر ہے مسلم شہریوں کا، جنھوں نے انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی اپنا ذہن بنالیاتھا اور پوری قوت کے ساتھ اپناحق رائے دہی استعمال کیا۔ اُن پر نہ اُن افراد، لیڈروں، کونسلوں، فورموں اور نت نئے گروپوں کی بڑی بڑی اپیلوں اور ان کے تیز و تند بیانات کاکوئی اثر ہوا جو عام آدمی پارٹی اور اس کے لیڈر سے خبردار رہنے اور اس کے دھوکے میں نہ آنے کو کہہ رہے تھے نہ کسی قائد کی اپیل سے دس ووٹوں کااضافہ ہوا جس میں مسلم شہریوں سے عام آدمی پارٹی کو ووٹ دینے کو کہاگیاتھا___ مسلم رائے دہندگان کا موقف بالکل صاف، واضح اور قدرتی تھا۔ سرمایہ داروں کی حکومت کے اقدامات اور اس کے لیڈروں کی سرگرمیاں وہ دیکھ رہے تھے اور قدیم سیاسی پارٹی کی دورُخی اور منافقت دہشت گردی کے الزامات میں مسلم نوجوانوں کی ہلاکتیں اور ان کی گرفتاریوں کی شکل میں ان کے سامنے تھی۔
اروند کا اونٹ، سرمایہ داروں کاپہاڑ
لیکن یہ سمجھنا غلط ہوگاکہ ایک دہلی میں عام آدمی پارٹی کے آجانے سے ہر طبقے کے مسائل دیکھتے ہی دیکھتے حل ہوجائیں گے۔ پہلے تو (۱) اتنی بھاری اکثریت نئی پارٹی کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے جس سے خود اروند خوف زدہ ہے۔ عوام کی امنگوں پر پورا اترنا اتنا آسان نہیں۔ (۲) اروند کے ساتھیوں میں مضبوط کردار کے لوگ چند ایک ہی ہیں، باقی سب بھیڑہے جو مناصب نہ ملنے پر حکومت اور پارٹی کے اندر مسائل پیداکرسکتی ہے۔ (۳)لیکن سب سے بڑی بات یہ کہ دہلی میں جس سیاسی پہاڑ سے وہ ٹکرائے ہیں وہ اتنی آسانی سے اسے برداشت نہیں کرے گا۔ اس کے لئے اب یہ سیاسی زندگی اور موت کامسئلہ بن گیا ہے۔ اس کے ہاتھ بہت لمبے اور مضبوط ہیں، سرمایہ داروں اور پورے میڈیا کی طاقت اس کے پاس ہے۔ درجنوں چالیں چلی جاسکتی ہیں۔ خود اروند پر ڈورے ڈالے جاسکتے ہیں کہ یہ کرو یہ نہ کرو___ اور ہاں مسلم شہری بھی ابھی زیادہ خوش نہ ہوں، عام آدمی پارٹی نے ابھی نیشنل اِشوز کو نہیں چھیڑا ہے، سوائے کرپشن کے۔ ابھی صرف یہ دیکھا جائے کہ دہلی کی نئی سرکار ان کے مسائل کے سلسلے میں کیا کرتی ہے___ غیرحقیقت پسندانہ مطالبات اور توقعات سے گریز کرنا ہوگا۔ پھر یہ حقیقت بھی ذہن میں رہے کہ سرمایہ داروں کی حکومت اورپارٹی کے پاس اروند کی سرکار اور شہریوں کے کچھ طبقات کو ہراساں کرنے کے لئے بہت سے کارڈ ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اروند کا اونٹ سرمایہ داروں کے اِس پہاڑ کے نیچے آنے سے کیسے بچتا ہے۔

پرواز رحمانی، سینئر صحافی وچیف ایڈیٹر سہ روزہ دعوت

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

“کشمیر رک سا گیا ہے” – ملک معتصم خان

کشمیر کے حالات بچشم سر دیکھنے کے بعد ماہنامہ رفیق منزل سے ...