بنیادی صفحہ / سخن (صفحہ 7)

سخن

غزل

راہ وفا! کرے گی کب! تو! اپنے وجود سے گریز خوابوں نے بھی ہے کرلیا، آنکھوں میں بود سے گریز اب تو اسے بناہی لے، جائے قیام زندگی! یوں ہی کرے گی کب تلک، میرے وجود سے گریز ذوق جبین ...

مزید پڑھیں »

غزل

مجھ کو دے دو سزائے پھانسی اب بات حق تھی زباں پہ آئی ہے ہم نے دامن بھرا ہے کانٹوں سے تم نے پھولوں سے بیر کھائی ہے دیکھو قاتل پھرے ہے آوارہ موت حصے میں میرے آئی ہے تہمتوں ...

مزید پڑھیں »

غزل

جس کا کوئی دنیا میں ٹھکانا نہیں ہوتا اس شخص کا دشمن بھی زمانا نہیں ہوتا آنکھوں کو چلو آج ہی آئینہ بنا لیں سنتے ہیں یہ آئینہ پرانا نہیں ہوتا جینا ہے تو خوش بو کا چلن سیکھ لو ...

مزید پڑھیں »