بنیادی صفحہ / سخن (صفحہ 4)

سخن

غزل اس شہر نگاراں کی اتنی سی کہانی ہے صحرا میں سمندر ہے اور آگ میں پانی ہے دنیا کی حقیقت کیا اور اس کی ضرورت کیا ادنی سی تمنا میں کیا عمر کھپانی ہے جو فرض تمہارا ہے اس ...

مزید پڑھیں »

’بڑے کے نام‘ ) ایک ہزل مہاراشٹر میں بیل کے گوشت پر پابندی عائد کیے جانے پر)

کہیں مصری جو دیکھیں گے تو ڈلی یاد آئے گی ’بڑے‘ ہم کو تری ایک ایک بوٹی یاد آئے گی کلیجہ ہوگا یوں چھلنی کلیجی یاد آئے گی کوئی زلفوں کو جھٹکے گا تو نلی یاد آئے گی لڑا کرتے ...

مزید پڑھیں »

مضطرب کیوں تو۔۔۔؟

مضطرب کیوں تو۔۔۔؟ مضطرب کیوں تو زمانے میں نظر آتا ہے ہر گھڑی رونے رُلانے میں نظر آتا ہے عقل پر پڑگیا آکرتری کیسا پردہ رات دن پینے پلانے میں نظر آتا ہے میکدہ اور صنم خانہ ہے مسکن تیرا ...

مزید پڑھیں »

تکتی نگاہیں۔۔۔ مغربی تہذیب اور وہاں کے کلچر سے تو مجھے اوائل عمری سے ہی نفرت تھی۔ مغربیت سے بیزاری کا پہلو میری زندگی کے ہرشعبے میں نمایاں دکھائی دیتا تھا۔ حتی کہ میں اپنی ملازمت کے ڈریس یعنی کوٹ ...

مزید پڑھیں »

غزل

ہوامغرب سے کچھ ایسی چلی آہستہ آہستہ متاع دین ودانش لٹ گئی آہستہ آہستہ تمنا یہ ہے صبح زندگی سے پیار اب کرلوں یہ شمع زندگی بجھنے لگی آہستہ آہستہ اندھیرے دھیرے دھیرے جہل کے روپوش ہوتے ہیں بڑھاتی ہے ...

مزید پڑھیں »

اوروں کا تعصّب اور عوام کی حالت حقیقتاََ ایک شخص جو اسلام کی تعلیم اور دنیا کے حالات سے واقف ہو، حیرت میں رہ جاتا ہے کہ روشنی ہونے پر بھی دنیا اس کا اعتراف نہیں کرتی۔ اس زمانے میں ...

مزید پڑھیں »

فلسطین

اے مورّخ ترے ہاتھ سے چھوٹ کر دیکھ قدموں میں تیرے قلم گرگیا جابجا روشنائی بکھر سی گئی جیسے چھینٹے لہو کے ہوں پھیلے ہوئے وہ لہو سر زمینِ فلسطیں جسے اپنے آغوش میں جذب کرتی رہی وہ لہو آسمانِ ...

مزید پڑھیں »