بنیادی صفحہ / سخن (صفحہ 4)

سخن

غزل سوز دروں نے مجھ کو عطا کی ہے زندگی کس نے کہا کہ عشق نے جینا کیا حرام پہلا قدم رکھا ہے ابھی رہگزار میں مجھ سے ہے کیوں فرار تجھے گردش مدام آتش کدے نے اور بھی بھڑ ...

مزید پڑھیں »

اقتباس انسان کی دوکمزوریاں انسان دو چیزوں کی وجہ سے کمزور ہوتا ہے۔ ایک موت کا خوف ، دوسرا رزق سے محرومی کا خوف۔ یہی خوف اندرونی جابروں کے آگے آدمی کو جھکاتا ہے، اور یہی بیرونی دشمنوں سے شکست ...

مزید پڑھیں »

آخری اذان

حضرت ابوعبداللہ بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کا شمار دربارِ رسالت کے ا ن عظیم المرتبت اراکین میں ہوتا ہے، جن کا اسم گرامی سن کر ہر مسلمان کی گردن فرطِ احترام وعقیدت سے جھک جاتی ہے۔ شام کے ...

مزید پڑھیں »

غزل اس شہر نگاراں کی اتنی سی کہانی ہے صحرا میں سمندر ہے اور آگ میں پانی ہے دنیا کی حقیقت کیا اور اس کی ضرورت کیا ادنی سی تمنا میں کیا عمر کھپانی ہے جو فرض تمہارا ہے اس ...

مزید پڑھیں »

’بڑے کے نام‘ ) ایک ہزل مہاراشٹر میں بیل کے گوشت پر پابندی عائد کیے جانے پر)

کہیں مصری جو دیکھیں گے تو ڈلی یاد آئے گی ’بڑے‘ ہم کو تری ایک ایک بوٹی یاد آئے گی کلیجہ ہوگا یوں چھلنی کلیجی یاد آئے گی کوئی زلفوں کو جھٹکے گا تو نلی یاد آئے گی لڑا کرتے ...

مزید پڑھیں »

مضطرب کیوں تو۔۔۔؟

مضطرب کیوں تو۔۔۔؟ مضطرب کیوں تو زمانے میں نظر آتا ہے ہر گھڑی رونے رُلانے میں نظر آتا ہے عقل پر پڑگیا آکرتری کیسا پردہ رات دن پینے پلانے میں نظر آتا ہے میکدہ اور صنم خانہ ہے مسکن تیرا ...

مزید پڑھیں »

تکتی نگاہیں۔۔۔ مغربی تہذیب اور وہاں کے کلچر سے تو مجھے اوائل عمری سے ہی نفرت تھی۔ مغربیت سے بیزاری کا پہلو میری زندگی کے ہرشعبے میں نمایاں دکھائی دیتا تھا۔ حتی کہ میں اپنی ملازمت کے ڈریس یعنی کوٹ ...

مزید پڑھیں »

غزل

ہوامغرب سے کچھ ایسی چلی آہستہ آہستہ متاع دین ودانش لٹ گئی آہستہ آہستہ تمنا یہ ہے صبح زندگی سے پیار اب کرلوں یہ شمع زندگی بجھنے لگی آہستہ آہستہ اندھیرے دھیرے دھیرے جہل کے روپوش ہوتے ہیں بڑھاتی ہے ...

مزید پڑھیں »