گزشتہ مضمون میں یہ بات آئی تھی کہ ’’حقائق بتاتے ہیں کہ مصر میں جو کچھ ہوا؛
(۱) وہ ایک صہیونی سازش تھی۔
(۲) جس میں امریکہ نے سب سے نمایاں اور خطرناک کردار ادا کیا۔
(۳) اورخلیجی ممالک کے ظالم حکمرانوں نے اپنے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے مغربی آقاؤں کے اشارے پر اس سازش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہر ممکن تعاون پیش کیا۔
(۴) اس کے لیے مصر کے اندر فوج اور اپوزیشن پارٹیوں کواستعمال کیا گیا۔
(۵) اورمصر کے باہر رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے مغربی میڈیا نے ہر ممکن بددیانتی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے حقائق کو مسخ کرنے کا کام کیا۔‘‘
اس مضمون میں مذکورہ بالا نکات پر تفصیلی روشنی ڈالی جائے گی؛
(۱)صہیونی سازش
اسرائیل کے ایک بڑے تجزیہ نگار ’ڈان مارگالٹ‘ نے مصر کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’اگر ہم اس انقلاب کو ناکام ہونے کی اجازت دے دیتے ہیں، اور اخوان حکومت میں واپس آجاتے ہیں تو ہماری نسلیں خون کے آنسو روئیں گی، اب اسرائیل کے لیے ناگزیر ہوگا کہ اس کے وقوع کوناکام بنائے اور اس کی ضمانت لے، کیونکہ اخوان جلد ہی اسرائیل سے کسی بھی صورت انتقام لیں گے‘‘۔ (اسرائیل ٹوڈے)
اسرائیلی تجزیہ نگار کے اس بیان پر حیرت اور تعجب کی کوئی بات نہیں ہے، اسرائیل کو اس بات کا خوب اندازہ ہے کہ خطے میں اگر کوئی حکومت اس کے سامنے ٹک سکتی ہے، تو وہ اخوان ہی ہیں۔ مصری تاریخ بتاتی ہے کہ جس وقت بڑی بڑی عرب حکومتیں اسرائیل کے سامنے پسپائی اختیار کرگئی تھیں، اس وقت اخوانی ہی عرب دنیا کی وہ واحد فوج تھے جس نے اسرائیل کو ناکوں چنے چبانے پر مجبور کردیا تھا، یہاں تک کہ عالمی طاقتوں کو مداخلت کرکے جنگ بندی کرانی پڑی تھی۔ حال ہی میں اسرائیل کے ایک بڑے تحقیقی ادارے نے بھی اپنی رپورٹ میں یہی بات کہی ہے کہ اس وقت اسرائیل کے لیے سب سے بڑا خطرہ اخوان المسلمون ہیں۔
اسرائیل جس عظیم یہودی سلطنت کا قیام عمل میں لانا چاہتا ہے، اس کے نقشے میں مصر کا بھی ایک حصہ شامل ہے، اور یہی ایک ایسا ملک ہے جس سے اسرائیل نے ہمیشہ سے خطرہ محسوس کیا ہے، اوراس خطرے کا بڑا سبب یہی اندیشہ رہا ہے کہ کہیں اخوان یہاں برسراقتدارنہ آجائیں،کیونکہ اخوان کا برسراقتدار آجانا، اور ایک پوزیشن اختیار کر لینا، اور مصر میں ایک آزاد جمہوری حکومت کی تشکیل میں کامیابی حاصل کرلینا اسرائیل کے مستقبل، یا کم از کم خطے میں اس کی غنڈہ گردی کے سامنے ایک بہت بڑا چیلنج بن جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اور اس کے حلیف مغربی ممالک جن میں امریکہ سرفہرست ہے، وہ کبھی اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ مصر میں اخوان یا کسی بھی آزاد منتخب جمہوری حکومت کا قیام عمل میں آجائے۔ وہ یہی چاہتے ہیں کہ عرب ممالک کی حکومتوں کی طرح مصر میں بھی ان کے غلام ہی اقتدار پر قابض رہیں۔ اس کے لیے ان طاقتوں نے عوام اور ان کے جذبات کا خون کرتے ہوئے کبھی جمال عبدالناصر کو آگے بڑھایا، کبھی انور سادات کو، اور کبھی حسنی مبارک کو، اور اس وقت غلاموں کی ایک پوری ٹیم کو استعمال کیا جارہا ہے، جس نے مرسی حکومت یا مصری عوام کے خلاف بہت ہی خطرناک اور مہلک سازشوں کو عملی جامہ پہنانے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔
اسرائیل کے اس موقف کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ گزشتہ ساٹھ سالہ مصری تاریخ کا جائزہ لیا جائے کہ اس دوران مصر کی مختلف حکومتیں کس طرح اسرائیل کے مفاد اور اس کی مصلحت کے لیے کام کرتی رہی ہیں، اور کس طرح اسرائیل کے محض ایک اشارہ پر ان حکومتوں نے کھلے عام اپنے ملک کے اخوانیوں اور پڑوسی ملک فلسطین کے معصوم اور نہتے آزادی پسند عوام کا قتل وخون کیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اخوان یا مرسی حکومت کے خلاف اسرائیل نے جو سازشیں رچی ہیں، ان سازشوں کے علاوہ اس کے سامنے اور کوئی راستہ تھا ہی نہیں۔ اخوان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اس کے قائدین اور وابستگان بہت ہی مضبوط اور بہت ہی سچے ثابت ہوئے ہیں، انہیں اللہ رب العزت کے سوا کسی اور کا خوف نہیں ہوتا، وہ اللہ رب العزت کی رزاقیت کے سوا کسی اور پر ایمان نہیں رکھتے، چنانچہ پوری دنیا ساری کوششیں کرنے کے بعد بھی اس کے قائدین کی قیمت لگانے میں ناکام رہ جاتی ہے، والحمدللہ علی ذلک۔ مصر میں بھی اس کی بہت کوشش کی گئی اسلام پسند حکمراں محمد مرسی اور ان کی پارٹی اور جماعت کے بڑے لیڈروں کو خریدنے کی کوشش ہوئی، نہیں مانے تو ڈرایادھمکایا گیا، لیکن اس طرح کی کوئی بھی چال ان کے سامنے کامیاب نہیں ہوسکی۔ اب دشمنوں کے سامنے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا کہ وہ کھل کر ان کے خلاف محاذ آرائی کریں،یا ان کی حکومت کو تسلیم کرکے اپنے مستقبل اور مستقبل کے منصوبوں کو خطرے میں ڈال دیں۔مصر کے حالات کا بے لاگ تجزیہ کرنے سے یہی حقائق کھل کر سامنے آتے ہیں۔ چنانچہ اسرائیل نے یہی کیا، فوجی بغاوت سے دودن قبل ’تل ابیب یونیورسٹی‘ کے ایک پروفیسر ’لیوی‘ نے اسرائیلی ٹیلی ویژن پر ایک بحث کے دوران کہا کہ اسرائیل مصر میں انقلابی جدوجہد کو تقویت پہنچانے میں سنجیدہ ہے اور وہ غزہ کی طرح یہاں اپنی غلطی دہرانے والا نہیں ہے۔ یہی ہوا، اسرائیل نے اس فوجی انقلاب کی کھل کر پشت پناہی کی، اور اب یہ حقائق سامنے آگئے ہیں کہ سیسی نے بغاوت سے تین روز قبل اسرائیل کو انقلاب کی خبر دے دی تھی، اوراس کے ساتھ ہی اسرائیلی سفیر نے اپنے سفارتی عملے کے ساتھ قاہرہ چھوڑ دیا تھا، اور پھر فوج کی جانب سے بغاوت کرانے کے بعد وہ کھل کر سامنے آگیا، جس دن مرسی حکومت کا تختہ پلٹا گیا، اسرائیل میں جشن منائے گئے، اور اسرائیلی روزناموں نے سیسی کو مصر کے اندر اسرائیلی ہیرو بناکر پیش کیا۔
اب جیسے جیسے دن گزرتے جارہے ہیں فوجی حکومت اور اسرائیل کے درمیان موجود گہرے روابط بھی سامنے آتے جارہے ہیں۔ فوج کی جانب سے تشکیل کردہ حکومت کے نائب صدر البرادعی نے اپنے ایک بڑے فوجی جنرل کے ساتھ اپنا پہلا خفیہ سیاسی دورہ اسرائیل کا کیا۔ اس کے بعد ہی مصرکی کسی حکومت نے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ اپنے ہی عوام کی سرکوبی کے لیے سینائی علاقے میں اسرائیل سے فوجی مدد کی درخواست کی، جس کے نتیجے میں ایک اسرائیلی طیارے نے اس علاقے پر حملہ کرکے کئی نوجوانوں کو شہید بھی کیا، اور مزید فوجی مدد کا اعلان کیا۔ میدان رابعہ اور پورے ملک میں مظاہرین کے اوپر ہونے والی جارحانہ کارروائیوں میں جن ہتھیاروں کا استعمال کیا جارہا ہے، ان میں بھی بعض مہلک ہتھیاروں کو اسرائیل نے فراہم کیا ہے۔
(۲) امریکہ کا دوہرا رویہ
مصر اس خطے میں امریکہ کا ایک بہت ہی زبردست مارکیٹ تھا، اور پورے عالم اسلام پر اثرانداز ہونے کا ایک بہترین راستہ تھا، اور اب تک کے مصری حکمراں امریکی مفاد میں ہی کام کرتے آئے تھے۔
مصری فوج کی ٹریننگ امریکہ میں ہوتی تھی، مصر کی تجارت اور معیشت پر امریکہ کا قبضہ تھا، مصر کی سیاسی پالیسیاں امریکی اشاروں پر تیار ہوتی تھیں۔ تاہم گزشتہ سال مرسی کے اقتدار میں آجانے کے بعد امریکہ کو محسوس ہوا کہ مصرسے اس کا اثرورسوخ ختم ہوا جارہا ہے، اور یہ حکومت جس تیزی کے ساتھ کامیابی کی طرف گامزن ہے، اگر کچھ اور وقت باقی رہ گئی تو پھر دھیرے دھیرے اس کے اثرات پورے عالم عرب اور عالم اسلام تک پھیل جائیں گے، اور یہ چیز خطے میں امریکی اور صہیونی عزائم (جس کے لیے ہمیشہ سے امریکہ نے راہیں ہموار کی ہیں) کے لیے بہت ہی خطرناک چیلنج ثابت ہو گی۔
اس وقت ترکی، تیونس اور مصر کے خلاف جس طرح سازشوں کا جال تیار کیا جارہا ہے، اس کے پیچھے دراصل یہی عزائم کارفرما ہیں۔ ترکی اور تیونس میں گرچہ ابھی یہ سازشیں کامیاب نہیں ہوسکی ہیں، لیکن اگر مصر میں انہیں کامیابی مل جاتی ہے تو کوئی بعید نہیں کہ اگلا محاذ اور دیدہ دلیری کے ساتھ سر کیا جائے۔
امریکی صدر اوبامہ نے اس دوران جو بیانات دیئے ہیں وہ خود حقیقت واقعہ بتانے کے لیے کافی ہیں، امریکی صدر نے اپنے ایک بیان میں مصر میں ہوئی فوجی بغاوت کو فوجی انقلاب ماننے سے انکار کردیا، اور اسے امریکہ کے قومی مفاد میں قرار دیا۔
امریکی حکومت کا اس موقع پر جو رویہ سامنا آیا وہ بہت ہی گھناؤنا، اور افسوسناک ہے۔ ڈاکٹر محمد بلتاجی حزب الحریہ والعدالہ کے بڑے قائدین میں شمار ہوتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ قاہرہ میں مقیم امریکی سفیر نے مرسی کو یہ دھمکی دی تھی کہ وہ اقتدار چھوڑ دیں یا علامتی طور پر باقی رہیں اور سارااقتدار ایک نئے وزیراعظم کے حوالے کردیں ، اورپارلیمنٹ اور دستور کی معطلی پر تیار ہوجائیں۔ مرسی نے جب اس کو ماننے سے صاف انکار کردیا تو امریکی سفیر نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ نہیں مانے تو بزورقوت معزول کیا جائے گا۔
اس موقع پر امریکی صدر اوبامہ کا چہرہ بھی کھل کر سامنے آگیا، وہ ایک طرف مسلم حکومتوں کے ساتھ امن ویکجہتی اور تعلقات کی بہتری کی باتیں کرتا ہے، اور دوسری جانب اس کی یہ پالیسی ہے کہ کسی بھی طرح مسلم ممالک میں استقرار نہ آنے پائے۔ اسی طرح اس موقع پر مغربی دنیا کے ان نام نہاد جمہوریت کے ٹھیکیداروں کا حقیقی چہرہ بھی سامنے آگیا کہ وہ کس قدر جمہوریت اور جمہوری اقدار کے سلسلے میں سچے اور مخلص ہیں، ان کے یہاں حقوق انسانی کا کیا مفہوم پایا جاتا ہے، اور انسانی عظمت کی پاسداری کے دعوی کی کیا حقیقت ہے۔ بہرحال اس موقع پر صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ پوری مغربی دنیا کا حقیقی چہرہ سامنے آگیا کہ وہ اپنے تمام تر سیاسی اور جمہوری نعروں کے باوجود کتنی جھوٹی اور مفاد پرست ثابت ہوئی ہے۔
امریکہ نے اس موقع پر مصر میں جوکچھ کھیل کھیلا، اس میں جہاں اس کی اسلام دشمن اور اسرائیل نواز پالیسیوں کا دخل تھا، وہیں اس کے اپنے معاشی اور سیاسی مفاد کا مسئلہ بھی تھا۔ ماضی قریب کی عالمی تاریخ کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ نے مختلف ممالک میں، جو اس کی دی گئی لائن سے ذرا بھی ہٹے ہیں، خواہ مسلم ہوں یا عیسائی، فوجی بغاوت یا عوامی انقلاب کے ذریعہ حکومتوں کا تختہ پلٹنے یا وہاں عدم استقرار پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایران میں ’محمد مصدق‘ اور پھر ’شاہ‘ نے جب امریکی پالیسی سے ہٹ کر چلنے کی کوشش کی تو ان کے خلاف جس طرح فوجی اور خمینی انقلاب آئے، اس کا بے لاگ تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ۲۰۰۲ ؁ء میں وینزویلا میں جب شاویز نے آزاداور خودمختار حکومت چلانے کا عزم کیا، اس وقت اس کے خلاف جس طرح سازشیں رچی گئیں، اور اس میں امریکہ نے جو کلیدی کردار ادا کیا، فوجی انقلاب کی ناکامی یا عوامی مظاہروں کے سامنے فوج کی پسپائی کے نتیجے یہ تمام حقائق کھل کرسامنے آگئے۔
آئندہ کسی مضمون میں اس کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا کہ کس طرح امریکہ اور اسرائیل نے مل کر گزشتہ دہائیوں میں مختلف حکومتوں کے خلاف فوجی یا عوامی بغاوت کرائی ہے، اور اس کے پیچھے ان کے کیا مصالح کارفرما تھے، اور اس مقصد کے لیے کن کن عناصر کو انہوں نے استعمال کیا ہے۔
(۳) سعودی عرب اور امارات کا بدترین کردار
اس موقع پر سعودی عرب اور امارات کا جو رویہ کھل کر سامنے آیا ہے، وہ بہت ہی افسوسناک ہے۔ سعودی حکومت نے سب سے آگے بڑھ کر وہاں کی باغی حکومت کی تائید میں بیان جاری کیے۔ اس کے علاوہ امارات اور دوسرے خلیجی ممالک اور ریاستوں نے بھی اسی طرح کے بیانات جاری کیے۔
ان ممالک کے ساتھ ایک مسئلہ مشترک ہے، اور وہ ہے اپنے مستقبل کا تحفظ، جس کا جھانسہ دلا کر مغربی طاقتیں جو چاہتی ہیں ان ممالک کی حکومتوں سے منوالیا کرتی ہیں۔
اس وقت عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب، امارت اور اردن وغیرہ میں اسلام پسندوں، بالخصوص اخوانیوں کے گرد گھیرا جس طرح تنگ کیا جارہا ہے، وہ ایک خطرناک واقعہ ہے۔
سعودی عرب کے موقف سلسلے میں ایک تجزیہ یہ بھی سامنے آرہا تھا، جس کی تائید مصرمیں موجود سعودی سفارت خانے کو ارسال کئے گئے خط سے بھی ہوتی ہے کہ سعودی عرب کو عالم اسلام میں اپنی مذہبی قیادت متأثر ہوتی نظر آرہی ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ اگر اسی طرح اخوانی آگے بڑھتے چلے گئے تو وہ وقت دور نہیں کہ ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں بچے گا، سعودی موقف کا ایک جزوی سبب یہ بھی ہوسکتا ہے۔
صورتحال کا صحیح طور سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ سعودی حکومت کے ہاتھ میں عالم اسلام کی قیادت کبھی نہیں آئی تھی، جب تک انہوں نے اپنی دولت لٹائی اور حرمین کے نام سے عوام کا جذباتی استحصال کیا، اس وقت تک لوگ ان سے وابستہ رہے، لیکن اب اس کی امریکہ نواز اور اسلام دشمن پالیسیاں کھل کر سامنے آگئی ہیں، اب اس بات کی امید کرنا کہ سارا عالم اسلام اس کی قیادت کو قبول کرے گا، بہت آسان نہیں ہے ، جبکہ پورے عالم اسلام میں اس واقعہ کے بعد سعودی حکمرانوں کے خلاف نفرت کی ایک لہر چل پڑی ہے۔
سعودی حکمراں بجائے اس کے کہ حالات کا صحیح طور سے جائزہ لیتے اور اپنے موقف پر نظرثانی کرتے، دن بہ دن ان کا موقف سنگین ترین صورتحال اختیار کرتا جارہا ہے۔ ابھی تازہ بیان میں شاہ عبداللہ(جو کہ حقیقت میں یہودیوں کا غلام ہے) نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ دہشت گردی مخالف جنگ میں مصری حکومت کے ساتھ ہے۔ سعودی حکمراں کے اس بیان کے بعد اس کے خلاف نفرت کا رجحان اور زیادہ عام ہوا ہے، سعودی عرب میں بھی اس کے خلاف سخت نفرت اور بے چینی پائی جاتی ہے، قارئین یہ سن کر تعجب کریں گے کہ سعودی نوجوانوں نے ابھی فیس بک پر سعودی حکومت کے خلاف ایک مہم شروع کی ہے، جس میں حصہ لینے والوں کی تعداد چند دن میں ایک لاکھ سے تجاوزکرگئی ہے۔ میرے خیال سے ایک زمانے کے بعد اس قسم کا ماحول پروان چڑھ رہا ہے، اور اللہ نے چاہا تو وہ دن دور نہیں جب عرب بہار سعودی عرب تک پہنچے گی، اور ان ظالم حکمرانوں کو سعودی عرب میں کوئی ٹھکانہ نہیں مل سکے گا۔
امارات کے موقف کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کیا وجہ ہے کہ اس نے اخوان کے تعلق سے اس قدر شدید رویہ اختیار کیا ہے، حالانکہ امارات کا نہ تو خطے کی سیاست میں کوئی بڑا کردار ہے اور نہ ہی وہاں اسلام پسنداس قدر مضبوط ہیں کہ وہاں ابھی کسی انقلاب کی امید کی جاسکتی ہو جس سے ان کو اندیشہ ہو اور اس سلسلے میں احتیاط کے طور پر انہوں نے یہ رویہ اختیار کیا ہو۔ امارات کے اس موقف کا کیا سبب ہے اس کے تعلق سے عرب مفکرعلامہ محمد احمد راشد نے نوم چومسکی کے حوالے سے ایک بہت ہی زبردست بات نقل کی ہے، جس سے اس پروپیگنڈے کی بھی نفی ہوجاتی ہے کہ مصر میں معاشی صورتحال انتہادرجہ بحران کی شکار تھی، نوم چومسکی نے لکھا ہے کہ مرسی نے اپنے ایک سالہ دور میں جس طرح مصر کی معیشت کو کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کے لیے جس طرح نئے نئے منصوبے بنائے ہیں، اور اتنی کم مدت میں اس کے جو زبردست نتائج سامنے آئے ہیں، اس سے امارات کو یہ خطرہ لاحق ہوگیا تھا کہ مسلم دنیا میں اس کو جو معاشی برتری حاصل ہے، اس پر کہیں مصر قبضہ نہ کرلے۔ چنانچہ نہرسوئز پر مرسی نے جو پلان بنایا تھا، جس سے تقریبا دس لاکھ افراد کو روزگار ملنے والا تھا، اور جس سے مصری حکومت کا زبردست فائدہ ہونے جارہا تھا،اس کو منسوخ کرانے کے لیے امارات نے مصر کی فوجی حکومت کو کئی کروڑ ڈالر کی رشوت سرعام دی ہے، اور مصر کی باغی حکومت نے اس کو روکنے پر حامی بھی بھر لی ہے۔
حقیقت میں سعودی عرب، امارات اور دوسری خلیجی ریاستوں کو امریکہ نے طرح طرح سے جھانسہ دلاتے ہوئے اس فوجی بغاوت میں نہ صرف شریک کیا، بلکہ ان کو بالکل ننگا کرکے چھوڑ دیا، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کی جس منافقت پر زمانے سے پردہ پڑا ہوا تھا، اس موقع پر وہ سب کھل کر سامنے آگئی۔
(۴) داخلی سازشیں
مصر کے صدر محمد مرسی کے خلاف ہونے والی ان سازشوں میں بنیادی طور پر چار عناصر کو استعمال کیا گیا، جس میں میڈیا سرفہرست ہے، میڈیا نے مرسی حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے میں زبردست کردار ادا کیا، اس پروپیگنڈے سے مصر کے اندر کوئی متأثر ہوا ہو یا نہیں لیکن عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے میں اس نے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ مثال کے طور پر تحریر اسکوائر پر مرسی کے خلاف جمع ہونے والے مظاہرین کی تعداد کئی گنا بڑھا کر بیان کی گئی، اور اس کے لیے مصر کے عوامی انقلاب ۲۰۱۱ ؁ء کے موقع کی تصویریں استعمال کی گئیں، حالانکہ خود میڈیا سے وابستہ بعض بڑے تجزیہ نگاروں کی جانب سے یہ بات اب کھل کر سامنے آگئی ہے کہ جتنی تعداد بیان کی جارہی تھی، تحریر اسکوائر اس کا متحمل ہی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ میڈیا نے عوام میں معاشی مسائل، بجلی اور پانی وغیرہ کو لے کر بے چینی پیدا کرنے میں بہت ہی خطرناک کردار ادا کیا ہے۔
اور آج حال یہ ہے کہ میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے پر امن مظاہرین پر دہشت گرد اور جہادی ہونے کا الزام دیتے ہوئے ان کا قتل عام کیا جارہا ہے اور عالمی برادری خاموش تماشائی ہے۔
دوسرے نمبر پر فوج ہے۔ اس کے لیے فوجی جنرل عبدالفتاح سیسی کو استعمال کیا گیا، اور اسے جھانسہ دیا گیا کہ وہ مصر کا صدر بن جائے گا۔ چنانچہ جب اس نے مرسی کے ساتھ غلط انداز اختیار کرنا شروع کیا، اور فوج کی اعلی قیادت کو اپنا حامی بنالیا، اس وقت مرسی نے اس کو منانے اور کنٹرول کرنے کی ہرممکن کوشش کی، حتی کہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کردہ پانچوں مطالبات بھی قبول کرنے کی پیشکش کردی، لیکن اس نے صاف انکار کردیا، اور اس طرح اس کی قیادت میں فوج نے آگے بڑھ کر بغاوت کا اعلان کردیا۔
تیسرے نمبر پر دستور اور حکومت کی پالیسیوں کے تعلق سے وہ غلط فہمیاں ہیں جو مرسی، اخوان اور اسلام پسندوں کے خلاف عام کی گئی ہیں حالانکہ جو شخص بھی کھلے ذہن کے ساتھ ان کا جائزہ لے گا،وہ یہ مانے بغیر نہیں رہ سکتا کہ مرسی نے مصر کے نئے دستور اور اپنی حکومتی پالیسیوں کے ذریعہ جس رواداری کا ثبوت پیش کیا ہے، اس رواداری کا ثبوت پیش کرنا، کسی دوسرے حکمراں کے بس کی بات نہیں تھی۔
چوتھی چیز مذہبی قیات ہے، حزب النورکے علاوہ شیخ الازہر اور عیسائی پوپ نے اس موقع پر جس بددیانتی کا ثبوت پیش کیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ مسلمانوں کا قتل عام مسلم قیادت کی نگرانی میں کیا جارہا ہے اور یہ قیادت اب بھی اپنے مغربی اور عربی آقاؤں کے اشاروں کی مرہون منت ہے۔
صحیح بنیادوں پر تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے
ڈاکٹرمرسی ظالم مصری حکمراں حسنی مبارک کے خلاف عوامی انقلاب کے نتیجے میں برسراقتدار آئے تھے۔انتخابات کے نتیجے میں آپ ملک کے پہلے جمہوری صدر منتخب ہوئے اور پورے ایک سال تک اقتدار میں رہے۔ اس دوران آپ کے خلاف حسنی مبارک کے باقیات (بیوروکریسی، عدلیہ، انٹلی جنس، فوج، اور میڈیا)نیز بعض نام نہاد عالمی قوتوں کے ذریعہ جس طرح سازشیں رچی گئیں اور آپ کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کی گئی اس کا بے لاگ تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مرسی حکومت کے ایک سال کا تجزیہ کرتے وقت اس چیز کو بالکل ہی نظرانداز کردیا جاتا ہے۔
دوسری چیز جو عام طور پر ان تجزیوں میں دیکھنے کو ملتی ہے وہ یہ کہ ان تجزیوں کی بنیاد مغربی میڈیا کی جانب سے دئیے گئے اعدادوشمار اور خبریں ہوتی ہیں، اور یہ چیز بالکل واضح ہے کہ مرسی حکومت کا تختہ پلٹنے کے لیے رچی جانے والی سازشوں میں میڈیا، بالخصوص مغربی میڈیا نے بہت ہی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔آج بھی میڈیا کا کردار بالکل ہی جانبدارانہ ہے، اس کی جانب سے وہی خبریں نشر ہوتی ہیں جو وہاں کی فوجی حکومت فراہم کرتی ہے۔ گزشتہ دنوں ایک دن میں کئی ہزار شہادتیں ہوئیں، تاہم میڈیا نے اس کوتقریباََ دس گنا گھٹا کر پیش کیا۔جبکہ اس سے قبل تحریر اسکوائر پر مرسی مخالف لاکھوں مظاہرین کو کئی کروڑ بناکر پیش کیا، جبکہ اسی میڈیا کے پیش کردہ دوسرے حقائق بتاتے ہیں کہ اس میدان کے اندر اتنے افراد دُور کی بات ، اس سے دس گنا کم بھی بمشکل ہی آسکیں گے۔
قصۂ مختصر
قصہ مختصر یہ ہے کہ ڈاکٹر محمد مرسی مصر کو ایک آزاد اور خودمختار جمہوری ریاست کے طور پر آگے بڑھانا چاہتے تھے، ایک ایسی ریاست جو
اپنی پالیسیوں اور فیصلوں میں آزاد ہو؛
اپنی تجارت اور معیشت میں آزاد ہو؛
اورجو اپنے قدموں پر کھڑی ہوسکے۔
یقیناًیہ چیز مغربی حکمراں کسی صورت برداشت نہیں کرسکتے تھے۔
مرسی کے اہم کارنامے
میڈیا کی جانب سے ہونے والے عالمی پروپیگنڈے نے مرسی حکومت کو ناکام ثابت کرنے میں پورا زور صرف کردیا، تاہم حقائق بتاتے ہیں کہ مرسی نے اپنے ایک سالہ دور حکومت میں مختلف سطحوں پرزبردست اور قابل ذکر کامیابی حاصل کی ہے۔ ضرورت ہے کہ مرسی کے کارناموں کا منصفانہ تجزیہ کیا جائے، اور میڈیا کے مرسی مخالف جھوٹے پروپیگنڈے کی حقیقت سامنے لائی جائے۔ توفیق الہی شامل حال رہی تو آئندہ ماہ اس موضوع پر روشنی ڈالی جائے گی۔ واللہ ولی التوفیق وہو حسن المآب 2n2
2n2

 

ابوالاعلی سید سبحانی

About Admin Rafeeq

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

غزہ اور غرور ستمگراں

سابق اسرائیلی صدر اسحاق رابن کی یہ تمنا تھی کہ کاش غزہ ...