اپنی باتیں
اگست کا شمارہ ملا۔ ’’اپنی باتیں‘‘ میں آپ نے جو باتیں لکھی ہیں، کاش کہ مسلم نوجوان اس کو سمجھ جائیں۔ بہت خوب ایک ایک لفظ عقل وذہن کو جلا بخشنے والا ہے۔ غوروفکر سے لبریز، احساسات وجذبات کو جھنجوڑتا ہوا۔ اللہ آپ کے رفیق کو اپنے مقصد میں کامیاب بنائے۔
ناز آفریں۔ رانچی، جھارکھنڈ
خلافت کا مسئلہ
ماہ اگست کا رفیق منزل دیکھا، معمول سے ہٹ کر مضامین شائع کیے گئے ہیں، بالخصوص خلافت کے مسئلہ پر ڈاکٹر محی الدین غازی اور علامہ احمد الریسونی کی باتیں کافی اہم ہیں۔ عراق کی صورتحال پر جناب عبیدالرحمن صاحب کی بہت ہی مختصر لیکن اہم تحریر ہے۔
سعید احمد شیخ، نئی دہلی
صدائیں پھر کسی۔۔۔۔
محترم! بحیثیت ایک ادیب کچھ اپنی اصلاح اور کچھ آپ کی کرنامیرا ایک فرض ہے، جس کو ادا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے قلم کو جنبش دے رہا ہوں۔ محترم! ایک بنیادی رسالے کی خوبی ہوتی ہے کہ اس کے اندر شائع ہونے والے تما م مضامین ، نظمیں اور دیگر تخلیقات بہت معیاری ہوں۔ اس ماہ کا آپ کا شمارہ پڑھا، بہت خوشی ہوئی، مگر اس میں ’فلسطین کے جانباز نوجوانوں کے نام‘ کے عنوان سے نظم پڑھنے کے بعد معلوم چلا کہ یاتو ایڈیٹر صاحب نے اس نظم کو بغور دیکھا نہیں ہے، یا جان بوجھ کر چلنے دیا ہے۔ آپ کو کیا لگتا ہے کہ آپ کا یہ رسالہ صرف طلبہ ہی پڑھتے ہیں، یا پھر وہی لوگ بھی پڑھتے ہیں جو فکری اور ادبی اعتبار سے کمزور ہیں۔ اگر ایسا ہے تو میری تنقید بے معنی ہے۔ لیکن اگر ہم یہ سوچتے ہیں کہ فکری لوگ اور اعلی قابلیت کے لوگ اس کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تو پھر آپ کی یہ نظم اس رسالے کی خوبصورتی میں کبھی بھی اضافہ نہیں کرے گی، بلکہ ادبی ذہن رکھنے والے ایک طالب علم کو کوفت محسوس ہوگی کہ ایک غیر معیاری نظم کو کیسے اتنے معیاری رسالے میں جگہ دے دی۔ اس وقت اور غصہ آتا ہے جبکہ یہ رسالہ تحریک سے وابستہ افراد کا ہے۔ کیا صرف نام ونمود کے لیے ہم ایسی غیرمعیاری نظم کو شائع کردیں۔ میرا جیسا ادبی تنقید نگار جب اس میں بہت ساری کمیاں نکال سکتا ہے تو آپ بتائیں کہ دیگر لوگوں کو اس کو پڑھنے کے بعد کتنی کوفت ہوگی۔
اس نظم میں فلسطینی عوام کا دکھ درد سب کچھ تھا، حوصلہ بھی تھا، لیکن بے وزن بحر کی بنیاد پر لکھی گئی یہ نظم ایک اُبالی ہوئی کھچڑی تھی، نظم کے قواعدوضوابط کے مطابق شاعری کا پہلا اصول بحر وزن ہے، چاہے ردیف قافیے کی پابند نہ ہو، مگر وزن سے خالی یہ نظم یہ ستم کررہی تھی۔ سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ آزاد نظم تھی، یا پابند ومعری نظم تھی۔ ردیف قافیہ کی پابندی کی بنیاد پر یہ پابند نظم تھی، مگر پابند نظم ایسی جیسے کوئی پتھر پھینک رہا ہو، آپ اس کا پہلا شعر لے کر دیکھیں، اس میں تو قواعد کو بالکل ہی بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے۔ ’صدائیں پھر کسی مظلوم کی، بیوہ کی آئی ہیں‘۔ اگر صدائیں لکھا ہے تو جمع کے الفاظ ہی استعمال ہوں گے، کیونکہ صدائیں جمع ہے صدا کی۔ اس اعتبار سے مظلوموں اور بیواؤں ہونا چاہئے۔ پھر آخر میں قافیہ میں ’آئی‘ کی جگہ آئی کی جگہ پر ’آئیں ہیں‘ آنا چاہئے۔افسوس ہے بھائی بہت زیادہ افسوس ہے کہ اتنی بڑی غلطی آپ کی نظروں سے ہوکر گزر گئی۔ تیسرا اور چوتھا شعر دیکھئے، وہاں تو ایسا لگا کہ تیسرے اور چوتھے شعر میں تعلق ہے۔اور تعلق ہے تو چوتھے شعر کو دیکھو ایسا لگ رہا ہے کہ یہ فلسطینیوں سے کہا گیا ہے، بھائی ہم اسرائیل سے لڑ رہے ہیں، فلسطینیوں سے نہیں۔ اور پھر یہ تم، نہیں، اِن کی شاعری میں بہت کم ضرورت ہوتی ہے، اور خاص کر اس نظم میں تو بالکل ہی نہیں۔ چوتھے شعر میں ’کہ‘ بھی لگادیا، اور ’اور‘ بھی۔ واہ بہت خوب، آخر کیا دکھانا چاہ رہے تھے کہ رفیق منزل کے قاری یونہی گزر جائیں گے۔ ارے بھائی اس سے بہتر تھا کہ آپ شاعر صاحب سے کہتے کہ مضمون نگاری میں ہنر آزمائیں، تو بہتر ہے۔ چھٹا شعر دیکھئے، جب پہلے ہی مصرعے میں ’تم‘ کہہ دیا، تو پھر دوسرے مصرعے میں ’تجھ‘کہنے کی ضرورت کیا تھی۔ آٹھویں شعر کو دیکھ کر لگتا ہے کہ پابند نظم کی ساری کمر توڑ دی ہے۔ ۔۔۔
مدثر داعی وزیرپوری، راجستھان
( چند ضروری وضاحتیں:
(۱) موصوف آزاد اور پابند نظم میں فرق ملحوظ نہ رکھ سکے، اس کی وجہ سے ان کے ذہنی اشکالات میں اضافہ ہوا۔ (۲) ہمارے یہاں آزاد اور پابند دونوں قسم کی نظمیں شائع ہوتی ہیں، اور اشاعت سے قبل عموماََاہل فن کی رائے بھی لے لی جاتی ہے۔ (۳) یہ بات کی ’صدائیں‘ کے ساتھ جمع کے الفاظ ’مظلوموں‘ اور ’بیواؤں‘ ہی استعمال ہوں گے، صحیح نہیں ہے۔ (۴) موصوف کا کہنا ہے کہ ’آئی‘ کی جگہ’ آئیں‘ استعمال ہونا چاہئے، یہ بھی صحیح نہیں ہے، جب شعر میں ’آئی‘ کے بعد ’ہیں‘ کا استعمال ہے، تو ’آئیں‘ کے استعمال کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ (۵) اگر موصوف اس کو پابند کی جگہ آزاد نظم مان لیں، اور اشعار کی جگہ مصرعوں کی حیثیت سے اس کو دیکھیں، تو دیگر اشکالات بھی بآسانی رفع ہوجائیں گے۔ امید کہ موصوف غور فرمائیں گے۔ ادارہ)

About Admin Rafeeq

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

اداریہ پڑھ کر خوشی ہوئی تازہ شمارہ اگست ۲۰۱۵ ؁ء ای میل ...