بنیادی صفحہ / سخن / ابتسام

ابتسام

مسکراؤ کہ مسکرانے سے

نور چہرے کا اور بڑھتا ہے
رنگ الفت کا اور چڑھتا ہے
صاف ہوتا ہے آئینہ دل کا
نشۂ کبر اور ڈھلتا ہے
رزم گاہ جہاں میں دل والا
بن پئے مے بھی اور لڑتا ہے
دیکھ کر عشق کی حنا بندی
حسن بیداد اور ڈرتا ہے
پھر خرابے میں سبزہ اُگتا ہے
دھوپ، گرمی سے اور لڑتا ہے
اس کے ملنے کی یہ کرامت ہے
پردہ آنکھوں سے اور ہٹتا ہے
بے حسی دور بھاگ جاتی ہے
ہر قدم ٹھیک اور پڑتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسکراؤ کہ مسکرانے سے

ربط باہم بحال ہوتا ہے
آدمی خود نہال ہوتا ہے
خوش دلی، صبرواستقامت میں
آپ اپنی مثال ہوتا ہے
کس طرح اس مقام تک پہنچے
یہ نمایاں سوال ہوتا ہے
اس کی لذت کا یہ اثر نکلا
ظالموں کا زوال ہوتا ہے
روکنے سے بھی اب نہیں رکتا
دل میں اچھاخیال ہوتا ہے
بزم انجم میں ذکرِ خیر کے ساتھ
زندگی پر سوال ہوتا ہے
کوئی آزردہ گرچلا جائے
تو یقیناًملال ہوتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسکراؤ کہ مسکرانے سے

آپسی دشمنی بھی مٹتی ہے
ایک احساس ایسا ہوتا ہے
رات میں چاندنی بکھرتی ہے
چاند پہلو میں اس کے سوتا ہے
وقت کے آہنی حصاروں سے
مہر امید پھر نکلتا ہے
دشت ظلمت میں، کوہساروں میں
وہ ترے ساتھ ساتھ چلتا ہے
بوجھ محسوس بھی نہیں ہوتا
کوئی نقصان بھی نہیں ہوتا
کچھ بھی کرنے سے ڈر نہیں لگتا
کھوٹا سکہ کبھی نہیں چلتا
چلتا رہتا ہے آگ پر پھر بھی
پاؤں بسام کا نہیں جلتا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسکراؤ کہ مسکرانے سے۔۔۔۔۔
محمد امین احسن،بلریاگنج۔ اعظم گڑھ، یوپی

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

ائے کاش ایسا دیس ہو..!!

کبھی دل کرے سرگوشیاں میں جاؤں کہیں دور تک جیسے جاتی ہیں ...