ایس آئی او آف انڈیا کی جانب سے طلبائی منشور کا اجراء
نئی دہلی۔ ایس آئی او آف انڈیا کی جانب سے پریس کلب آف انڈیامیں حالیہ انتخابات کے مدنظر طلبائی منشور کا اجراء کیا گیا۔ اس طلبائی منشور کے اجراء کے موقع پر صدر تنظیم برادر اشفاق احمد نے کہا کہ ملک میں طلبہ ونوجوانوں کی ایک بڑی تعداد مختلف سماجی وسیاسی اشوز میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے، لیکن ان کے مسائل کو کبھی زیربحث نہیں لایا جاتا۔ لہذا ایس آئی او آف انڈیا نے طلبہ، تعلیم اور تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ عام نوجوانوں کے مسائل کو طلبائی منشور میں شامل کیا ہے، اور اسے مختلف سیاسی پارٹیوں کے ذمہ داران اور الیکشن میں حصہ لے رہے امیدواروں کے سامنے پیش کیا ہے۔ یہ طلبائی منشور ہندوستان کے طلبہ اور نوجوانوں کو درپیش مسائل اور چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے کچھ مطالبات پیش کرتا ہے۔ اس میں مطالبات کے ساتھ ساتھ سیاسی پارٹیوں کے لیے تجاویز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ جس میں بے روزگاری کا خاتمہ، الکوحل، تمباکو اور ڈرگس کے استعمال پر پابندی، بے قصور نوجوانوں کی گرفتاریوں پر روک، تعلیم کے تجارتی کرن، اور تکنیکی تعلیم کے معیار اور تحقیق کے کام کے سلسلے میں بہت میکانزم کی کوشش، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی بحالی، اعلی تعلیم میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ کے لیے غیرسودی قرض کی فراہمی، سچرکمیٹی اور مشرا کمیشن کی سفارشات کا نفاذ، نصاب میں فرقہ واریت اور بھگواکرن کی نشاندہی کے لیے موجودہ نصاب پر نظرثانی، لنگدوہ کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں طلبائی یونین کی بحالی، تحقیقی تعلیم پر زوروغیرہ پچیس مطالبات پیش کیے گئے۔ اس منشور کا اجراء دہلی کے علاوہ اترپردیش، پنجاب، مغربی بنگال، گجرات، مہاراشٹر، آندھراپردیش، کرناٹک وغیرہ میں بھی کیا گیا۔
اسلامی نشأۃ ثانیہ اور اسلامی تحریکات کا ارتقاء
نئی دہلی۔ نجم الدین اربکان کی زندگی اسلامی تحریک کے لیے مختلف پہلوؤں سے اہمیت کی حامل ہے، ان کی حیات سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلامی تحریک کے مشن اور مقصد میں وقت کے ساتھ ارتقاء کے نتائج سامنے آئیں گے، شرط یہ ہے کہ تحریک کے طریقہ کار میں مستقل ارتقاء ہوتا رہے، کامیابی ضرور ہمارے ساتھ رہے گی۔ ان خیالات کا اظہار علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے اسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر عبیداللہ فہد فلاحی نے ایس آئی او آف انڈیا کے ہیڈ کوارٹر میں منعقد ’اسلامی نشأۃ ثانیہ اور اسلامی تحریکات کا ارتقاء‘ کے عنوان سے ایک پروگرام میں کیا۔ یہ پروگرام ترکی کے معروف رہنما جناب نجم الدین اربکان کی یاد میں ۲۸؍فروری ۲۰۱۴ ؁ء میں منعقد کیا گیا۔ اس مناسبت سے برادر سرور حسن جنرل سکریٹری ایس آئی او آف انڈیا، برادر ابوالاعلی سید سبحانی ایڈیٹر رفیق منزل نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ صدارت کے فرائض جناب نصرت علی صاحب سکریٹری جنرل جماعت اسلامی ہند نے انجام دیئے۔
قانونی بیداری ورکشاپ کا انعقاد
نئی دہلی۔ ایس آئی او آف انڈیا کی جانب سے نئی دہلی میں ۸؍۹؍ مارچ ۲۰۱۴ ؁ء کو دوروزہ مرکزی قانونی بیداری ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام کا مقصد بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاری اور ان پر من گھڑت معاملے درج کرانے کے خلاف نوجوانوں کو قانونی رہنمائی فراہم کرنا، اور اس قسم کی خطرناک سازشوں کے خلاف بیدار کرنا تھا۔ اس پروگرام میں ایس آئی او کی جانب سے قائم کردہ سپورٹ سسٹم کا بھی تعارف کرایا گیا۔ اس موقع سے سپریم کورٹ کے عظیم اور مشہور وکیل جناب محمود پراچہ، سابق صدر تنظیم ایس آئی او آف انڈیا سہیل کے کے، رہائی منچ کے جناب ایڈوکیٹ محمد شعیب، جماعت اسلامی ہند کے کل ہند سکریٹری جناب انجینئر محمد سلیم نے مختلف موضوعات پر طلبہ اور سماجی کارکنوں کی رہنمائی کی۔ برادر اشفاق احمد صدر تنظیم ایس آئی او آف انڈیا کے صدارتی خطاب سے اس ورکشاپ کا اختتام ہوا۔ اس مناسبت سے مختلف صوبوں سے قانون سے دلچسپی رکھنے والے طلبہ اور نوجوانوں نے شرکت کی۔
ایس آئی او کے وفد کی وزیر برائے اقلیتی بہبود سے ملاقات
کلکتہ۔ ایس آئی او آف انڈیا ریاست مغربی بنگال کی جانب سے برادر مسیح الرحمن صدر حلقہ کی قیادت میں ایک وفد نے مغربی بنگال کے وزیر اقلیتی بہبود سے ملاقات کی۔ اس وفد نے وزیر کے سامنے اوبی سی طلبہ کو ایس سی اور ایس ٹی کے برابر کے مواقع فراہم کرانے سے متعلق کچھ مطالبات پیش کئے۔
راجستھان زون میں کلچرل فورم کا قیام
جے پور۔ ہم کیوں جی رہے ہیں؟ہم کیا کررہے ہیں؟ جب ہم ان سوالات کے جوابات تلاش کرلیتے ہیں تو ہماری زندگی سکون حاصل کرلیتی ہے، اور آج یہ سکون ہمیں چھتج فورم فار آرٹ اینڈ کلچر سے مل رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار جناب ارچنا شری واستو (صدر شعبہ فنون لطیفہ راجستھان یونیورسٹی)نے ایس آئی او راجستھان کی جانب سے ۲۷؍فروری ۲۰۱۴ ؁ء کو شنکرا کالج آف ٹیکنالوجی جے پور میں منعقد چھتج فورم فار آرٹ اینڈ کلچر کے تاسیسی جلسہ میں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ادب اور فنون لطیفہ کا اصل کام انسانی جذبات کا اظہار ہے، جس سے انسان کو انسان کے روپ میں پہچانا جائے۔چنانچہ یہ مقصد پورا ہوتا ہے تو ادب اور فنون لطیفہ کو نہ صرف ہم کتابوں میں پڑھیں گے، بلکہ اس کے ساتھ جینے بھی لگیں گے۔ پروگرام کی صدارت ایس کے چودھری (چیئرمین شنکرا گروپ آف انسٹی ٹیوشن)، مطلب مرزا صدر حلقہ ایس آئی او راجستھان نے بھی خطاب کیا۔ اس دوران مختلف تہذیبی اور ادبی پروگرام بھی پیش کئے گئے۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

روہت: مزاحمتی تحریکات کے لیے ایک روشن ستارہ – نحاس مالا

روہت ویمولا کے یونیورسٹی انتظامیہ کے دباؤ میں خودکشی کی دوسری برسی ...