خون کی نہیں قیمت، یہ بہت ہی سستا ہے
پانی کی طرح یہ بھی ہر جگہ برستا ہے

خون اپنے بھائی کا، اتنا کیوں کیا ارزاں
کیا تمہارے سینے میں دل نہیں دھڑکتا ہے

دوسروں کی بہنوں کی آبرو سے کھیلا تو
کیا تو اپنی بہنوں کو اس طرح ہی ڈستا ہے

کر گناہوں سے توبہ، عاقبت سنوار اپنی
زندگی کی راہوں میں موت کا بھی رستا ہے

منتشر لیاقت سے بات کچھ نہ بن پائی
جب گہر پروتے ہیں، ہار تب ہی بنتا ہے

بندۂ خدا آخر، ہوگیا ہے کیا تجھ کو
ٹھوکریں بھی کھانے سے، تو نہیں سنبھلتا ہے

شاعری میں ساغر کی، یہ بڑی برائی ہے
ہر زمان، ہر جا وہ، حق کی بات کہتا ہے
عبدالقادر ساغر،
الجامعۃ الاسلامیہ شانتاپرم۔ کیرلا

خواب ہوں میں۔۔!
شاہین ہوں میں، پرواز ہوں میں
تیرے دل کی، آواز ہوں میں
اقبال جو تونے دیکھا تھا
اُن خوابوں کی تعبیر ہوں میں
پیرانِ کلیسا اور حرم
اب ٹوٹ چکے ہیں سب کے بھرم
ہر زخم عیاں ہوجائے گا
ہر درد بیاں ہوجائے گا
مظلوم تری آواز ہوں میں
ظالم کے لیے تلوار ہوں میں
مزدور زباں اب کھولے گا
اور اپنی کہانی بولے گا
زنجیرِ غلامی توڑے گا
انساں کی غلامی چھوڑے گا
مجبور کسانوں ڈٹ جاؤ
اے ظلم کے بادل چھٹ جاؤ
انساں کی خدائی ختم ہوئی
دولت کے پجاری ہٹ جاؤ
ملت کے جواں اٹھ جائیں گے
ظلمت کے نشاں مٹ جائیں گے
سارے ہی سنیں گے، رب کی صدا
مٹ جائیں گے، پتھر کے خدا
انصاف کی خاطر لڑنا ہے
باطل سے نہیں اب ڈرنا ہے
انجام ہو جو، کیا کرنا ہے
حق بات پہ جینا مرنا ہے
مسیح الزماں انصاری، نئی دہلی

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

غزل

حق بات جب سے سب کو سنانے میں لگ گیا سارا جہان ...