عوام وخواص سب کے لیے مفید
آپ کا مؤقر مجلہ رفیق منزل نومبر ۲۰۱۳ ؁ء اپنی تمام تر رعنائیوں اور خصوصیتوں کے ساتھ اعزازی موصول ہوا۔ یہ مجلہ اپنے متنوع مضامین اور حسن انتخاب کے لحاظ سے عوام وخواص سب کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔ اللہ آپ کی کوششوں کو قبول فرمائے۔
محترم !سال رواں میں یہ مجلہ کم وبیش پانچ ہزار طلبہ وطالبات اور محققین کی نظروں سے گزرا، اور اساتذہ ومعلمات کی ایک بڑی تعداد نے اس سے استفادہ کیا۔ امید کہ آپ کا موقر مجلہ موصول ہوتا رہے گا، نوازش ہوگی۔
عرفان احمد فلاحی،
لائبریرین،مرکزی لائبریری،
جامعۃ الفلاح۔ اعظم گڑھ
یہ ایک اہم مسئلہ ہے
ماہ دسمبر ۲۰۱۳ ؁ء کا رفیق ملا۔ ڈاکٹر سلیم خاں کا تجزیاتی مضمون کافی پسند آیا۔ موصوف نے کمیونسٹ پارٹی کے ماضی کا اچھا تجزیہ کیا ہے، موصوف نے کافی اہم بات کہی ہے کہ ’’قومی شخصیتوں کے تعلق سے بھی اشتراکی تحریک کا اونٹ پہلو بدلتا رہا ہے۔ ولبھ بھائی پٹیل کی مخالفت میں ان لوگوں نے جب پنڈت نہرو کی حمایت کی تو ان کیلئے کانگریس کی سرمایہ دارانہ پالیسی کی مخالفت کرنا مشکل ہوگیاجس سے پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ جب کانگریس تقسیم ہوئی تو ان لوگوں نے اندراگاندھی کے بنکوں کو قومیانے اور نوابوں اور راجاؤں کا جیب خرچ بند کردئیے جانے سے خوش ہوکر ان کی حمایت کردی حالانکہ وہ ایک ڈرامہ تھا لیکن یہ اس کے فریب میں آگئے۔ آگے چل کر جب اندراجی نے ایمرجنسی نافذ کردی تو ان لوگوں کو بھی صعوبتوں کا شکار ہونا پڑا۔ منموہن سنگھ بجا طور پرہندوستان میں سرمایہ دارانہ نظام کے جنک کہلائے جاتے ہیں۔ اس لئے کہ وزیرخزانہ کی حیثیت سے کھلے بازار کا دروزہ انہیں کے دستِ مبارک سے کھلا۔وزیر اعظم بننے کے بعد انہوں نے نجی کاری کی مددسے سرمایہ دارانہ نظام کو ملک میں پوری طرح جاری و ساری کردیا،اس کے باوجود فسطائیت دشمنی کی آڑ میں اشتراکیوں نے۲۰۰۴ ؁ء سے لے کر ۲۰۰۸ ؁ء تک منموہن کی بھرپور حمایت کی، اس طرح گویا خود اپنے ہاتھوں سے اپنے نظریہ کو زندہ درگور کردیا‘‘۔مضمون کافی اچھا، اور اہم ہے، امید کہ اس طرح کے تجزیے شائع کیے جاتے رہیں گے، اور اس شمارے کی طرح آئندہ شماروں میں بھی سیاسی تجزیے شامل اشاعت کیے جاتے رہیں گے۔ اس کے علاوہ اداریہ میں اٹھایا گیا مسئلہ بھی کافی اہم اور لائق توجہ ہے۔ مدیر رفیق منزل کی یہ بات قابل غور ہے کہ انگولا کا یہ واقعہ ایک تنبیہ ہے، اس وقت ہندوستان اور دوسرے ممالک میں دعوت دین کے جو مواقع موجود ہیں وہ غنیمت ہیں، نہیں معلوم کب تک یہ مواقع حاصل رہیں۔ یہ بات کافی اہم ہے، اس اہم مسئلہ پر امت اسلامیہ ہند کی قیادت کو فوری توجہ دینی چاہئے، اور امت کے داعیانہ کردار کی بحالی کے لیے کوشش کرنی چاہئے۔ اللہ رب العزت ہمیں خیر کی توفیق عنایت فرمائے۔
ساجد الرحمن، نئی دہلی
ہندوستانی مسلمانوں کے لیے سبق 
ماہ دسمبر کا رفیق منزل موصول ہوا، دیکھ کر خوشی ہوئی۔ امتحانات کی مصروفیت کی وجہ سے مکمل رسالہ نہ پڑھ سکا۔ البتہ اداریہ کے علاوہ چند مضامین پر نظر ڈالی۔ اداریہ پڑھ کر جہاں ایک طرف غم ہوا کہ انگولا میں اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کی سازشیں زوروشور سے چل رہی ہیں، وہیں دوسری طرف دل کو اس بات سے تسلی ہوئی کہ ادارہ رفیق منزل حالات حاضرہ پر گہری نظر رکھتا ہے۔ یہ خبر بہت ہی کم بلکہ نہ کے برابر اخبارات ورسائل میں اپنی جگہ بنا پائی، آج ہمارے لیے بہت ضروری ہے کہ ہم حالات حاضرہ پر گہری نظر رکھیں، اور ان سے نصیحت حاصل کریں اور اپنے اور اپنے ملک کی تعمیر وترقی کے لیے اس کی روشنی میں حکمت عملی تیار کریں۔ اگر انگولا کے مسلمانوں نے دس سال قبل اپنا نمائندہ حکومت کے سامنے پیش کیا ہوتا، اور وہ اسلام کو بخوبی ان کے سامنے پیش کرتا، تو نہ تو صرف انگولا کی حکومت مسلمانوں کو مذہبی شعائر اور عبادات کی ادائیگی سے روکتی بلکہ ایک فیصد کی جگہ آج وہاں مسلمانوں کی آبادی کا اچھا تناسب ہوتا، لیکن بہرحال، یہ عمل صرف ایک نفس کا نہیں، بلکہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کو اپنے قول وعمل سے وہاں کیعوام کے سامنے پیش کرتا۔
ہندوستان کے مسلمانوں کو بھی اس سے سبق لیتے ہوئے اس طرف پیش قدمی کرنی چاہئے کہ ان کا عمل ان کے قول سے متضاد نہ ہو، اور وہ اسلام کو اپنے قول سے پیش کرنے کے ساتھ ساتھ عمل سے بھی پیش کریں۔ مجموعی طور سے رفیق کے تمام مضامین عمدہ ہیں، اللہ تعالی اس میں اور جدت پیدا کرے۔ آمین
عبدالرب ، جامعہ ملیہ اسلامیہ
مضامین مفید ہوتے ہیں
پچھلے دو تین ماہ سے رفیق منزل کافی تاخیر سے مل رہا ہے، رفیق منزل میں جو مضامین آتے ہیں وہ بہت ہی مفید ہوتے ہیں، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ رسالہ وقت پر موصول ہوتا رہے۔ اس کے لیے ہم سمجھتے ہیں کہ آپ توجہ فرمائیں گے۔ امید کہ آئندہ رسالہ وقت پر ملے گا۔
صوفیہ، سوائے مادھوپور، راجستھان

About Admin Rafeeq

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

اداریہ پڑھ کر خوشی ہوئی تازہ شمارہ اگست ۲۰۱۵ ؁ء ای میل ...