تحریریں دل کو چھوتی ہوئی معلوم ہوئیں
رفیق منزل ستمبر ۲۰۱۵ ؁ء کا شمارہ موصول ہوا۔ بلاشبہہ یہ مجلہ تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور ایک صحت مند مکالمے کو جنم دینے میں ایک پل کا کام کررہا ہے۔ یوں تو تمام تر تحریریں ’’اپنے اپنے زاویہ نگاہ اور فہم کے ساتھ فکرونظر کی آگہی اور جہدمسلسل سے عبارت ہیں، مگر کچھ تحریریں دل کو چھوتی ہوئی معلوم ہوئیں۔ جن میں افکار ونظریات کی دھار بھی تھی اور ادبی چاشنی بھی۔ مثلاََ ’اپنی بات‘ میں جناب ایڈیٹر صاحب کی تحریر ’ترجیحات کا تعین‘، محترم محی الدین غازی صاحب کا مضمون ’آپ ڈائس پر کیوں بیٹھیں؟‘، رویندر ناتھ ٹیگور کے نظریہ حیات پر مولانا محمد فاروق خاں صاحب کا مضمون، ڈاکٹر سلیم خان کا مضمون’سشما یا ششی: چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں‘ وغیرہ۔
یہ بدیہی حقیقت ہے کہ امت بحیثیت مجموعی اپنے ارتقائی کردار سے محروم ہوچکی ہے، نتیجہ یہ ہوا کہ افراط وتفریط اور اپنے انتہاپسندانہ نظریات کی وجہ سے تنزل اور پستی کی طرف گامزن ہے۔ جناب ایڈیٹر صاحب نے اشارتاََ ماضی کے جھروکوں سے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ کن کن حالات میں کیا کیا ترجیحات اختیار کی گئیں۔ ایک طرف صورتحال تو یہ ہے کہ ہمیں اپنی ترجیحات کا پتہ ہی نہیں، دوسری جانب کچھ ایسے مفکرین اور متفکرین بھی ہیں جن کے یہاں ترجیحات کا تعین تو ہے لیکن روح عصر اور روح وحی کا فقدان ہے۔ جن کو وہ ترجیحات سمجھتے ہیں یا جن کو وہ ترجیحات سمجھتے ہیں، وہ دراصل ہمیں ترقی معکوس کی طرف لے جاتی ہیں۔
آپ ڈائس پر کیوں بیٹھیں؟ انتہائی دلچسپ مضمون تھا، سلجھا ہوا انداز بیان، لفظ لفظ دل کو چھوتا ہوا محسوس ہوا، میں نے اس مضمون کو بار بار پڑھا۔ صورتحال یہ ہے کہ ہم خود کو دوسروں سے الگ سمجھتے ہیں اور پھر اسی کو اخلاقی رول ماڈل میں شامل کردیتے ہیں۔ روایتی مجلسوں اور محفلوں میں خودنمائی کا یہ انداز اپنے آپ کو دوسری دنیا کا باسی سمجھنے میں کافی حد تک مددگار ثابت ہوتا ہے۔
کاشف حسن،الجامعہ الاسلامیہ، شانتاپرم کیرلا

آپ ڈائس پر کیوں بیٹھیں؟
ماہنامہ رفیق منزل ستمبر۲۰۱۵ ؁ء نظرنواز ہوا۔ گزشتہ شماروں کی طرح یہ شمارہ بھی اپنے ساتھ نئے نئے مضامین، اور نئے نئے خیالات کا ایک خوبصورت اور دلکش گلدستہ ساتھ لایا۔
ڈاکٹر محی الدین غازی صاحب کے مضامین تو سبھی بہت ہی زبردست ہوتے ہیں، لیکن کبھی کبھی واقعی حیرت اور تعجب ہوتا ہے۔ کیا مضامین لکھتے ہیں! بہت ہی عملی قسم کے اور روزمرہ کی زندگی میں پیش آنے والے اہم مسائل پر۔
ڈائس والا مضمون پڑھتے ہی میں نے اس کو اپنے بہت سے واٹس ایپ گروپس پر شیئر کیا، اور پھر میں اس پر بہت دیر تک سوچتا رہا، کہ اگرڈائس کو ایک علامت مان کر بات کی جائے، تو پھر ہماری ملت کے نہ جانے کتنے مسائل اسی ڈائس سے وابستہ ہیں، مسجد سے لے کر مدرسوں تک اور پھر مختلف اجتماعی اداروں اور تنظیموں تک، جو بھی اختلافات اور مسائل پائے جاتے ہیں، ان کی ایک بہت بڑی وجہ یہی ڈائس کی شکل میں نظر آتی ہے۔
اگر ملت کا ہر فرد ، خواہ وہ عام فرد ہو، یا قائد ہو، اس سوال پر غور کرے، تو بہت سے مسائل سے بہت آسانی کے ساتھ ملت کو نجات مل سکتی ہے۔
اس کے علاوہ دیگر مضامین میں ڈاکٹر سلیم خان صاحب کا مضمون حسب معمول پسند آیا۔
مولانا فاروق خاں صاحب کے مضمون کو پڑھ کر رویندر ناتھ ٹیگور کے تعلق سے مزید پڑھنے کا اشتیاق ہوا۔موصوف کو دیگر ہندوستانی مفکرین کے افکار پر بھی قلم اٹھانا چاہئے۔
راجیو دھون اور ابوبکر سباق صاحب نے ڈریس کوڈ کے مسئلے پر اچھی روشنی ڈالی ہے۔
برہان صدیقی صاحب کا مضمون مصری حالات پر اور جوہر جاوید صاحب کا مضمون اے پی جے عبدالکلام کی حیات وخدمات پر کافی محنت سے لکھا گیا ہے۔
آخری صفحے پر کالم کا نام بدلا ہوا دیکھا، ’’آپ کی باتیں‘‘ کی جگہ ’’فکروآگہی‘‘ اچھا موضوع ہے، اور اس کے تحت ’’کامیابی کا راز۔ منزل کا تعین‘‘ مضمون بھی بہت خوب ہے۔
قلم روکتے روکتے ایک بات عرض کردینا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ اگر مضمون نگاروں کے نام کے ساتھ ان کا مختصر تعارف یا ای میل وموبائل نمبر وغیرہ بھی دے دیا کریں، تو اچھا رہے گا۔
شبیر احمد، کرناٹک

رفیق میں دن بہ دن نکھار آرہا ہے
الحمدللہ آپ کی کوششیں بارآور ہورہی ہیں، رفیق منزل میں دن بہ دن نکھار آرہا ہے، ’’اللہ کرے زور قلم اور زیادہ‘‘۔ اللہ آپ کی صلاحیتوں اور توانائیوں میں اضافہ کرے، توفیق اور ارزانی کرے، اور جزائے خیر سے نوازے، والسلام
آپ کا خیر اندیش
سید محمود، حال مقیم امریکہ

About Admin Rafeeq

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

’’آپ کی باتیں‘‘ آپ کی خصوصی دلچسپی نے رفیق کے معیار میں ...