’’آپ کی باتیں‘‘
آپ کی خصوصی دلچسپی نے رفیق کے معیار میں بتدریج بہتری لائی ہے، جزاکم اللہ خیراََ
’’آپ کی باتیں‘‘ چونکہ ایک فکری کالم ہے، ا س کے لیے کوئی موزوں عنوان دینا چاہئے۔ فکر کی گہرائی اور بلندی کی مناسبت سے کوئی عنوان ہوسکتا ہے۔
عبداللہ جاوید، کرناٹک

بنارس ہندو یونیورسٹی میں کانفرنس ایک اچھی شروعات
۱۶؍جون ۲۰۱۵ ؁ء بروز اتوار مجھے ایس آئی او آف انڈیا کے ایک مرکزی پروگرام میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ پروگرام ’’فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور تعمیر وطن‘‘ کے موضوع پر ایک انٹرنیشنل کانفرنس کے طور پر بنارس ہندو یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے اشتراک سے منعقد کیا گیا تھا۔
ملک کے موجودہ نفرت، تشدد، فرقہ وارانہ منافرت اور کشیدگی کے ماحول میں بنارس شہر میں منعقد اس کانفرنس نے امن ومحبت، انسانی بھائی چارہ کی پرزور صدا لگائی اور ایک مثبت پیغام امن ومحبت دیا۔ یہ کانفرنس ایک انوکھا تجربہ تھا۔ دعوتی نقطہ نظر سے اس کی افادیت قابل قدر تھی۔ اس کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ اس میں ریسرچ اسکالرس، طلبہ وطالبات نے اپنے اپنے مقالات کا خلاصہ بیان کیا۔ ۱۶؍جون کی کارروائی میں غالباََ ۲۰؍کے قریب مقالات کے خلاصے کو سن کر میرا احساس یہ تھا کہ ان کا رخ تعمیری اور غیرجانبدارانہ ہے۔ ان کے عناوین الگ الگ تھے لیکن فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا جذبہ اور فکرمندی کا غلبہ تھا۔ نئی نسل فرقہ وارانہ منافرت اور کشیدگی کو تشویشناک سمجھتی ہے۔ وطن عزیز میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ضرورت اور اہمیت کا اسے احساس ہے۔ فرقہ پرستی، میڈیا کا رول، خواتین کا رول، فسادات کا تجزیہ، اور دہشت گردی جیسے اہم موضوع اس موقع پر زیربحث آئے۔ اور ریسرچ اسکالرس نے عمدہ خیالات پیش کیے۔
کانفرنس میں مذہبی رہنماؤں کی شرکت بھی رہی۔ سوامی سروانند سرسوتی جی (ہندو مذہب)، ڈاکٹری تھامسن (عیسائیت)، اڈپی کے مشہور سوامی وشو تیرتھ جی، اور پدم جیت سنگھ سرنا (سکھ مت) قابل ذکر تھے۔ مشہور ومعروف عالم دین اور مصنف ڈاکٹر محمد عنایت اللہ اسد سبحانی بھی تشریف لائے۔ دوسرے دن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تشریف لائے ڈاکٹر عبیداللہ فہد فلاحی نے مولانا مودودی اور پنڈت مدن موہن مالویہ پر اپنا اہم مقالہ پیش کیا۔ راقم کو مرکزی موضوع پر بیس منٹ بولنے کا موقع ملا۔ اختتامی پروگرام میں یوپی کے صدر بی جے پی لکشمی کانت باجپئی نے اظہار خیال کیا۔ اختتامی سیشن میں شعبہ سیاسیات کے ہیڈ پروفیسر مشرا صاحب نے بتایا کہ یہ کانفرنس ایس آئی او آف انڈیا کے اشتراک سے منعقد کی گئی، یہ ان کی زندگی کا ایک اہم تجربہ ہے۔ انہوں نے ایس آئی او کے ذمہ داران اور کیڈر کو سراہا کہ ان کے حسن اخلاق اور برتاؤ نے ہمیں کافی متأثر کیا۔
ایس آئی او کے نوجوانوں نے بہت ہی سلیقے اور حسن وخوبی سے دو روزہ کانفرنس کے ہرسیشن کو چلایا۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر جناب گریش چند ترپاٹھی اور پولیٹکل سائنس ڈپارٹمنٹ کے ہیڈ اور جملہ اسٹاف نے نہ صرف تعاون کیا، بلکہ حسن سلوک اور اچھے رویے کا مظاہرہ کیا۔
یہ کانفرنس انٹلکچولس تک پہنچنے اور اپنے خیالات کو پیش کرنے کا ایک اہم ذریعہ بنی۔ ایک مرتبہ بنگلور میں ایک پروگرام میں دلیپ پڑگاونکر مشہور صحافی نے کہا تھا کہ آج تک اسلام کو انٹلکچول طبقے میں sophisticated طریقے سے پیش ہی نہیں کیا گیا ہے۔ اس موقع پر جماعت اسلامی ہند اور ایس آئی او آف انڈیا کے ذمہ داران نے اسلام کا نقطہ نظر اور اسلامی تعلیمات کو بہت ہی خوبی کے ساتھ پیش فرمایا، اس میں وحدت ادیان جیسی کوئی بات نہیں تھی۔
ایس آئی او کو اس سے کافی حوصلہ ملا ہے۔ اب دیگر یونیورسٹیوں میں اس طرح کے پروگرامس اور کانفرنسوں کے انعقاد سے متعلق منصوبے بنائے جاسکتے ہیں۔ بنارس یونیورسٹی کانفرنس کے اس شاندار انعقاد کے بعد اس کے فالواپ پروگرام پر غور کرنا چاہیے۔ بنارس شہر میں بھی ایس آئی او کے استحکام اور اسلامی تعلیمات کے تعارف کا پروگرام بنانا چاہئے۔ مجموعی طور پر یہ کانفرنس بہت کامیاب رہی۔ اللہ تعالی ایس آئی او کی ان کوششوں کو قبول فرمائے۔ آمین
محمد اقبال ملا،
سکریٹری شعبہ دعوت، جماعت اسلامی ہند
دو باتیں عرض ہیں
امید ہے رمضان المبارک کے آخری عشرہ سے مستفید ہو رہے ہوں گے۔ دو باتیں عرض ہوں۔ رفیق منزل کے مطالعہ کے دوران اکثرایک کمی محسوس ہوتی ہے کہ رسالہ میں ISSN NUMBER نہیں ہے ۔ اگرچہ اس کے مضامین اور پہلے صفحہ پر’’نئی نسل اور تعمیر و ترقی کا داعی ‘‘ اس کی شناخت خود ہے ۔اس کے باوجود. ISSN NO بین الااقوامی سطح پر معیاری کتابی عددی نمبر تجارتی غرض سے استعمال میں آتا ہے جو رسالے کو ایک منفرد شناخت عطا کرتا ہے ۔اس کے علاوہ ایسے رسائل جن پر یہ نمبردرج ہوتے ہیں اُن میں طلبہ و طالبات کے مضامین شائع ہونے سے ان کے کریئر کو فائدہ پہنچتا ہے۔ توقع ہے ناچیز کے مشورہ پر غور کرنے کی زحمت گوارہ کریں گے ۔بنارس ہندو یو نی ورسٹی میں ایس آئی او آف انڈیا کی کانفرنس کی کامیابی پر سبھی کو ڈھیر ساری مبارک باد۔اللہ رب العزت سارے مراحل کو آسان بنائے اوردین حق کا علَم ساری دنیا میں لہرائے۔آمین۔رفیق منزل کی پوری ٹیم اور قارئین کو عید کی پیشگی مبارک باد۔
ناز آفرین (ریسرچ اسکالر)
رانچی یونی ورسٹی،رانچی

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

عمارت کی کرسی عمارت کی کرسی کی بات ایسی ہے جسے کوئی ...