اقتباس
انسان کی دوکمزوریاں
انسان دو چیزوں کی وجہ سے کمزور ہوتا ہے۔ ایک موت کا خوف ، دوسرا رزق سے محرومی کا خوف۔ یہی خوف اندرونی جابروں کے آگے آدمی کو جھکاتا ہے، اور یہی بیرونی دشمنوں سے شکست دلواتا ہے۔ یہ خوف دل سے نکال دیجئے اور اپنے قلب وروح میں یہ بات پیوست کرلیجیے کہ زندگی وموت بھی خدا کے ہاتھ میں ہے اور رزق دینے والا بھی خدا ہے۔ اس کے بعد دنیا کی کوئی طاقت آپ کو نہ جھکا سکے گی ، اور نہ دبا سکے گی اور نہ خرید سکے گی۔ پھر کامیابیاں خود ااپ کے قدم چومیں گی۔ (سیدابوالاعلی مودودیؒ )

دنیا کی تمام امتوں کے لئے روزہ فرض ۔۔۔کیوں؟
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:’’اے مسلمانوں !تم پر اسی طرح روزہ فرض کیا گیا ہے جس طر ح تم سے پہلی امتوں پر فرض کیا گیا تھا۔‘‘(البقرۃ۱۸۳)۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جتنی بھی شریعتیں اور مذاہب آئے ہیں۔ وہ کبھی روزے کی عبادت سے خالی نہیں رہے ہیں۔
برادرانِ عزیز!دنیا میں آج بھی جو مذاہب پائے جاتے ہیں،ان میں روزے کو مذہبی حیثیت حاصل ہے۔ دنیا کے تمام مذاہب میں روزے مختلف شکل میں پائے جاتے ہیں۔ مثلاً: ہندوؤں میں روزہ اس طرح رکھا جاتا ہے کہ وہ اناج کو چھوڑ کر کچھ چنندہ پھل اور پانی روزے کے دوران استعمال کرتے ہیں۔ ہندوؤں کے اس روزے کو ’’اُپاس ‘‘کہا جاتا ہے۔ جبکہ انگریز ی میں روزے کو Fasting کہتے ہیں۔ جین دھرم میں مہینے بھر کا یا چھ مہینے اور سال بھر کا روزہ اس طر ح رکھا جاتا ہے کہ وہ لوگ روزہ رکھ کر بھی الائچی اور گرم پانی کا استعمال کرتے ہیں۔ یہودی مذہب میں روزہ بالکل ہماری طرح صبح سے شام تک رکھا جاتا ہے، فرق اتنا ہے کہ یہودی اپنے روزوں کے لیے سحری کا اہتمام نہیں کرتے، گویا ہمارے اور ان کے روزوں میں سحری کا فرق ہے۔
سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روزوں کو ہرزمانے میں کیوں فرض کیا ؟دراصل اسلامی عبادات نماز، روزے،حج اور زکوٰۃ یہ بندگی کی تربیت ہیں۔ اللہ کی طرف سے ان عبادتوں کو فرض کرنے کا مقصد یہی ہے کہ ان کے ذریعے سے آدمی کی تربیت کی جائے اور اس کواس قابل بنادیا جائے کہ اس کی پوری زندگی اللہ کی عبادت بن جائے۔
آئیے !اب ہم دیکھیں کہ روزہ کس طرح آدمی کو اس بڑی عبادت کے لیے تیار کرتا ہے۔ روزہ ایک پوشیدہ عبادت ہے، یعنی روزے کے سوا دیگر عبادتیں کسی نہ کسی ظاہری حرکت سے ادا کی جاتی ہیں۔ مثلاً نماز میں رکوع وسجود، اور حج میں ایک لمبا سفر طے کرکے جانا ہوتا ہے۔اور لاکھوں افراد کے ساتھ اسے حج ادا کرنا ہوتا ہے ۔ زکوٰۃ کا حال بھی وہ شخص جان لیتا ہے، جس کا حال خدا اور بندے کے سوا کسی دوسرے پر نہیں کھل سکتا۔ ایک شخص سب کے سامنے سحری کرتا ہے،اور افطار کے وقت تک بظاہر کچھ نہ کھائے پئے مگر چھپ کر پانی پی لے یا چوری چھپے کھاپی لے تو خداکے سوا کسی کو بھی اس کی خبر نہیں ہوتی، لیکن ہمارے ننھے روزہ دار وں کا بھی حا ل یہ ہے کہ بھوک اور پیاس سے ہلکان ہونے کے بعد بھی وہ چھپ کر روزہ نہیں توڑتے بلکہ والدین کے سامنے رو دھو کر اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ہیں۔ اور وہ انہیں تسلی دے کر روزہ پورا کرواتے ہیں۔ اسی لئے روزے کو ایمان کی مضبوطی کی علامت کہا گیا ہے۔
روزہ ایک ماہ کی مسلسل ٹریننگ کا نام ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کو مسلسل ایک مہینے تک روزانہ بارہ بارہ یا چودہ چودہ گھنٹے تک بھوک اور پیاس کی کڑی آزمائش میں ڈال دیتا ہے۔ اور جب آپ اس میں پورا اترتے ہیں ، تو آ پ کے اندر اس بات کی مزید قابلیت پیدا ہونے لگتی ہے کہ اللہ سے ڈر کر دوسرے گناہوں سے بھی پرہیز کریں۔ اور چوری چھپے بھی اس کے قانون کو توڑنے سے بچیں۔ یہی روزے کا اصل مقصد ہے کہ ہم بظاہر اور چوری چھپے کسی بھی حال میں اللہ کی نافرمانی کرنے والے نہ بنیں بلکہ پوی زندگی اس کی اطاعت اور فرمانبرداری میں گزاردیں۔ (ازقلم:احمد سفیان قادری۔مالیگاؤں(مہاراشٹر)

لطیفے
* ایک راجہ کی سالگرہ تھی۔ وہ اس موقع سے ہر قیدی سے حال احوال پوچھ رہا تھا۔ اس نے ایک بوڑھے شخص سے پوچھا:’’آپ کتنے سالوں سے یہاں قید
ہیں۔ ‘‘ قیدی نے جواب دیا۔’’تمہارے داداکے زمانے سے۔‘‘راجا نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اسے دوبارہ قید کرلیا جائے۔ یہ ہمارے دادا کی آخری نشانی ہے۔ ‘‘
* والدصاحب:’’بیٹا دہلی میں کیا کام کرتے ہو؟‘‘، بیٹا:(جھنجھلاتے ہوتے)’’میں یہاں سڑکیں ناپتا پھرتا ہوں۔‘‘ والد صاحب(خوشی سے)’’اچھا بیٹا
بڑا اچھا کام کرتے ہو۔ایک کلو میٹر سڑک ناپنے کا کتنا روپیہ لیتے ہو۔‘‘
از طرف:عمارہ تزئین،مالیگاؤں

تصویر
کھول کر الماریوں کے پٹ
کھینچ کر میز کی درازیں
الٹ پلٹ کر تمام خانے؍میں ڈھونڈتا ہوں
کہ ایک تصویر کھوگئی ہے؍نہ جانے کب سے تلاش میں ہوں
کہ وہ ادھوری ہی رہ گئی ہے؍ہر اک کتاب اور ورق ورق کو
الٹ پلٹ کت میں دیکھتا ہوں؍کہ کاش
شاید وہ مل ہی جائے؍تو میں مکمل ہی ا س کو کردوں
کہ ایک خاکہ ہی ہے وہ اب تک
میں جس میں اک اور رنگ بھر دوں
مگر وہ رنگ عارضی نہ ہوگا؍نہ وہ مٹے گا نہ وہ اُڑے گا
ہمیشگی کی مہر ہو جس پر؍میں رنگ ایسا ہی اس کو دوں گا
شفق کی لالی نہیں مناسب؍یہ روز ہی آئے روز جائے
گلوں کی لالی بھی خوب شئے ہے؍مگر ہیں ان کے بھی رنگ بدلے
ذرا یہ مرجھائیں گے تو دیکھو؍لہو کی لالی ہی ایک شئے ہے
ازل سے اب تک جو اپنی لالی لیے ہوئے ہے
نہ رنگ خوں کا بدل سکا ہے؍نہ رنگ خوں کا بدل سکے گا
تو کیوں نہ پھر خون دل کو اپنے؍قطرہ قطرہ نچوڑ کر ہی
بھروں نہ خاکے میں رنگ میں کیوں
کہ اس سے تصویر کو بھی کچھ تو؍جلا ملے گی بقا ملے گی
اگر ملے گی تو جان جاؤں؍یہ تصویر میری ہی زندگی ہے
ابھی ادھوری یہ زندگی ہے؍نہ مقصد نہ کوئی منزل
طویل راہیں قدم ہیں بوجھل؍نہ جانے کتنی ہی اور راہیں
نہ جانے کتنے ہی موڑ اس میں؍نہ جانے کتنے برس ہیں باقی
کہ سینکڑوں ماہ اور بھی ہیں؍ہزاروں دن اور بھی لگیں گے
نہ جانے کتنی اندھیری گلیاں؍اداس راتوں کی ہی سیاہی
سدا مری ہم سفر رہی ہے؍ سدا مری ہم سفر رہے گی
مگر ادھوری سی زندگی بھی؍ہمیں ابھی تک ملی نہیں ہے
یہ کیسی تصویر ہم نے کھودی؍کہ اپنی ہی زندگی کی صورت
ہمیں ابھی تک ملی نہیں ہے!
مرزا خالد بیگ، حیدرآباد

ایک یتیم بچے کی دل سوز آواز
آہ میں ایک یتیم بچہ ۔۔۔ میں اپنے باپ کی محبت و شفقت اور تربیت سے محروم۔ اگر وہ باحیات ہوتے تو وہ مجھے اچھے لباس پہناتے، اچھا کھانا کھلاتے، میری صحت کا خیال رکھتے، اچھی تعلیم دیتے، اچھے اخلاق سکھاتے، اچھی صحبت میں رکھتے، خراب صحبت سے بچاتے تاکہ میری دنیا اور آخرت خراب ہونے سے بچ جائے۔ دنیا کے فتنوں اور میرے ایمان و اسلام کو در پیش چیلنجز(Challenges) سے بچاتے۔ یہ تمام کام وہ مجھ سے بہت ہی قریب ہو کر کرتے اور میں بھی ان کی بے لوث محبت وشفقت کی وجہ سے بہت ہی قریب سے ان کی بات سنتا اور دل کے جھکاؤ اور شکر کے جذبہ سے ان کی فرماں برداری کرتے ہوئے اپنے آپ کو، اپنی زندگی کو، اپنے ایمان و اخلاق کو سدھارتا اور علم دنیا و علم دین سے آراستہ ہو کر زندگی کی بھاگ دوڑ میں پوری زندہ دلی سے لگ جاتا اور انسانیت کو اپنا بہترین عطیہ (Contribution) دیتا۔
اگر کسی کو میری یتیمی پر ترس آرہا ہے تو کیوں نہیں وہ مجھے اپنے گھر رکھ کر اپنے بچوں جیسا برتاؤ کرتا، اور وہ کچھ مجھے دیتا جو میرے باپ مجھے دے سکتے تھے یا وہ فرد اپنے بچوں کو دیتا ہے۔
لیکن یہ کیسا سلوک ہے کہ مجھے قید خانہ میں رکھا جس کا نام دلوں کولبھانے اور دل کی تسکین حاصل کرنے کے لیے ’یتیم خانہ‘ رکھ دیا گیا ہے۔ میں یتیم تو ہو الیکن ابھی یسیر نہیں ہوا، ابھی میری ماں زندہ ہے، لیکن اس یتیم خانہ نے مجھے میری زندہ ماں کی محبت و شفقت اور اس کی بہترین تعلیم و تربیت سے بھی محروم کردیا۔ محرومی پر محرومی۔یہ کیسا سوچنے کا انداز ہے اور یہ کیسا برتاؤکا طریقہ ہے؟ کیوں نہ کچھ اس طرح سوچا ہوتا کہ یتیم بچوں کو ان کے ماں کے جیتے جی یسیر نہ کرتے۔ کچھ اور حل نکالتے قرآن اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بہترین اور فطری رہنمائی کی روشنی میں ۔
لیکن ۔۔۔آہ یہ کیسے میرے سرپرست ! ان کو نہ میری ضروریات زندگی کا خیال ، نہ ہی میرے جذبات و احساسات اور خواہشات کا احساس، نہ ہی میری موجودہ اور آئندہ دنیا کی زندگی کو سنوارنے کا خیال ، یہ کیسا انسانی ضمیر ہے! یہ کیسا ایمان ہے اللہ رب العالمین پر،اللہ کے رسول رحمۃ للعالمینؐ پر، اللہ کی کتابِ ہدایت اور فرقان حمید پراوریہ کیسا ایمان ہے انصاف کے دن پر! اسی دنیا کوسب کچھ سمجھاہوا ہے، مجھ یتیم پر رحم کرنے کے بجائے میری یتیمی کی حیثیت میں اضافہ ہی ہورہا ہے۔ معلوم ہوا کہ اس یتیم کو اور اس یتیم کے رہنے کی جگہ کو اس قدر اہمیت دی جانے لگی ہے کہ اس کی خاطرسارے شہر میں الیکشن کی دھوم مچی ہوئی ہے۔میں اور میری رہائش گاہ لوگوں کے لیے فتنہ نہ بن جائے۔ خدارا میری حیثیت کو غلط استعمال کرکے اپنی ہمیشگی کی زندگی کو خراب نہ کرلیں۔
ہے کوئی سچا اہل ایمان! جو ربانی کتاب کو اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے، رسولِ مبین ؐ کی عملی زندگی کو اپنے لیے مشعل راہ بناتے ہوئے مجھے اپنی یتیمی اور محرومی کے احساس سے نکال لائے اور میری زندگی کے اندر زندگی بھر دے ۔ اور میری دعا لے کہ اللہ اس کے دل کو نور سے بھردے اور حشر کے دن اس کو نور عطا کرے اور اس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں ہو۔
اللہ کے رسولؐ کا وعدہ سچا ہے کہ ہم جیسے یتیم کا سچا سرپرست دو انگلیوں کے مانند رسول محبوبؐ کے قریب ہوگاحشر کے روز۔ کس قدر بڑا ہے یہ اعجاز اور کیسی عظیم ہوگی یہ راحت!
یتیموں کی دعاؤں کا طالب
ڈاکٹر محمد معظم علی، گلبرگہ
موبائل09481635968:

About Admin Rafeeq

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

قوم کے خواص قوم دو طبقوں پر مشتمل ہوا کرتی ہے۔ ایک ...