سرورق مضامین کے شایان شان
اس بار سرورق بھی مضامین کے شایان شان ہے، ماشاء اللہ۔ اچھا کیا آپ نے رنگین تصویر میل سے منسلک کردی۔ عبدالعزیزؒ صاحب کو بہترین خراج عقیدت پیش کیا آپ نے، جزاک اللہ خیرالجزاء۔
ڈاکٹر سلیم احمدخان،
متحدہ عرب امارات

مجتبیٰ فاروق کا انٹرویو
رفیق منزل کا تازہ شمارہ ارسال کرنے کے لیے بہت بہت شکریہ۔ یہ بہت ہی معلوماتی، دلچسپ اور حوصلہ بخش مضامین ہیں،جو طلبہ کی اس نوجوان نسل کے لیے جو جماعت کی عظیم شخصیات مثال کے طور پر مولانا عبدالعزیز صاحب مرحوم جیسوں کی جگہ پوری کرنے کا خواب رکھتی ہے۔
مجھے امید ہے اور اللہ رب العزت سے دعا گو ہوں کہ ہندوستانی مسلمانوں کی نوجوان نسل کو مجتبیٰ فاروق صاحب کے اس مشورے کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ: ’’ملک میں اپنی افادیت منوائیں‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ آج مسلمان فساد فی الارض، آپس میں خون خرابے اور حدود الہی سے تجاوز کرتے نظر آتے ہیں ۔
ڈاکٹر عبیداللہ فراہی کے مضمون میں مسلم امت کے حقیقی مقصد کے تعلق سے قدیم مباحثے کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ نظریاتی مباحث کو اور زیادہ عملی رخ دینے کی کوشش کرنا چاہئے اور اس میں اصلاح کا عمل اور فساد کا خاتمہ پیش نظر رہنا چاہئے، بجائے اس کے کہ پوری دنیا کو ایک طرف سے جھاڑ دیا جائے۔ مسلمان دنیا میں انسانی زندگی کو جلا بخشنے میں دوسروں سے بہت پیچھے نظر آتے ہیں، اس بہانے کے ساتھ کہ ان کا دنیا سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
عمر افضل، امریکہ

نوجوانوں کے نام
رفیق منزل میں کیریر گائیڈ کو اور زیادہ وسعت دیجئے۔ حیدرآباد کے تمام اخبارات اس پر تو جہ دیتے ہیں۔ نوجوا نوں کو مشورہ دیجئے کہ وہ کوا لیفیکشن حاصل کریں تاکہ حضرت یوسف علیہ السلام کی طرح اعتماد کے ساتھ کہہ سکیں ’’إِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ‘‘ (میں حفاظت بھی کر سکتا ہوں اور اس کام سے واقف ہوں )اپنی اپنی فیلڈمیں اگر پر فکشن(کمال) حاصل ہو گیا تو ہر طرف سے آوازیں آنے لگیں گی’’اءْتُونِیْ بِہِ أَسْتَخْلِصْہُ لِنَفْسِیْ‘‘( اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحبِ خاص بناؤں گا) حفظ و امانت اور علم و مہارت کسی کو کسی میدان میں حاصل ہوجائے تو دنیا اس کی قدردانی پر مجبور ہوتی ہے۔اس پیغام کو تمام نوجوانوں تک پہونچا دیجئے۔
مرے قافلہ میں لٹادے اسے
لٹا دے ٹھکا نے لگادے اسے
(مدیر کے نام ایک طویل خط سے اقتباس)
پروفیسر محسن عثمانی،
معروف مصنف وتجزیہ نگار،حیدرآباد

تأثرات مع چند گزارشات
ماہ اپریل کا رفیق منزل اپنے مقررہ وقت پر موصول ہوا۔ الحمدللہ ڈاکٹر وقار انور صاحب کی تذکیر پسند آئی البتہ اظہاردین کی قدرے تشریح کردی جاتی تو مزید اچھا ہوتا۔
جناب مجتبیٰ فاروق صاحب کا انٹرویو تحریکی رفقاء میں ایک نئی روح پھونکتا ہوا معلوم ہوا۔ موصوف کی یہ بات بہت کار آمد لگی کہSIO کے طلبہ سے حوصلہ ہی کی نہیں بلکہ فراست کی بھی امیدیں ہیں۔ امید ہے کے محترم مدیر اس طرز کے اور بھی انٹر ویو لیتے رہیں گے اور ہم سب کی رہنمائی کا یہ سلسلہ رفیق منزل کے صفحات کے ذریعے جاری رہے گا، ان شاء اللہ۔
جناب عبدالعزیز کی رحلت سے فی الوا قع جماعت کے اندر ایک خلا پیدا ہوگیا ہے جسے اللہ ہی پورا کر سکتا ہے۔ مو صوف جماعت کے السابقون الأولون میں سے تھے، مختصر خاکے بہت پسند آئے اور اس بات کی بہت خوشی ہے کہ بہت مختصر وقفے میں انہیں تیار کر لیا گیا۔
جناب سید سعادت اللہ حسینی صاحب کی تحریر ’’اسلام اور تکثیری سماج‘‘ بھی فکر ونظر کا سامان رکھتی ہے، البتہ موصوف نے اسلامی تاریخ اور ملت اسلامیہ کی تاریخ میں فرق کو ملحوظ نہیں رکھا ہے۔دوسرے یہ کہ مذہب اور تمدن کے فرق کو بھی بیان کر دیا جاتا تو بہتر تھا۔ امید ہے کہ موصوف اس پر نظر ثانی فرمائیں گے۔
محمد معاذ، جامعہ ملیہ اسلامیہ

عبدالعزیز صاحب پر تحریریں
ماہنامہ رفیق منزل تازہ شمارہ ملا۔ اہم مضامین پر مشتمل ہے۔ معروف تحریکی رہنمااور شعلہ بیاں مقرر جناب محمد عبدالعزیز صاحب مرحوم پر تأثراتی تحریریں اہم اور مؤثر ہیں۔ اس کے علاوہ مجتبیٰ فاروق صاحب کا انٹرویو بھی بہت اہم اور حوصلہ بخش ہے۔ اللہ رب العزت ہر اچھی بات قبول کرنے کی توفیق عنایت فرمائے، آمین
عمارہ احمد ، نئی دہلی

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

عمارت کی کرسی عمارت کی کرسی کی بات ایسی ہے جسے کوئی ...