Home / ایس آئی او / (کیا مسافر تھے جو اس راہ گزر سے گزرے ( نعیم صدیقی مرحوم

(کیا مسافر تھے جو اس راہ گزر سے گزرے ( نعیم صدیقی مرحوم

نعیم صدیقی مرحوم
نعیم صدیقیؒ برصغیرہندوپاک میں تحریک اسلامی کے ایک مایہ نازفرزند تھے۔ آپ کی شخصیت بہت ہی متنوع اور مختلف الجہات صلاحیتوں کا مجموعہ تھی۔ ایک بہترین شاعراور ادیب، ایک منجھے ہوئے صحافی، ایک زبردست سیرت نگار، اور اپنے دور کے معروف اور ممتاز اسلامی اسکالر۔
ابتدائی حالات:فضل الرحمن نعیم صدیقی۴؍جون ۱۹۱۴ ؁ء کو ضلع جہلم خانپور (پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم قاضی سراج الدین صاحب مرحوم کی نگرانی میں حاصل کی۔ اس کے بعد قریب ہی کے ایک مدرسے میں داخلہ لے لیا، اور وہاں سے فارسی میں سند فضیلت حاصل کی۔ گھر کے معاشی حالات بہتر نہ ہونے کے سبب باقاعدہ تعلیمی سلسلہ جاری نہ رکھ سکے، اور منشی فاضل کا امتحان دینے کے بعد درس وتدریس میں لگ گئے۔ لیکن درس وتدریس کے میدان میں زیادہ دلچسپی نہ ہونے کے سبب بہت جلد ہی اس میدان کو خیرآباد کہتے ہوئے لاہور آگئے۔ وہاں مشہور صحافی مرحوم نصراللہ خاں عزیز کے یہاں کچھ دن ٹریننگ حاصل کی، اور پھر انہی کے اخبار’’مسلمان‘‘ میں ملازمت اختیار کرلی۔
تحریک اسلامی سے وابستگی: لاہور کا سفر نعیم صدیقی کی زندگی کا ایک اہم اور فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ یہیں سے آپ کی ادبی اورصحافتی زندگی کا بھی آغاز ہوتا ہے، اور یہیں سے تحریک اسلامی سے وہ تعلق خاطر بھی قائم ہوتا ہے جو تادم زیست برقرار رہتا ہے۔ لاہور میں قیام کے دوران مرحوم نصراللہ خاں عزیز کے یہاں آپ کو مولانا مودودیؒ کے بعض مضامین ہاتھ لگ گئے، جن کو پڑھنے کے بعد آپ کے دل میں مولانا مودودی ؒ سے ملنے اور ان کے افکاروخیالات سے بھرپور واقفیت حاصل کرنے کا شوق پیدا ہوا۔ اللہ کے فضل سے یہ خواہش پوری ہوئی اور اتفاق ایسا ہوا کہ بہت جلد ہی مولانا مودودیؒ کی دعوت پر آپ کو لاہور چھوڑ کر پٹھان کوٹ کا رخ کرنا پڑا۔ وہاں جماعت اسلامی کے تاسیسی اجتماع میں شریک ہوئے، اور مولانا مودودیؒ اور ان کے ساتھیوں کے ہمراہ تحریک اسلامی کے عظیم قافلے میں شامل ہوگئے۔
پٹھان کوٹ آنے کے بعدجماعت کی جانب سے شعبہ ادب کے ذمہ دار بنائے گئے، اور ساتھ ہی ترجمان القرآن کے شعبہ ادارت سے وابستہ ہوگئے، جہاں مولانا مودودی ؒ کی رفاقت میں کام کرنے کا شاندار موقع بھی نصیب ہوا ۔ ۱۹۴۷ ؁ء تک مرکز جماعت اسلامی دارالاسلام پٹھان کوٹ سے وابستہ رہے، اور تقسیم ہند عمل میں آئی تو ہجرت کرکے لاہور چلے گئے۔ وہاں مرکز جماعت اسلامی پاکستان کے تحت مختلف علمی وتصنیفی پروجیکٹس پر کام کرتے رہے،اور ساتھ میں مختلف جماعتی ذمہ داریاں بھی ادا کرتے رہے۔ تحریک اسلامی سے تعلق کے نتیجے میں متعدد بار زنداں کا رخ بھی کرنا پڑا، مگر ہمیشہ استقامت اور پامردی کا مظاہرہ کیا۔ آپ کی کتاب ’’تحریکی شعور‘‘ آپ کی تحریک سے وابستگی اور اس سے والہانہ محبت کی کھلی شہادت ہے، تاہم جماعت اسلامی سے باقاعدہ وابستگی آخر تک قائم نہ رہ سکی۔ زندگی کے آخری دور میں جب آپ نے دیکھا کہ جماعت ضرورت سے زیادہ سیاسی شورہنگاموں میں شرکت کررہی ہے تو آپ نے مجبوراََجماعت سے علیحدگی اختیار کرلی، البتہ اس علیحدگی کے بعد بھی تادم زیست تحریک اسلامی کے عظیم مقاصد کے حصول کے لیے کوشاں رہے۔ جماعت سے علیحدگی کے بعد آپ نے کچھ افراد کو ساتھ لے کر ’’تحریک اسلامی‘‘ کی بنیاد ڈالی، تاہم آخر عمر تک اس تحریک کے خاطرخواہ نتائج سامنے نہ آسکے۔
صحافت کے میدان میں: نعیم صدیقی بنیادی طور سے ایک صحافی تھے، تحریک اسلامی سے وابستگی سے قبل بھی صحافت سے وابستہ رہے، اور اس کے بعد بھی۔ آپ صحافت کے میدان میں اعلی اقدار اور صالح روایات کے زبردست مؤید اور علمبردار تھے۔ آپ کی صحافتی زندگی کا آغاز ملک نصر اللہ خاں عزیز کے اخبار ’’مسلمان‘‘ سے ہوا تھا، پٹھان کوٹ آنے کے بعد ۱۹۴۲ ؁ء سے ترجمان القرآن کے شعبہ ادارت سے وابستہ ہوگئے۔ مولانا مودودی کو جس زمانے میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے اسیرزنداں کردیا گیا تھا، اس وقت جماعت کی جانب سے آپ ہی کو ترجمان کا مدیر بنایا گیا تھا۔ آپ ۱۹۴۸ ؁ء سے ۱۹۵۰ ؁ء تک ترجمان کے مدیر کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ آپ صحافت کے میدان میں مستقل نئی نئی راہیں تلاش کرتے ہوئے دکھائی پڑتے ہیں۔ ترجمان کی ادارتی ذمہ داری کے علاوہ ۱۹۴۸ ؁ء سے ۱۹۵۶ ؁ء تک آپ ’’چراغ راہ‘‘ کے مدیر رہے۔ ۱۹۵۰ ؁ء میں کوثرنیازی کو ساتھ لے کر ہفت روزہ ’’شہاب‘‘ جاری کیا۔ بعد میں اگست ۱۹۶۲ ؁ء میں ادبی ماہنامہ ’’سیارہ‘‘ جاری کیا، جو آج بھی اسی آب وتاب کے ساتھ نکل رہا ہے۔ دسمبر ۱۹۷۷ ؁ء میں ترجمان القرآن کے مدیر عبدالحمید صدیقی بیمار ہوئے تو اس کی ادارت کی ذمہ داری دوبارہ آپ کے اوپر ڈال دی گئی، جسے آپ بحسن وخوبی ۱۵؍سالوں تک انجام دیتے رہے۔ الغرض آپ کی زندگی کا ایک اہم حصہ میدانِ صحافت سے متعلق ہے جہاں آپ کو اپنے جوہردکھانے کے خوب مواقع ہاتھ آئے۔
اسلامی ادب کے علمبردار:نعیم صدیقی صحافی کے ساتھ ساتھ شاعر اور ادیب بھی تھے، آپ کی تحریریں اردو ادب کا اعلی نمونہ ہوتی تھیں۔ آپ شاعری بھی کرتے تھے اور افسانے وغیرہ بھی لکھا کرتے تھے۔ تنقیدوتحقیق بھی آپ کے یہاں ملتی ہے اور بہت ہی شستہ زبان میں علمی وادبی موضوعات پر گراں قدر تحریریں بھی۔ شعلہ خیال، بارود اور ایمان، خون آہنگ، پھر ایک کارواں لٹا، نغمہ احساس اور نور کی ندیاں آپ کے چند شعری مجموعے ہیں جن کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ آپ نے ہمیشہ اپنے مقصد اور نصب العین کو سامنے رکھا، اور جس میدان کا بھی رخ کیا، اسی رنگ وآہنگ کے ساتھ نظر آئے۔ ایک جگہ خود اپنے بارے میں لکھتے ہیں کہ ’’میں اس وقت کے ذہنی عوامل کو پوری طرح تو نہیں سمجھ سکتا، مگر نہ جانے کیسے شعروادب کے دائرے میں اولین قدم رکھنے کے وقت سے میرے اندر مبہم طور سے یہ احساس کارفرما رہا ہے کہ میری تخلیقی صلاحیت ایک مقدس امانت ہے جسے میں الم غلم طریق سے استعمال کرنے کا مجاز نہیں‘‘۔ جس وقت اردو ادب میں ترقی پسند تحریک کی بدولت پورے خطے میں الحاد وتشکیک کا ایک سیلاب امڈ آیا تھا، اس وقت آپ ادب میں اسلامی اقدار وروایات کی پاسداری کا پرچم بلند کرنے والوں میں پیش پیش تھے۔ پاکستان میں ادارہ ادب اسلامی کے قیام میں آپ کا نمایاں کردار رہا ہے۔ پاکستان کا معروف ادبی ماہنامہ ’’سیارہ‘‘ بھی آپ کی ایک اہم یادگار ہے۔
ایک عظیم اسلامی اسکالر: آپ کی شخصیت بہت ہی متنوع اور مختلف الجہات صلاحیتوں کا مجموعہ تھی، آپ ایک عظیم صحافی، ایک زبردست شاعر اور ایک بہترین نثرنگار کے ساتھ ساتھ ایک عظیم اسلامی اسکالر بھی تھے۔ آپ نے متعدد اہم موضوعات پر یادگار تحریریں چھوڑی ہیں، جن میں تحریکی شعور،عورت معرض کشمکش میں، اقبال کا شعلہ نوا، معرکہ دین وسیاست، ذہنی زلزلے، معروف ومنکر، انوار وآثار، تعلیم کا تہذیبی نظریہ، سید انسانیت، حق وباطل، بنیاد پرستی، افشاں، اور تحریک اسلامی کا ابتدائی دور کے علاوہ کچھ اہم عصری مسائل پر کتابچے بھی ہیں، مثال کے طور پر بیمہ زندگی، تحریکی کام کا خاکہ، کمیونزم یا اسلام، ہندوستان کے فسادات اور ان کا علاج، اپنی اصلاح آپ اور تعمیرسیرت کے لوازم اہم اور قابل ذکر ہیں۔ آپ کی کتاب ’’تحریکی شعور‘‘ نئی نسل کے ان نوجوانوں کے لیے ایک اہم اور قیمتی تحفہ ہے، جو اقامت دین کے سفر پر نکل چکے ہیں یا نکلنے کا عزم رکھتے ہیں۔
نعیم صدیقی کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ آپ نے مختلف انداز میں اور مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا ہے، لیکن جس موضوع پر بھی قلم اٹھایا ہے اور جس انداز کو اختیار کیا ہے، اس میں خوب جوہر دکھائے ہیں۔ مرحوم محمودعالم کے بقول ’’مائل خیر�آبادی مرحوم اکثر کہا کرتے تھے کہ نعیم صدیقی آدمی نہیں کچھ اور ہیں۔ ہر صنف میں اور ہرانداز میں لکھنا سب کے بس کی بات نہیں۔ جب یہ ترجمان القرآن کے اشارات لکھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ نعیم صدیقی نہیں مولانا مودودیؒ کا لکھا ہوا ہے۔ یہی حال دوسرے مضامین کا ہے، جس موضوع اور جس عنوان پر کہو لکھ دیں گے‘‘۔
ایک بلندپایہ سیرت نگار: نعیم صدیقی کے کام کا میدان کافی وسیع ہے، تاہم آپ کی جس کتاب کو سب سے زیادہ شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی ہے، وہ سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کی تصنیف ’’محسن انسانیت‘‘ ہے۔ اس کتاب میں آپ نے سیرت نگاری کے رائج اسلوب سے ہٹ کر مدح رسول اور نعت رسول میں مبالغہ آرائی کے بجائے سیرت رسول اور پیغام رسول کو اس انداز سے پیش کیا ہے کہ اس کو پڑھ کر عمل کا شوق پروان چڑھتا ہے، اور جس مشن پر آپؐ کو مأمور کیا گیا تھا، قاری کے اندر بھی اس مشن کی تکمیل کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کا جذبہ بیدار ہوتا ہے۔ اسی طرح سیرت نگاری کے رائج اسلوب سے ہٹ کر آپ نے پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو تارک الدنیا عابدوزاہد کے بجائے ایک ایسے محسن انسانیت کے طور پر پیش کیا ہے جس کی سیرت میں جملہ شعبہ ہائے حیات سے متعلق رہنمائی ملتی ہے۔ نعیم صدیقی کی یہ کتاب اس کے علاوہ اپنے اندر نہ جانے کتنی خصوصیات اور امتیازات رکھتی ہے، جن کا اندازہ مطالعہ کرنے کے بعد ہی ہوسکتا ہے۔ سیرت پر نعیم صدیقی کی ایک اور کتاب ’’سید انسانیت‘‘ بھی ہے۔ مولانا مودودیؒ کی سیرت سرورعالم (دوجلدوں میں) کی ترتیب کا سہرا بھی نعیم صدیقی ہی کے سر جاتا ہے۔ سیرت رسولؐ پر نثرنگاری کے علاوہ آپ نے شان رسول میں نعتیں بھی خوب کہی ہیں، آپ کا شعری مجموعہ ’’نور کی ندیاں‘‘پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے، جس میں بہت ہی سلیقہ اور تہذیب کے ساتھ عشق رسول کے جذبات کا اظہار کیا گیا ہے۔
سفر آخرت: نعیم صدیقی حرکت وعمل سے بھرپور ایک طویل اور انتہائی سادہ اور کفایت شعار زندگی گزارتے ہوئے تقریبا اٹھاسی سال کی عمر میں ۲۵؍ستمبر ۲۰۰۲ ؁ء کو اس دارفانی سے کوچ کرگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ یقینانعیم صدیقی کی جہدوعمل سے بھرپور زندگی تحریک اسلامی کے نوجوانوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ قرآن وسنت کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کریں اور بدلتے زمانے اور حالات میں اسلام کی معنویت، حقانیت اور ضرورت کو عام کریں۔ واللہ ولی التوفیق وھو حسن المآب
(ابن اسد)

About Admin Rafeeq

One comment

  1. khayam abbasi pakistan

    well brothers

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*