Home / محل نظر / کامیابی اور نجات کا حقیقی تصور اوراس کاحصول

کامیابی اور نجات کا حقیقی تصور اوراس کاحصول

اس دنیا میں ہر انسان کامیابی کا خواب دیکھتا ہے اورناکامی سے بچناچاہتاہے۔ یہی معاملہ نجات کا ہے،ہرانسان اپنی نجات کی فکرکرتاہے۔کوئی انسان نہیں چاہے گا کہ اس کی نجات کا معاملہ خطرے میں پڑجائے اوروہ نجات سے محروم ہوجائے۔
البتہ زندگی کی کامیابی اورنجات کے تصورات دنیامیں الگ الگ پائے جاتے ہیں اگرچہ کچھ باتیں مشترک بھی ہوسکتی ہیں،لیکن ان تصورات میں اختلاف اورتضادبھی پایاجاتاہے،پھر ان تصورات کے تحت کامیابی اورنجات کے حصول کے طریقے بھی مختلف ہوجاتے ہیں۔
کیاایک ہی وقت میں کامیابی اورنجات کے مختلف اورمتضادتصورات صحیح اوربرحق ہوسکتے ہیں؟اسی طرح کیا اس کے حصول کے مختلف طریقے صحیح ہوسکتے ہیں؟ اسی طرح ان سوالات پر غورکرنے کی ضرورت ہے کہ کامیابی اورنجات کا صحیح تصور کیا ہے اوراس کے حصول کا صحیح طریقہ کیاہوسکتاہے؟
ایک اہم سوال
بنیادی نوعیت کا ایک اہم سوال یہ ہے کہ اگرکائنات اورانسان کا کوئی خالق ہے (اوراس حقیقت سے انکاراورفرارممکن نہیں ہے)توکیا اس نے اپنی سب سے زیادہ محبوب اورپسندیدہ مخلوق یعنی انسان کو کامیابی اورنجات کی راہ پہلے ہی دن سے بتائی نہیں۔ یقینی بات ہے کہ خالق اتنابے رحم اورظالم نہیں ہوسکتاکہ وہ انسان کی چھوٹی بڑی تمام ضرورتوں کی تکمیل میں جزوی اور معمولی باتوں کا توخیال رکھے لیکن انسانی زندگی کی کامیابی اورانسان کی نجات کے تعلق سے کوئی رہنمائی نہ کرے، اور زندگی کی کامیابی اورانسان کی نجات کے سب سے اہم ترین مسئلہ کو انسان کے اوپر چھوڑ دے، جبکہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے انسان کے پاس نہ تو وہ علم ہے اور نہ ہی وہ صلاحیت اور قابلیت۔ انسانی عقل ،تجربہ ،تاریخ اورسائنس پہلے ہی قدم پر اس مسئلہ کے حل میں ناکام ہوجاتے ہیں،کیونکہ کامیابی اورنجات کا صحیح تصوراوراس کے حصول کا اطمینان بخش طریقہ ان میں سے کسی نے پیش نہیں کیا۔ سائنس کا دائرہ کارمحسوسات ہے۔ کامیابی اورنجات کے کتنے ہی پہلوایسے ہیں جن کا تعلق مادی دنیا اور محسوسات کے علاوہ اخلاق اورروحانیت سے اورزندگی بعد الموت سے ہے، یعنی محسوسات کے دائرے سے بالکل باہر۔فلاسفہ اورمفکرین نے عقل اورتجربہ کی مدد سے غوروفکر ،قیاس وگمان اورمشاہدات کی بنیادپر کامیابی اورنجات سے متعلق سینکڑوں افکاروفلسفے پیش کیے، جن میں نہ جانے کتنے اختلافات اورتضادات پائے جاتے ہیں۔سائنس داں بھی اس مسئلے میں ہماری مددنہیں کرسکتے ،اس لیے کہ ان کی کوششوں کا دائرہ مادہ اورمادی دنیا ہے۔
فلاسفہ اورسائنس دانوں کے مختلف اورمتضاد نظریے اس بات کا ناقابل تردیدثبوت ہیں کہ وہ کامیابی اورنجات کے تعلق سے صحیح اوراطمینان بخش رہنمائی نہیں کرسکتے ۔ جہاں تک تاریخ کا تعلق ہے یہ بھی ہماری رہنمائی نہیں کرسکتی۔تاریخ سے قوموں کے عروج وزوال،اس کے اسباب ،نتائج واثرات کے بارے میں معلوم ہوتاہے۔لیکن یہ صرف مادی اور دنیوی پہلوؤں کاجائزہ ہے۔انسان خواہ فرد ہو یا معاشرہ اورنظام ،صرف مادی ہی نہیں بلکہ ایک اخلاقی اورروحانی وجودبھی رکھتاہے۔وہ صرف طبیعاتی قوانین (Physical Laws)میں نہیں جکڑاہوا بلکہ اخلاقی اورروحانی ضابطوں کا پابند بنایا گیاہے۔ فلاسفہ، سائنس دانوں اورتاریخ کی ناکامی کے بعد کامیابی اورنجات کے مسئلے میں ہماری رہنمائی کے لیے صرف مذہب ہی باقی رہ جاتاہے۔
کامیابی کا صحیح تصور
زندگی کی کامیابی کے تعلق سے قدیم وجدیدفکر وفلسفوں کی ایک کمزوری یہ رہی ہے کہ ان میں کامیابی کو دنیا کی زندگی تک محدود کردیاگیاہے۔ زندگی بعدموت کے انکاریا اس میں شک کی بناپر آخرت کی زندگی میں کامیابی یا ناکامی کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔ ان کے نزدیک کامیابی کا مطلب صرف یہ ہے کہ انسان دنیا وی خوشحالی سے لطف اندوز ہو،نفسانی خواہشات کی بلاروک ٹوک تکمیل کرے،اس کے یہاں مادی اسباب کی کثرت اوروسائل زندگی کی فراوانی ہو۔ اس طرح وہ عیش وعشرت کی زندگی گزار سکے ، بس یہی کامیابی ہے۔اسلام کہتا ہے کہ دنیا کی پاکیزہ نعمتوں کوحاصل کرنے کی جدوجہد اوراپنی خواہشات اورتمناؤں کو پوراکرنا غلط بات نہیں ہے لیکن مذکورہ چیزوں کے حصول کے لیے غلط طریقے اختیارکرنا ،ناجائز اور حرام کام کرنا، دوسروں کا ظلم واستحصال اور ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا ہرگزکامیابی نہیں ہے ۔اگر اسے کامیابی تسلیم کرلیاجائے تو پھر کوئی انسانی سماج نہیں بن سکتا، وہا ں صرف جنگل راج ہوگا۔ عملی پہلوسے فرداورسماج کا جائزہ لیں تو آج کا بحران خوداس بات کی صاف دلیل ہے کہ فرداورمعاشرہ کامیابی اور نجات کی حقیقی راہ اورمنزل سے بھٹک کربے شمار پیچیدہ مسائل سے دوچار ہے۔ کیا خالق کو انسان سے اتنی دشمنی اور نفرت ہے کہ وہ خود چاہتا ہے کہ انسان دنیا میں بھٹکتارہے اوردنیوی اور اخروی زندگی میں نجات سے محروم ہو۔
مذہب کی ضرورت ناگزیرہے
فلاسفہ ،مفکرین اورسائنس دانوں کے برعکس مذہب کا دائرہ ہمیشہ محسوسات اورمادی دنیاکے ساتھ خدا،زندگی بعد الموت ،اعمال کی بازپرس، ہمیشہ کی کامیابی کے لیے جنت اورناکامی کا ٹھکانہ جہنم وغیرہ رہاہے۔یہ کہنا صحیح نہیں ہوگا کہ یہ سب چیزیں ہمیں نظرنہیں آتیں ہیں،اس لیے ہم مان نہیں سکتے ۔ان اہم حقائق کو تسلیم اورانہیں قبول کرنے یا ان کا انکارکرنے کے نتیجے میں انسانی زندگی کے دوالگ الگ طرزعمل، کرداراورنمونے سامنے آتے ہیں۔اس سے واضح ہے کہ ان کا انجام بھی یکساں نہیں ہوسکتا۔ان مذاہب میں اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس کا مستند اورمحفوظ تاریخی ریکار ڈ پایاجاتاہے کہ جس فرداورسماج نے اس مذہب کو اپنایا، وہ کامیاب ہوا،اورایک آ ئیڈیل فرد،خاندان اورسماج وجودمیں آیا، جس کے نتیجے میں ایک ویلفیئر اسٹیٹ کا قیام عمل میں آیا۔ اس ضمن میں اسلام کا موقف مختصرا درج ذیل ہے:
انسانی تاریخ میں ایک طبقہ یا جماعت خدا کے پیغمبروں اورنبیوں کا گزراہے۔زمین پر سب سے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام تھے جو خدا کے پہلے پیغمبربھی تھے ان کے بعد دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف زمانوں میں پیغمبرآتے رہے ۔ پیغمبروں اور نبیوں کا یہ سلسلہ محمدؐ پر ختم ہوتاہے۔آج سے چودہ سو پچاس سال قبل محمدؐکو خدائے عزوجل نے آخری پیغمبربناکر بھیجا۔انسانی تاریخ میں ایک لاکھ چالیس ہزارپیغمبروں اورنبیوں کے آنے کا تذکرہ ملتاہے۔ آج عیسائیوں،مسلمانوں اوریہودیوں کے نزدیک پیغمبروں کی حیثیت اوران کا خداکے نمائندے کے طورپر آنا تسلیم شدہ ہے۔ پیغمبروں کا دعوی یہ ہوتا تھا کہ ان کے پاس خداکی طرف سے ایک خاص علم ’’ وحی‘‘ کے ذریعے آتاہے۔جن غیبی امورمیں فلاسفہ اور سائنس دان ومفکرین محض قیاس وگمان کے تیرتکے چلاتے رہے ہیں ۔وحی کے ذریعے اللہ نے واضح رہنمائی فرمائی ہے۔ چنانچہ پیغمبروں نے زندگی کے بنیادی سوالات اورخاص طورپر انسان کی کامیابی اورنجات کی شاہراہ اور منزل کی طرف رہنمائی کی ہے۔ اس شاہراہ اورمنزل کے پہلے رہنما اورکامیاب مسافروہ پیغمبر خودہوتے تھے ۔باقی انسانیت کو دعوت دیتے کہ وہ ان کی پیروی اختیارکرے۔ پیغمبروں اور نبیوں نے اپنے بارے میں صاف بتایاکہ وحی کی بنیاد پر جو حقائق اوراصول وتعلیمات وہ پیش کررہے ہیں یہ ان کے ذاتی علم اورتحقیق کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ سب منجانب اللہ ہیں۔ پیغمبروں اورنبیوں نے جورہنمائی فرمائی ان کے تعلق سے یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ ان کے اندر اختلافات اور تضادات نہیں پائے جاتے، بلکہ حیرت انگیز طورپر کامل اتفاق اوریکسانیت پائی جاتی ہے۔ان عظیم انسانوں کی باتیں تسلیم کرنے میں ہمیں کوئی دشواری پیش نہیں آسکتی ۔ان کی باتوں کا انکار خواہ کسی بھی وجہ سے ہو، یہ خدا کے انکار ،نافرمانی اوربغاوت کی راہ ہے۔ایسا طرز عمل اختیار کرکے کوئی فرد اورسماج کبھی کامیاب اوربامراد نہیں ہوسکتا۔وہ نجات سے محروم ہوتا ہے ،اوردنیا اورآخرت میں اپنی ذلت وناکامی اورنجات سے محرومی کا سامان خوداپنے ہاتھوں تیارکرتاہے۔آخری پیغمبرمحمدؐ نے جنھیں صرف عرب کے لیے نہیں بلکہ سارے انسانوں کے لیے خدانے بھیجا تھا ، انہوں نے واضح انداز سے فرمایا کہ وہ کسی نئے دین اورمذہبی تعلیم کے بانی نہیں ہیں بلکہ خداکے سارے پیغمبرجس اسلام کے داعی تھے اسی دین اسلام کو وہ آخری ،کامل اورجامع شکل میں لے کرآئے ہیں۔
وحی کیا ہے؟
ایک سوال وحی کے بارے میں آتا ہے کہ وحی کیا ہے؟ وحی دراصل خداکی جانب سے پیغمبروں تک خدائی پیغام پہنچانے کا ذریعہ ہے ۔یہ پیغام ہمیشہ خداکے ایک خاص فرشتہ حضرت جبریل ؑ لاتے رہے۔ وحی بے خطا ،بے عیب اورکامل پیغام رسانی ذریعہ ہے۔ یہGod’s own way of communition ہے۔
اب سوال یہ ہوتا ہے کہ ہم پیغمبروں بالخصوص آخری پیغمبرمحمدؐ کی باتوں کو کس بنیاد پر تسلیم کریں؟ اس سلسلے میں ذیل کے نکات قابل غور ہیں:
۱۔تمام پیغمبرسچے انسان اورپاکیزہ کردارکے حامل تھے۔ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتے تھے۔جب وہ عام زندگی میں جھوٹ نہیں بولتے توہ خداکے نام پر کوئی جھوٹی بات کیسے کہہ سکتے تھے۔ ان کے حامی ہی نہیں بلکہ ان کے کٹرمخالفین نے ہمیشہ یہ تسلیم کیاہے کہ ان کا پیغمبرجھوٹا انسان نہیں ہے۔
۲۔ پیغمبروں کے قول وعمل میں کبھی تضادنہیں ہوتا تھا۔وہ دوسروں سے جوکہتے اس پر پہلے وہ خودعمل کرتے تھے۔وہ اپنے وقت کے سارے انسانوں کے لیے نمونہ اور آئیڈیل ہواکرتے تھے۔
۳۔تمام پیغمبرنہایت دیانت داراورامانت دار ہوتے تھے۔اپنی قوموں میں اس معاملے میں ان سے بڑھ کر کوئی دوسرا نہیں ہوتاتھا۔ان کے کٹرمخالفین نے بھی ان کی دیانت داری اورامانت داری پر کبھی کوئی انگلی نہیں اٹھائی ہے۔
۴۔پوری انسانیت کے لیے پیغمبروں کی جدوجہد بے لوث اوربے غرض ہوتی تھی۔وہ اس کا کوئی صلہ اپنے لیے نہیں چاہتے تھے ۔ انسانوں کی خیرخواہی ،ان کی کامیابی اورنجات کے لیے اپنی پاکیزہ زندگیوں کو کھپادیتے تھے مگرا س کا بدلہ یا اجرسوائے خداکے کسی اورسے نہیں چاہتے تھے۔
اس تشریح کاحاصل یہ ہے کہ زندگی کی کامیابی اورنجات کا جوتصوراوراس کے حصول کی جوراہ آخری پیغمبرمحمدؐنے بتائی ہے وہی قابل تسلیم ہے۔ہر فرد کو اپنی کامیابی اورنجات کے لیے اس تصورکو کامل یقین اورخلوص کے ساتھ اختیارکرنا ناگزیرہے۔ بصورت دیگرزندگی بعدالموت زبردست خسارہ اورجہنم کی آگ کا خطرہ ہے۔
خداکے آخری پیغمبرمحمدؐ نے انسان کی کامیابی اورنجات کا جامع تصوراوراس کے حصول کا جوطریقہ بتایاہے اس کی تفصیل آگے پیش کی جارہی ہے۔
کامیابی اورنجات کے تعلق سے مذاہب کی پوزیشن
اس ضمن میں مذاہب کا موازناتی مطالعہ (Comparitive Study of Religions) ضروری ہے۔ اس سلسلے میں چند اہم سوالات پر غورکرنا ضروری ہے۔ کیاتمام مذاہب میں کامیابی اورنجات کے تصورات اوران کے حصول کے طریقے متفق علیہ ہیں۔اگر اس اہم ترین معاملہ میں مذاہب کے درمیان اختلافات اورتضادات پائے جاتے ہیں، اگرچہ کچھ باتیں مشترک بھی ہوسکتی ہیں،تو کس مذہب کے تصورِکامیابی اورنجات کوتسلیم کیاجائے۔ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتاہے کہ مذہب خالق کی طرف سے آنا چاہیے یا انسانوں کی طرف سے، جیسا کہ بعض مذاہب انسانوں کی طرف منسوب کیے گئے ہیں۔ ایک سوال یہ بھی پیداہوتاہے کہ آغاز انسانیت کے وقت اورزمین پر پہلے انسان کے قدم جب پڑے ہیں، اس وقت خالق نے اسے کوئی مذہب دیاتھا یا نہیں؟ اگردیا تھا تو وہ کون سا مذہب تھا؟ اوریہ مذہب صرف عقائد اوراخلاقی وروحانی تعلیمات اور اقدارپر ہی مبنی تھا یا انفرادی اوراجتماعی زندگی کے لیے ایک مکمل نظام حیات کے طورپر عطا کیاگیاتھا۔ کیا خالق کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ انسان اس کے عطاکردہ مذہب پرچلے گا، تووہ اس دنیا میں کامیابی اور نجات حاصل کرلے گا اورزندگی بعد الموت خالق کی خوشنودی ،رضامندی اورابدی نجات پائے گا۔چند بڑے مذاہب کے تصورات کا خلاصہ درج ذیل ہے:
ہندومذہب
زندگی کی کامیابی اورنجات کے حوالے سے ویدوں میں باربارجنم اورموت وپیدائش کا تذکرہ نہیں ملتا۔ویدوں میں ایک ہی بار یعنی موت کے بعد پنرجیون اورسورگ اورنرک کا تذکرہ ملتاہے۔ کرموں کے آدھارپر سورگ یا نرک کا فیصلہ کردیاجائے گا۔بلکہ ویدوں میں مختلف قسم کے نرک کے نام بھی ملتے ہیں۔
قدیم ہندوتعلیمات کے مطابق انسانی زندگی کی آخری منزل ابدی حقیقت میں ضم ہوجانا ہے۔اس کے لیے موت کے بعد نیاجنم اورنئے جنم کے بعد پھرموت کاایک طویل چکر چلتا رہے گا۔جس طرح زندگی کے بعد موت یقینی ہے اسی طرح موت کے بعد دوبارہ زندگی یقینی ہے۔یہ آواگمن کا فلسفہ ہے۔یہ عمل جاری رہتاہے یہاں تک کہ روح اس قابل ہوجاتی ہے کہ وہ خالق کی آتمامیں ضم ہوجائے۔ایک مصنف نے لکھا ہے :’’پیدائش اوردوبارہ پیدائش کا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا جب تک روح اس عمل سے مکمل طورپر آزادنہیں ہوجاتی ۔ یہ آزادی موکش یانجات کہلاتی ہے۔ یہ جہاں اسباب سے نجات ہے اورباربارپیدائش سے موکش ہے وہیں اس نجات کا مطلب عظیم ترین خدا میں ضم ہوجاناہے۔ ہندوعقیدہ میں کسی روح کی یہ افضل ترین کامیابی ہے۔‘‘ (مطالعہ مذاہب :ص۴۰)
موکش کو اصلا پیدائش اورموت کے چکر سے آزادی کے لیے استعمال کیاجاتاہے۔اس کے معنی ہندوؤں کے مختلف فلسفیانہ مکاتب کے نزدیک الگ الگ ہیں۔مثلاً شیوازم اوروشنوازم کے نزدیک اپنی پسندیدہ دیوی یا دیوتا سے انتہائی قربت حاصل کرنا ہے جبکہ ایسا کرنے والا اپنی شخصیت کو برقراررکھے۔
’’عملی زندگی میں بھگوت گیتانجات کے بارے میں دوقسم کی تعلیم دیتی ہے۔ نجات کا ایک راستہ تویہ ہے آدمی کاروبار دنیااورمشاغل حیات سے کنارہ کش ہوکر علم کی تلاش میں منہمک ہوجائے ۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ انسان زندگی کے فرائض بجالائے اورادنی خواہشات کی غلامی ترک کردے۔ اگرچہ بھگوت گیتا میں دوسرے طریقے کو سراہاگیاہے۔ لیکن ترک حیات کے فلسفے کو مستردنہیں کیاگیا۔‘‘ (اسلام اورمذاہب عالم ص:۱۶)
ہندومذہب تقریبا چارہزارسال سے رائج ہے۔ کامیابی اورنجات کی ضمانت اس سے وابستہ ہے تو پھر ہندومذہب سے پہلے انسانوں کی کامیابی اورنجات کا مذہب کون ساتھا؟ ظاہر ہے کامیابی اورنجات کی ضرورت انسانوں کو ہمیشہ سے رہی ہے اورآئندہ بھی رہے گی۔
بدھ مذہب
بدھ مذہب میں خداکا اقرارہے نہ انکار۔ البتہ رجحان خداکی ضرورت نہ ہونے کا ہے۔بدھ مت کے فلسفے کی رو سے نجات کے لیے خواہشات سے چھٹکارا پانا کافی ہے۔بدھ کی تعلیم یہ تھی کہ انسان کی نجات میں کسی خدا،دیوی دیوتااوراس کے بخشش وکرم کی ضرورت نہیں ہے۔ہرانسان اپنی ذاتی جدوجہد اوراخلاقی اصولوں کی تعلیم کو اختیار کرکے نجات پاسکتا ہے۔بدھ کے نزدیک جنت اوردوزخ کسی اورالگ جگہ نہیں ہیں۔بلکہ اسی دنیا میں انسان اپنی زندگی میں جنت پاسکتاہے۔ جنت اوردوزخ کے بجائے بدھ نے نروان کا عقیدہ پیش کیاہے۔ بدھ نے روح کا بھی انکار کیاہے۔ روح کو مستقل وجودتسلیم کرنا انسان کے اندراخلاق پیداکرنے میں رکاوٹ ہے۔نروان کس حالت کا نام ہے اس پر بدھ مت کے علماء میں اتفاق رائے نہیں ہے۔ایک مفہوم یہ ہے کہ نروان انتہائی مسرت کی کیفیت کوپاناہے جو تمناؤں اورخواہشات کے ترک کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ اس میں انسان باربارپیدائش اورموت چکر سے نجات پاتا ہے۔ نروان کی ایک دوسری تشریح اس طرح کی گئی ہے کہ اس میں انسانی نفس بالکل فنا ہوجائے۔
جین مذہب
جسم کو جین مت میں مادہ تسلیم کیاگیا ہے۔ انسانی روح اس مادے میں قیدہے ۔ روح کے چھٹکارے کے لیے ضروری ہے کہ مادہ یعنی جسم کو اذیت دی جائے ۔ سخت ریاضت کی جائے۔ چنانچہ قابل تعریف موت وہ ہوسکتی ہے کہ جس میں وہ عمرکے آخری حصے میں فاقے کرتے ہوئے مرجائے ۔ ان کے مذہب میں نجات کا خلاصہ اس طرح بیان کیاجاسکتا ہے:’’جین مت میں چونکہ ابتدائی بدھ مت کی نجات کا دارومدار کسی غیبی طاقت کے فیصلے یادیوتاؤں کی نرمی کے خلاف سرتاسرانسان کی ذاتی سعی وکوشش پر مبنی ہے۔ اس لیے روح کومادہ کے چنگل سے آزادکرانے کے لیے اس مذہب میں ایک بہت تفصیلی لائحہ عمل تجویزکیاگیاہے۔ اس سلسلے میں مختلف نوعیت کے قوانین، اصولوں اورضابطوں کی متعددفہرستیں ہیں، جو جین مت کے مطابق نجات کے ہر خواہشمند کے لیے لازمی ہیں۔جولوگ جین مت کی اخلاقی تعلیمات کومثالی صورت میں اپناناچاہتے ہوں ان کو مکمل سنیاس لیناہوگا۔ یہ لوگ سادھو(مرد) اور سادھوی (عورتیں)کہلاتے ہیں۔ (دنیا کے بڑے مذاہب :ص۱۳۲)
بدھ اورجین مذہب تقریبا دوہزارچھ سو سال سے ہیں۔کامیابی اورنجات کی ضمانت ان سے وابستہ ہے توپھران مذاہب سے پہلے کے انسانوں کی کامیابی اورنجات کا مذہب کون سا تھا۔ظاہر ہے کہ ان سے پہلے بھی انسانوں کو کامیابی اور نجات کی ضرورت تھی، بلکہ ہمیشہ رہی ہے اورآئندہ بھی رہے گی۔
عیسائیت
ایک مصنف نے نجات کے سلسلے میں عیسائیت کے حوالے سے لکھا ہے: ’’ حضرت مسیح نے اپنی موت سے انسانیت کے ازلی گناہ کا کفارہ اداکرکے اس کی روحانی نجات کا راستہ ہموار کردیاہے۔مسیح انسانیت کے نجات دہندہ تھے اور ان پر ایمان لانے کے بعد ہی انسان گناہ کی آلائشوں سے پاک ہوکر آسمانی بادشاہت (نجات وکامیابی)کے دائرے میں داخل ہوجاتا ہے۔‘‘ (اسلام اورمذاہب عالم:ص۱۳۱)
ایک مفکر نے تذکرہ کیاہے کہ : ’’مسیحی اخلاق کے منتہائے کمال کو پہنچنے کے لیے ترک اسباب ’قطع علائق‘تذلل وانتقال ،نفس کشی اورخود انکاری ضروری ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ نجات یا آسمانی بادشاہت پر راہبوں اورسنیاسیوں کی اجارہ داری تسلیم کرنی پڑے گی۔اس چھوٹے سے دائرے کے باہر عالم انسانیت کے سواد اعظم کو جگہ مل نہیں سکتی۔جولوگ نظام تمدن چلاتے ہیں حکومت وسیاست کی تدبیر کرتے ہیں اورمختلف انسانی ضروریات مہیا کرنے کے لیے مختلف قسم کے کاروبار میں لگے ہوئے ہیں ان کے لیے اس بادشاہت کے دروازے بند ہیں۔کیونکہ مسیحیت کا اصل اصول یہ ہے کہ انسان بیک وقت دنیا اوردین دونوں میں پاؤں نہیں رکھ سکتا۔آسمانی بادشاہت کا دروازہ اسی وقت کھل سکتا ہے جب کہ وہ دنیا کو چھوڑکر مسیح کی بتائی ہوئی دینی زندگی اختیار کرلے۔‘‘(یہودیت ونصرانیت :ص۳۵۵)
عیسائی مذہب کے نزدیک مسیح ان تمام لوگوں کے لیے نجات دہندہ ہیں جو ان پر ایمان رکھتے ہوں۔ دوہزارسے کچھ زائد سال سے عیسائیت دنیا میں پائی جاتی ہے۔اگرانسانوں کی کامیابی اورنجات اسی کے قبول کرنے سے ممکن تھی توپھرانسانوں کی آبادی تو عیسائیت سے پہلے بھی تھی توان انسانوں کی کامیابی اور نجات کے لیے کون سا مذہب تھا۔ ایک اہم بات ان مذاہب کے سلسلے میں مشترک ہے ۔وہ یہ کہ تجرد اوررہبانیت کو آئیڈیل ماناگیاہے۔نیز دنیوی نعمتوں اوررشتوں اورتعلقات کو تیاگ دینا کامیابی اورنجات کے لیے لازمی اورناگزیرسمجھاگیاہے۔ظاہر ہے اس کے نتیجے میں شہری اورتمدنی زندگی قائم نہیں ہوسکتی، پھرکامیابی کا سوال ہی پیدانہیں ہوسکتا ۔
یہودیت
یہودی قوم نے اپنے آپ کو خداکی محبوب قوم کہا ہے ان کا دعوی تھا کہ وہ اللہ کے محبوب اوراس کے بیٹے ہیں۔وہ جہنم کی آگ میں نہیں جائیں گے اوراگرجہنم میں ڈالے جائیں گے تو بہت کم وقت کے لیے۔ وہ خدا کی منتخب کردہ قوم ہے اوردنیامیں اعلی اوربرترہیں۔یہودی سمجھتے ہیں کہ اللہ سے ان کا کوئی خاص رشتہ ہے۔اس لیے یہودی قوم ہرحال میں کامیاب ہے اورآخرت کی نجات اس کے لیے یقینی بات ہے۔تقریبا سواتین ہزارسال سے یہودی مذہب دنیا میں رائج ہے۔اگرانسانوں کی کامیابی اورنجات اسی کے قبول کرنے سے ممکن تھی تو پھر انسانوں کی آبادی تویہودیت سے پہلے بھی تھی، توان انسانوں کی کامیابی اورنجات کے لیے کون سا مذہب تھا۔
اسلام
کامیابی اورنجات کے نہایت واضح اورعقل کو اپیل کرنے والے تصورات اسلام میں پائے جاتے ہیں۔یہ بنیادی تصورات ہمیں قرآن اور محمدؐ کے ارشادات (حدیث )میں ملتے ہیں۔اسلام میں کامیابی اورنجات کے قرآنی تصورکوسمجھنے کے لیے قرآن کے تصورانسان اورتصورحیات وکائنات کو سمجھناہوگا۔
قرآن کا تصورانسان،حیات وکائنات
۱۔انسان اس دنیا میں اللہ کا بندہ اوراس کا نائب وخلیفہ ہے، یعنی کچھ اختیارات اورمحدودآزادی کا حامل ہے اوراس بناپر خداکے سامنے مسؤل اور جوابدہ ہے۔انسان مادی اوراخلاقی وجود کا حامل ہے ۔انسان کسی چیز کا مالک نہیں ہے۔ کائنات کی ہرچیز کا مالک تو اللہ ہے۔انسان کو اپنا نائب اورخلیفہ مقررکرکے اللہ نے اسے کائنات کی اشیاء پر تصرف کے اختیارات عطافرمائے۔ کائنات کی اشیاء اوروسائل حیات انسان کے پاس اللہ کی امانت ہے۔ ان سب کو اللہ کی مرضی کے مطابق برتنا ہوگااور اس کے سلسلے میں ہرانسان کو آخرت میں جوابدہی کرنی ہوگی۔
۲۔دنیا کی زندگی عارضی طورپر انسان کو بطور امتحان وآزمائش اوراخروی زندگی کی کامیابی اورنجات کے لیے تیاری کرنے کی خاطرعطاکی گئی ہے۔یہ زندگی بوجھ اورپاپ نہیں ہے۔دنیا کی پاکیزہ نعمتیں ، رشتے ناطے اورانسانی تعلقات اللہ کا انسان کے لیے خاص عطیہ اوربخشش ہیں۔دنیا کی ان سب چیزوں میں ڈوب کر خداسے غافل ہونا جتنابڑاگناہ اور ناکامی کا سودا ہے ،اتناہی بیوی، اولاد،گھر اور خاندان جیسی اللہ کی نعمتوں کو ٹھکراکرتجرداوررہبانیت کی زندگی گزارنا سراسرناکامی اورخسارے کا سودا ہے۔اسلام کے نزدیک کامیابی اورنجات کیراہ والدین ،بیوی،اولاد گھر اورخاندان کے عین درمیان سے گزرتی ہے۔ ان سب کو خداکی مرضی اوراس کے پیغمبرکے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق لے کر چلے تویہ کامیابی اور نجات کا سوداہے۔
۳۔دنیاکی اس عارضی زندگی کے بعد ایک ہمیشہ اور ابدی زندگی آنے والی ہے۔ آخرت کی یہ زندگی دنیا کے خاتمے اور قیامت کے برپاہونے کے ساتھ ہی شروع ہوگی۔
۴۔انسان کے لیے اس پوری کائنات کو اللہ نے مسخرکیا۔انسان ،کائنات اورکائنات کے اندربے شمارمخلوقات کا خالق الگ الگ نہیں ہے۔ایک خالق نے ان سب کو پیداکیاہے۔انسان کے لیے کائنات کی بے شمار چیزوں کوخدمت میں لگا دیاگیاہے۔خالق نے انسان کی تخلیق کا مقصد خداکی بندگی اوراطاعت وفرمانبرداری طے کردیاہے۔
اسلام میں کامیابی کا تصوریہ ہے کہ انسان خداپر ،تمام پیغمبروں اورآخری پیغمبرحضرت محمدؐ پر اورآخرت کے دن پر ایمان لائے، یعنی ان سب کودل سے تسلیم کرے ۔اللہ کی مرضی پر چلے اوراس کے پیغمبرمحمدؐ کی پیروی اختیار کرے۔ دنیا کی پاکیزہ نعمتوں سے اللہ کی ہدایات اور محمد ؐ کے بتائے ہوئے طریقے سے فائدہ اٹھائے۔ اپنے جسم کو اذیت پہنچانا۔ ان نعمتوں سے محروم کرنا ،اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنااورخودکشی بہت بڑا گناہ ہے۔ کامیابی کے تصورمیں یہ بات بھی شامل ہے کہ انسان خداکی تعلیم اورہدایت کی روشنی میں بندوں کے حقوق اداکرے۔ غرض اپنی پوری زندگی اللہ کی اطاعت اورفرمانبرداری میں بسرکرے۔ کامیابی کے تصورمیں یہ بات بھی شامل ہے کہ موت کے بعدآنے والی ہمیشہ کی زندگی میں انسان اللہ کی ناراضگی اورجہنم کی آگ سے بچ جائے اورآخرت کی زندگی میں ایمان اورنیک اعمال کی بناپر خداکی خوشنودی پالے اورجنت کا مستحق قرارپائے۔کامیابی کی یہ شرائط ہیں۔قرآن میں بتایاگیاہے : ’’اورجوکوئی ایمان لانے سے انکارکرے اس کا عمل ضائع ہوگیا اوروہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہے‘‘۔
گویا خداکا انکاریا خداکو مان کر شرک کرنا اوراس کے آخری پیغمبرمحمدؐ کو ماننے سے انکاریا مان کر پیروی سے منھ موڑلینا سراسرناکامی ہے۔اسی طرح آخرت کی زندگی کے بارے میں قرآن کہتاہے :
’’آخرت کے متعلق اللہ کا وعدہ یقینی سچاہے پس دنیا کی زندگی تم کو دھوکے میں نہ ڈالے اورنہ دھوکے باز شیطان تم کو خدا سے غافل کردے ۔ ‘‘(31:33)
دوسری جگہ پر ارشادباری تعالی ہے: ’’پس جوشخص ذرہ برابر نیک عمل کرے اس کا نتیجہ دیکھ لے گا اورجو ذرہ برابربراعمل کرے گا اس کا نتیجہ بھی دیکھ لے گا۔‘‘ (99:7-8)
ایک مفکر نے لکھا ہے کہ : ’’پہلے کہا گیاتھا کہ دنیا تمہارے لیے ہے اوراسی لیے بنائی گئی ہے کہ تم اس کو خوب اچھی طرح برتو۔اب معاملے کا دوسرا ر خ پیش کیاجاتاہے اوریہ بتایاجاتا ہے کہ تم دنیا کے لیے نہیں ہو، نہ اس لیے بنائے گئے ہو کہ یہ دنیا تمہیں برتے اور تم اسی میں اپنے آپ کو گم کردو۔ دنیا کی زندگی سے دھوکہ کھا کر کبھی یہ نہ سمجھ بیٹھنا کہ ہمیں ہمیشہ یہیں رہناہے۔خوب یادرکھو کہ یہ مال ،یہ دولت ،یہ شان وشوکت کے سامان، سب ناپائیدارہیں۔ سب کچھ دیرکا بہلاواہیں، سب کا انجام موت ہے، اوریہ تمہاری طرح خاک میں مل جانے والے ہیں۔ اس ناپائیدارعالم میں سے اگرکوئی چیز باقی رہنے والی ہے تو وہ صرف ایمان اورنیکی ہے،دل اورروح کی نیکی، عمل اورفعل کی نیکی ۔‘‘ ( اسلامی تہذیب اوراس کے اصول اورمبادی:ص ۴۴)
قرآن کا تبصرہ ہے : ’’کاش تم وہ وقت دیکھتے جب مجرم اپنے رب کے سامنے سرجھکائے کھڑے ہوں گے اورکہیں گے،پروردگارہم نے اب دیکھ لیا اورسن لیا اب توہمیں واپس کردے ہم اچھے عمل کریں گے۔ اب ہم کو یقین حاصل ہوگیاہے۔۔ مگر کہاجائے گااب اس کوتاہی کا مزاچکھوکہ تم نے اس دن ہمارے پاس حاضرہونے کو بھلادیا،اب ہم بھی تم کوبھلاچکے ہیں۔ پس اب ہمیشگی کے عذاب کامزاچکھوان اعمال کے بدلے جو تم کرتے تھے‘‘۔ (32:12)
’’اے نبی ان سے کہوکہ کیاہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام اورنامراد لوگ کون ہیں، وہ لوگ جن کی سعی دنیا کی زندگی میں حق کی جدوجہد سے بھٹکی رہی اوروہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کررہے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات کوماننے سے انکارکردیااوراس کے تصورپیشی کایقین نہیں کیا۔ اس لیے ان کے سارے اعمال ضائع ہوگئے۔ قیامت کے روز ہم انھیں کوئی وزن نہ دیں گے۔ ان کی جزاجہنم ہے ،اس کفرکے بدلے جوانھوں نے کیا اوراس مذاق کی پاداش میں جووہ میری آیات اورمیرے رسولوں کے ساتھ کرتے رہے ۔ البتہ جولوگ ایمان لائے اورجنھوں نے نیک عمل کیے ان کی میزبانی کے لیے فردوس کے باغ ہوں گے جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اس جگہ سے نکل کر کہیں جانے کو ان کا جی نہ چاہے گا۔‘‘ (18:103-108)
(بقیہ صفحہ نمبر ۱۰؍پر)

اسلام میں نجات کا تعلق دنیوی زندگی سے بھی ہے، آخرت کی زندگی میں نجات کے تعلق سے تفصیل سے بات اوپر آچکی ہے۔اس دنیامیں نجات سے مراد یہ ہے کہ:
غلط افکار،غلط عقائداورغلط اعمال سے نجات
غلط رسوم ورواج اورغلط طورطریقوں سے نجات
اندھ وشواش ،شگون اورفال بد لینے سے نجات
نفس کے اندھادھند پیروی اورغلط خواہش نفسانی سے نجات
اسلام کا تصورنجات جامع اورمکمل ہے۔انسانی زندگی کی کامیابی اورنجات کے مسئلے میں قرآن کی یہ رہنمائی دل کو مطمئن اورعقل کو اپیل کرتی ہے۔ اس میں کوئی بات خلاف عقل اورفطرت نہیں ہے۔ کیوں کہ اسلام دین فطرت ہے۔ کامیابی اورنجات کے اس تصورکے ساتھ خداکی عبادت کا پوراطریقہ اسلام میں بتایاگیاہے۔ اسلام انسانوں کے لیے ایک مکمل نظام حیات ہے۔ وہ سکون واطمینان اورمادی وروحانی مسرت عطاکرتاہے۔
ایک اہم پہلویہ بھی ہے کہ محمدؐ نے تاریخ میں اسلام کی بنیادپر فرد،خاندان،سماج اورپھر ایک بھرپورنظام قائم فرمایا۔اس کا مستنداورمحفوظ ریکارڈ ہمیں ملتاہے۔اسلام چونکہ پہلے انسان حضرت آدم ؑ کے ساتھ ہی شروع ہوااس لیے پہلے دن سے انسانوں کی کامیابی اورنجات کی جانب رہنمائی کے لیے دین اسلام اللہ تعالی نے عطا فرمایا۔آج کا انسان ان باتوں پر غور و فکر کرکے اپنے لیے ایک بہترفیصلہ کرنے کی آزادی اوراختیاررکھتاہے، اور موت کے بعد جبکہ وہ اپنی آنکھوں سے سارے حقائق کو دیکھ لے گا، اس وقت اس کے سامنے فیصلہ کرنے کا کوئی موقع نہیں رہے گا۔وہاں جوانجام بدنگاہوں کے سامنے ہوگا اس پر افسوس اور ندامت کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا۔

 

محمد اقبال ملا،
سکریٹری شعبہ دعوت جماعت اسلامی ہند

About Admin Rafeeq

One comment

  1. Very good site

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*