بنیادی صفحہ / متفرق / ڈاکٹر سلیم خان سے ایک ملاقات

ڈاکٹر سلیم خان سے ایک ملاقات

گزشتہ دنوں دہلی آمد پر معروف صحافی وادیب ڈاکٹر سلیم خان سے مدیر رفیق منزل نے ایک انٹرویو لیا، افادہ عام کے لیے اسے نذر قارئین کیا جارہا ہے۔ (ادارہ)
میں ذاتی طور پرفکر و عمل دونوں سطح پر کسی قسم کی مصالحت کا قائل نہیں ہوں اور نوجوانوں سے اسی کی توقع کرتا ہوں: ڈاکٹر سلیم خان

2 سب سے پہلے میں آپ کے تعلیمی سفر کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں؟
n میں نے ممبئی یونیورسٹی سے نیوکلیئر کیمسٹری سے پی ایچ ڈی کی ہے۔
2 تحریک سے آپ کی وابستگی کب اور کیسے ہوئی؟
n ایم ایس سی کے دوران میرے ایک ہم جماعت طالب علم حسرت خان کے توسط سے تحریک کا تعارف ہوا۔ اس کے بعد امیر مقامی مولانا ریاض احمد خان صاحب نے تربیت فرمائی۔
2 تحریک میں دورشباب سے آپ ذمہ دارانہ مناصب پر فائض رہے؟ کیا آپ اس کی تفصیلات سے ہمارے قارئین کو واقف کرانا پسند کریں گے؟
n تنظیمی تعلق پہلے تو ایس آئی ایم سے ہوا۔ ممبئی شہر، علاقہ کوکن اور پھر مرکزی صدارت کی ذمہ داریاں مجھ پر آئیں۔جماعت میں آنے کے بعد پہلے علاقہ ممبئی اور پھر شہر ممبرا کی ذمہ داری مجھ پر آئی۔ اس دوران میں حلقہ مہاراشٹر کی شوریٰ اور مرکزی مجلس نمائندگان کا رکن تھا۔
2 آپ نے کیمسٹری سے پی ایچ ڈی کی اور پروفیشن کے طور پر بھی اسی کو اختیار کیا، پھر صحافت میں کیوں کرآئے؟
n جی نہیں، اپنے موضوع نیوکلیئر کیمسٹری کو خیرآباد کہہ کر میں ماحولیات کے میدان میں چلا آیا اور ہنوز پیشے کے اعتبار سے اسی سے منسلک ہوں۔
صحافت میں دلچسپی اتفاقیہ ہے۔ ایک مرتبہ میں نے جماعت کے ایک پروگرام میں غالباً حالات حاضرہ پر تقریر کی، وہاں اردوٹائمزکے مدیر محترم عالم نقوی صاحب بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا: تم لکھتے کیوں نہیں؟ میں نے پوچھا: کیا لکھوں؟ انہوں نے کہا: یہی جو کہا ہے۔ میں نے پوچھا: کون شائع کرے گا؟ ان کا جواب تھا، ہم شائع کریں گے۔ اس طرح یہ سلسلہ چل پڑا اور ہنوز جاری ہے۔ درمیان میں سابق امیر حلقہ مہاراشٹرمولانا عبدالقیوم صاحب مرحوم نے جماعت کے مراٹھی ترجمان شودھن میں لکھنے کا حکم دیا، وہ سلسلہ بھی چند سال چلا لیکن فی الحال منقطع ہے۔
2 ادب سے آپ کی دلچسپی کا کیا سبب بنا؟
n کوئی خاص نہیں۔ بچپن سے ادب پڑھنے کا شوق تھا۔ سعودی عرب جانے کے بعد میں نے ایک کہانی لکھی ’’حصار شمس و قمر‘‘جسے ریاض کے اندرادب اسلامی کی ایک نشست میں سنایا تو مولانا محمود عالم مرحوم نے حوصلہ افزائی کی۔ اس کے بعد یہ سلسلہ چل پڑا اور جب ڈیڑھ سال بعد میں لوٹا تو افسانوی مجموعہ ’’حصار‘‘ کا مسودہ میرے پاس تھا۔ بھائی اسلم کی کوششوں سے وہ شائع ہوگیا، اور مہاراشٹر اکیڈمی نے اسے اعزاز سے نواز دیا۔ اس کے بعد میں ناولوں کی جانب متوجہ ہوا، اور اللہ کے فضل و کرم سے یہ کام جاری ہے۔ حالاتِ حاضرہ پرطنزو مزاح کے چند مضامین لکھے تھے جو بالآخر ایک کتاب ’’قلندرنما بندر‘‘ کی صورت اختیار کرگئے۔
2 اردو صحافت کے تعلق سے آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا وہ ملت کے درمیان منفی سوچ پروان چڑھانے کا سبب نہیں بن رہی ہے؟
n جی نہیں، میں ایسا نہیں سمجھتا۔ صحافت اور سیاست ہمارے اجتماعی مزاج کی عکاس ہوتی ہے۔ ہم جن حالات سے گزر رہے ہیں اس میں جس طرح کی سوچ پروان چڑھتی ہے اس کا اظہار صحافت کے اندرنظر آتا ہے اور یہ فطری امر ہے۔ صحافی آسمان سے نہیں ٹپکتے وہ بھی ہماری ملت کا ایک حصہ ہوتے ہیں۔ ان کی سوچ بھی کم و بیش عوام الناس کی مانند ہی ہوتی ہے۔ الا ماشاء اللہ۔
2 آپ ادب اسلامی کی ایک نمایاں شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں؟
n جی نہیں، یہ الزام غلط ہے۔ میں ادب اسلامی کے اندر یا باہر دونوں مقامات پر نمایاں حیثیت نہیں رکھتا، اور اسی میں اپنی عافیت سمجھتا ہوں۔
2 اس عافیت پسندی کی کوئی خاص وجہ؟
n دراصل نمایاں لوگوں کے ساتھ قارئین بے جا توقعات وابستہ کرلیتے ہیں، اس لئے ان سے بہت جلد مایوس بھی ہونے لگتے ہیں۔ غیر نمایاں لوگ اس طرح کی آزمائش و دباؤ سے محفوظ ومامون رہتے ہیں۔
2 اسلامی ادب سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
n اسلامی ادب کی مختلف تعریفیں لوگوں نے کررکھی ہیں۔میں ان سے اختلاف نہیں کرتا۔ اسلام چونکہ دین فطرت ہے اس لئے فطرت سے ہم آہنگ صاف ستھرے ادب کو میں اسلامی سمجھتا ہوں۔ میرے نزدیک اس ادب کے خالق کا کسی مخصوص تحریک یا تنظیم سے وابستہ ہونا ضروری نہیں ہے۔ مجھے ڈر ہے میرے ان باغیانہ خیالات کے سبب ادب اسلامی کے ذمہ داران،جو سب کے سب میرے دوست و کرم فرما ہیں،مجھ سے ناراض نہ ہو جائیں۔
2 اسلامی ادب کا دائرہ کار کیا ہے؟
n اسلامی یا غیر اسلامی ادب کے دائرہ کارمیں شاید کوئی فرق نہیں ہے۔ ادب انسانی زندگی اور سماج کی ایک اہم ضرورت ہے، اس کا اپنا مخصوص کردار ہے۔
2 فکشن عوامی ذہن سازی کا بہترین ذریعہ ہیں، اور تحریک اسلامی نے اپنے ابتدائی دور میں اس پر توجہ بھی دی، لیکن کیا آج ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ تحریک اس سلسلے میں خاطر خواہ توجہ نہیں دے پارہی ہے؟
n جی ہاں، فکشن عوام کی ذہن سازی میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ دریا تحریک سے فنکار کی جانب نہیں بلکہ افراد سے تحریک کی جانب بہتاہے۔ تحریک اسلامی میں اگر ابن فرید اور م نسیم جیسے لکھنے والے لوگ شامل نہ ہوتے توفکشن کے میدان میں تحریک کی کوئی قابلِ قدر پیش رفت نہ ہوتی۔اس لئے میری رائے میں تحریک کا کام فنکارسازی نہیں بلکہ اہل فن کو تحریک سے قریب کرنے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کا ہے۔
2 آپ نے ناول، کہانیاں، طنزومزاح وغیرہ میدانوں میں کام کیا ہے، کیا آپ کو نہیں لگتا کہ آج کا ادیب سماج میں اپنی تاثیر کھوبیٹھا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟
n جی نہیں، مجھے ایسا نہیں لگتا۔ آج بھی تخلیقات کی بھرپور پذیرائی ہوتی ہے۔ لوگوں کے پڑھنے کا رحجان کم ہوا ہے اس کی ذمہ داری ادیب پر نہیں ہے۔ ایک تو اردوطرز تعلیم کو سیاسی وجوہات پر ختم کیا گیا اس سے اردو قاری کی تعداد میں کمی آئی نیز اردو کتب فروش جب مایوسی کا شکار ہوئے تو اس نے بھی منفی اثرات ڈالے۔ اس کے باوجود گزشتہ بیس برسوں کا موازنہ اگر آپ اس سے قبل بیس برسوں سے کریں تو آپ کو فکشن کی دنیا بہترنظر آئے گی۔
2 کیا ایسا نہیں کہ فن کی بے جا رعایت میں فکر اور جذبات متأثر ہوکر رہ گئے ہیں؟
n میرا خیال اس کے برعکس ہے، جب فکر و جذبات کی بے جا رعایت کی جاتی ہے یا اسے تھوپنے کی کوشش ہوتی ہے تو فن متأثر ہوتا ہے۔
2 نئی نسل کی اردو زبان وادب سے وابستگی ماند پڑتی جارہی ہے، آپ کی نظر میں اس کے تدارک کی کیا صورتیں ہیں؟
n اردو ہی نہیں بلکہ تمام ہی مقامی زبانوں کے ساتھ یہ معاملہ ہو رہا ہے، اس کی وجہ معیار زندگی(معاشی) کو بہتربنانے کے لئے خوشحال طبقہ میں انگریزی کا چلن ہے۔ اگر بچے انگریزی میڈیم سے تعلیم حاصل کریں گے تو اردو کیسے پڑھیں گے؟تمام تر حکومتی سرپرستی کے باوجودقومی زبان ہندی کا حال ہم سے بدتر ہے۔حالیہ برسوں میں اردو اخبارات کی تعداد اور اشاعت میں اضافہ ایک اچھا شگون ہے اس سے ادب کی صورتحال میں بہتری آئے گی۔
2 آپ کے تجزیے اور ادبی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو ملک کی سیاسی وسماجی صورتحال سے گہری دلچسپی ہے، آپ اس وقت ہندوستان کی سوسائٹی کا سب سے بڑا مسئلہ کیا سمجھتے ہیں؟
n ہندوستانی سماج کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ ایک ایسے نظام کو اپنا نجات دہندہ سمجھنے لگے ہیں جو ان کے مسائل کی جڑ ہے۔ اس نے عوام کے اندرسے اس کا متبادل تلاش کرنے کی نہ صرف طلب بلکہ شعور تک کو ختم کردیا ہے۔ اس سے بھی سنگین مسئلہ یہ ہے کہ جس باشعور طبقہ کی ذمہ داری عوام کالانعام کو اس کے چنگل سے نکالنے کی تھی، وہ بھی گو ناگوں وجوہات کی بنا پرخود اس دامِ فریب میں گرفتار ہو تا جارہا ہے۔ الا ماشا ء اللہ۔
2 ملکی حالات کے تناظر میں تحریک اسلامی کو کن خطوط پر کام کرنے کی ضرورت ہے؟
n اس پر لب کشائی مجھ جیسے ادنی ٰ کارکن کو زیب نہیں دیتی۔
2 آپ قارئین رفیق ، بالخصوص ایس آئی او آف انڈیا سے وابستہ نوجوانوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
n پیغام تو نہیں، یہ دوستانہ مشورہ ضرور دوں گا کہ مایوسی کا شکار ہوئے بغیر اللہ کے بھروسے ہر کام اخلاص، محنت،لگن اور یکسوئی کے ساتھ کیا جائے۔ میں ذاتی طور پرفکر و عمل دونوں سطح پر کسی قسم کی مصالحت کا قائل نہیں ہوں اور نوجوانوں سے اسی کی توقع کرتا ہوں۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

اپنے دل سے کہیں، محبت کرے

محی الدین غازی چمن کے حسن اور رنگینی کو بڑھانے کا بہترین ...