بنیادی صفحہ / رشد / پریشانیوں کے بنیادی اسباب

پریشانیوں کے بنیادی اسباب

پریشانیوں کے تین بنیادی اسباب ہیں:
۱۔ اسی دنیا کو سب کچھ سمجھ لیا
۲۔ ہم جسم ہی کے آس پاس جیتے ہیں
۲۔دوسروں کو غیر سمجھ لیا

آج ہر شخص پریشان دکھائی دیتا ہے۔ وہ مطمئن نہیں۔ اس کا سارا وقت ایک طرح کے تناؤ میں گزر جاتا ہے۔ صبر و سکون کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ ایسا لگتا ہے جیسے اس کی کوئی قیمتی چیز کھو گئی ہے۔ اور وہ اس کے لیے پریشان ہے۔ یا جیسے وہ کسی چیز کو پانا چاہتا ہے جس کے حاصل ہونے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ وہ دولت یا عہدہ پانے کے لیے دوڑ لگاتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ دوسروں سے آگے نکل جائے۔ اس میں کبھی وہ بڑی حد تک کامیاب بھی ہو جاتا ہے، وہ بہت سی دولت بٹور لیتا ہے۔ زمین جائیداد بنا لیتا ہے۔ اس کے بہت سے نوکرچاکر بھی ہو جاتے ہیں۔ اس کی زندگی میں بظاہر کسی چیز کی کمی دکھائی نہیں دیتی لیکن پھر بھی اس کی پریشانی نہیں جاتی۔ وہ بے صبرے کا بے صبرا ہی رہتا ہے۔
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کوئی ایسا کام کر جاتا ہے ، مثلاً کوئی ایسی ایجاد کرلیتا ہے جس سے اسے بڑی شہرت مل جاتی ہے۔ دور دور تک لوگ اسے جاننے لگتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ زندگی میں کامیاب ہے۔ لوگ اس کی مثالیں دینے لگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کا کارنامہ ایسا ہے کہ اسے بھلایا نہیں جا سکتا۔ اخبارات میں اس کے تذکرے عام ہو نے لگتے ہیں۔اس کے ساتھ لوگ اپنی تصویر کھنچواتاچاہتے ہیں اور اس سے رابطہ رکھنے کو باعثِ فخر سمجھتے ہیں۔ لیکن جب ہم اس شخص کو قریب سے دیکھتے ہیں تو وہ بھی پریشان دکھائی دیتا ہے۔ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی وہ بے چین ہی معلوم ہوتا ہے۔ اس کی خوشیوں میں کوئی گہرائی نہیں پائی جاتی۔ اس کے پاس شکایتوں کا ایک دفتر ہوتا ہے۔ لگتا ہے کہ خوشیاں بٹورنے کی بے تکان محنت کے بعد بھی ابھی تک اسے وہ خوشی نہیں مل سکی کہ وہ سرشار ہو جائے اور کہہ سکے کہ مجھے وہ سب کچھ مل گیا جو میں چاہتاتھا بلکہ اپنی خواہش سے بڑھ کر مجھے وہ سب کچھ حاصل ہے جس کا کوئی تصور کر سکتا ہے۔ ایسا شخص زندگی بھر دوڑتا رہتا ہے۔ اس کی دوڑ کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اس کی منزل اسے دکھائی نہیں دیتی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اب بھی منزل سے اتنا ہی دور ہے جتنا دور اس وقت تھا جب اس نے زندگی کے میدان میں قدم رکھا تھا۔
انسان کی پریشانیوں اور اس کی عاجزی کے بنیادی سبب کو عام طور پر لوگ نہیں جانتے ۔ اس لیے ان کی کوششوں سے پریشانیاں کم نہیں ہوتیں، بلکہ بڑھ ہی جاتی ہیں۔ مال و دولت اور کسی عہدے کے حصول کے لیے زندگی میں انسان کی سرگرمی سے اس کی دنیوی ضرورتیں تو یقیناًپوری ہو جاتی ہیں لیکن انسان کی کچھ توقعات ایسی بھی ہیں جو مادی نہیں ہیں۔ جب تک ہم ان غیبی یا نفسی ضرورتوں کو نہیں جان لیتے ہم ان کے لیے کبھی عمل بھی نہیں کر سکتے۔
ہماری پریشانیوں اورمصیبتوں کے بنیادی اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہم موجودہ دنیا اور ظاہری زندگی ہی کو سب کچھ سمجھ لینے کی غلطی کرتے ہیں۔موجودہ دنیوی زندگی کے ساز و سامان ہمیں بہرہ مند نہیں کر سکتے۔ ایک تو یہ ضروری نہیں ہے کہ یہاں ہماری تمام مادی ضروریات پوری ہو سکیں ۔ دوسرے مادی وسائل کے اعتبار سے سب یکساں نہیں ہو سکتے۔ کوئی شخص ارب پتی ہو سکتا ہے اور کوئی معاشی اعتبار سے متوسط طبقے کا ہو سکتا ہے اور کوئی غریب اور دوسروں کی امداد پر منحصر ہو سکتا ہے۔ اس لیے جب تک انسان کم ملنے پر بھی مطمئن ہونا نہیں جانتا ، اس کی پریشانی نہیں جا سکتی۔ حقیقتاً یہاں بہت کچھ پا لینے کے بعد بھی اورزیادہ پا نے کی بھوک مٹتی دکھائی نہیں دیتی۔ جب تک کہ آدمی کی نظر میں وہ سب کچھ نہ ہو جس کے دینے کا وعدہ خدا نے اس سے کیا ہے۔ یعنی دائمی زندگی اور اس دائمی زندگی کی شان و شوکت۔ایسی صورت حال میں اگر آدمی کی مادی ضروریات پوری ہو رہی ہوں تو اسے اپنے لیے کافی سمجھنا چاہیے ، کیوں کہ زندگی کا مقصد دولت اکٹھا کرنا نہیں ہو سکتا۔زندگی یہاں کی دولت و سطوت سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ اس لیے زندگی کا حقیقی حاصل کچھ اور ہی ہوگا ۔ اور وہ ہے اپنی حقیقت کا علم و ادراک۔ انسان جب اپنی حقیقت سے آگاہ ہو جاتا ہے تو یہ آگہی خود اسے اتنا غنی کر دیتی ہے کہ اس سے بڑھ کر کسی اور دولت کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔انسان اپنے آپ میں غنی ہے لیکن اسے اس کی آگہی نہیں ہے، جس کی وجہ سے وہ خود کو فقیر اور ناآسودہ سمجھتا رہتا ہے اور اپنی ناآسودگی کودور کرنے کے لیے ہاتھ پیر مارتا رہتا ہے۔ اور اس کی کوشش مادی دولت کو اکٹھا کرنے کے سوا کسی اورچیز کے لیے نہیں ہوتی۔ مگر اس سے اس کی پریشانی دور نہیں ہوتی۔ہاں یہ تو ہو سکتا ہے کہ دوسروں کے مقابلے میں وہ دولت مند ہو جائے اور اپنے آپ کو کامیاب شخص سمجھنے لگے۔ مگر یہ صرف دھوکا ہوتا ہے اور کوئی شخص خود کو دیر تک دھوکا نہیں دے سکتا۔ صرف دولت اور عہدے سے آدمی کی پریشانیاں دور ہوتی ہیں اور نہ زندگی کی ناآسودگی کا خاتمہ ہوتا ہے۔ مال ودولت اور عہدے کے ساتھ آفتیں لگی رہتی ہیں۔ تجارت میں گھاٹا بھی ہو سکتا ہے۔ آدمی کو عہدے سے ہاتھ دھونا بھی پڑ سکتا ہے۔ اس دنیا میں تو ہر لمحہ امید کے ساتھ ناامیدی، کامیابی کے ساتھ ناکامی کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔
ہماری پریشانیوں کا ایک بنیادی سبب یہ بھی ہے کہ ہم عموماً جسم ہی کے آس پاس جیتے ہیں۔ جسم سے زیادہ اپنے کو کچھ اور نہیں سمجھتے ۔ دنیوی آرام و آسائش ہی سے ہم واقف ہوتے ہیں اور اسی سے اپنے کو ہم آہنگ کرلیتے ہیں اورجسمانی تکلیفوں اور دکھوں کو ہی حقیقی دکھ سمجھ لیتے ہیں اور جسمانی لذت اور مادی خوشیوں ہی کو سچی خوشی سمجھنے کی بھول کر بیٹھتے ہیں۔ہم نہیں جانتے کہ درحقیقت ہم جسم نہیں ہیں بلکہ ہمارا وجود غیر جسمانی ہے جس کے امکانات کی کوئی حد نہیں ہے۔اور جس کی یافت کا مقابلہ دنیا کی کوئی کامیابی نہیں کر سکتی۔
جو یافتیں ہمیں روح کے ذریعے سے حاصل ہوسکتی ہیں،وہ جسم کے آس پاس ہی جیتے رہنے کی وجہ سے حاصل نہیں ہوپاتیں۔ بہت سے لوگ اپنی زندگی کے داخلی تجربوں اور باطنی سکون کی خوشبو سے اسی لیے محروم رہ جاتے ہیں کہ وہ تاحیات اپنے جسم کے آس پاس ہی منڈلاتے رہتے ہیں ۔ وہ زندگی بھر زندگی کے امکانات سے لاعلم رہ جاتے ہیں۔
ہماری پریشانیوں اور دکھوں کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ ہم تنگ نظری کے شکار ہوتے ہیں۔ انسانوں میں سے کسی کو اپنا اور کسی کو غیر سمجھنے کی غلطی کرتے ہیں۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ جب سارے انسانوں کو خدا نے پیدا کیا ہے اور سب کو اس کا حق حاصل ہے کہ وہ خدا کے پیارے بن سکیں پھر اس کا جواز کہاں رہ جاتا ہے کہ سارے انسانوں کو ایک نظر سے نہ دیکھیں اور اپنے اہل و عیال کے علاوہ سب کو اپنا حریف یا بیری سمجھنے لگیں۔ دشمن تو دور کسی کو غیر سمجھنا بھی متشددانہ نقطہ نظر ہے۔ اپنے سوا سب کو غیر سمجھنے کی بھول ہی کی وجہ سے حسد، غصہ، حرص وغیرہ امراض ہمیں گھیر لیتے ہیں اور ہم اپنے ہی نہیں بلکہ دوسروں کے سکھ چین کے دشمن بن جاتے ہیں۔
ہمارا نقطہ نظر صحت مند ہے یا نہیں اس کی ایک بڑی پہچان یہی ہو سکتی ہے کہ ہمارا دل اتنا کشادہ ہو کہ جس میں سب کے لیے احترام اور پیار ہو۔ دوسروں کی خوشیوں سے ہم خوش ہو جائیں اور دوسروں کے غم سے مغموم ہواُٹھیں۔

مولانا محمد فاروق خان، مترجم ومفسر قرآن

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

اسلام میں تزکیہ نفس کا تصور

سید سالار پٹیل ۔ پرلی دنیا میں ہر انسان فرداً فرداً اللہ ...