Home / کیمپس / وطن دوستی اور وطن دشمنی طلباءی سیاست کے تناظر میں

وطن دوستی اور وطن دشمنی طلباءی سیاست کے تناظر میں

 

از: احسن فیروزآبادی

ترجمہ: محمد معاذ

فروری کو دہلی کے رامجس کالج میں اے بی وی پی (ABVP) اور AISA کے درمیان ہوئی نوک جھونک اور لڑائی کا واقعہ وطن عزیز کی سیاست میں مزیدگرماہٹ کا سبب بنتا جارہا ہے۔ رامجس کالج میں ہوئے اس شرمناک اور انسانیت سوز واقعے کے بعد اے بی وی پی کے خلاف دہلی یونیورسٹی، جواہر لال نہرو یونیورسٹی اور دیگر چند تعلیمی اداروں کے طلباءبڑی تعدادمیں سوشل میڈیا کے ذریعہ اپنا احتجاج تادم تحریر درج کر ا رہے ہیں۔ اے بی وی پی کے کارکنان کے ذریعہ 21 اور 22فروری کو انجام دیے گئے اس پرتشدد واقعہ کے خلاف دہلی یونیورسٹی میں ردعمل ہوا۔ کارگل کی لڑائی میں مہلوک کی بیٹی گر مہر نے جوٹوئٹ کیا، اس پر نازیبا تبصرے کئے گئے پھر ان تبصروں پر ہونے والی بحثیں اور مذاکرات نے آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا۔ اس تنازعہ کولے کر متعدد سماجی و ملی تنظیموں کے علاوہ، سیاسی، نیم سیاسی جماعتوں، ریاستی، مرکزی حکومت کے ذمہ داران آمنے سامنے آچکے ہیں۔ طلبہ کے درمیان اس طرح کی واردات نے ایک بار پھر 9فروری 2016 کو جے این یو میں ہوئے واقعہ کو دہراتے ہوئے وطن دوستی اور وطن سے غداری کے درمیان طلبہ برادری کو کھڑا کردیا ہے۔
قارئین کو یادہوگا کہ پچھلے سال 9فروری کو ہوئے واقعہ اور رواںسال 21 اور 22فروری کو رامجس کالج کے طلبہ، جے این یو کی سابقہ یونین صدر شہلا راشد کے ساتھ اے بی وی پی کے کارکنان کے ذریعہ کی گئی مارپیٹ دونوںواقعات ایک ہی جیسے لگتے ہیں۔ جے این یو واقعہ کے بعد بھی میڈیا کے ذریعہ وطن دوستی و وطن دشمنی کی بحث چھیڑی گئی تھی اور یہاں بھی اے بی وی پی کے خلاف آواز بلند کرنے کو وطن غداری سے تعبیر کیا جارہا ہے۔
جے این یو اور رامجس کالج میںہوئے واقعات پر غورکریں تو ان دونوں ہی واقعات سے جڑا ہوا ایک نام عمرخالد (پی ایچ ڈی اسکالر جے این یو) ہے۔ جے این یو میں ہوئے واقعہ کی طرح رامجس کالج میں 21فروری کو ہوئے ہنگامے اور شہلا راشد کے ساتھ ہوئی مارپیٹ کی وجوہات میںسے ایک اہم وجہ کے طورپر عمرخالد کا نام پیش کیا جارہا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ سیاسی افق پر وطن محبت اور وطن غداری جیسے حساس موضوعات دوبارہ موضوع سخن بنائے جارہے ہیں۔
اس موضوع سخن کا پس منظر
وطن دوستی اور وطن غداری پر گفتگو سے پہلے ہمیں اس پورے منظرنامے کی حقیقت کو سمجھنا چاہیے۔ اسی کے ساتھ ساتھ یہ نکتہ بھی غور طلب ہے کہ یونیورسٹیوں میں ہونے والی ان وارداتوں کے پس پردہ کچھ سیاسی مفادات تو کارفرما نہیں ہیں؟
سب سے پہلے رامجس کالج میں ہوئے واقعہ کی تفصیل جان لیتے ہیں۔ دراصل تنازعہ کی وجہ کالج میں ایک سمینار بعنوان A Culture of Protest a Seminar Exploring Repersentation of Dissent” رکھا گیا تھا۔ اس سمینار میں معروف مقررین کے علاوہ جے این یو کی سابق لیڈر شہلا راشد اور عمرخالد بھی حصہ لینے والے تھے۔ عمرخالد کو وستر (جھارکھنڈ) کے حالات پر اپنے تاثرات بیان کرنے تھے جوکہ ان کی ریسرچ کا موضوع بھی ہے۔ سمینار اپنے ٹھیک وقت پر یعنی 9:30بجے شروع ہوا۔ اگلے سیشن کے شروع ہونے سے پہلے تقریباً گیارہ بجے Tea Break دیا گیا۔ اسی دوران اے بی وی پی کے کارکنان جمع ہونا شروع ہوئے اور انہوں نے عمرخالد کے خلاف نعرے بلند کرنے شروع کردیے۔ سمینار منعقد کرنے والے طلبا اور اساتذہ نے اس سلسلے میں کالج کے پرنسپل سے ملاقات کی۔ لیکن پرنسپل صاحب نے کوئی تشفی بخش جواب نہیںدیا۔ ادھر مخالف نعرے بازیوں کا زور دیکھتے ہوئے منتظمین نے عمر خالد کو سمینار میں آنے سے روک دیا یا دوسرے الفاظ میں معذرت کرلی۔ لیکن اس کے باوجود دوسرے سیشن کے آغاز ہونے کے کچھ ہی دیر بعد کارکنان اے بی وی پی نے سمینار ہال پر سنگ باری شروع کردی۔ نتیجتاً پروگرام کی کارروائی روک دی گئی۔
پولیس کا رول
یہ سب ہوا اور وہاںموجود پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر پرنسپل نے سمینار کے منتظمین کی معاونت سے انکار کردیا تو پھر احاطہ میں پولیس کیوں موجود تھی بلکہ اسے وہاں آنے کی دعوت کس نے دی کیونکہ اطلاع کے مطابق پولیس وہاں سنگ باری سے قبل ہی موجودتھی۔ یہ کہنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ پولیس نے اس مذموم حرکت کی خاموش تائید کی۔ اگلے دن 22فروری کو شہلا راشد کی قیادت میں جے این یو، دہلی یونیورسٹی اور AISA کے طلبا نے مورس نگر تھانہ علاقہ میںایک ریلی نکالی جس میں کئی اساتذہ بھی شامل تھے۔ رامجس کالج میں ہوئی واردات کی رپورٹ تو خیر کیا درج ہوتی۔ ہوا یہ کہ اس ریلی پر اے بی وی پی کے کارکنان نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں شہلا راشد سمیت کئی طلبہ و اساتذہ کو شدید چوٹیں آئیں۔ قابل افسوس اور حد درجہ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہاں بھی شہریوں کی محافظ پولیس کا کردار یکطرفہ تماشائی کے طورپر سامنے آیا۔ خبروں کے مطابق جو ویڈیوز سامنے آئے ہیں۔ اس حملے میں چند پولیس کے سپاہی بھی شامل تھے۔ اس درد ناک واقعہ کا شکار کچھ صحافیوں کو بھی ہونا پڑا۔ اس حملے کے خلاف کئی طلبہ نمائندوں اور اساتدہ نے پولیس ہیڈکوارٹر کا گھیراﺅ کیا اور اپنا احتجاج درج کرایا۔ دوسری جانب اے بی وی پی کے کارکنان نے بھی ایک مارچ نکالا جس میںوندے ماترم، بھارت ماتا کی جے اور ”ڈی یو میں اگر رہنا ہے تو وندے ماترم کہنا ہوگا“ جیسے مشتعل نعرے سنائی دیے۔ اس مارچ کو پولیس کی بھرپور سرپرستی حاصل رہی۔
اس پورے سلسلہ واقعات کی خبریں سوشل میڈیا کے ذریعہ آناً فاناً ملک کے کونے کونے تک پھیل گئیں۔ دہلی یونیورسٹی کی ایک طالبہ گر مہر کور کی ٹوئٹ اوراس پر اسے دی گئی دھمکی نے ایک ایسی بحث کا آغاز کردیا کہ جس میں سیاستداں، ایکٹر، سماجی کارکنان سے لے کر کرکٹر بھی شامل ہوگئے۔ گر مہر نے یہ احساس ظاہر کیا کہ وہ اے بی وی پی سے نہیں ڈرتی۔ گر مہر کو سوشل میڈیا کے ذریعہ جہاں حمایت ملی وہیں اسے مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ لیکن نوعمر طالبہ (گرمہر) شاید یہ معلوم نہ تھا کہ مخالفت کی آواز کو ناپسند کرنے والے عناصر اسے سیاسی اکھاڑے میں گھسیٹ لیںگے۔ جہاں اسے ایسی ذہنی اذیتوں سے گزرنا پڑے گا جس کے بارے میں اس نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا۔ اس بیس سالہ لڑکی کو اتنی ذہنی اذیتیں دیں کہ اسے دارالحکومت دہلی کو ہی خیرباد کہنا پڑا۔ گرمہر کے طرفداروں میں اس کے دادا اور والدہ بھی سامنے آگئے۔ گرمہر کے دادا نے واضح الفاظ میں کہا کہ ”انہوں نے کارگل کی لڑائی میں اپنا بیٹا کھویا ہے اور ان کی پوتی کی آواز کو دبانے والے زیادہ سے زیادہ اسے جان سے مار سکتے ہیں۔ وہیں گرمہر کور کی ماں نے کہا کہ ”ان کی بیٹی وطن پرست ہے اور وندے ماترم بھی کہتی ہے۔ ہمارے وطن کے لوگ صرف جملے سنتے ہیں ان کا پس منظر بھی سمجھنا چاہیے۔“
دوسری جانب عام آدمی پارٹی کی سابق لیڈر اور دہلی بی جے پی کی لیڈر شازیہ علمی نے جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی پر فرد کی آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانے کا الزام لگایا۔ انہوںنے الزام لگایا ہے کہ 28فروری کو جامعہ میںہونے والے مسلم خواتین کے مسائل پر ایک سمینار میں ان کا نام شامل تھا جسے رامجس کالج کے دھرنے کے بعد ہٹا دیا گیا لیکن واقعہ اس کے بالکل خلاف ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سمینار منتظمین نے بتایا کہ شازیہ علمی کا نام سرے سے شامل ہی نہیں تھا نہ ہی پروگرام کاپی میں ان کا نام لکھا گیا تھا۔
AISA اور دیگرطلبہ کے ذریعہ ایک مارچ کا انعقاد کیا گیا جس میں طلبہ یونین کے ساق صدر کنہیاکماراور عمرخالد، جے این یو سے ایک عرصہ سے لاپتہ نجیب احمد کی والدہ فاطمہ نفیس اور چند سماجی کارکنان شامل تھے۔ اس مارچ میں آزادی اظہار رائے کو لے کر اظہارخیال کیا گیا اورانصاف اور آزادی کے حصول سے متعلق نعرے لگائے گئے۔ ہمیشہ کی طرح ایک دوٹی وی چینلوں کو چھوڑکر سبھی نے سرکار کے وفادار ہونے کافرض بخوبی نبھایا۔ رامجس واقعہ سے لے کر مارچ تک زی ٹی وی نے اپنی محدود منفی سوچ کا ثبوت دیا۔ ایک پروگرام میں زی ٹی وی اینکر نے کہا کہ ”آزادی اظہاررائے کے نام پر پچھلے سال جے این یو کی طرح پھر سے دہلی میں غیرمحدود ڈراما چل رہا ہے کیونکہ بہت سارے لوگوں کو لامحدود آزادی چاہیے جس میں ایک طرف ملک مخالف سوچ رکھنے والے لوگ ہیں تو دوسری طرف ہندوستان کے بہی خواہ ہیں۔“ ظاہر ہے کہ یہ اشارہ ان آزادی کے نعرے لگانے والوں کی طرف تھا جو ملک میں وہ تبدیلی نہیں چاہتے جس کا کھوکھلا نعرہ بی جے پی کی طرف سے ان دنوں لگایا جارہا ہے بلکہ وہ تو حق و انصاف پر مبنی وہ تبدیلی چاہتے ہیں جو ہر شہری کو اس کے جائز حقوق کے ساتھ زندہ رکھ سکے تاکہ اسے یہ محسوس ہو کہ وہ ایک آزاد ملک کا آزاد شہری ہے۔ دیش کے حق میں بات کرنے والے لوگوںکا اشارہ (زی ٹی وی کے مطابق) ان لوگوں کی طرف تھا جو بی جے پی، آر ایس ایس اور اے بی وی پی سے تعلق رکھتے ہیں۔
طلبا کی سیاست یا سیاسی سازش
9فروری 2016 سے لے کر 21 اور 22فروری 2017تک جے این یو، دہلی یونیورسٹی میں ہونے والے ان واقعات کو کچھ لوگ طلبا کی سیاست سے جوڑ رہے ہیں۔ لیکن اگر ان سبھی واقعات پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلے گا کہ بہت سے ایسے پہلو بھی ہیںجو ابھی غور طلب ہیں۔ دراصل یہ ایک سیاسی سازش ہے جسے بی جے پی نے مرکز میں آتے ہی عملہ جامہ پہناناشروع کردیا اور اسے انجام تک پہنچانے کے لیے میڈیا اور یونیورسٹی انتظامیہ نے بھرپور ساتھ دیا۔
مرکز میں بی جے پی کی سرکار آتے ہی کچھ یونیورسٹیوں کو ایک سوچی سمجھی سیاست کے تحت نشانہ بنایا گیا اور سبھی کے لیے الگ الگ خاکہ تیار کیا گیا۔ پہلے علی گڑھ یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار پر حملہ کیا گیا اوران اداروں کو ملنے والے بجٹ میں کمی کی گئی۔ اس کے بعد اس سازش کا خطرناک روپ سامنے آیا۔ حیدرآ باد سینٹرل یونیورسٹی، بنارس ہندو یونیورسٹی، جواہر لال نہرو یونیورسٹی، رامجس کالج دہلی (دہلی یونیورسٹی) میں ہونے والے واقعات اس کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ ان واقعات میں ایک اہم سانحہ این آئی ٹی سری نگر (کشمیر) کا بھی ہے جسے ملکی میڈیا نے کوئی خاص اہمیت نہیں دی۔
راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) جس کا مقصد اور نصب العین پورے بھارت کو ہندوراشٹر میں تبدیل کرنا ہے جسے بروئے کار لانے کے لیے یہ تنظیم کسی بھی حد تک جاسکتی ہے۔ اس خواب کوپورا کرنے کے لیے ضروری تھا کہ دستور ہند کے حوالے سے ملک کی عوام کے سامنے آیا جائے۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے حکومت سازی کی بنیادی اہمیت ہے۔ اس لیے بی جے پی جو دراصل آر ایس ایس کی سیاسی پارٹی ہے کے مرکز میںآتے ہی اس نے چند قابل ذکر اور معروف تعلیمی اداروں کو اپنا نشانہ بنایا تاکہ وہاں اپنے مخصوص نظریات کو فروغ دے سکے کیونکہ تعلیمی اداروں سے اٹھنے والی آواز کو اگر وہیں پر دبایا نہیں گیا توپھر یہ آواز حکومت کی غلط کاریوں اور پالیسیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہوسکتی ہے۔ اس لیے مرکز میں حکومت قائم ہونے کے چند ماہ بعد یعنی 30اکتوبر 2014 کو دہلی کے مدھیہ پریش بھون میں فروغ انسانی وسائل کی وزیر محترمہ اسمرتی ایرانی کے ذریعہ ایک نشست طلب کی گئی۔ جس میں تعلیم سے متعلق لوگوں نے حصہ لیا۔ اس میٹنگ میں اکثرلوگ ایسے بھی تھے جن کا براہ راست تعلق آرایس ایس سے تھا۔ اس میٹنگ میں دس یونیورسٹیوں کو نشانہ بنایا گیا اوران میں کلیدی مناصب پر بھگوا فکر کے ترجمان افرادکو چارج سونپ دیا گیا۔ اے بی وی پی جو کہ آر ایس ایس کی معروف طلبہ تنظیم ہے اسے کیمپس میں تخریبی سرگرمیاں انجام دینے کی کھلی چھوٹ دی گئی اور ملک کے خاص خاص تعلیمی اداروں میں فرقہ واریت کا زہر گھول دیا گیا۔
مثلاً حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی کے پانچ دلت طلبہ کو ”مظفرنگر باقی ہے“ فلم کی مخالفت کرنے والے اے بی وی پی کے طلبہ کے خلاف نکالے گئے جلوس کی وجہ سے اتنی جسمانی اذیتیں دی گئیں کہ 26برس کے پی ایچ ڈی اسکالر روہت ویمولا کو خودکشی کے لیے مجبور ہونا پڑا۔ اسے ہاسٹل، دفتر، لائبریری وغیرہ سے استفادہ کے حق سے محروم کردیا گیا اور یہ سب کچھ یونیورسٹی وائس چانسلر اپاراﺅ اور وزیر برائے فروغ انسانی وسائل کے اشارے سے ہوا۔ پانچ طلبہ پر وطن غذار کا لیبل لگا دیا گیا۔ اسی طرح بی ایچ یو کے پروفیسر پانڈے کو کوکاکولا کمپنی کی مخالفت کرنے اور ایک طالب علم کی قانونی مدد کرنے کے جرم میں انہیں نکسلی قرار دیا گیا اور یونیورسٹی سے باہر کا راستہ دکھا دیا گیا۔ یہاں بھی یونیورسٹی کے اہم مناصب پر آر ایس ایس سے جڑے ہوئے افراد فائز ہیں۔ جواہر لال نہرویونیورسٹی میں سنگھی وائس چانسلر کے آنے کے ٹھیک دس دن بعد وطن پرست اور وطن مخالف کا گھناﺅنا کھیل کھیلا گیا۔ جس میں کنہیاکمار، عمرخالد اور چند دیگر طلباءپر وطن غدار ہونے کا معاملہ درج کیا گیاجس کی چارج شیٹ آج تک دہلی پولیس نہیں دے سکی ہے۔ ٹھیک اسی طرح کا ڈرامہ21فروری سے آج تک جاری ہے۔ بی جے پی سرکار ابھی تک 14 تعلیمی اداروں میں سیدھی دخل اندازی کر چکی ہے۔
چند سوالات جو غور طلب ہیں
تعلیمی اداروں میں ہونے والے یہ سانحات چند سوالات سامنے لاتے ہیں جوکہ درج ذیل ہیں:
1-یونیورسٹی کیمپس میں ہونے والے ان واقعات کے تناظر میں ہر بار اے بی وی پی کا نام کیوں سامنے آتا ہے؟
2-جہاں بھی وطن غداری جیسے حساس موضوعات زیربحث آتے ہیں وہاں اس مسئلے کی شروعات اے بی وی پی کے ذریعہ ہی کیوں کی گئی ہے؟ اے بی وی پی کو یہ ذمہ داری کس نے دی ہے کہ وہ طلبہ کو وطن دوست یا وطن کے غدار کے سرٹیفکیٹ تقسیم کرے؟
3-اے بی وی پی کے پاس دستور ہند کی رو سے ایسا کون سا معیار ہے جس کے ذریعہ کسی کو وطن کا غدار یا وطن دوست کہا جاسکے؟ اے بی وی پی ایک طلبہ تنظیم ہے اس لیے اسے ان معاملات پر ہی گفتگو کرنی چاہیے جو تعلیم سے متعلق ہوں یا اسے طلبہ برادری کے مسائل کو حل کرنے کے اقدامات کرنے چاہئیں۔ اس کے بعد اگر وہ وطن کے عام مسائل پر آواز بلند کرے تو کوئی حرج نہیں۔ لیکن دیکھا گیا ہے کہ اے بی وی پی نے نہ تو تعلیمی بجٹ میں ہونے والی کمی پر کوئی آواز اٹھائی ہے، نہ ہی تعلیم کے زعفرانی کرن، تعلیمی پالیسی اور مہنگی فیس جیسے مسائل پر کوئی رائے رکھی ہے بلکہ تعلیمی اداروں میں اے بی وی پی کی سرگرمیاں طلبہ تنظیم کی طرح نہ ہوکر محض ایک خاص مذہبی گروہ کی طرح ہیں۔ سرسوتی پوجا سے لے کر بھارت ماتا کی جے اور ”ڈی یو میں رہنا ہے تو وندے ماترم کہنا ہوگا“ جیسے اشتعال پر مبنی نعرے بازیوں کے ذریعہ فرقہ وارانہ فضا ہموار کرنے میں اے بی وی پی کا کردار خاصا اہم رہا ہے۔ اس لیے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اے بی وی پی بھی آر ایس ایس کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے تعلیمی اداروں میں سرگرم عمل ہے جیسا کہ سوربھ کمار (لیڈر اے بی وی پی) نے لکھا ہے کہ ہندوستان کب کا ہندوراشٹر بن گیا ہوتا اگر جے این یو جیسے ادارے نہ ہوتے۔
5-کہیں ایسا تو نہیں کہ بی جے پی سرکار کی سرپرستی میں وطن دوستی اور وطن غداری کے معاملوں کو جان بوجھ کر ہوادی جارہی ہو تاکہ یونیورسٹیوں میں ہونے والے سنگین جرائم پر پردہ ڈالا جاسکے۔ جیسا کہ روہت ویمولا کی خودکشی اور جے این یو سے لاپتہ نجیب احمد کے معاملے سے دھیان ہٹانے کے لیے کیا گیا۔
قارئین کو یادہوگا کہ پچھلے برس اے بی وی پی کارکنان نے نجیب احمد کے ساتھ جوکہ جے این یو طالب علم ہے کے ساتھ بری طرح مارپیٹ کی تھی جس کے نتیجے میں اسے شدید چوٹیں بھی آئی تھیں۔ اس کے اگلے ہی دن نجیب احمد لاپتہ ہوگیا۔ نجیب احمدکی گمشدگی کو لے کر جہاں دہلی ہائی کورٹ نے بھی دہلی پولیس سے سوالات کیے ہیں۔ وہیں دوسری جانب ملک کے طول وارض میں دو سو سے زائد احتجاجی ریلیاں نکالی جاچکی ہیں۔ کئی دینی وسماجی تنظیموں نے نجیب احمد کی پراسرار گمشدگی کو لے کر سوالیہ نشانات لگائے ہیں۔ جے این یو کی سابق یونین لیڈر شہلا راشد کے اے بی وی پی پر نجیب احمد کی گمشدگی کا الزام لگایا ہے۔ جے این یو کے طلبا اس کیس کو ٹھنڈے بستے میں نہیں ڈالنے دینا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب سرکار اس سانحہ کے بعد مکمل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ ان حالات میں سرکار کے ذریعہ بلکہ اس کی ناک کے نیچے اے بی وی پی کارکنان کو یونیورسٹی احاطے میں غنڈہ گردی کی کھلی چھوٹ دینا اور نجیب احمد اور روہت ویمولا کے معاملے میں خاموش رہنا کہیں اس کے ایجنڈے کا حصہ تو نہیں ہے؟

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*