نظم

کھا نہ دھوکا گردش ایام سے
اب تو کٹتی ہے بڑے آرام سے

آزمالے اے ستم گر سارے تیر
تجھکو ڈر لگتا ہے گر اسلام سے

گائے تو ایک جانور ہے برہمن
کیا غرض اس کو رحیم و رام سے

میکدے میں شیخ صاحب السلام
بیٹھئے فرمائیے، کس کام سے

عشق کرنا ہے اگر بے خوف کر
کس لئے ڈرتا ہے تو انجام سے

آج بھی شاکرؔ وہی مطلوب ہے
زندگی بدلی تھی جس پیغام سے
شاکرؔ حسین ہریانہ۔الجامعہ شانتاپرم۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

اپنے دل سے کہیں، محبت کرے

محی الدین غازی چمن کے حسن اور رنگینی کو بڑھانے کا بہترین ...