Home / ایس آئی او / میقات رواں کا ایک سال

میقات رواں کا ایک سال

ہمارے کیڈر قرآن وسنت سے رشتہ مضبوط کریں اور اپنی سوچ کی ترویج اسی بنیاد پر کریں
برادر سرور حسن ایس آئی او آف انڈیا کے موجودہ جنرل سکریٹری ہیں۔ میقات کا ایک سال پورا ہونے پر ادارۂ رفیق منزل نے موصوف سے ایک خصوصی انٹرویو لیا تھا۔ افادۂ عام کے لیے نذر قارئین ہے۔ (ادارہ)

تنظیم سے آپ کی وابستگی کب اور کیسے ہوئی؟
2 الحمدللہ تنظیم سے میں بچپن ہی سے جڑا ہوا ہوں۔ میرا تعلق مونی پور ضلع کے ایک گاؤں سے ہے۔ ۱۹۸۶ ؁ء میں گاؤں میں چلڈرن سرکل قائم ہوئی تھی، اور اس کے ہفتہ واری پروگرام بھی مسلسل ہوتے تھے۔ ان پروگراموں میں میں دلچسپی سے حصہ لیتا تھا۔ تنظیم سے وابستگی کا واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ میں اُن دنوں درجہ اطفال میں زیرِ تعلیم تھا۔ ایک بار میں اپنے کلاس میں بیٹھا تھا، اسی کلاس کے برابر میں SIOکا ہفتہ واری پروگرام ہورہا تھا۔ میں کھڑکی کے پاس کھڑا باہر سے پروگرام سن رہا تھا۔ عبدالرشید خاں صاحب جو اس وقت پروگرام میں شریک تھے، انھوں نے مجھے بلایا اور اپنے پاس بٹھایا۔ میرے اندر اس وقت سے پروگرام سے ایک قسم کا لگاؤ ہوگیا، اور میں ہر ہفتہ پروگرام میں پابندی سے شریک ہونے لگا۔
اس وقت چلڈرن سرکل کے ہمارے پروگرام میں انبیاء و صحابہ کے واقعات سنائے جاتے تھے، ترانے پڑھے جاتے تھے اور اگلے ہفتے کا پروگرام بھی بتایا جاتا تھا کہ فلاں نبی یا صحابی کے بارے میں فلاں شخص پروگرام پیش کریں گے۔ پروگرام کے اختتام پر طلبہ کے درمیان چاکلیٹ تقسیم ہوتی تھی، جس سے پروگرام کا لطف دوبالا ہوجاتا تھا اور اگلے ہفتے پروگرام سننے اور اس میں شریک ہونے کی بے چینی بھی رہتی تھی۔
n بحیثیت جنرل سکریٹری آپ نے میقات کا ایک سال مکمل کرلیا ہے، آپ نے اور مرکزی مشاورتی کونسل نے جن خوابوں کے ساتھ میقات کا آغاز کیا تھا، اس میں کیا کچھ پیش رفت محسوس کرتے ہیں؟
2 جہاں تک خواب کا تعلق ہے CACنے جو پالیسی بنائی ہے اس کا حصول ہی ہمارے پیشِ نظر ہے۔ ایک سال مکمل ہونے کے بعد مرکزی جائزہ میٹنگNRMکا انعقاد ہوا،اس میں تمام ہی زونس نے اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، اچھا لگ رہا تھا کہ ہندوستان کے جس سیاسی، سماجی و معاشی ماحول میں طلبہ، تعلیم اور تعلیمی ادارو ں کا ماحول دیکھتے ہوئے مرکز نے جو پالیسی بنائی تھی اس میں بہت کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔ مثلاً ایک پالیسی کا نقطہ یہ تھا کہ کیڈر کے اندر قرآن و حدیث سے تعلق مضبوط ہو، الحمدللہ اس میں کافی حد تک کامیابی ملی۔ اکثر وابستگان تنظیم نے معہ ترجمہ قرآن ایک سال میں ختم کرلیا ہے۔ دوسرا اہم نکتہ یہ طے کیا گیا تھا کہ شمالی ہند میں پسماندہ طبقات کے اندر تعلیمی بیداری لائی جائے گی۔ شمالی ہند کی تعلیمی صورتحال پر ایک خاکہ بنایا گیا تھا،جس کے تحت تمام زونل ذمہ داران کا ایک اورینٹیشن پروگرام ہوا۔ تعلیمی بیداری مہم کا انعقا ہوا۔ اس ضمن میں دسمبر تک اورینٹیشن پروگرام کا خاکہ بنایا گیا تھا وہ مکمل ہوا۔ جنوری میں RTIڈالنے کا پروگرام تھا وہ بھی الحمدللہ مکمل ہوگیا۔ تعلیمی بیداری کے سلسلے میں خصوصاً بہار، جھارکھنڈ، یوپی میں سمینار، سمپوزیم، ریلی اور پریس کانفرنسیں ہوئیں، جس میں تعلیم کے سلسلے میں عام بیداری کا کام کیا گیا اور تعلیم کی اہمیت و تقاضوں پر گفتگو ہوئی۔ تیسرا اہم مورچہ جس پر SIOنے کام کیا وہ یہ کہ تعلیمی اداروں کو ڈیموکریٹک بنایا جائے اور اس کو برائیوں سے پاک کیا جائے۔ آج کل جو شرپسند عناصر کیمپس کی فضا کو خراب کررہے ہیں اور طلبہ یونین میں حصہ لے کر وہاں پر گندی سیاست کررہے ہیں، SIOنے ان تمام کے خاتمہ کے لیے طلبہ یونین میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تاکہ اس کے ذریعہ سے نہ صرف برائیوں کے خلاف آواز اٹھائی جائے، بلکہ برائیوں کو ختم کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کی جائے۔ طلبہ کے اندر اچھائیوں کو پروان چڑھایا جائے، ان کے اندر بھائی چارہ کو جنم دیا جائے اور تعلیم کے سلسلے میں بیداری لائی جائے، اس سلسلے میںSIOنے سالیڈرٹی فورم بنائے، پروگرامس کیے اور فولڈرس وغیرہ بھی بڑے پیمانے پر تقسیم کیے گئے۔
n مرکز نے اس مرتبہ پالیسی میں ایک خاص بات یہ درج کی ہے کہ وابستگان کے اندر سیاسی وسماجی حساسیت پیدا کی جائے گی، اس سلسلہ میں مرکز کے پاس کیا پروگرام ہے؟
2 جب اس پالیسی کو بنایا گیا تو CACکے سامنے یہ بات تھی کہ اس کے لیے کوئی خاص پروگرام نہ ہو بلکہ ہماری تنظیم میں اس تعلق سے بیداری پیدا ہو۔ ہمارے کیڈر کے اندر سیاسی و سماجی اسپرٹ پیدا ہو۔ جس کیمپس میں طلبہ رہ رہے ہوں وہاں کے مسائل کو وہ خود سمجھیں اور اس کے حل کے لیے کوشش کریں۔ الحمدللہ طلبہ نے اس میں حصہ بھی لیا اور SIOکو اس میں کافی حد تک کامیابی ملی۔
n تعلیم، فلسفہ تعلیم، اور تعلیمی نظام کا تنقیدی جائزہ ہماری پالیسی کے اہم موضوعات ہیں، ان کے سلسلے میں ہمارے پاس کیا پروگرام ہے؟
2 تعلیم، فلسفۂ تعلیم، اور تعلیمی نظام کے تنقیدی جائزہ کے تحت ہر زون میں ایک کمیٹی بنائی گئی اور اس کمیٹی نے اس پر کام بھی شروع کردیا ہے۔ مرکزی سطح پر اس کے اوپر ایک کتاب شائع کی جائے گی، ریاستی سطح پر بہت سارے زونس میں اس مناسبت سے ورکشاپ، سمپوزیم، سمینار، ڈسکشن، مذاکرے کیے گئے ہیں، اس کے علاوہ بہت سارے ممبران نے اس موضوع پر الگ الگ اخبارات و رسائل میں مضامین بھی شائع کرائے ہیں۔
n نارتھ انڈیا ایجوکیشن موومنٹ کیا ہے؟ اور اس سے ہم کیا چاہتے ہیں؟
2 نارتھ انڈیا میں ساؤتھ کے مقابلے میں تعلیمی پسماندگی بھی پائی جاتی ہے اور SIOکا اثر بھی کم ہے، اپنے کام کو آگے بڑھانے کے لیے SIOنے شمالی ہند کی تعلیمی صورتحال کو اشو بناتے ہوئے ایک تحریک چلانے کا فیصلہ کیاہے۔ اس کے تحت مرکز نے دو سالہ خاکہ بھی تیار کیا۔ اس سلسلے میں مرکزی ذمہ داران کا خصوصاً شمالی ہند کا دورہ بھی ہوتا رہتا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے جہاں ایک طرف تعلیمی بیداری آئے اور اس سے دلچسپی پیدا ہو، وہیں دوسری طرف تنظیم بھی مستحکم ہو۔
n زونس میں ایک تو وہ ہیں جو ایک مثالی یا قابل تحسین زون ہیں، لیکن کچھ زون ایسے بھی ہیں جہاں کام کچھ بھی تسلی بخش نہیں ہے، ایسے زون کے لیے آپ کے پاس کیا خاص منصوبہ ہے؟
2 ہندوستان کی ہر ریاست کی الگ الگ سماجی و ثقافتی پریشانیاں اور مسائل ہیں۔ ان کو سامنے رکھتے ہوئے ہر زون نے اپنی حد تک کام کرنے کی کوشش کی ہے۔ بعض علاقوں میں SIOکا استحکام جلد ہوگیا اور بعض زونس میں SIOکی دعوت دیر سے پہنچی، وسائل کی کمی کی وجہ سے وہ دوسرے زونس جیسا کام نہیں کرپا رہے ہیں۔ مرکز کی طرف سے اس سال شمال مشرقی ہندوستان میں اسوسی ایٹ سازی مہم چلائی گئی۔ مرکزی سطح پر تین ذمہ داران بنائے گئے ہیں۔ ہریانہ، اتراکھنڈ، اڑیسہ، چھتیس گڑھ، ایم پی ویسٹ وغیرہ میں SIOکے کام کو آگے بڑھانے کے لیے ایک سکریٹری کو ذمہ داری دی گئی۔ اس کے علاوہ ناگالینڈ، میزورم، منی پور، میگھالیہ، تری پورہ اور اروناچل پردیش کے کام کو آگے بڑھانے کے لیے ایک دوسرے فرد کو ذمہ داری دی گئی۔ آسام ساؤتھ اور نارتھ کے لیے بھی ایک فرد کو ذمہ دار بنایا گیا۔ ان افراد کی کوششوں سے ان تمام ہی زونس میں ایس آئی او کے کام کو ترقی اور استحکام مل رہا ہے۔ میقات رواں میں SIOنے ناگالینڈ اور اروناچل پردیش میں اپنے سفر کا آغاز کیا ہے۔ باقی زونس پر بھی مرکز خصوصی توجہ دے رہا ہے اور دیگر مرکزی ذمہ داران کا مسلسل دورہ بھی ہورہا ہے۔
n دو میقات قبل علی گڑھ اور جامعہ ملیہ کو زون بنانے کا تجربہ ہوا تھا، یہ تجربہ آپ کو کیسا معلوم ہوتا ہے؟
2 AMUاور JMIہندوستانی سیاست میں اہم کردار ہے۔ ان اداروں میں دوسری تنظیمیں بھی اپنا کام کرتی ہیں، اور وہ ان کا مرکز بھی تصور کیے جاتے ہیں۔ ایسے ہی خاص اداروں میں SIOکے وجود کو مضبوط کرنے کے لیے ۲۰۰۹ ؁ء اور ۲۰۱۰ ؁ء کی CACنے اِن دو اداروں کو زونس کا درجہ دیا تاکہ براہِ راست مرکز کی نگرانی میں ان کی ترقی ہو، گزشتہ دو میقاتوں میں مرکز کی خصوصی توجہ کی وجہ سے دونوں ہی زونس نے اچھی ترقی کی ہے اور وہاں کے طلبہ میں SIOایک متعارف تنظیم بن گئی ہے۔
n کیا آئندہ اس طرز پر دوسرے کیمپس زون بنانے کا بھی کوئی منصوبہ ہے؟
2 ابھی اس طرح کا کوئی پلان CACنے طے نہیں کیا ہے۔ AMUاور JMIکو جس تجربہ کے تحت زون کا درجہ دیا گیا ہے اگر اس میں بڑے پیمانے پر کامیابی ملی تو امید ہے کہ دوسری مرکزی یونیورسٹیوں کو بھی زونس کا درجہ ملے گا۔
n انتخابات ۲۰۱۴ ؁ء کے تعلق سے ایس آئی او کا کیا پروگرام ہے؟ کیا آپ نے اس کے سلسلے میں کوئی طلبائی منشور مرتب کیا ہے؟
2 ۲۰۱۴ء کے انتخابات کے موقع پر SIOتعلیم کو اشو بناتے ہوئے اپنی آواز کو بلند کرنے کی کوشش کرے گی۔ اس ضمن میں ایک طلبائی منشور تیار ہوچکا ہے، ان شاء اللہ جلد ہی ماہ فروری میں اس کا افتتاح بھی ہوگا۔
n یونین الیکشن کے تعلق سے تنظیم کا کیا موقف ہے؟ اور اس سلسلہ میں اب تک کیا پیش قدمی ہوئی ہے؟ اس سلسلہ میں آپ کے پاس کیا پروگرام ہے؟
2 Student Unionsکا ایک اہم مقصد ملک کے لیے لیڈر شپ تیار کرنا ہے اور اس کا اہم ذریعہ الیکشن ہے۔ طلبہ الیکشن کے ذریعے سے ملک کی لیڈر شپ تیار ہوتی ہے اور اسی کے ذریعے سے طلبہ کے مسائل کا حل بھی نکلتا ہے۔ اسی لیے SIO چاہتی ہے کہ ہر کیمپس میں طلبہ یونین انتخابات ہوں مگر ہندوستان کے بہت سارے اداروں میں تشدد کی وجہ سے طلبہ یونین کا انتخاب بند ہے۔ SIOیونین الیکشن کی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے لنگدوہ کمیشن کی سفارشات کو لاگو کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ جن اداروں میں طلبہ یونین ہیں اور وہاں انتخابات ہورہے ہیں تو وہاں پر SIO الیکشن میں حصہ لیتی ہے اور جہاں طلبہ یونین نہیں ہے، وہاں اس کو بحال کرنے کے لیے SIOمسلسل کوشش کررہی ہے۔
n تنظیم کے طلبائی رخ سے متعلق اس میقات کی کیا صورتحال رہی ہے؟
2 SIOکے نام سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک طلبائی تنظیم ہے گزشتہ میقاتوں میں SIOنے طلبائی رخ اختیار کرنے کے لیے بہت سارے پروگرامس کیے ہیں۔ SIOکے اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ہونے کے لیے ضروری ہے کہ SIOہر طلبائی اشو پر آواز اٹھائے۔ ان کو حل کرنے کی کوشش کرے، طلبہ کو SIOکی موجودگی کا احسا س ہو، طلبہ کی امیدیں SIO سے وابستہ ہوں، الحمدللہSIOان تمام چیزوں پر کام کررہی ہے۔ طلبہ کے جائز مطالبات کا حل بھی پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور آج SIO الحمدللہ طلبہ برادری کی آواز بن گئی ہے۔
n گزشتہ میقات میں کلچرل فیسٹول کا پروگرام بنایا گیا تھا، جس میں خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی، اس میقات میں کلچرل ایکٹوٹیز کو لے کر کوئی خاص پروگرام؟
2 میں اس بات سے اتفاق نہیں رکھتا کہ گزشتہ میقات میں کلچرل فیسٹول سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا۔ اس کے ذریعے سے تو SIOنے طلبہ کے اوپر جو مغربی تہذیب کا اثر تھا اس کو زائل کرنے کی ایک بڑی کوشش کی ہے۔ اس کلچرل فیسٹول کے ذریعہ طلبہ کے درمیان کلچرل وسائل کے سحیح استعمال کے سلسلے میں بیداری لائی گئی ہے۔ ہاں، اس میقات میں مرکزی سطح پر کچھ طے نہیں کیا گیا ہے۔ البتہ زونس اپنی سطح پر الگ الگ پروگرام کررہے ہیں۔ مثال کے طور پر آندھراپردیش میں سٹی اسٹوڈینٹس فیسٹول کا انعقاد ہوا۔ بہت سارے ایسے زونس ہیں، جن میں اب تک کلچرل ایکٹوٹیز نہیں ہورہی تھیں اس میقات میں ان کو شروع کیا گیا ہے۔
n ایس آئی او کا ایک زمانے میں چلڈرن سرکل میں کافی اچھا کام تھا، ۱۴؍سال سے کم عمر بچوں کی تنظیم میں کیا صورتحال ہے؟ کیا ان کے لیے کوئی خاص پروگرام مرتب کیا گیا ہے؟
2 چلڈرن سرکل کا کام ابھی بھی بہت اچھا چل رہا ہے۔ جماعت ریاستی سطح پر چلڈرن سرکل کو بذات خود دیکھ رہی ہے اور جہاں جماعت نہیں دیکھ رہی ہے وہاں SIOاس کو دیکھ رہی ہے۔ اس سلسلے میں سمر اسکول، پکنک پروگرامس، ٹیلنٹ بیس پروگرام، ہفتہ وار پروگرام، کلچرل پروگرام وغیرہ کیے جارہے ہیں۔
n وابستگان تنظیم کے تزکیہ کے سلسلہ میں آپ کے پاس کیا پروگرام خصوصیت کے حامل ہیں؟ اور اس میقات میں جو پروگرامس مرتب کئے گئے ہیں، ان کے کیا نتائج سامنے ہیں؟
2 تزکیہ کے سلسلے میں CACنے ایک خاص پروگرام یہ بنایا تھا کہ قرآن و حدیث کے ساتھ کیڈر کا تعلق مضبوط ہو، الحمدللہ مرکزی جائزہ میٹنگ کے بعد معلوم ہوا کہ کیڈر کا تعلق قرآن و حدیث کے ساتھ مضبوط ہوا ہے۔ تزکیہ کے سلسلے میں بہت سے پروگرام مثلاً: قرآن لرنگ سینٹر، تجوید لرننگ سینٹر وغیرہ کا انعقاد بھی کیا گیا، تربیت کے لیے بہت سے پروگرام مثلاً: نحن انصار اللہ، تفقہ فی الدین وغیرہ بھی منائے گئے۔
n ایک بات یہ دیکھی جاتی ہے کہ طلبہ کے درمیان اجتماعیت سے بیزاری پائی جاتی ہے، کیا یہ صحیح ہے، آپ کی رائے کیا ہے؟
2 آج طلبہ کے درمیان اسلامک فوبیا پھیلایا جارہا ہے۔دنیا میں کچھ ایسے گروپ بھی ہیں، جو طلبہ کے درمیان اتحاد نہیں چاہتے، لیکن بہرحال آج دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ دور بدل رہا ہے، پہلے کی طرح آج بھی ظلم و انصافی کی آواز بلند کرنے کے لیے طلبہ اور نوجوان اکٹھا ہورہے ہیں اور اجتماعیت سے جڑ رہے ہیں۔
n اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ طلبہ کے لیے کشش کا کوئی سامان ہم نہیں کرپارہے ہیں، اگر ایسا ہے تو کیا طلبہ کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے آپ کے پاس کوئی منصوبہ ہے؟
2 SIOایک ایسی طلبہ تنظیم ہے، جو طلبہ کے اندر بیداری لانا چاہتی ہے، SIOنے شروع ہی سے اس بات کی طرف زور دیا ہے کہ طلبہ اور نوجوانوں کو اسلام کی طرف لایا جائے اور آج الحمدللہ بڑے پیمانے پر طلبہ SIOسے جڑے ہوئے ہیں اور تمام ہی ریاستوں میں یہ کام جاری ہے۔SIOان کو study، struggleاور serviceکے سلوگن کے ذریعہ اجتماعیت کے قریب لانے کی کوشش کررہی ہے۔
n آپ قارئین رفیق، بالخصوص وابستگان تنظیم کو کیا پیغام دیں گے؟
2 آج کا دور نالج کا دور ہے، اس لیے زیادہ سے زیادہ نالج حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنا چاہیے اور جو بھی نالج ہم حاصل کریں اس پر صحیح طور سے عمل بھی ہمارے پیشِ نظر رہنا چاہیے۔ ہمارے کیڈر قرآن وسنت سے رشتہ مضبوط کریں اور اپنی سوچ کی ترویج اسی بنیاد پر کریں۔ موجودہ دور جو انصاف اور اخلاقی قدروں کا متلاشی ہے، ایسے دور میں طلبہ اور نوجوانوں کی اجتماعی جدوجہد ملک و سماج کو مضبوط تبدیلی کی طرف راغب کرسکتی ہے اس سلسلے میں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے، ساتھ ہی ساتھ مسائل کو ایڈریس کرنے میں Academic & cultural orient کو مدنظر رکھیں۔

About Admin Rafeeq

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

زعفرانی ذہنیت پر مبنی درسی کتب کی تجزیاتی رپورٹ

نصاب اور درسی کتابوں میں ہونے والی تبدیلی ایک ایسا عمل ہے ...