بنیادی صفحہ / تجزیہ ۔ قومی / میرا پہلا دعوتی تجربہ

میرا پہلا دعوتی تجربہ

ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جس میں مختلف ادیان ومذاہب اور مختلف تہذیب وتمدن سے تعلق رکھنے والے لوگ رہتے ہیں۔ ہندوستانی آئین انہیں اپنے مذہب پر پورے طور پر عمل پیرا ہونے اور اس کی تبلیغ واشاعت کی پوری آزادی فراہم کرتا ہے اور یہی بات ہندوستانی جمہوریہ کو بہت سے دوسرے ممالک سے ممتاز کرتی ہے۔
چند ماہ قبل ایس آئی او آف انڈیا،حلقہ دہلی کے زیراہتمام قدیم مرکز جماعت اسلامی ہند چتلی قبر میں ایک دو روزہ دعوتی ورکشاپ میں شرکت کرنے اور مستفید ہونے کا موقع ملا، جس میں مختلف موضوعات پر دعوت کی اہمیت وافادیت اور مطلوبہ لائحہ عمل پر مختلف پہلوؤں سے گفتگو ہوئی۔
ورکشاپ کا ایک اہم پروگرام سروے کی شکل میں تھا۔ جو ذاتی طور پر مجھے بہت پسند آیا۔ برادران وطن کو جاننے سمجھنے اور ان سے گفتگو کرنے کا بہترین موقعہ ملا۔ اس کے ذریعہ اسلام سے متعلق برادران وطن کی آراء اور ان کے خیالات سے واقفیت حاصل کرنا بھی پیش نظر تھا، کہ وہ اسلام، عقائد اسلام اور تعلیمات اسلام کے تعلق سے کیسی رائے اور کتنی واقفیت رکھتے ہیں۔ اس سروے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ اس مناسبت سے لوگوں تک اسلام کا پیغام اور اسلامی لٹریچر پہنچانے کی عملی تربیت حاصل کی جائے۔
صبح ناشتے کے بعد موجود افراد کے تین گروپ تشکیل دیئے گئے، اور انہیں ان کے متعینہ علاقوں کی طرف روانہ کردیا گیا۔ ناچیز جس گروپ میں شامل تھا ،ا س کو دہلی کے معروف ہسپتال جی بی پنتھ اور اس کے گردونواح میں کام کرنا تھا، چنانچہ ہم روانہ ہوئے۔ راستے بھر ذہن میں طرح طرح کے سوالات جنم لے رہے تھے کہ جن لوگوں کے پاس ہم جارہے ہیں وہ مختلف ادیان ومذاہب سے تعلق رکھنے والے ہوں گے، وہ ہم سے کس طرح پیش آئیں گے، ہم سے کس طرح کے سوالات کریں گے، ہمارے سلسلے میں وہ کیا رائے رکھتے ہوں گے، ہمیں وہ کس نظر سے دیکھیں گے، ان کا ردعمل کیا ہوگا، وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے بے شمار سوالات نے ہمیں خوف اور اندیشوں کا شکار بنا رکھا تھا۔
رکشے سے اُترتے ہی ہماری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جو ہسپتال کے دروازے پر کھڑا کسی کا انتظار کررہا تھا۔ وہ ہندومذہب سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ ہم سے بہت ہی خندہ پیشانی سے ملا۔ جب ہمارے گروپ لیڈر نے اس سے اسلام اور اسلامی تعلیمات سے متعلق سوالات شروع کئے تو اس نے ہر سوال کے جواب میں لاعلمی کا اظہار کیا۔ چنانچہ ہم نے اسے اسلام، پیغمبراسلام اور اسلام کی بنیادی تعلیمات پر مبنی کچھ کتابچے دیئے اور پھر سلام دعا کے بعد آگے بڑھ گئے۔
اس کے بعد ہسپتال کے گردونواح میں بیٹھے متعدد لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں جس میں وہاں موجود گارڈس، ٹریفک پولیس کے افراد، اور دیگرافراد بھی تھے۔ اسلام، مسلمان اور اسلامی تعلیمات کے تعلق سے ان کے احساسات وجذبات جاننے کی کوشش کی گئی۔ ان میں تقریباََ ۹۹؍فیصدی افراد نے ہم سے گفتگو کے دوران انتہائی شائستہ لہجہ اختیار کیا، اور بڑی ہی شفقت ومحبت سے پیش آئے، لیکن یہ جان کر بڑا افسوس ہوا کہ ان کی اکثریت اسلام، پیغمبر اسلام اور اسلامی تعلیمات سے بالکل ہی ناواقف تھی، چند ایسے افراد بھی ملے جو اسلام سے متعلق بعض بہت ہی سرسری قسم کی معلومات رکھتے تھے۔
اس دوران بعض ایسی باتیں بھی معلوم ہوئیں جن کو سن کر مسلم ملت کی صورتحال اور ان کی مذہبی پسماندگی کا اندازہ ہوا۔ صوبہ بہار سے تعلق رکھنے والے ٹریفک پولیس کے ایک نوجوان نے انکشاف کیا کہ ہمارے یہاں درگا پوجا میں اس کے یہاں مسلمان بھی شریک ہوتے ہیں، مالی تعاون بھی کرتے ہیں اور بعض مواقع پر آگے آگے بھی رہتے ہیں۔ اس کے اس انکشاف نے میرے دل پر بڑے گہرے اثرات ڈالے اور مجھے کسی مصنف کا یہ جملہ یاد آنے لگا کہ جو قوم دوسروں کا اثر قبول کرنے لگے، اور ان سے اس قدر متأثر ہو کہ ان کی مذہبی رسومات میں بھی شریک ہونے لگے تو اس قوم کے زوال کی گواہی دینی چاہیے۔
دوران سروے بعض مسلمانوں سے بھی اتفاقیہ ملاقات ہوگئی، جو کسی بھی طور سے مسلمان نہیں معلوم ہورہے تھے۔ وہ ہمارے ساتھ بہت ہی ترش روئی اور بدتہذیبی کے ساتھ ملے۔ ان کی اکثریت ہماری کچھ بھی بات سننے کو تیار نہ ہوئی۔ وہ باتیں خوب لمبی لمبی کررہے تھے، لیکن ان کا رویہ بہت ہی مایوس کن تھا۔ ان سے اس اتفاقی ملاقات کے دوران میرے ذہن ودماغ میں ان فرزندان توحید کی بار بار یاد آرہی تھی جن کے اخلاق وکردار اور رویوں نے اسلام کی تبلیغ واشاعت میں نمایاں رول ادا کیا تھا، اور پھر کسی شاعر کا یہ شعر میرے ذہن میں گونجنے لگا ؂
وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ
جو دلوں کو فتح کرلے وہی فاتح زمانہ
تقریباََ ایک بجے دوپہر ہماری واپسی ہوئی۔ نماز ظہر مولانا محمد فاروق خاں صاحب کی امامت میں ادا کی، اور پھر ہم سب نے بارگاہ خداوندی میں دعا کی کہ خدائے ذوالجلال تو ہمیں ان فرزندان توحید میں شامل فرما جن سے تو ہمیشہ اپنے دین کی تبلیغ واشاعت کا کام لیتا رہا ہے۔

محمد اشفاق عالم ندوی،
رانچی۔ جھارکھنڈ

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

سنگھ پریوار: ترجیحی عدم توازن کا شکار

عقل مند وہ ہے جو دوسروں کی غلطی سے ہوشیار ہوجاتا ہے ...