Home / تزکیہ / میرا مطالعہ قرآن

میرا مطالعہ قرآن

ذیل کی سطور میں ایک نوخیز طالب علم نے اپنے مطالعہ قرآن کے سلسلے کے کچھ تجربات شیئر کئے ہیں،امید کہ اس سے دیگر طلبہ ونوجوانوں کے اندر بھی مطالعہ قرآن کا جذبہ بیدار ہوگا۔ (ادارہ )

قرآن مجید ملت کے لیے جسم میں خون کی طرح ہے۔ خون سے خلیوں کی نشوونما ہو تو خلیے اچھی طرح کام کرتے ہیں اور جسم صحت مند رہتا ہے۔ فرد ملت کے لیے ،بلکہ صحیح معنوں میں امت کے لیے، ایک خلیے کی مانند ہے۔ خون سے یعنی قرآن سے خلیوں کی یعنی افراد کی نشوونما ہوتی ہے۔ اگر خلیے خون سے الگ ہوجائیں یا افرادِ امت قرآن سے قطع تعلق کرلیں تو دونوں ہی صورتوں میں بقاء ممکن نہیں، پہلی صورت میں انسان کی، دوسری صورت میں انسانیت کی۔
فضیلتِ قرآن کوئی گمنام موضوع نہیں ہے، لیکن ایک اور موضوع جو اس سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے، لیکن امت کی ترجیحات میں یا امت کے سماجی حلقوں میں شاذ ہی کبھی موضوعِ بحث بنتا ہے وہ مطالعۂ قرآن ہے۔ فضائلِ تلاوتِ قرآن اور اس سے متعلق امور سے واقفیت آج ملت کی اہم ترجیحات میں سے ہے، جو کہ یقیناًاچھی بات ہے، لیکن ہدایت کے لیے صرف تلاوت کافی نہیں ہے، بلکہ تلاوت سے آگے بڑھ کر مطالعہ اور غوروفکر بھی ضروری ہے۔
میرا طریقہ
قرآن کتابِ ہدایت ہے۔ کتابِ تزکیہ ہے۔ کتابِ اصلاح ہے۔ اس کی آیتیں شعور کے ہر مرحلے پر قاری کی تربیت و تزکیہ کا سامان فراہم کرتی ہیں۔ بشرطیکہ پڑھنے والا اپنے آپ کو قرآن کا پہلا مخاطب سمجھے۔ ہر پڑھنے والے کو چاہیے کہ قرآن کو پہلے اپنی ضرورت سمجھے، پھر دوسروں کی۔ یہی وہ شرط ہے جو قرآن کو قاری کے لیے کتاب العمل بناتی ہے۔ جس قاری کے لیے قرآن کتاب العمل نہ بن سکا وہ دنیا اور آخرت دونوں میں ناکام و نامراد ہوتا ہے۔
تراجم قرآن کی اہمیت
عربی زبان سے ناواقفیت ہونا ہمارے لیے تراجم کی اہمیت کو بڑھا دیتی ہے۔ ترجمہ چاہے جس کسی زبان میں ہو، بامحاورہ ہو، اس میں سیاق و سباق کو مدنظر رکھتے ہوئے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہو، تبھی وہ کسی حد تک لطیف بنتا ہے۔ مولانا مودودیؒ کا ترجمہ قرآن کچھ اسی نوعیت کا نظر آتا ہے، یہی وجہ ہے کہ لطافت بھی رکھتا ہے۔ اس کے باوجود قرآن مجید کی عربی آیتوں میں موجود ایجاز، وضاحت اور لمبی آیتوں کے قافیے میں بھی دلکشی صاف طور پر محسوس ہوتی ہے۔ عربی متن کو جب سمجھنے کی کوشش کی جائے تو یہ احساس قائم کرتے دیر نہیں لگتی کہ عربی آیتوں کو پڑھ کر سمجھنے کی کوشش میں جو لطف ہے وہ تراجم کے ذریعے سمجھنے میں نہیں۔ اس لیے چاہیے کہ عربی زبان کے قواعد کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ تاکہ کسی بھی لفظ، مثلاً ’قل‘ سے پہلے واؤ کا لگ جانا کس طرح آنے والے الفاظ کی شدت اور سنگینی کو بڑھاتا ہے اس کا قاری کو اندازہ ہو، محکم و متشابہ آیتوں کی ترکیب کو ذہن میں رکھا جائے، مثلاً اتقوا، اصلحو، اطیعوا، اذکروا: ڈرو، صلح کرو، اطاعت کرو، ذکر کرو، وغیرہ الفاظ محکم آیتوں کا حصہ ہوتے ہیں۔
عربی اور اردو میں کئی الفاظ کا مادہ مشترک ہے۔ یا بہت حد تک مماثلت رکھتا ہے۔ مثلاً کارہون، کراہ، تتقون، تقویٰ، مجرمون، جرم، اخرجک، خارج، جہاں کہیں اردو زبان میں مستعمل الفاظ سے مماثل الفاظ آیتوں میں نظر آئیں، متذکرہ آیت کے ہر لفظ کا مادہ تلاش کرنے کی کوشش کی جائے اور پھر ان معنوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے پوری آیت کا مطلب سمجھا جائے۔
یہ بات ذہن میں رکھی جائے کہ اپنے آپ کو قرآن کا پہلا مخاطب سمجھنا تراجم کے ذریعے ممکن ہے۔ لیکن اپنے اوپر ’’نزولِ قرآن‘‘ کا تصور کرنا اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم عربی متن سمجھیں۔
قرآن کی آیتیں قاری کے شعور کے اعتبار سے گہری ہوتی جاتی ہیں۔ اس لیے ہر آیت کوبار بار پڑھا جانا چاہیے۔ کسی آیت کے پہلے اور بعد کی آیتوں سے اس کے تعلق کو تلاش کرنا چاہیے۔
قرآن مجید کی ہر ہر آیت پر ٹھہر کر غوروفکر کرنا چاہئے، اپنے حالات میں اس سے استفادہ کرنے کے لیے اجتہاد کرنا چاہئے، اور ساتھ ہی اسلاف کے اجتہاد سے بھی فائدہ اٹھانا چاہیے۔
تفہیم القرآن سادہ اندازِ گفتگو، اخذ کردہ نتائج اور پیش کیے گئے argumentsکا مدلل جواب دینے میں نمایاں ہے۔ اس لیے تفہیم القرآن کا مطالعہ بھی کیا جانا چاہیے۔
میرے تجربات:
قرآن مجید کی مدنی سورتیں، خصوصاً سورہ انفال اور سورہ توبہ اِن چھٹیوں میں زیادہ تر میرے مطالعہ میں رہیں۔ اس لیے جہاد، آزمائش، صبر، امید، نصرت، برأت، اور نفاق جیسے موضوعات اکثر سامنے آتے رہے۔ یہ مطالعہ ان موضوعات پر ہونے والا پہلا مطالعہ تو نہ تھا، البتہ اس مطالعے نے سابقہ تصورِ جہاد کو تقویت پہنچائی، جہاد فی سبیل اللہ میں نصر من اللہ کے تقاضے، اس کے لیے صبر اور امید کی اہمیت اور اس کے انعامات کی صورت کو مزید واضح کیا۔
قرآن پر مسلسل غوروفکر ایمان کو یقین میں بدلتا ہے۔ الحمدللہ یہ مطالعہ میرے لیے اس مرحلے کی ایک اہم کڑی بن گیا۔
وہ آیتیں جن میں جہاد کا ذکر ہے، یا جن میں جہاد کے لیے اکسایا گیا ہے، ان آیتوں کی لغوی اور واقعاتی حیثیت کے ساتھ ان آیتوں کے نزول کے سیاق و سباق کو سمجھ کر زندگی کے موجودہ مراحل میں، اس روح کے ساتھ، جس روح کے ساتھ صحابہؓ نے عمل کیا، نئے مسائل اور ضروریات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اپنے تصورِ جہاد کو تقویت پہنچانا، ان آیات کے مطالعے میں میرا مقصودِ نظر رہا۔
تلخیص، تفہیم، تحریکی کتب، قرآن کا بہت ہی سست مگر اطمینان بخش مطالعہ اور تجربہ کار افراد کی تقاریر نے اس تصورِ جہاد کی تخلیق، اور ان آیتوں کے سیاق وسباق کو سمجھنے، ماضی کی بعض اسلامی تحریکات کی ناکامی کے اسباب اور موجودہ تحریکاتِ اسلامی کے لیے اپنے اپنے حالات میں limitations کی خواندگی میں اہم رول ادا کیا۔
تصورِ جہاد اور میرا جھاد
ایک حدیث کے مطابق ایک جنگ میں زخمی ہوجانے پر کسی شخص نے درد کی شدت سے خود کشی کرلی، رسول اللہؐ نے کہا کہ وہ جہنمی ہے۔ وہ اس لیے کہ پیشِ نظر ہار یا جیت رہی، رضائے الٰہی نہیں، اس کے علاوہ کئی آیات اور واقعات ہیں، جن کے مطابق صحابہ شہادت کو حقیقی کامیابی تصور کرتے تھے، کے مصداق، جہاد فی سبیل اللہ میں رضائے الٰہی ہر فرد کا اولین مقصد ہوگا اور غلبۂ اسلام ثانی۔ لیکن کسی فرد کا رضائے الٰہی کے بجائے غلبے اور کامیابی کو مقصودِ جہاد قرار دینا صحیح نہیں۔ فی اللہ فنا ہوجانا اول ہدف ہو، اور للہ باقی رہنا ثانی۔
قرآن جہاد کو تربیت، تزکیہ، اور دعوت کے ذریعہ کی حیثیت سے پیش کرتا ہے اور صبر و تحمل، استقلال اور بردباری کو ہتھیار بنانے کی تلقین کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص اسلام کے نظامِ تزکیہ و تربیت کو سمجھنا چاہتا ہے تو اسلام میں جہاد کے صحیح تصور اور اس کی وسعت کو سمجھ لے۔
برصغیر کی موجودہ تحریکاتِ اسلامی کا کچھ حد تک بے اثر ہونا، میرے احساس کے مطابق ایک علمی خلاء کی وجہ سے ہے۔ اس لیے تحریکِ اسلامی کی علمی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش اہم ترین جہاد ہے۔اس جہاد کا مقصود رضائے الٰہی، اور علمی کام میں امتیاز حاصل کرنا ہے۔ امتیاز حاصل ہو تو حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور نہ حاصل ہو تو اخلاص کا امتحان۔۔۔! امتیاز حاصل کرنے کے لیے ناکوں چنے چبانا اس جہاد کا حصہ ہے۔ ذاتی تجربے کے مطابق اکثر اس سلسلے میں ایک ’’کبیرہ گناہ‘‘ سرزد ہوجایا کرتا ہے۔۔۔ کوتاہی !!! اس سے بچا جانا چاہیے۔
جہاد چونکہ ذریعہ ارتقاء (Development) ہے۔ اس لیے اپنی برائیوں اور کمزوریوں کو دور کرنا، کوتاہ اور آرام طلب فطرت کے تقاضوں کو رد کرنا، اپنے معاملات میں، اساتذہ سے، دوستوں سے، والدین سے، ہم جماعت لڑکیوں کے ساتھ صالحیت کا رویہ اختیار کرنا، اپنے ایمان و یقین سے خود اعتمادی اور خدا اعتمادی حاصل کرنا، نظم کے ساتھ اسٹڈی کرنا، ایسا نظم جس میں نماز کی بنیادی حیثیت ہو، یہ تمام چیزیں جہاد کا حصہ ہیں۔ ایک بات ذہن نشین کرلینی چاہیے وہ یہ کہ علوم صرف حقائق (Concept)جان لینے پر مکمل نہیں ہوجاتے بلکہ practiceاور پھرperfectionبھی ان کا حصہ ہوتے ہیں۔ اس لیے perfectionتک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یا پھر کم از کم اتنی پڑھائی ہر روز ضرور کرنا چاہیے کہ حقائق کے بعد بے ساختہ نہ سہی دل میں میں آہستہ سے یہ آواز ضرور آئے، ربنا ما خلقت ہذا باطلا سبحانک فقنا عذاب النار۔

جدیر ناہض، ناندیڑ۔مہاراشٹر

About Admin Rafeeq

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

علم کی کثرت اور عبادت کی کثرت

فَضْلٌ فِیْ عِلْمٍ خَیْرٌ مِنْ فَضْلٍ فِیْ عِبَادَۃٍ وَ مِلاَکُ الدِّیْنِ الْوَرَعُ۔ ...