Home / تجزیہ ۔ بین الاقوامی / مہر ومحبت جس کی شان

مہر ومحبت جس کی شان

ایس آئی او آف انڈیا کی ملک گیر سیرت مہم کی مناسبت سے لکھی گئی تحریر۔ ادارہ

کفارو مشرکین نے رحمت عالم اور آپ کے جاں نثاروں کے ساتھ جو کچھ کیا،وہ یقیناًدشمنی اور بدسلوکی کی انتہاتھی،لیکن یہاں دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ جب چند سالوں کے بعدہوا کا رخ بدل گیا،باطل کا جھنڈاسرنگوں ہوگیا،کفارومشرکین کی طاقت پارہ پارہ ہوگئی،اور رحمت عالم اپنی فوج ظفر موج کے ساتھ مکے میں داخل ہوگئے، تو اس وقت رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان وحشی اوربے رحم دشمنوں کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟

کسی بگڑے ہوئے انسان کی کوئی اصلاح کرناچاہے،اور وہ بیس پچیس سال کے عرصے میں بھی اپنے اس مقصد میں کامیاب ہوجائے، تو وہ اسے اپنی بہت بڑی کامیابی شمار کرے گا، اور اس کامیابی پر ناز کرے گا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بگڑے ہوئے انسان کی اصلاح کرنا، اسے بری عادتوں کے چنگل سے چھڑالینا،اسے بری صحبتوں سے بیزار کردینا،اوراس کے دل ودماغ میں نیکی وتقوی کے چراغ روشن کردینا،چاہے وہ اپنا نور نظراورلخت جگرہی کیوں نہ ہو، بہت مشکل کام ، بلکہ دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔
داعی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کیسابے مثال کارنامہ ہے، کہ آپ نے (۲۳) سال کے مختصر سے عرصے میں کسی ایک آدمی کی نہیں، کسی ایک خاندان کی نہیں،کسی ایک گاؤں یا شہر کی نہیں،بلکہ پورے جزیرۂ عرب کی کایا پلٹ دی،ان کے اندر بیداری کا صور پھونک دیا،بے شمار ذہنوں کو جھنجھوڑدیا، بے شمار دلوں کو سنواردیا،اوربے شمار زندگیوں میں انقلاب برپا کردیا! ؂
یہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوت ہادی
عرب کی زمیں جس نے ساری ہلادی!
آپ نے پورے جزیرۂ عرب کو کفر و شرک کی نجاستوں سے پاک کردیا، وہ بتوں سے پٹا ہوا تھا،اسے توحید کا مرکز بنادیا،وہ جہالت اور جاہلیت کی گھٹا ٹوپ تاریکیوں میں تھا،اسے نیکی وتقوی اور علم وتمدن کی روشنی سے منور کردیا۔
وہاں ہرطرف قتل و غارت گری کا دور دورہ تھا،بدامنی کا یہ عالم تھا کہ رات ہو یا دن،اپنے علاقے سے باہر کہیں سفر کرنااپنی موت کو دعوت دینا ہوتاتھا، سال کے چار مہینے تھے، جو اشہر حرم کہے جاتے تھے،انہی چار مہینوں میں لوگ امن کے ساتھ کہیں سفر کر سکتے تھے،ورنہ اور دنوں میں ان کے لیے قدم قدم پرجان ومال کا خطرہ ہوتا تھا۔
داعی اعظم نے اس مختصر سی مدت میں ان وحشیوں کو انسان بنادیا،انہیں اپنے جیسے انسانوں کا ہمدرد وغم خوار بنادیا،اور دیکھتے دیکھتے پورا جزیرۂ عرب امن وامان کا گہوارہ بن گیا۔
نفرتیں اور عداوتیں الفت و محبت میں تبدیل ہوگئیں، جو لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے،وہ یک جان دوقالب ہوگئے، اور ایک دوسرے پر جانیں چھڑکنے لگے۔
جو لوگ سر سے پاؤں تک برائیوں میں لت پت تھے، جو دوسروں کی عزت و ناموس پر ڈاکے ڈالنا اپنی زبردست کامیابی سمجھتے تھے،اور اس پرفخر کرتے تھے،وہ طہارت وپاکبازی کا نمونہ ، اور دوسروں کی عزت وناموس کے محافظ بن گئے۔
اتنی مختصر سی مدت میں اتنے وسیع پیمانے پریہ عظیم انقلاب کیسے آیا ؟اخلاق و روح کی دنیا میں یہ زبردست ہلچل کیسے مچ گئی ؟سوچنے سمجھنے کے انداز، اور ترک واختیار کے پیمانے اس طرح کیسے بدل گئے؟
یہ محض قرآن پاک کا اعجازتھا، یہ داعی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی جگرسوزیوں اوردرد مندیوں کا نتیجہ تھا۔
داعی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم سارے انسانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجے گئے تھے،آپ سچ مچ سارے انسانوں کے لیے رحمت کا پیکر تھے،صحیح معنوں میں ان کے خیر خواہ اور بہی خواہ تھے۔
انہیں تباہی کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ کر آپ بے قرار رہتے !
انہیں سلامتی اور کامیابی کی راہ پر گامزن دیکھنے کے لیے تڑپتے ،اور مضطرب رہتے !
اس کے لیے ہر ممکن سبیل اختیار کرتے ۔آپ نے ایک موقع پر اپنی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
(میرا حال اس شخص جیسا ہے، جس نے آگ جلائی،اور جب آگ کا اجالا آس پاس پھیل گیا، تو کیڑے پتنگے ، جو آگ پر جمع ہوجاتے ہیں، وہ آآکراس میں گرنے لگے، وہ شخص ان کیڑوں پتنگوں کو اس آگ میں گرنے سے روک رہا ہے،مگر انہیں روک نہیں پارہا ہے، وہ بے تحاشا اس آگ میں گر رہے ہیں، اور جل جل کرراکھ ہورہے ہیں !
میرا حال بالکل ایسا ہی ہے،میں تمہاری کمر پکڑ پکڑ کر تمہیں آگ سے دور کر رہا ہوں،کہ بچو آگ سے! بچو آگ سے! مگر تم ہو کہ اس آگ پر ٹوٹے پڑ رہے ہو !) (متفق علیہ)
اللہ تعالی نے بھی قرآن پاک میں جگہ جگہ آپ کی اس دلسوزی اور جگر سوزی کا تذکرہ فرمایا ہے، اور بہت ہی پیاربھرے انداز میں فرمایا ہے:
(فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ عَلَی آثَارِہِمْ إِن لَّمْ یُؤْمِنُوا بِہَذَا الْحَدِیْثِ أَسَفاً۔۔ سورہ کہف : ۶)
(ایسا لگتا ہے کہ تم ان کے غم میں اپنے آپ کو ہلکان کرڈالوگے،اگر وہ اس بات پر ایمان نہیں لاتے!)
(لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ أَلَّا یَکُونُوا مُؤْمِنِیْنَ۔۔۔سورہ شعراء : ۳)
(ایسا لگتا ہے کہ تم اپنے آپ کو ہلکان کر ڈالو گے، اس بات پر کہ وہ ایمان نہیں لاتے!)
(أَفَمَن زُیِّنَ لَہُ سُوءُ عَمَلِہِ فَرَآہُ حَسَناً فَإِنَّ اللَّہَ یُضِلُّ مَن یَشَاءُ وَیَہْدِیْ مَن یَشَاءُ فَلَا تَذْہَبْ نَفْسُکَ عَلَیْْہِمْ حَسَرَاتٍ إِنَّ اللَّہَ عَلِیْمٌ بِمَا یَصْنَعُونَ۔۔۔سورہ فاطر:۸)
(کیا وہ شخص جس کے لیے اس کی برائی خوشنمابنادی گئی،پس وہ اسے اچھائی سمجھنے لگا، (کیا ایسا شخص ہدایت یاب ہوسکتا ہے ؟)اللہ جسے چاہتا ہے، گمراہ کرتا ہے ،اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے،تو ان کے غم میں گھلتے گھلتے تمہاری جان نہ چلی جائے، وہ جو کچھ کر رہے ہیں،اللہ اس سب سے با خبر ہے۔)
اس داعی اعظم، اور اس رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کوئی وقتی کیفیت نہیں تھی،یہ آپ کی مستقل حالت تھی۔گالیاں سنتے ، اور دعائیں دیتے!
لوگ آپ کی راہ میں کانٹے بچھاتے ،آپ ان پر پھولوں کی بارش کرتے !
دشمن آپ پر پتھراؤکرتے ،اورآپ اپنی چوٹوں کے بجائے ان کی بد نصیبی اور ناعاقبت اندیشی پر غم کے آنسو بہاتے !
(۱)
طائف میں جو کچھ پیش آیا،اسے کون نہیں جانتا،آپ وہاں والوں کی خیرخواہی میں گئے تھے، انہیں خدائے واحدکا پیغام سنانے، اور اس کی بندگی کی دعوت دینے گئے تھے،مگران بدبختی کے ماروں نے محبت کا جواب نفرت سے ، اور بھلائی کا جواب برائی سے دیا!
انہوں نے ظلم و بربریت کی انتہا کردی،آپ پر اس طرح پتھر برسائے کہ آپ سرسے پاؤں تک لہولہان ہوگئے!
مگر قربان جائیے اس داعی اعظم، اور اس رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر ! اہل طائف کی ان تمام وحشیانہ حرکتوں کے باوجوداس پیکر مہر ومحبت کی دلسوزیوں کا وہی عالم رہا،آپ کی زبان مبارک پر ان کے لیے کوئی بددعا نہ آئی، کوئی شکوہ شکایت نہ آئی!
آپ کے سینے میں بس یہی آرزو مچلتی رہی ، کہ وہ کسی طرح ہدایت یاب ہوجائیں ، جس تباہی کی طرف وہ بگ ٹٹ بھاگ رہے ہیں، اس تباہی سے بچنے کی فکر کریں!
طائف میں مقدس خوں ٹپکا، مکے میں کبھی پتھر کھائے
بس ایک تڑپ تھی، کیسی تڑپ ؟ انسان ہدایت پا جائے !
ام المومنین حضرت عا ئشہ صدیقہؓ طائف کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں:
(میں نے داعی اعظم سے ایک روز دریافت کیا:کیایوم احد سے بھی زیادہ سخت دن کبھی آپ پر گزرا ہے؟
آپ نے فرمایا:تمہاری قوم کے ہاتھوں بہت سے ایسے دن گزرے ہیں،ان میں سب سے زیادہ کٹھن دن طائف کا دن تھا،میں نے اس دن ابن عبدیالیل بن عبد کلال کی حمایت وحفاظت حاصل کرنی چاہی، مگر اس نے صاف انکار کردیا۔
میں حزن وغم میں ڈوبا ہوا آگے بڑھتا رہا، مسلسل آگے بڑھتا رہا، قرن الثعالب پہنچ کرکچھ طبیعت بحال ہوئی،میں نے سر اوپر اٹھایا، تو دیکھا ، مجھ پر ایک بادل سایہ فگن ہے،اور اس بادل کے ساتھ حضرت جبریل علیہ السلام ہیں!
حضرت جبریل علیہ السلام نے مجھے آواز دی:تمہاری قوم نے تمہارے ساتھ جو بدسلوکی کی ہے،اور تمہیں جو تلخ جواب دیا ہے،اللہ نے سب کچھ سن لیا ہے،اللہ نے تمہارے پاس اس فرشتے کو بھیجا ہے،جوپہاڑوں کاناظم الامور ہے،ان لوگوں کوجو سزا دلانا چاہو،اس کے ذریعہ دلاسکتے ہو!
اتنے میں اس فرشتے نے مجھے آواز دی، سلام کیا، اور کہا:
تمہاری قوم نے تمہیں جو جواب دیا ہے،اللہ نے وہ سب کچھ سن لیا ہے،میں پہاڑوں کا ناظم الامور ہوں،اللہ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے،ان لوگوں کو جو سزا بھی آپ دینا چاہیں، بے تکلف مجھ سے کہہ سکتے ہیں۔ اگر آپ کہیں تو ان دونوں پہاڑوں کو، جن کے درمیان یہ لوگ رہتے ہیں، آپس میں ملادوں،یہ سب لوگ بالکل پس کر رہ جائیں گے !
آپ نے فرمایا: ( بل أرجو أن یخرج اللّٰہ من أصلابہم من یعبد اللہ وحدہ لایشرک بہ شیئا)
(نہیں، نہیں، انہیں نیست ونابود نہیں کرنا ہے،مجھے امید ہے اللہ ان سے ایسی نسلیں پیدا کرے گا، جو خالص اللہ کی عبادت کریں گی،اس کا کوئی شریک نہیں ٹھہرائیں گی۔) (متفق علیہ)
مہرو محبت جس کی شان ! صلی اللہ علیہ وسلم
مہر و محبت جس کی شان! صلی اللہ علیہ وسلم
قرن الثعالب ،جہاں یہ واقعہ پیش آیا، اسے قرن المنازل بھی کہتے ہیں،یہی اہل طائف کی میقات ہے،جہاں سے انہیں حج وعمرہ کے لیے احرام باندھناہوتا ہے،پیدل چلنے والے کے لیے یہاں سے مکہ ایک دن رات کی مسافت پر ہے۔
(۲)
داعی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عالی ظرفی، اور یہی شان کریمی اس وقت بھی نظر آتی ہے، جب غزو�ۂ احد میں دشمنان اسلام نے آپ کے دندان مبارک شہید کردیے،اورسر مبارک کو بری طرح زخمی کردیا،یہاں تک کہ سر مبارک سے سرخ سرخ خون کے فوارے جاری ہوگئے!
حضرت سہل بن سعد الساعدی کا بیان ہے ، کہ جاں نثاروں نے عرض کیا: اللہ کے رسول ان ظالموں کے لیے بد دعا کردیجیے، اسی وقت دست مبارک دعا کے لیے اٹھ گئے، اور آپ کی زبان مبارک سے یہ درد بھرے ، اور شفقت آمیزالفاظ سنے گئے:
(اللہم أغفر لقومی فانہم لا یعلمون۔ ملاحظہ ہو :الشریعۃ۔ امام آجری۔۳۔ ۱۴۸۱)
(خدایا ! میری قوم کو معاف کردے، یہ لوگ جانتے نہیں ہیں!)
(۳)
رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی بہی خواہی اوریہی دلسوزی وبے قراری اس وقت بھی نظر آتی ہے،جب سنہ ۶ہجری میں آپ عمرے کی غرض سے مکے کی طرف روانہ ہوئے ،ساتھ میں چودہ سو جاں نثاروں کا قافلہ تھا، مکے میں قریش کو اس کی اطلاع پہنچ گئی،اور وہ مقابلے کی تیاریوں میں لگ گئے۔
انہوں نے باہم قسمیں کھائیں،کہ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو کسی قیمت پرمکے میں داخل ہونے نہیں دیں گے۔
انہوں نے کراع الغمیم میں،جومکے کے قریب ہی، مدینے کے راستے میں ایک مقام ہے، وہاں خالد بن ولید کو، جو اس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے، ایک چھاپہ مار دستے کے ساتھ بھیج دیا،کہ وہ مسلمانوں کی گھات میں بیٹھ جائیں،اور موقع پاتے ہی اچانک ان پر شب خوں مار کے سب کا کام تمام کردیں۔
رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کواس کی اطلاع ہو گئی،یہ اطلاع ملی تو آپ نے نہایت درد کے ساتھ فرمایا:
افسوس ہے قریش پر!آئے دن کی جنگ انہیں کھا گئی !
ان کا کیا نقصان تھااگر وہ ہمیں عرب کے دوسرے قبیلوں پر چھوڑ دیتے،اگر وہ ہمیں مغلوب کرلیتے، تو ان کی منشا پوری ہوجاتی،اور اگر اللہ تعالی ہمیں ان پر غالب کردیتا،تو وہ اسلام میں داخل ہوجاتے،اور ان کے سارے بھائی بند محفوظ رہتے !
اور اگر وہ اس کے بعد بھی اسلام میں داخل نہ ہونا چاہتے، تو وہ جنگ کرتے، اس حال میں کہ ان کی قوت پوری کی پوری محفوظ ہوتی!
قریش سمجھتے کیا ہیں؟اللہ کی قسم ! میرے رب نے مجھے جو دین دے کر بھیجا ہے، میں اس کی راہ میں جان لڑاتا رہوں گا، یہاں تک کہ وہ سب پر غالب آجائے، یا یہ گردن اسی راہ میں کٹ جائے!
آپ نے مزید فرمایا: آج قریش صلح و مصالحت کے لیے جوبھی تجویز رکھیں گے،اور اس سلسلے میں مجھ سے صلہ رجمی اور رواداری کی جو بھی درخواست کریں گے، میں اسے ضرور منظور کرلوں گا۔
( لا تدعونی قریش الیوم الی خطۃ یسألوننی فیہا صلۃ الرحم الا أعطیتہم ایاھا) (سیرت ابن ہشام: ۲۔۔ ۳۱۰)
پھر آپ نے ساتھیوں سے فرمایا: تم میں کون ہے جو ہمیں کسی ایسے راستے سے لے چلے، کہ قریش سے ہماری مڈبھیڑنہ ہو ؟
اس طرح آپ نے وہیں سے اپنا راستہ بدل دیا،جس سے قریش کا وہ خطرناک منصوبہ پورے طور سے خاک میں مل گیا!
آپ کے جاں نثاروں نے کمیں گاہوں میں بیٹھے ہوئے کچھ چھاپہ مار وں کو بھی اپنے قابو میں کرلیا،اور ان سب کو خدمت رسالت میں حاضرکر دیا!
رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اگر چاہتے،تو ان سب کی بوٹیاں کٹوادیتے، مگر آپ نے ان سب کو معاف کردیا، ان سب کے ساتھ نہایت فراخ دلی، عالی ظرفی اورمحبت کا برتاؤ کیا۔
رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت طاقتور پوزیشن میں تھے، چاہتے توبزور بازومکے میں داخل ہوجاتے،مسلمان اس وقت مکے میں داخل ہونے کے لیے بے چین تھے، اور اس مقصد کے لیے ہر پہاڑ سے ٹکرانے کے لیے تیار تھے، بس آپ کے ایک اشارے کی دیر تھی۔
اگر آپ مکے میں داخل ہونے کا فیصلہ کرلیتے ، تو اس وقت قریش کے اندر اتنا بل بوتانہ تھا،کہ وہ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو مکے میں داخل ہونے سے روک سکتے،مگرآپ کی شفقت و محبت اور شان کریمی نے پسند نہ کیا، کہ اس کے لیے خوں ریزی کی نوبت آئے۔
قریش نے کہا: آپ اور آپ کے تمام ساتھی اس سال واپس جائیں،اور آیندہ سال پھر سے آئیں!
آپ نے طاقتور پوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی قریش کی یہ تجویز منظور کرلی،جو سرتاسر جاہلی نخوت کا نتیجہ تھی،اس طرح آپ نے کتنوں کی جان بچالی،نہ صرف ان کی جان بچائی، بلکہ انہیں جہنم کی آگ سے بھی بچالیا ! اس لیے کہ بعد میں تقریبا وہ سارے لوگ اسلام کے دامن میں آگئے، اور آپ کے جاں نثاروں میں شامل ہوگئے۔
رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی محبت اور دلسوزی کی زندگی تھی، یہ محبت ودلسوزی دوستوں کے لیے بھی تھی، دشمنوں کے لیے بھی تھی۔
جن دشمنوں نے آپ کے راستے میں کانٹے بچھائے،اور راہ چلتے ہوئے اپنی چھتوں سے آپ کے اوپر کوڑے پھینکے،ان کے لیے بھی قلب مبارک میں کبھی نفرت نہ آئی،جب کبھی ان کے بیمار ہونے کی اطلاع ملی، آپ نے ان کے گھروں پر جاکر ان کی مزاج پرسی کی،اور ان کی صحت وتندرستی کے لیے دعا کی۔
(۴)
ہجرت مدینہ سے پہلے چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا، کہ مکے کے کسی گوشے میں ایک بڑھیااپنا بوجھ اٹھا رہی ہے، اور اٹھانہیں پارہی ہے، رحمت عالم کی اس پر نظر پڑ جاتی ہے، آپ آگے بڑھ کر اس کا بوجھ اٹھا لیتے ہیں،اور اس بڑھیا کے ساتھ ساتھ اس کے گھر کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں!
وہ بڑھیا آپ کو پہچانتی نہیں ہے،نہ آپ اسے پہچانتے ہیں۔وہ راستے بھرمحمد کو برا بھلا کہتی جاتی ہے، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کا بوجھ اٹھائے ہوئے خاموشی سے اس کے پیچھے پیچھے چل رہے ہیں،یہاں تک کہ اس کا گھر آجاتا ہے،اور اس کا بوجھ اس کے گھررکھ کر آپ واپس ہونے لگتے ہیں۔
وہ بڑھیاآپ کی اس خدمت اور حسن اخلاق سے کافی متأثر ہوتی ہے،وہ آپ کو دعائیں دیتی ہے،اور آپ سے آپ کا نام پوچھتی ہے۔
شروع میں آپ ٹالتے ہیں، مگر جب وہ اصرار کرتی ہے، تو فرماتے ہیں: اماں! میرا نام محمد ہے!
محمد نام سن کر اس بڑھیاکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں: بیٹا! معاف کرنا، میں تمہیں پہچانتی نہیں تھی، تم تو بہت اچھے آدمی ہو، لوگ تمہیں ایسا ویسا کیوں کہتے ہیں؟!
رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفارومشرکین کے ہاتھوں کتنی تکلیفیں جھیلیں، کتنی اذیتیں سہیں ! ایک دو سال نہیں،برسہا برس تک جھیلیں ! آپ کے اور آپ کے جاں نثاروں کے خلاف انہوں نے ایسی ایسی چالیں چلیں،کہ اگر پہاڑ بھی ان کے نشانے پر ہوتے تو وہ اپنی جگہ برقرار نہ رہتے! اللہ تعالی نے اپنی پاک کتاب میں اس سنگین صورت حال کو اس طرح بیان فرمایا ہے:
(وَقَدْ مَکَرُواْ مَکْرَہُمْ وَعِندَ اللّہِ مَکْرُہُمْ وَإِن کَانَ مَکْرُہُمْ لِتَزُولَ مِنْہُ الْجِبَال۔۔ سورہ ابراہیم : ۴۶ )
(انہوں نے وہ تمام چالیں چلیں جو وہ چل سکتے تھے،اور اللہ کے ہاں ان کی ساری چالیں درج ہیں،بلاشبہہ ان کی چالیں ایسی تھیں کہ پہاڑ بھی اپنی جگہ چھوڑ دیتے !)
(۵)
کفارو مشرکین نے رحمت عالم اور آپ کے جاں نثاروں کے ساتھ جو کچھ کیا،وہ یقیناًدشمنی اور بدسلوکی کی انتہاتھی،لیکن یہاں دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ جب چند سالوں کے بعدہوا کا رخ بدل گیا،باطل کا جھنڈاسرنگوں ہوگیا،کفارومشرکین کی طاقت پارہ پارہ ہوگئی،اور رحمت عالم اپنی فوج ظفر موج کے ساتھ مکے میں داخل ہوگئے، تو اس وقت رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان وحشی اوربے رحم دشمنوں کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟
آپ نے کعبے کوتمام بتوں سے پاک کیا،اس میں جوتصویریں بنی ہوئی تھیں، ان تصویروں کو ایک ایک کرکے مٹایا،اس کی دھلائی صفائی کرائی،اس میں دوگانہ شکرانہ ادا کیا،اور اپنے رب کی حمدوتسبیح، اورتہلیل وتکبیر کی،کعبے کے باہرقریش کا مجمع اکٹھاتھا،آپ کعبے کی دہلیز پر کھڑے ہوئے، اور قریش سے پوچھا، اس وقت آپ کی آواز میں بڑا جلال تھا !
تمہارا کیا خیال ہے ؟ بتاؤآج میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں گا ؟
(نہایت اچھا سلوک! آپ اچھے بھائی ہیں! اچھے بھائی کے بیٹے ہیں ! )سب نے بیک آواز رحمت عالم کی رحمت وشفقت کا اعتراف کیا !
آپ نے فرمایا: آج میں تمہارے ساتھ وہی سلوک کروں گا، جو میرے بھائی حضرت یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں کے ساتھ کیا تھا !
جاؤ، تم سب کو معاف کیا جاتا ہے! آج تم سے کوئی انتقام نہیں لیا جائے گا !
یہ وہ دشمن تھے جن کے جرائم کی فہرست بہت طویل تھی،اور وہ تمام ہی جرائم انتہائی سنگین تھے!
یہ وہ دشمن تھے جوکسی بھی قانون کی رو سے معافی کے مستحق نہ تھے، مگر اس پیکررحمت وشفقت کا دل ہرایک کے اندازے ، اور ہر ایک کے تصور سے زیادہ کشادہ تھا !
اس کے اندر ساری انسانیت کا درد تھا !اس کے اندردوست دشمن ،ہر ایک کے لیے محبت ودلسوزی کا دریا موج زن تھا !
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا! مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا!
چنانچہ جو لوگ آپ کی جان کے دشمن تھے،ان سب کی آپ نے جاں بخشی کی! جن لوگوں نے آپ کی عزت تار تار کرنے کی کوشش کی تھی، ان سب کو آپ نے عزت کی قبا پہنائی !
اللہ رے وسعت ! ترے دامان کرم کی
اس بحر کا ملتا نہیں ڈھونڈے سے کنارہ !

ڈاکٹر محمد عنایت اللہ اسد سبحانی
(جاری)

About Admin Rafeeq

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*