بنیادی صفحہ / تجزیہ ۔ بین الاقوامی / مولانا مودودیؒ کا آخری سفر

مولانا مودودیؒ کا آخری سفر

زیرنظر کتاب تحریک اسلامی ہند کے بانی مولانا مودودی علیہ الرحمۃ کی رحلت سے متعلق گفتگو کرتی ہے۔ مولانا مودودی علیہ الرحمۃ کا انتقال ۲۲؍ستمبر ۱۹۷۹ ؁ء کو امریکہ میں ہوا، مولانا مئی ۱۹۷۹ ؁ء کے اواخرمیں بغرض علاج امریکہ تشریف لے گئے، وہاں آپ کا آپریشن ہوا، اس کے بعد آپ کی حالت مزید نازک ہوگئی، چند دن کے بعد دل کا دورہ پڑا، اور اس کے کچھ گھنٹوں بعد آپ مالک حقیقی سے جاملے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ مصنف کتاب انتظارنعیم مولانا مودودیؒ کے جنازہ میں شریک رہے، آپ نے اس وقت کا آنکھوں دیکھا حال قلمبند کیا ہے، تاکہ دیگر تمام حضرات جو اس وقت موجود نہیں تھے، وہ اس کتاب کی زبانی وہاں کے حالات سے واقفیت حاصل کرسکیں، بہرحال مولانا مودودیؒ کا انتقال نہ صرف برصغیرہند بلکہ پورے عالم اسلام کے لیے ایک اندوہناک سانحہ تھا۔ مصنف کتاب بیان کرتے ہیں کہ ’’مولانا کے جانے سے ایک ایسا خلا پیدا ہوا، جو آج تک نہ پر ہوسکا، پاکستان میں کوئی بھی ایسا شخص نہ تھا جس کی آنکھیں مولانا کی موت سے اشکبار نہ ہوئی ہوں۔ نماز جنازہ میں شریک ہونے کے لیے عالم اسلام سے بہت سے لوگ تشریف لائے، ہندوستان سے جماعت اسلامی ہند کی طرف سے بھی تین وفد مولانا کی نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔ جس میں مصنف کتاب کو بھی شریک ہونے کی سعادت نصیب ہوئی‘‘۔ مصنف نے پاکستان سے واپسی پر جو کچھ وہاں دیکھا، اور محسوس کیا تھا، اس کو مختلف عناوین کے تحت ’دعوت‘ اخبار میں قسط وار شائع کیا، اور بعد میں اس کو کتابی شکل دی۔ مولانا کے جنازے میں شرکت کے بعد مصنف کو اپنے احساسات وجذبات قلمبند کرنے کی ضرورت اس لیے بھی پیش آئی کہ مولانا کی زندگی سراپا دعوت دین کا نمونہ تھی، اور یہی وجہ تھی کہ مولانا جہاں بھی جاتے لوگ ان کے گرویدہ ہوجاتے، اور یہی وجہ ہے کہ ان کی نماز جنازہ میں لاکھوں افراد شریک ہوئے، اور کئی مرتبہ ان کی نماز جنازہ پڑھی گئی، اور اس کے علاوہ مختلف ملکوں اور شہروں میں ان کی غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی۔ یقیناًہمیں بھی ان کی طرح اپنے اندر اوصاف حمیدہ پیدا کرنے چاہئیں اور ان کے مشن کو دل وجاں سے آگے بڑھانے کی تگ ودو کرنی چاہئے۔ اللہ تعالی مصنف کتاب کو اس اچھی کاوش پر اجر عظیم عطا کرے، آمین
گفتگو کردار کی
مصنف: انتظار نعیم
صفحات: ۱۰۴؍
اشاعت: ۲۰۱۳ ؁ء
قیمت: ۵۵؍روپے
ناشر: مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی۔ ۲۵
معروف ادیب انتظار نعیم کی یہ کتاب ’گفتگو کردار کی‘ کوئی مستقل کتاب نہیں بلکہ موصوف کی تقاریر کا مجموعہ ہے، جو آپ نے مختلف اوقات میں آل انڈیا ریڈیو پر پیش کی تھیں، یہ تقاریر آل انڈیا ریڈیو کی اردو مجالس کے پروگرام’حرف تابندہ‘ میں پیش کی گئی تھیں۔ موصوف گزشتہ پندرہ سالوں سے ریڈیو پر تقاریر پیش کرتے آرہے ہیں، گرچہ ان میں سے بہت سی تقاریر محفوظ نہ رہ سکیں، البتہ جو محفوظ رہیں، ان کو موصوف نے کتابی شکل دی ہے، تاکہ استفادہ عام ہو۔
موصوف نے اپنی تقاریر میں اس بات کا بھرپور لحاظ رکھا کہ گفتگو عام اور آسان زبان میں ہو، تاکہ ہر خاص وعام اس کو بخوبی سمجھ سکے، اور اس کی روشنی میں اپنا لائحہ عمل طے کرسکے، اس کے علاوہ موصوف نے اس بات پر بھی توجہ دی ہے کہ سماج کے سامنے اس کی موجودہ مشکلات اور مسائل پیش کرکے، اس کو ان کے حل کی جانب متوجہ کیا جائے، اور تقاریر سننے اور اس کتاب کو پڑھنے والے ایک ایک فرد کو خود غوروفکر کرنے، اور سماج کی تعمیر میں اپنا رول ادا کرنے پر آمادہ کیا جائے۔
اس کتاب میں موصوف نے مختلف عناوین کے تحت تقاریر اکٹھا کی ہیں، جن میں ’سماج اور ہماری ذمہ داری‘، ’بہتر سماج کی طرف‘، ’عظمت نسواں‘، ’عورت کا جہاں بدلے‘، ’حقوق انسانی‘ ، ’امن عالم کا پیام‘، ’خدمت خلق ‘ وغیرہ اہم اور نمایاں ہیں۔ موصوف ’سماج اور ہماری ذمہ داری‘ کے تحت فرماتے ہیں کہ ’’کسی بھی سماج کے لیے بے علم اور جاہل لوگوں کی بھیڑ اس پر سب سے بڑا بوجھ ہوتی ہے، علم کے بغیر آدمی خود بھی اندھیرے میں رہتا ہے، اور بہت سے بے علم لوگ مل کر سوسائٹی میں پھیلے ہوئے جہل کے اندھیرے کو اور بھی بڑھادیتے ہیں، علم کے بغیر عام طور پر لوگ آداب، سلیقہ، اور اعلی اخلاق وکردار سے محروم رہتے ہیں، اس لیے وہ خود اپنے لیے بھی بوجھ بنے رہتے ہیں، اور سماج کی پریشانیوں میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔ چنانچہ ہم کو زندگی کے جس مرحلے میں بھی علم سیکھنے کا موقع ملے، اس کو غنیمت سمجھنا چاہئے، اور اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے‘‘۔
موصوف نے اپنی اس بات کو سادگی سے سمجھانے پر ہی اکتفاء نہیں کیا، بلکہ حسین وجمیل مثالوں سے بھی کام لیا ہے، تاکہ قاری کے ذہن میں یہ چیزیں ثبت ہوجائیں، اور اس کے اثرات مفید اور دیرپا رہیں، امید کہ شائقین اس سے بھرپوراستفادہ کریں گے۔
الموعظۃ الحسنۃ
مصنف: حسن البنا شہیدؒ
مرتب ومترجم: ضمیرالحسن خاں فلاحی
صفحات:۱۹۲؍
اشاعت: ۲۰۱۳ ؁ء
قیمت: ۱۵۰؍روپے
ناشر: چنار پبلی کیشنز، سری نگر، جموں وکشمیر
یہ کتاب بیسویں صدی کے عظیم اسلامی رہنما ، داعی دین، اور اسلامی انقلاب کے نقیب امام حسن البنا شہیدؒ کے خطبات کا مجموعہ ہے۔ ان منتشر دروس کی تحریروں کو جمعہ امین عبدالعزیز نے ’خواطرمیں وحی القرآن‘ کے نام سے کتابی شکل میں مرتب کیا تھا، جس کا اردو ترجمہ مع ترتیب جدید جناب ضمیرالحسن خاں فلاحی نے ’الموعظۃ الحسنۃ‘ کے نام سے کیا ہے۔
امام حسن البنا شہید ؒ کی شخصیت محتاج تعارف نہیں، آپ بیسویں صدی کے عظیم اسلامی رہنماؤں میں سرفہرست ہیں۔ آپ نے بہت ہی قلیل عمر پائی، اور ۴۵؍سال کی عمر میں جام شہادت نوش فرماگئے، لیکن اس مختصر عرصۂ حیات میں آپ نے ایسے کارہائے نمایاں انجام دیئے، جن کو دنیا آج تک یاد رکھتی ہے۔ آپ نے اقامت دین کے مشن میں ایک نئی روح پھونک دی، اور اس کے لیے ۱۹۲۸ ؁ء میں ایک منظم تحریک ’الاخوان المسلمون‘ کی تاسیس کی۔ آپ اس تحریک میں شمولیت اختیار کرنے والے افراد کی رہنمائی، اور روحانی وفکری تربیت کے لیے دلوں کو جھنجوڑنے والے مختصر دروس قرآن دیا کرتے تھے، یہ کتاب انہیں میں سے بعض دروس کے اردوتراجم پر مشتمل ہے۔ امام حسن البنا شہیدؒ کے یہ دروس مختلف عناوین پر مشتمل ہیں، جن میں دعوتِ توحید، خوف خدا ایمان کا تقاضا، وحدت دین کا قرآنی تصور، دین کے راستے میں قربانی، مال ایک عظیم فتنہ، منافقین کے اخلاق، زندہ امت اور اس کے فرائض، پردہ اور قرآن، افضل ترین عمل، اللہ کے راستے سے روکنے کا مطلب، قمری سال کی تقویم اور اس کی حکمت، مجاہدین اور قائدین، اور تربیت کا نرالا انداز وغیرہ خصوصی توجہ کے لائق ہیں۔
امام حسن البناؒ دین کے راستے میں قربانی کے عنوان سے فرماتے ہیں کہ’’ایمان کے لیے اطاعت کی وہی حیثیت ہے، جو چراغ کے لیے تیل اور نبات کے لیے پانی کی ہوتی ہے، اگر تیل کے بغیر چراغ نہیں جل سکتا، اور پانی کے بغیر نباتات نہیں اُگ سکتے، تو اطاعت کے بنا پودۂ ایمان بھی پھل نہیں لاسکتا۔ معصیت و عدم اطاعت زہر قاتل اور ایسی تاریکی ہے جو نور قلب کو تیرہ وتاریک بنادیتی ہے، انشراح صدر اور نورِ ایماں کو ختم کردیتی ہے۔ بندہ اطاعت کے ذریعہ رب سے اتنا قریب ہوجاتا ہے کہ اسے اس سے محبت ہوجاتی ہے‘‘۔ ’’اللہ کے راستے سے روکنے کا مطلب‘‘کے تحت امام شہیدؒ فرماتے ہیں کہ ’’عصر حاضر میں صہیونیت کا ارض مقدس پر قبضہ بھی اسی طرح کی کوشش ہے، جس کا مقصد امت اسلام کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا، ان کے روابط کو کمزور کرنا، اور ان کے پسماندہ طبقات کو مال کا لالچ دینا ہے‘‘۔ ’’پردہ اور قرآن‘‘ کے عنوان سے فرماتے ہیں کہ ’’عزیز بھائیو! پھر یہ بھی سوچو کہ محارم پر نظر ڈالنے سے تمہیں کیا ملے گا، معصیت کے ارتکاب سے تمہارا کیا فائدہ ہوگا، یاد رکھو! اس سے تمہارا کچھ بھی بھلا ہونے والا نہیں، اس کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ جو چیز تمہارے ہاتھ آئے گی، وہ ذہنی پراگندگی، نفسانی خلجان، مالی نقصان، عزت وشرافت کا زوال، صحت وتندرستی کی بربادی، اور اس کے علاوہ طرح طرح کی بیماریاں جن کا علاج ومعالجہ بھی تمہارے امکان وبس میں نہ ہوگا‘‘۔
ان دروس کی جمع وترتیب کا مقصد بقول مرتب افراد امت کی تربیت اور ان کے جذبہ ایمانی کو مہمیز دینا ہے، اسی طرح امام شہیدؒ کے نزدیک بھی ان دروس کا مقصد تربیت رجال ہے، نہ کہ تصنیف کتاب۔ اس کتاب کے مطالعہ کے دوران ان دونوں باتوں کا سامنے رہنا از حد ضروری ہے، امام ؒ نے دروس کو آسان بنانے کے لیے جو طریقہ تفسیر اختیار کیا، وہ یہ ہے:
مشکل الفاظ کے معانی سے بحث، معانی کی وضاحت کے لیے عبارت کو سہل بنانے کی کوشش، قصص وواقعات کو وہیں چھیڑا جہاں ضرورت ہو، قرآن کو مسائل زندگی سے مربوط کیا، اسباب نزول کا آیات سے ربط، عبرت وموعظت کے سبق کو نمایاں کیا، اختلافی امور میں جادہ اعتدال پر قائم رہنے کی کوشش کی، مفسرین کی بعض ان لغزشوں کا ذکر کیا، جو شکوک وشبہات کا دروازہ کھولتی ہیں۔
الغرض کتاب ایک شاندار پیشکش ہے، طباعت دیدہ زیب ہے۔ طلبہ ونوجوانوں کے لیے بہترین تحفہ ہے، تربیت کے سلسلے میں اس کے اندر بہت ہی اہم اور رہنما خطوط پائے جاتے ہیں۔
مبصر: عبدالرب، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

اسلام دین فطرت ہے

کونسلنگ کے لیے اک ہندو لڑکا مجھ سے کچھ دنوں سے فون ...