بنیادی صفحہ / نظر / ممبئی میں طلبائی الیکشن

ممبئی میں طلبائی الیکشن

اکھیل اوکا

جب کہ ایک پرجوش مہم کی سرگرمیاں زوروں پر تھیں اسی درمیان اکتوبر ۱۹۸۹ء میں ممبئی کالج کے احاطہ سے باہر ایک طالب علم کا بے دردی اور سفاکی سے قتل کردیا گیا۔ اس واقعہ نے پورے ملک میں ایک سنسنی پیداکردی کیوں کہ مقتول NSUIکا ضلع صدر تھا ۔اس کربناک حادثہ کی وجہ سیاسی مسابقت سمجھی جارہی تھی ۔ اس واقعہ نے اسٹوڈنٹ الیکشن سے متعلق چند نئے سوالات کو جنم دیا۔ چند سالوں کے اندر صوبہ مہاراشٹر میں اسٹوڈنٹ الیکشن بین کردیے گئے۔ مہاراشٹر یونیورسٹی ایکٹ ۱۹۹۴ء کے ذریعہ الیکشن کے بجائے ذمہ داران کی نامزدگی کا طریقہ رائج کیاگیا۔اس اہم فیصلے کی کئی اور وجوہات بھی تھیں جن میں ایک اہم وجہ طلبہ کا موجودہ سیاسی منظرنامہ میں اپنی جگہ اور مقام پیداکرلینا بھی تھا۔

دوسری اہم وجہ عروس البلاد کا معاشی ڈھانچہ تھا جوکہ بتدریج آزاد معاشی اصلاح پر مبنی افکار سے متاثر ہورہاتھا۔ جس کے باعث لوگوں کامزاج تجارت اور اس پر ملنے والے فائدہ کی طرف راغب ہورہاتھا۔ علاقائی پارٹی اور کانگریس کی عام افراد اور طلبہ پر گرفت کمزور ہوتی چلی گئی۔ طلبہ اور یونین الیکشن کی طرف بھی رجحانات میں کمی آنے لگی۔

اس حالت میں پوری دو دہائیاں گزر گئیں۔ ایک پوری نسل بالکل مختلف ماحول میں پروان چڑھ چکی ہے۔ جس کے ذہن میں اجتماعی جد و جہد کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اس نسل کو جس تعلیمی ڈھانچہ سے سابقہ در پیش ہے اس میں اسکول سے لے کر اعلی تعلیم تک پیشہ وارانہ تعلیم کی جانب راغب کیاجاتاہے۔ مہاراشٹر کے اندر ایسے کوچنگ سینٹرس اور انجینئرنگ کالجوں کی ایک کھیپ ہے جو سیاست دانوں کی سرپرستی میں طلبہ کو پروفیشنل تعلیم کی راہ دکھارہے ہیں۔ کامرس بھی بہت سے طلبہ کی دلچسپی کا موضوع ہے۔ البتہ آرٹس اور ہیومینیٹیزکے مضامین کی طرف نظر التفات ڈالنے والے طلبہ کی تعداد خاصی کم ہے۔یہ اس واقعہ کا ثبوت ہے کہ طلبہ اور مسائل حیات کے درمیان بتدریج فاصلہ بڑھتاجارہاہے۔ طلبہ کی بڑی تعداد کی نظر اس بات پر ہوتی ہے کہ کون سا کورس انہیں جلد ادارہ یا یونیورسٹی سے رخصت دے کر کمانے کے لائق بنادے گا۔ اسی لیے بہت سے ہونہار طلبہ بھی ان سماجی حقائق سے بے خبر ہوتے ہیں جو کہ ان کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں۔

ممبئی یونیورسٹی میں الیکشن

بحیثیت طالب علم مجھے اس حقیقت سے شناسائی کا موقع ملا جب کہ دوران طالب علمی مجھے چند سال ممبئی یونیورسٹی سے استفادہ کا نادر موقع ملا۔ یہاں تجربہ ہوا کہ اسٹوڈنٹ الیکشن کا نہ ہونا کس طرح پورے نظام کو متاثر کرتاہے۔ خاص طور سے ستمبر ۲۰۱۵ء سے اگست ۲۰۱۶ء کا عرصہ شعبہ علم شہریت اور سیاست میں گزرا۔ جس کے بارے میں عام خیال ہے کہ یہاں کا ماحول بحث برائے تفہیم مکالمات، ڈبیٹ کے لیے ساز گار ہوگا۔ یہ بھی سمجھا جاتاہے کہ اس شعبے کے طلبہ زیادہ فعال اور سماجی مسائل کا درد اپنے دل میں رکھتے ہوں گے۔لیکن اصل حقیقت اس سے بہت کچھ مختلف ہے۔ یہاں بہت سے مفید کورسس کاغذ کی زینت بنے ہوئے تھے اور طلبہ تک ان کی رسائی نہیں تھی۔ ڈپارٹمنٹ میں کوئی ایسا نظام نہیں تھا جس کے ذریعہ طلبہ اپنی شکایات، گزارشات اور مشورے درج کراسکیں۔وہاں کوئی ایسا فورم بھی نہیں تھا جس کے ذریعہ پروفیسرصاحبان کی جوابدہی یقینی بنائی جاسکے۔ بلکہ یہ بھی محال تھا کہ اساتذہ سے متعلقہ لیکچرس، مواد کے معیار ، اسباق سے متعلق کوئی سوال کیاجاسکے۔ وہاں کوئی ایسا مطبع (Publishing house) نہیں تھا جو کہ طلبہ کے احساسات کی ترجمانی کرتاہو۔ مزید یہ کہ (Student Grievances Redressal Committee)اور دیگر کمیٹیاں مہاراشٹر پبلک یونین ایکٹ کابل پیش ہونے تک غیر فعال کردی گئی تھیں۔

ان دگرگوں حالات میں راقم السطور سمیت چند دیگر طلبہ نے ادارہ (یونیورسٹی اور ڈپارٹمنٹ) کی صورت حال میں تبدیلی لانے کی غرض سے کوششوں کا آغاز کیا۔ ہمارا احساس تھاکہ معیار تعلیم درس و تدریس طلباء کے مسائل کی سماعت وغیرہ مسائل کا حل تلاش کیاجائے۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ تھی کہ وہاں کوئی ایسا مکانزم موجود نہ تھا جہاں ہم اپنی شکایت یا مطالبات درج کراتے۔ اس لیے ہمیں تمام ان افراد تک یہ اپیل پہنچانی پڑی جوکہ کچھ کرنے کی پوزیشن میں تھے لیکن وہ سب پہلے ہی کسی نہ کسی عہد کے پابند تھے۔ اس لیے چاہتے ہوئے بھی کچھ نہ کرسکتے تھے۔
حالت یہ ہے کہ اب طلباء اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یونیورسٹی کے ہر عہدہ دار کی غیر مشروط اطاعت کریں۔ چاہے وہ غلط راہ پر ہی کیوں نہ ہو۔ خاص طور سے پروفیسر کی کیوںکہ نمبرات کم ہوجانے کا ڈرانہیںا س رویہ پر ابھارتاہے۔ طلبہ اور پروفیسر صاحبان کے درمیان پیچیدہ تعلقات، ربط کی کمی اور تساہل وغیرہ بھی اس رویہ کی وجوہات ہیں ۔لیکن اصل وجہ یہ ہے کہ انہوں نے طلبہ کے ذریعہ کی جانے والی کسی جدوجہد میں حصہ نہیں لیا۔ کالج کی سطح پر کسی نمائندہ کا نہ ہونا یہ ظاہر کرتاہے کہ یہاں کے طلبہ سارے اختیارات کالج کے پروفیسر حضرات کے سپرد کرچکے ہیں اور وہ خود ناظرین کی صف میں شامل ہیں۔

موجودہ صورت حال اس ضرورت کا احساس دلاتی ہے کہ یونیورسٹی کی کوئی بھی پریشانی ان طلبہ کے ذریعہ حل کی جانی چاہیے جوکہ اپنے بل بوتے پر کچھ کرنے کا دم خم رکھتے ہوں۔ کیوں کہ یہاں ایک معمولی سی اصلاح مثلاً طلبہ سے ان کے احساسات معلوم کرنے کا میکانزم تشکیل دینا بھی ایک خطرناک مخالفت کی وجہ بن جاتی ہے۔

دوسری طرف چند یونیورسٹیاں ایسی بھی ہیں جو کہ اپنے پہلو میں طلباء کی عملی تربیت کا وافر سامان رکھتی ہیں۔ ان کے ہاں فعال یونین بھی ہے جو کہ تعلیم اور طلباء کے اہم مسائل کو حل کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ اس ضمن میں جواہر لال نہرویونیورسٹی قابل ذکر ہے۔مثال کے طور پریونیورسٹی گرانٹ کمیشن کی جانب سے جاری کردہ رہنما خطوط تمام تعلیمی اداروں میں ریگنگ، جنسی زیادتی اور دیگر شکایات کی سماعت کے سلسلے میں نشانات راہ کی وضاحت کرتے ہیں اس کے تحت ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تمام اہم پبلک مقامات جیسے کینٹین، نوٹس بورڈ وغیرہ پر ہیلپ لائن نمبر چسپاں کردیے جاتے تاہم یونیورسٹی کی سطح پر ان ہدیایات کا کوئی لحاظ نہیں رکھاگیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ طلبہ جنہیں ان حالات سے دوچار ہونا پڑتاہے وہ اس سے بھی ناواقف ہوتے ہیں کہ انہیں اس موقع پر کیا سہارا ڈھونڈنا چاہیے اور ان کے کیا حقوق ہیں۔ اب اگر ہم اپنے مطالبات پر دوبارہ نگاہ ڈالیں جو کہ طلباء کی شکایات کی سماعت کے نظام معیار تعلیم و تدریس میں بہتری وغیرہ سے متعلق ہیں ۔مشاہدہ یہ بتاتاہے کہ طلباء کے مؤثر تحریک اس حالت کو بدلنے میں معاون ثابت ہوتی۔ ملک کے طول و عرض میں طلبہ کے ذریعہ کی جانے والی جد وجہد نے ہمیں یہ احساس دلایا کہ ہم اپنے حقوق و اختیارات کو پہچاننے میں کس حد تک پچھڑے ہوئے ہیں۔

ہندوستان میں اسٹوڈنٹ یونین الیکشن

وطن عزیز میں ایک عرصہ سے طلبہ کے انتخابات کا عمل یونیورسٹیوں کے احاطے میں جاری ہے۔ مین اسٹریم سیاست میں شرکت اس ابتدائی مشق کا اہم مقصد تصور کیاجاتارہاہے۔ ایک زمانے میں طلباء تحریکوں نے ملک کی سیاست کو راست طور سے متاثر کیا ہے۔ مثلاً جے پرکاش نارائن موومنٹ نے اندراگاندھی کے ذریعہ لگائی گئی ایمر جنسی کے خلاف اہم محاذ قائم کیاتھا۔بہار سے ایک پوری نسل کے قد آور سیاسی رہ نما ئوں جن میں موجودہ کابینی وزیر روی شنکر پرشاد اور بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار بھی شامل ہیں جو کہ پٹنہ یونیورسٹی کے طلبائی انتخابات میں اپنی سیاسی پہچان بناچکے تھے۔تاہم ۱۹۸۰ء تک آتے آتے یہ صورت حال بدلتی چلی گئی۔ ریاست مہاراشٹر کے علاوہ دیگر ریاستیں جیسے آندھرا پردیش ہریانہ مدھیہ پردیش کی یونیورسٹیوں میں طلبہ کی سیاسی تحریکوں کا زوال ہونے لگا اور ان کا رول کم ہوتاچلا گیا۔( انڈین اکسپریس۲۰۱۶ء )الیکشن کی جگہ ذمہ داریوں پر طلبہ نامزد کیے جانے لگے۔ یہ معاملہ پچھلے چند سالوں سے اہل حل و عقد کے درمیان موضوع بحث بن چکاہے۔

۲۰۰۵ء میں سپریم کورٹ (عدالت عظمیٰ) نے مرکزی حکومت کو متوجہ کیاتھا کہ وہ طلبائی انتخابات کے پورے مرحلے اور نشیب و فراز کو براہِ راست اپنی نگرانی میں دیکھے۔ اس کی شروعات الیکشن کی ضرورت اور افادیت پر زور دے کر کی جائے۔ اس امر کو یقینی بنایاجائے کہ طلبہ کی ایک معیاری نمائندگی یونیورسٹی کی سطح پر ممکن ہو۔

تب ایک کمیٹی جس کی صدارت سابق چیف الیکشن کمشنر جے ایم لِنگڈوہ تشکیل دی گئی۔جس میں محترمہ زویا حسن جیسی نامور اسکالر بھی شامل تھیں۔ یہ کمیٹی وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کے ذریعہ تشکیل دی گئی تھی۔ تاکہ طلبائی الیکشن کے سلسلے میں سفارشات پیش کی جاسکیں۔ جب کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی تو سپریم کورٹ نے اس کے نفاذ کوسبھی یونیورسٹیوں میں یقینی بنانے پر زور دیا۔ سفارشات میں چند اہم مسائل الیکشن کے بنیادی ڈھانچے ، مالی مسائل ،عمر کی حد بندی اور سیاسی سمجھ سے متعلق تھیں۔ کمیٹی کے مطابق طلبائی الیکشن کچھ یونیورسٹیوں کے مزاج کے پیش نظر نہایت ضروری ہیں۔ بعض یونیورسٹیوں میں انکا ممنوع کردیاجانا یا حوصلہ شکنی ہونا نظرثانی کا طالب ہے۔ کمیٹی نے اس خیال پر حامی بھری کے نامزدگی کے طریقہ میں ایک بیچ کا مرحلہ بھی ہوناچاہیے۔ انہوں نے اس کی پانچ سالہ حد مقرر کردی جس میں یاتو طلبا یونیورسٹی کی اعلی سطحی باڈی کا انتخاب کریں یا صدر کو نامزد کردیں۔ کمیٹی کی ان سفارشات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ میرٹ پر مبنی نامزدگی کا نظام بڑی حد تک غیر عملی تھا۔

دوسرا کام جو کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں انجام پایا وہ عمر کی حد کا تعین تھا یعنی زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم عمر کی حد کاتعین۔ یہ تفاوت ۲۱ سال سے ۲۸ سال تک کارکھاگیا۔علاوہ ازیں اس امر کو یقینی بنانے پر بھی زور دیاگیا کہ صرف یونیورسٹی کے ریگولر طلباء ہی الیکشن کے عمل میں حصہ لیں تاکہ الیکشن باہری عناصر کی در اندازی کے مضر اثرات سے محفوظ رہے۔

الیکشن کا پورا عمل ۱۰ دن کے اندر مکمل ہوجائے ۔ اس بات کی سفارش بھی کی گئی علاوہ ازیں کوئی بھی امیدوار۵۰۰۰ سے زیادہ خرچ نہ کرے۔ میٹنگ کے مقامات، پوسٹر آویزاں کرنے کا حلقہ، مہم کے اوقات وغیرہ پر یونیورسٹی انتظامیہ کا کنٹرول بنانے پر زور دیاگیا۔

تاہم ان سفارشات کا نفاذ اطمینان بخش نہیں رہا۔ ابتداء میں مختلف اسٹوڈنٹ یونین کی جانب سے سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ مثلاً جے این یو کی جانب سے انتظامیہ کے کنٹرول پر سوال کھڑاکیاگیا۔ بہت سے حلقوں کی طرف سے الیکشن کے خرچ سے متعلق قائم کی گئیں حدود پر سوالیہ نشان لگایا گیا۔ بعض حلقوں کی جانب سے کہاگیا کہ یہ حقیقت سے دور اور غیر فطری و غیر عقلی ہے ۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ کیونکہ بہت سی سیاسی پارٹیاں اپنے اسٹوڈنٹ ونگ بھی رکھتی ہیں جو کہ اسٹوڈنٹ الیکشن میں اہم کردار اداکرتی ہیں اس لیے باہری دخل اندازی کو روک پانا بہت مشکل ہے۔ اس کشمکش کے دوران بیشتر یونیورسٹیوں نے ایک عرصہ کے لیے اپنے الیکشن کے عمل کو موقوف کردیا۔ جبکہ چند یونیورسٹیوں جیسے جے این یو،ڈی یو اور یونیورسٹی آف حیدرآباد وغیرہ میں کچھ حدود کے اندر الیکشن کا عمل جاری رہا۔

مہاراشٹر حکومت کے فیصلے کو جو کہ اسٹوڈنٹ الیکشن کی اجازت دیتاہے، جس کا نفاذ ۱۸۔۲۰۱۷ء کی میعاد سے ہوگا ۔اس تناظر میں اس فیصلے نے ایک ہلچل پیداکردی ۔ایک طلباء کی باڈی مختلف سطحوں پر کام انجام دیتی ہے۔ یہ ایک فورم بھی ہوسکتاہے جو کہ ایک خاص قسم کی فکر کی وکالت کرے اور اسے یونیورسٹی کی سطح پر اور اس کے باہر کسی خاص ایشو کر حل کرتے ہوئے پیش کرے۔ ایسے کسی گروپ کے رکن ہونے پر ایک طالب علم اپنے اندر ناقدانہ نگاہ پیداکرتاہے جوکہ اسے سماجی حقائق سے آگاہی میں مدد دیتی ہے۔ مختلف ذات مذاہب اور لسانی پس منظر رکھنے والے طلباء سے ملاقات اور روابط کے ذریعہ غیر ضروری جھجھک اور دوری ختم ہوتی ہے۔ اور ایک خاص مقصد کے حصول کے لیے کاندھے سے کاندھا ملا کر چلنے کا جذبہ پروان چڑھتاہے۔ اسٹوڈنٹ باڈی طلباء اور پروفیسر صاحبان کے درمیان مفاہمت اور تعاون میں سازگار ثابت ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ طلبائی انتخابات جمہوری اقدارکے حصول کے لیے اور سماج کی بہتر نشونما اورجمہوری بنیادوں کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔

ایک ذمہ دار طالب علم اپنے آپ ہی پروفیسر ، انتظامیہ کی طرف سے دی گئی ذمہ داری اور بالآخر پورے ملک کا بار اپنے کاندھوں پر اٹھانے کے لیے تیار ہوجاتاہے۔ مثال کے طور پر ممبئی یونیورسٹی نے ۲۰۱۷ء سے آن اسکرین امتحانات کی جانچ کا نظام شروع کیا۔ ایک ایجنسی کو یہ کار خیر سونپا گیا جس نے اس میں تاخیر کردی۔ اس کے نتیجہ میں پروفیسر حضرات جون کے پہلے ہفتہ تک بھی کاپی کی جانچ نہیں شروع کرسکے۔ شروع میں طلباء نے ’’دیکھو اور انتظار کرو ‘‘کی پالیسی پر عمل کرنا شروع کیا۔ زیادہ ترطلبہ اس نئے سسٹم سے ناواقف تھے۔ صرف چند طلبہ کے حلقوں نے مشکل سوالات پوچھ کر اپنا احتجاج درج کرایا۔ تاہم یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ فیصلہ زمینی حقائق سے نظریں چراکر بنا کسی تیار کے مثلاً انفرااسٹرکچر، ہائی اسپیڈانٹر نیٹ وغیرہ کی غیر موجودگی میں لیاگیا۔

طلباء یونین کو جب تک ہوش آیا تب تک حالات خراب ہوچکے تھے۔ احتجاج درج کرائے گئے اور میڈیا نے وائس چانسلر پر دبائو ڈالا۔ بالآخر ان کو چھٹی پر بھیجنا پڑا۔

ایک منتخب اسٹوڈنٹ باڈی اس مسئلہ کو زیادہ اچھی طرح حل کرسکتی تھی۔ شروعات اس نکتہ سے ہوتی کہ وہ طلباء سے پہلے ان کی رائے معلوم کرتی کہ امتحان کی جانچ کے سلسلے میں کیا تبدیلی پیش نظر ہے اور اسے کیسے عملاً نافذ کیاجائے۔ یہ باڈی طلبہ کی آواز کو مؤثر طریقے سے اٹھاتی۔ اس طرح یونیورسٹی بھی طلباء کے نمائندوں کے سامنے جوابدہ ہوتی۔ اسٹوڈنٹ باڈیز انتظامیہ کو طلبہ کے مفاد کے خلاف اقدام سے روکنے میں اہم کردار اداکرسکتی ہیں۔ وہ یہ باور کروانے میں کامیاب ہوسکتی تھیں کہ آن اسکرین جانچ یا تو مؤخر کردی جائے یا اس کا نفاذ دھیرے دھیرے جانچ کے بعد کیاجائے ۔تاہم ایک مضبوط حزب اختلاف ایسا بھی ہے جو طلبائی سیاست میں آنے والی کمی کوغلط ٹھہراتاہے۔ یکے بعد دیگرے مظاہرے فکری مباحث، تشدد، یونیورسٹی انتظامیہ اور طلبہ کے درمیان ہونے والی جھڑپیں اور اساتذہ کا سیاست میں حصہ لینا وغیرہ نے سماج کے ایک حصے سے اپنا بھرم ختم کرلیاہے۔ملک کے مڈل کلاس طبقہ کے چند افراد کے لیے سیاست ایک خیالی پروفیشن بنتی جارہی ہے۔ یہ ڈر بھی پایاجاتاہے کہ سیاسی پارٹیاں بڑے پیمانے پر یونین کا استعمال کہیں اپنے سیاسی مہرہ کے طور پر نہ کرلیں۔ اکثر اوقات یونیورسٹی یونین کا راست تعلق ریاست کی برسراقتدار پارٹی سے ہوتاہے۔یہی وجہ ہے کہ لفٹ آئیڈیالوجی سے متاثر یونین عرصہ دراز سے مغربی بنگال اور کیرلہ کے تعلیمی اداروں میںسیاسی محاذ سنبھالے ہوئے ہے جب کہ دوسری جانب NSUIکانگریس پارٹی کے زیر اقتدار ریاست میں اپنا سکہ طلبہ کے درمیان رائج کیے ہوئے ہے۔

لیکن یہ حقائق اور خدشات اکثر میڈیا نظر انداز کرجاتاہے اور محض سنسنی خیز مسائل کو چھیڑتارہتاہے۔جب کہ دوسری جانب بہت سے روز مرہ کے مسائل ایسے ہیں جو نہ صرف یہ کہ طلبہ یونین کے ذریعہ اٹھائے جاتے ہیں بلکہ انکا حل بھی تلاش کیاجاتاہے تاکہ طلبہ کی زندگی بہتر ہو۔ علاوہ ازیں ابھرتے ہوئے نوجوان سیاسی لیڈران موجودہ سیاسی منظر نامہ کو اعتدال کی راہ پر لانے میں اہم کردار اداکرسکتے ہیں۔

صورتحال کی بہتری کے لیے طلبائی الیکشن کو دوبارہ بحال کرنا ہوگا۔ ممبئی یونیورسٹی کی مثال ہمارے سامنے ہے جو کہ لگاتار نظر انداز کی جاتی رہی ۔ جس کی وجہ سے اسے بہت کچھ کھونا پڑا۔ اب وقت آگیاہے کہ انتظامیہ طلبہ پر بھروسہ اور اعتماد کرتے ہوئے الیکشن کی شروعات کریں۔ اسٹوڈنٹ الیکشن میں یہ خوبی ہے کہ وہ تعلیم اور میدانِ عمل کے درمیان توازن قائم کرسکتاہے۔

بنیادی نکتہ اس ضمن میں یہ ہے کہ طلبہ اس امر کو یقینی بنائیں کہ وہ دونوں محاذوں پر سرگرمی دکھائیں گے۔ انہیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ان کے احتجاج اور مظاہرے پر امن ہوں گے اور وہ اپنی تعلیم کو متاثر نہیں ہونے دیں گے۔الیکشن میں حصہ لینے کی عمر سے متعلق رہنما خطوط کی پاسداری کی جائے گی جو کہ کمیٹی نے واضح کردیے ہیں تاکہ سیاسی پارٹیوں کی دراندازی کو کم کیاجاسکے۔ آخری بات یہ کہ الیکشن بنیادی طور سے طلبہ کے مسائل کو حل کرنے کے لیے لڑے جائیں۔ طلبہ کی فلاح و بہبود ان انتخابات کا اولین مقصد ہو۔راقم السطور اس بات پر یقین رکھتاہے کہ منتخب ہونے والی طلبہ کی باڈی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی اور یونیورسٹی انتظامیہ کے سامنے جوابدہ ہوگی۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

مسلمان اور سائنسی تحقیقات – ڈاکٹر محمد اسلم پرویز سے ایک گفتگو

ڈاکٹر اسلم پرویز کا نام علمی دنیا میں ایک معروف نام ہے۔ ...