Home / تجزیہ ۔ بین الاقوامی / ملک کی گرتی ہوئی معیشت

ملک کی گرتی ہوئی معیشت

اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: ’’میں نے تمہیں ایک ایسی روشن راہ پر چھوڑا ہے، جس کی شب بھی دن مانند ہے‘‘۔
انسانی زندگی کے ان مسائل پر غورو فکر کرتے ہوئے جن کے حل کی انسانی کوششیں کامیاب نہیں ہوتی ہیں بلکہ مسائل مزید پیچیدہ ہوجاتے ہیں، میرے سامنے مذکورہ بالاحدیث ہوتی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے جو راہ چھوڑی ہے وہ ایسی روشن ہے کہ اس کی شب بھی دن کے مانند ہے۔ کاش انسان بحیثیت مجموعی اس تابناک راہ کی طرف متوجہ ہوجائے، تاکہ اس کی آخرت کی زندگی کے ساتھ اس کی دنیوی زندگی کے بھی تمام مسائل کا حل سامنے آسکے، بلکہ وہ صدقات دنیا اور صدقات آخرت دونوں سے ہمکنار ہوجائے۔
ہم اکثر جن پریشانیوں کو مرض سمجھتے ہیں، وہ اصل مرض نہیں بلکہ ان کی علامات ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی علامات مرض اتنی نمایاں ہوجاتی ہیں کہ ان کی طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن دیرپا حل کے لئے اور مکمل علاج کی غرض سے اصل مرض کی تشخیص اور اس سے شفایاب ہونا ضروری ہے۔
ہم اس وقت ملک کی بگڑتی ہوئی معیشت پر گفتگو کررہے ہیں اور ہمارے سامنے اس کی ایک نمایاں علامت کرنسی کے عالمی بازار میں روپیہ کی قدر اور قوت خرید کی کمی اور اس میں تیز اتار یا چڑھاؤ (volatility)ہے۔ اس علامت مرض پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اگر ہماری کوششوں سے اس مسئلہ پر قابو پالیاجائے تو اس پر بس نہیں کرنا چاہئے بلکہ بگاڑکی اصل وجوہات کی فکر کرنی ضروری ہے اور ان کا علاج ہونا چاہئے، بصورت دیگر دوسری علامات ابھرتی رہیں گی اور صورت حال خراب سے خراب تر ہوتی چلی جائے گی۔ اس تحریر میں اس علامت مرض کا تجزیہ کیا جائے گا، اور پھر ہندوستانی معیشت کی اصل خرابیوں اور ان کے علاج پر گفتگو ہوگی۔
روپیہ کی قیمت میں تیزگراوٹ
امریکی ڈالر کے مقابلہ میں ہندوستانی روپیہ کی قیمت میں پچھلے چند ہفتوں میں یکایک تیزی کے ساتھ کمی واقع ہوئی ہے۔ کرنسی کی بین الاقوامی منڈی میں جہاں پچاس روپیہ کے آس پاس کی قیمت میں ایک ڈالر کو خریدلینا ممکن تھا، وہیں چند دنوں کے اندر ڈالر کی قیمت Rs.65/۔ سے متجاوز کرگئی۔ کسی ملک کی کرنسی کے ذریعہ دوسرے کسی ملک کی کرنسی (خصوصاً امریکی ڈالر) کی قوت خرید کا راست تعلق اس بات سے ہے کہ اول الذکر ملک کے درآمد کا تناسب کیا ہے۔ اگر برآمد زیادہ ہے اور وہ ملک اس طرح دوسری کرنسی زیادہ حاصل کررہاہے تو اس کی پوزیشن مضبوط ہے۔ لیکن اگر برآمد کے مقابلہ میں درآمد زیادہ ہے تو صورت حال خراب ہوتی جائے گی کیوں کہ اس ملک کو دوسرے ملکوں سے خریداری کرنے کے لئے دیگر کرنسیاں خصوصاً امریکی ڈالر کی زیادہ ضرورت ہوگی۔ جنگ عظیم دوم کے بعد عالمی تجارت میں مختلف ملکوں کے درمیان لین دین کے لئے ان ملکوں کی اپنی کرنسی کا استعمال نہیں ہوتا ہے بلکہ امریکی ڈالر میں ہوتا ہے۔ مثلاً اگر ہندوستان جاپان سے کوئی سامان درآمدکرے تو اسے ادائیگی جاپانی کرنسی میں نہیں کرنی ہوگی بلکہ امریکی ڈالر میں کرنی ہوگی۔ اس طرح بغیر کسی استحقاق کے امریکی ڈالر کی اہمیت اور قدر میں اضافہ ہوجائے گا۔ دنیا میں ملکوں کے درمیان بیع (لین دین) کا جتنا اضافہ ہوگا اس کا فائدہ بغیر کسی استحقاق کے امریکہ کو پہنچتا رہیے گا۔ (ناانصافی اور دھاندلی پر مبنی اس طریقہ کار کی اپنی ایک تاریخ ہے جس پر گفتگو الگ سے کی جاسکتی ہے)
ہندوستان کی درآمد، اس کے برآمد کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہے۔ اس طرح عالمی منڈی میں اپنا مال اور اپنی خدمات فروخت کرکے ہم جتنا ڈالر حاصل کرتے ہیں اس سے بہت زیادہ ہمیں ڈالر میں ادائیگی دوسرے ملکوں کے اس مال اور ان خدمات کے لئے کرنی ہوتی ہے جو ہم اپنے ملک میں درآمد کرتے ہیں۔ اس سے ہماری کرنسی (یعنی روپیہ) کی قیمت کم اور امریکی کرنسی (یعنی ڈالر) کی قیمت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس پر مزید یہ کہ کرنسی کی عالمی منڈی میں سٹہ اور جوا کا بہت زیادہ دخل ہے اور کرنسی کے قمار باز ان کی خرید و فروخت کے کھیل کے ذریعہ اپنی مرضی کے مطابق قیمتوں کو بڑھاتے اور گھٹاتے رہتے ہیں۔ اس کی تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ کسی چیز کی قیمت کے زیادہ یا کم ہونے کی وجہ سے اس کے بارے میں بازار میں پایا جانے والا تأثر (Perception) بھی ہے۔ اگر کسی ملک کی معیشت کے بارے میں عام تأثر یہ ہو کہ وہ ترقی پذیر ہے تو اس کی کرنسی کی قدر میں اضافہ ہوگا اور اگر تأثر خراب ہوجائے تو اس کا اثر اس کی کرنسی پر بھی پڑے گا۔ یہ بات واضح ہے کہ تأثر کے اچھے یا برے ہونے کی بنیادی وجہ تو کارکردگی ہے لیکن ایسے احساسات ہمیشہ معروضی نہیں ہوتے ہیں۔ تاثرات پیدا بھی کئے جاتے ہیں اور اس کھیل کے پیچھے فاسد نیتوں کابھی دخل ہوسکتا ہے۔
اس مسئلہ کا سادہ حل درج ذیل ہے:
(i) درآمد کو کم کیاجائے اور برآمد میں اضافہ کیاجائے۔
(ii) درآمد سے متعلق ایسی تجاویز پر عمل کیاجائے جہاں ادائیگیاں ڈالر میں نہ کرنی پڑیں اور برآمد کرنے والا ملک ہماری کرنسی میں قیمت لینے کے لئے تیار ہو۔
(iii) معیشت کو ان ٹھوس بنیادوں پر استوار کیاجائے کہ اس کے بارے میں اچھے تصورات (Perception) پیدا ہوں اور بین الاقوامی طورپر قمار بازوں کو زیادہ مواقع نہ ملیں۔
درآمد میں پچھلے بیس برسوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے جب کہ برآمد میں اضافہ کی رفتار نسبتاً سست رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ۱۹۹۱ ؁ء میں جب ملک کی معاشی پالیسی میں دوررس تبدیلیاں کی گئیں اس وقت یہ طے کیاگیاتھا کہ ہندوستانی صارفوں کی دنیا میں بنائے جانے والے اشیاء۱ اور دی جانے والی خدمات تک رسائی آسان کردی جائے۔ ایک طرف درآمد سے متعلق سہولیات فراہم کی گئیں، دوسری طرف برآمد سے متعلق سہولیات کی طرف رجحان نہیں رہا۔ برآمد میں اضافہ کے لئے خصوصی سہولیات کے علاوہ خود ملک کے اندر پیداوار کا عمل اور بننے والی چیزوں کے معیار کی بہتری کے لئے حکومت کی طرف سے ٹیکس اور ڈیوٹی کے مناسب قوانین اور دیگر سہولیات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اُس وقت آج کے وزیراعظم ، وزیرخزانہ اور ہم گلوبلائزیشن کے نعرے سے متأثر تھے۔ نتیجہ وہی ہوا جس کا ہم آج مشاہدہ کررہے ہیں۔ پالیسی کی اس کمی کا احساس دیر سے ہوا اور ۲۰۱۰ ؁ء میں پیداوار میں اضافہ کے لئے نئی پالیسی بنائی گئی جس پر ہنوز خاطرخواہ عمل نہیں ہوا ہے۔
درآمد میں اضافہ کی ایک وجہ تو تیل کی قیمت میں اضافہ ہے اور چونکہ ہماری تیل کی خریداری ڈالرمیں ہوتی ہے اس لئے ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ایران ہمیں روپے میں تیل فروخت کرنے کے لئے تیار ہے لیکن اس بڑھے ہوئے ہاتھ کی طرف ہاتھ بڑھانے میں شاید عالمی (یعنی امریکی) دباؤ مانع ہے۔ بہرحال ہمیں اپنے ملکی مفاد میں عالمی دباؤ کالحاظ نہیں کرنا چاہئے تاکہ دنیا پر یہ واضح ہوجائے کہ ہم ایک آزاد مملکت ہیں جسے اپنی آزادی اور اپنا مفاد عزیز ہے۔
درآمد سے متعلق ایسی غیراہم اور غیرضروری اشیاء بھی ہیں جن سے بڑی حد تک اجتناب ممکن ہے۔ مثلاًہمارا ملک بڑی مقدار میں سونا درآمد کرتا ہے جس سے بچاجاسکتا ہے۔ اسی طرح ملک میں بڑھی ہوئی صارفیت کے نتیجہ میں خوردو نوش اور سامان تعیش کے سامانوں کی بڑی تعداد ہے جن کے استعمال میں کمی کی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ ہم دو ایسی چیزیں بھی درآمد کرتے ہیں جن کی ہمارے ملک میں بڑی مقدار موجود ہے اور وہ ہیں کوئلہ اور لوہا بنانے والے معدنیات۔ ایک طرف ملک کی عدلیہ نے ان کی برآمد پر پابندیاں لگارکھی ہیں جس کی وجہ ان معاملات میں ہونے والے کرپشن کی رپورٹیں ہیں۔ دوسری طرف خام صورت میں موجود معدنیات کو قابل استعمال بنانے کے لئے جس تکنیک اور پیداوار کے لئے پلانٹ کی ضرورت ہے وہ ہم مناسب تعداد میں حاصل نہیں کرسکے۔ مثلاً کوئلہ کے لئے معیاری اور معتدبہ تعداد میں ریفائنری ہمارے پاس مفقود ہیں۔ یہ ہماری اپنی کوتاہیاں ہیں جن کے نتائجِ بد خود ہم پر پڑرہے ہیں۔
پڑوسی ملک چین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ جس نے پیداوار کی سہولیات اپنے ملک کے اندر پیدا کیں اور برآمد کی طرف توجہ دی۔ نتیجہ کے طورپر آج دنیا کے بیشتر ممالک چین کے قرضدار ہوچکے ہیں۔ اس ملک نے پیداوار کے لئے اندرون ملک موجود سرمایہ اور دیگر ملکوں میں مقیم چینی شہریوں کے بھیجے گئے رقوم پر اکتفا کیا اور باہر سے نہ سرمایہ آنے دیا نہ قرض۔ البتہ اگر کوئی ملک چین کی زمین پر اپنا سرمایہ لگاکر فیکٹری لگانا چاہے تو اسے اجازت ہے کیوں کہ اس صورت میں ملازمتیں بھی چینی کارکنوں کو ملتی ہیں اور فیکٹری اور دیگر اثاثہ جات ملک کے اندر رہتے ہیں۔ ویسے ملک کے اندر سودی لین دین کی وجہ سے جو خرابیاں پیدا ہوئی ہیں، وہ بہرحال اس نظام کا خاصہ ہیں، اس سے متعلق رپورٹیں بھی آنے لگی ہیں۔
معیشت کی بنیادی خرابیاں
زرمبادلہ کی مذکورہ بالا خرابیوں کے علاوہ معیشت سے متعلق دیگر امور بھی اس کی مسلسل بگڑتی ہوئی حالت کاپتہ دے رہے ہیں۔ مثلاً قیمتوں میں اضافہ روزانہ کا معمول بن گیا ہے۔ اور ان اضافوں کی کوئی توجیہ معاشی عمل سے ممکن نہیں ہے۔ یعنی اگر قیمتوں کے بڑھنے کی یہ وجہ ہوتی کہ مذکورہ اشیاء بازار میں کم ہوگئی ہوں تو اسے اس کی فطری وجہ قرار دے دیا جاتا۔ اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ قیمتوں کے مسلسل بڑھنے اور بازار میں اشیاء کے فراہم ہونے کے درمیان کوئی رشتہ نہیں رہ گیا ہے۔ بازار اور معاشی عمل کے درمیان منقطع یہ رشتہ دراصل آج کے دور کی معیشت کی بہت بڑی خرابی ہے۔
فطری معاشی عمل یہ ہے کہ انسانوں کی ضروریات کے لئے اشیاء اور خدمات تیار کی جائیں اور فراہم کی جائیں اور دیگر معاشی امور انہیں کے گرد گردش کریں۔ اس طرح معیشت انسانی ضروریات کو پورا کرنے کی غرض سے پیداوار و خدمات کا حسین عمل بن جائے کی۔
اسلام کی معاشی تعلیمات دراصل انہیں اصولوں پر مبنی ہیں کہ انسان کے لئے غیرمفید اشیاء و خدمات مثلاً160شراب، خنزیر ، قمار و جوا پر قدغن لگادی جائے اور معاشی عمل کو طلب اور فراہمی طلب کے زریں اصولوں پر استوار کیاجائے اور وہ تمام چیزیں جو اس معاشی عمل کو خراب کرنے والی ہیں، مثلاًسود، غبن، اور احتکار کو ختم کیاجائے۔ سرمایہ دارانہ نظام سرمایہ کے گرد گھومتا ہے جبکہ فطری معاشی نظام کو انسان کے لئے مفید اشیاء اور خدمات کے گرد گھومنا چاہئے۔ مرکزی نقطہ کے اس فرق سے دونوں نظاموں میں بعد المشرقین ہوجاتا ہے۔ اول الذکر کی خرابیوں کا دنیا مشاہدہ کررہی ہے۔ آخرالذکر کی برکتوں کامشاہدہ باقی ہے
ڈاکٹر وقار انور،
ابوالفضل انکلیو، نئی دہلی

About Admin Rafeeq

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

غزہ اور غرور ستمگراں

سابق اسرائیلی صدر اسحاق رابن کی یہ تمنا تھی کہ کاش غزہ ...