بنیادی صفحہ / نظر / ملّت اسلامیہ ہند حالات، قیادت اور تقاضے

ملّت اسلامیہ ہند حالات، قیادت اور تقاضے

معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر سلیم خان صاحب سے ایک گفتگو

سوال: ہندوستان میں موجود نفرت کے عمومی ماحول کو ختم کرنے کا نسخہ آپ کے نزدیک کیا ہے؟
جواب: دفاع اور دعوت: ان میں سے ایک فوری ضرورت ہے اور دوسرا دیرپا علاج ۔ کوئی طبقہ جب تک نرم چارہ سمجھا جائے گا بہ آسانی ظلم و جبر کا شکار ہوتا رہے گا ۔ دعوت دین ویسے تو ہمارا فرض منصبی ہے لیکن وہ نفرت کے خلاف ایک نسخۂ کیمیابھی ہے۔

سوال: آپ کے نزدیک اس وقت ہندوستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟ کیا موجودہ انتظامی ڈھانچہ میں رہتے ہوئے ،ان مسائل کا حل ممکن ہے؟
جواب: ہندوستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کے دانشور فاسدنظریات کو اپنے مسائل کا حل سمجھتے ہیں جس کے سبب صورتحال یہ ہے کہ ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘۔ شاطر سیاستداں اورموقع پرست اعلیٰ سرکاری افسران ان نظریا ت کی مدد سے عوام کو بیوقوف بناکرخودعیش کرتے ہیں نیز سرمایہ داروں کو استحصال کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ موجودہ انتظامی ڈھانچے میں ان مسائل کا حل مشکل تو ضرور ہے لیکن جب تک کہ ڈھانچہ تبدیل نہیں ہوجاتا اس وقت تک اسی کے اندر رہتے ہوئے کام کرنے کے علاوہ چارۂ کار نہیں ہے۔

سوال: ہندوستان میں سیکولرزم اور انفرادی آزادی کی تعریفا ت کی کیا کمزویاں سامنے آتی ہیں، بالخصوص جس طرح مسلمانوں کےمذہبی معاملات کے حوالے سے ہواّ کھڑا کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت اور سپریم کورٹ کے رول پر آپ کی کیا رائے ہے۔

جواب: تین طلاق پر جو سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ہے اس میں چیف جسٹس کیہر نے بڑی تفصیل کے ساتھ اقلیتوں کے حقوق اور ان کی مذہبی آزادی پر بحث کی ہے جو قابلِ تعریف ہے۔تین طلاق کو جائز تسلیم کرنے کے باوجوداس پر ۶ ماہ تک پابندی اورحکومت سےقانون وضع کرنے کی درخواست ناقابلِ فہم تضادہے۔ فلی نریمن کا تین طلاق کو غیر دستوری قرار دے کر مسترد کردینا انسانی حقوق اور مساوا ت کے بہانے شریعت میں مداخلت کا پیش خیمہ ہے۔ انفرادی آزادی پر سپریم کورٹ نے بڑے اعتماد کے ساتھ حق رازداری کے فیصلے میں بحث کی ہے جو پورے ملک پر دوررس مثبت نتائج ڈالے گا۔
سیکولرزم ان دونوں فیصلوں کا مرکزی موضوع نہیں ہے۔ سیکولرزم پر عام طور سے سطحی گفتگو ہوتی ہے جبکہ ایک تفصیلی بحث درکارہے۔ اسلام کا خداپرستانہ نظام حیات توحید، رسالت اور آخرت کی بنیاد قائم ہوتا ہے اس کے برعکس مغرب کا مادہ پرستانہ نظریہ زندگی لادینیت(سیکولرزم)، جمہوریت اور اباحیت کے سہارے پروان چڑھتا ہے۔ کلمۂ توحید میں سارے معبودانِ باطل کا انکار کرنے کے بعد اللہ کی وحدانیت کا اقرار کیا جاتا ہے ۔ جمہوریت میں سارے ادیان کی تردید کے بعد جمہور کو مطلق العنان ٹھہرایا جاتاہے۔ اسلام میں آخرت کی جوابدہی سارے اعمال پر اثر انداز ہوتی ہے جبکہ مغرب میں اباحیت پسندی یعنی من مانی کی روح ہر عمل میں کارفرما رہتی ہے۔

ہندوستان جس وقت آزاد ہوا تو ہمارے دانشوروں نے محسوس کیا کہ جدید دنیا میں قدیم ہندوستانی طرز حیات قابل عمل نہیں ہے۔ ہمارے رہنماوں میں سے اکثر مغرب کی ذہنی غلامی میں مبتلا تھے اس لیے انہوں نے مغرب کے مادہ پرستانہ تصورات کو قبول کرلیا ۔ سیکولرزم بھی اس کا ایک حصہ ہے۔ اشتراکیوں نے اشتراکیت کو بھی اس میں جوڑ لیا۔ سنگھ پریوار بھی اپنے سارے دکھاوے کے باوجود مغرب کی ذہنی غلام کا شکار ہے۔ اس نے کا نگریس کے سیکولرزم کو جعلی قرار دے کر اس پر اقلیت نوازی کا الزام لگایا تاکہ ہندو اکثریت میں اپنی الگ شناخت بنا سکے۔ ابتدا میں کانگریس کا ہلکا سا جھکاو سوشلزم کی جانب تھا اس کے مقابلے سنگھ پریوار فسطائیت کی جانب جھک گیا حالانکہ یہ دونوں نظریات بھی مغرب سے مستعار تھے۔ نرسمھاراو کے بعد دونوں سیاسی جماعتیں سرمایہ داری کی ہمنوا بن گئیں اور اشتراکی جماعتیں بھی عملاً اس سے محفوظ نہیں رہ سکیں ۔ اہل اسلام نے مغربی نظریہ حیات کے مقابلے اپنا متبادل پیش کرنے کے بجائے خود کو سیکولرزم اور جمہوریت کا سب سے بڑا محافظ ثابت کرنا شروع کردیا۔ یہ ایک فریب ہے کہ ہندوستان کا سیکولرزم مغربی لادینیت سے مختلف ہے۔ ۔ ہردین کے پیروکار دو طرح کے ہوتے ہیں ۔ نظریاتی اتفاق کے باوجود عملی کوتاہی کا مظاہرہ کرنے والوں کواسلامی اصطلاح میں فاسق کہا جاتا ہے ۔ عقائد و نظریات کو مسخ کرنے والے مثلاً قادیانی یا بہائی وغیرہ منافقت سے آگے بڑھ کر کفر کے حدودمیں داخل ہوجاتے ہیں ۔ سیکولرزم کی بابت ہندوستان کے دانشوروں نے بھی یہی کیا کہ تمام ادیان کا انکار کرنے کے بجائے اقرار کرکے اسے مذہبی آزادی کا نام دے دیا مگر اس قول وقرار کے باوجود عملاً انکار باقی رہا اور یہ منافقت اکبر کے دین الٰہی کی مانند چوں چوں کا مربہ بن کے رہ گئی۔ اب ہر کوئی اپنی سہولت سے اسے اپنے مطلب کے لیےاستعمال کرلیتا ہے اس لیے کہ اس ہندوستانی سیکولرزم کی کوئی متعینہ تعریف موجود نہیں ہے۔ہر طبقہ اس کی من مانی تعریف بیان کرنے اور اس کا نت نیا مفہوم نکالنے کے لیے آزاد ہے۔ یہ ایک ایسی ٹوٹی ہوئی تلوار ہے جس کی مدد سے نظریاتی میدان میں کامیابی ممکن نہیں ہے۔ اسلام پسندوں کیلئے اس کا مدلل متبادل پیش کرنا نا گزیر ہے ۔

سوال: کیا ان نقائص کو دور کرنے کے لئے مسلمانوں کو دیگر سیکولر قوتوں کے ساتھ مل کر کوئی جدوجہد کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے؟
جواب: اپنی انفرادیت کے ساتھ دعوت کا کام کرتے ہوئےمختلف طبقات اور گروہوں کے ساتھ جدوجہد کرنا حکمت کا تقاضہ ہے۔

سوال: مسلمانوں کی اجتماعی کوششوں کے حوالے سے ایسے کون سے محاذ ہیں جن پر بے جا توانائیاں ضائع کی جا رہی ہیں؟ کوششوں کا رخ کیا ہونا چاہیئے؟
جواب: باطل نظام حیات کا کل پرزہ بن کر اس سے آزادی کے لیے ہاتھ پیر مارنا کارِ عبث ہے۔ ہمیں اپنا نظریہ حیات پیش کرتے ہوئے معاشرے کے اندر عدل و انصاف قائم کرنے کی عملی جدوجہد میں حصہ لینا چاہیے۔تمام مظلومین کا تحفظ بشمول ملت ہماری کوششوں کا محور ہونا چاہیے اور حقوق العباد یعنی خدمت خلق کی جانب حتی الامکان توجہ دی جانی چاہیے۔

سوال: مسلم قیادتوں کا کردار ان حالات میں کیا ہونا چاہئے؟ اب تک ہماری قیادتوں کی کیفیت و رویہ کے بارے میں آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟
جواب: اس سوال کے پہلے حصے کا جواب اوپر دیا جاچکا ہے۔ کیفیت اور رویہ پر لب کشائی کرکے میں گستاخی کا مرتکب ہونا نہیں چاہتا ۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

خود کشی سماجی اور نفسیاتی مباحث کی روشنی میں

شمس الضحیٰ خود کشی مایوسی، احساس کمتری اور بزدلی کا انجام ہوتی ...