Home / محل نظر / مسلم آنٹر پرینیور کے اخلاقیات

مسلم آنٹر پرینیور کے اخلاقیات

کسی ایسے کام کا بیڑا اٹھانایا ذمہ داری لینا جو دوسرے افراد کے لئے مشکل ہو اور اس کے ذریعہ سے دیگر افراد کے لئے مواقع فراہم کرنا آنٹرپرینیور کا کام ہوتاہے۔ موجودہ دور میں Entreprenure ایک مقبول ترین لفظ ہے کئی افراد اس سے جڑکر استفادہ کررہے ہیں اس کا سب سے اہم اور فائدہ مند کام یہ ہے کہ ایک آنٹرپرینیور اپنی ذہنی صلاحیتوں کا استعمال کرتا ہے ، جدیداور تخلیقی طرز پر کام کا آغاز کرتا ہے اور دوسروں کے لئے مواقع پیدا کرتا ہے اور سماج اور ملک کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے میں اپنا حصہ ادا کرتا ہے۔آنٹرپرینیور کے متعلق ایک صاحب قلم نے لکھا کہ ”آنٹرپرنیور وہ لیڈر ہوتے ہیں جو خطرے اٹھانے اور پہل کرنے کے متمنی ہوتے ہیں ، بازار کے مواقع کو منصوبہ بندی، تنظیم اور وسائل کے ساتھ استعمال کرتے ہیں اور بسا اوقات جدت کے ذریعہ پہلے سے موجود مصنوعات میں بہتری لاتے ہیں ۔ آنٹرپرینیور شپ کی اصطلاح کا استعمال حالیہ برسوں میں سونچنے کے انداز اور ذہنی سانچے (مائینڈ سیٹ) کے لئے بھی کیا گیا جس کے نتیجہ میں اس کا اطلاق سماجی ، سیاسی اور علمی حلقوں پر بھی کیا جاسکتا ہے“۔

 
اسلام ایک مکمل نظام ِ حیات ہے، اسلام میں عبادت اور تجارت میں کوئی علحیدگی نہیں ہے بلکہ تجارت خود ایک عبادت ہے۔ اسلام ایک بہترین نظام تجارت پیش کرتا ہے جس کی بنیاد قرآن مجید اور احادیث ہے۔مولانا صدر الدین اصلاحیؒ لکھتے ہیں کہ ” جو شخص اسلام کو جانتا ہے وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس کی نگاہ میں انسان کا اصل مفاد اس کی آخرت کا مفاد ہے۔ اسے آخرت ہی کے لئے جینا اورمرنا چاہئے اور مسلم کی پہچان ہی یہ ہے کہ وہ دنیا پر آخرت کو ترجیح دے اور اسی کو اپنا اصل مرکز توجہ رکھے ،یہ ایک روشن اور بدیہی حقیقت ہے، سورج سے بھی زیادہ روشن اور بدیہی حقیقت۔ لیکن غلط فہمی نہ ہو ، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اسلام دنیا کی ان چیزوں کو سرے سے کوئی اہمیت ہی نہیں دیتا جو انسان کی مادی زندگی کے لئے مطلوب ہوتی اور ہوسکتی ہیں۔ اس نے اس زمین پر انسان کی جو تخلیقی حیثیت قراردی ہے اس کی پیدائش کا جو مقصد بتایا ہے، روحانی بلندی اور تقرب الٰہی کا جو تصور پیش کیا ہے اور اس کے لئے جو شاہراہ مقرر کی ہے ان ساری چیزوں کو دیکھتے ہوئے ایسا خیال کرنا کہ اسلام انسان کی مادی ضرورتوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا، کھلی ہوئی نا واقفیت کی دلیل ہے۔ ’مومن‘ اور ’مسلم‘ محض روح کا نام نہیں ہے بلکہ روح اور جسم دونوں کے مجموعے کا نام ہے اور ایک مسلمان کو اس دنیا میں اپنا فرض بجا لانے ، اپنا مشن پورا کردینے اور اپنے پروردگار کی رضا حاصل کرلینے کے ئے جو کچھ کرنا ہے اس کے لئے جسم اور جسمانی قوتیں بھی ضرورت کی چیز ہیں ، اور ان کا استعمال بھی ناگزیر ہے۔ ایسی حالت میں وہ سروسامان بھی کیوں ضروری نہ ہوگا جس ہر اس جسم کی اور ان جسمانی قوتوں کی بقا موقوف ہے اور جسے ہم انسان کی معاشی ضرورت کہتے ہیں؟ یہی وجہ ہے جس کی بنا پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : ”فرض عبادتوں کے بعد حلال روزی کمانا بھی فرض ہے“بہیقی۔(اسلام ایک نظر میں ،ص 168-169 ) اسلام جدید طرز پر حصولِ مال سے انکار نہیں کرتا بلکہ اسلام تو غور و فکر اور تد بر و تفکر پر زور دیتا ہے ، ایک اسلامی آنٹرپرینیور کے لئے آخری منزل اس کی کامیابی نہیں ہے بلکہ اس منزل کے حصول کے لئے جو راستہ متعین کیا جا تا ہے وہ بھی ا س کی کامیابی کا اہم حصہ ہوتا ہے۔

 
لفظ ”تجارت“ مسلمانوں کے لئے کوئی غیر معروف نہیںہے بلکہ آخری نبی حضرت محمد خود ایک تاجر تھے، محمد نہ صرف ایک بہترین داعی ، مبلغ اور لیڈر تھے بلکہ وہ ایک بہترین اور کامیاب تاجر بھی تھے جنھوں نے تجارت کے لئے دور مقامات کا سفر طئے کیا اور عرب کے اس بد اخلاق اور وحشی دور میں آپ نے اخلاق کا بہترین نمونہ پیش کرتے ہوئے دیگر تاجروں کو بھی اپنا گرویدہ بنالیاتھا اور یہی تجارتی تعلقات آگے چل کرد عوتی میدان میں بھی کارآمد ثابت ہوئے ۔ آپ نے ۲۱ سال کی عمر سے ہی اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ تجارتی قافلوں میں شرکت کا آغاز کردیا تھا جس سے آپ کو ابتدائی تجارتی تجربہ حاصل ہوگیا اور اس تجربہ اور ایمانداری کی وجہ سے مکہ کے قابلِ اعتماد تاجر کی حیثیت سے مقبول ہوئے ، حضرت خدیجہؓ بھی مکہ کی ایک کامیاب تاجر تھیں اس کے علاوہ آپ نے بھی اپنے صحابہ اکرامؓ کو تلاشِ معاش کی تلقین کی اور محنت کی کمائی کے حصول پر زور دیا۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے نبی کریم صلعم نے فرمایا ” اللہ اس مسلمان سے محبت کرتا ہے جو کوئی محنت کرکے روزی کماتا ہے“۔

 


تجارت کے اس میدان میں بھی اسلام نے انسانوں کی رہنمائی کی ہے اور اخلاقی اقدار کو وضع کیا ہے ، مغربی طرزِ معیشت اور اسلامی طرزِ معیشت میں کافی فرق پایا جاتا ہے۔ مغرب نے جہاں آنٹرپرینیور شپ میں ترقی حاصل کی وہیں اخلاقی گراوٹ اور حرام و حلال میں تفریق نہ کرنے کی وجہ سے مغربی معاشرہ خود غرضی کا شکار ہے۔ مغربی ممالک میں آنٹرپرینیور کی کامیابی کا انحصار مالی اعتبار سے فرد کی انفرادی ترقی ہے اور اس نے فرد کو پیسہ کمانے کے تمام طریقوں کی مکمل آزادی عطا کردی ہے جس کا نتیجہ ہے کہ تجارت جیسا مقدس پیشہ بھی انسانی خون نچوڑنے کا عمل بن کر رہ گیا۔ دوسری طرف اسلام میں ترقی کا انحصار فرد کی انفرادی زندگی کے ساتھ معاشرے کی اجتماعی زندگی پر بھی کیاہے ، ایک اسلامی آنٹرپرینیور اس وقت کامیاب کہلاتا ہے جب وہ معاشی اعتبار سے خود کے لئے بھی اور معاشرے کے لئے بھی فائدہ مند ثابت ہوں۔

 
مسلم آنٹرپرینیور اور مغربی آنٹرپرینیور میں بنیادی فرق یہ ہے کہ مسلم آنٹرپرینیور تجار ت اور مذہب میں تفریق نہیں کرتا بلکہ مسلمان کے لئے تجارت بھی عبادت ہے اور اس کا یہ ایقان ہوتا ہے کہ رزق دینے والا اللہ ہے اور تجارت میں نفع اور نقصان بھی اللہ کی طرف سے ہے اسی لئے وہ توکل ، صبراور شکرکے ساتھ نفع اور نقصان کو قبول کرتا ہے ۔قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ” پھر جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جاﺅ اور اللہ کا فضل (رزق) تلاش کرو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو، شائد کہ تمہیں فلاح نصیب ہوجائے“۔ (سورة الجمعہ۔10 ) اس کے بالمقابل مغربی آنٹرپرینیور تجارت اور مذہب کے درمیان تفریق سے کام لیتا ہے اور تجارت کو مذہب سے الگ کرتے ہوئے ذاتی طور پر منافع حاصل کرنے کی غرض سے حد سے تجاوز کر جاتا ہے۔ آنٹرپرینیورشپ کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایک آنٹرپرینیور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعہ نئے کام کا آغاز کریں اور اپنے شعبہ تجارت کے ذریعہ سے ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرسکیں اور دیگر افراد کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کریں لیکن جس فرد کے لئے قوم اورملک کی ترقی ثانوی چیز ہو وہ اس بنیادی مقصد سے دور چلاجاتا ہے اور بجائے معاشرے کے لئے فائدہ مند ہونے کے لئے وہ مزید نقصاندہ ہوسکتا ہے۔

 
اسلام نے روزی کمانے کے صحیح تصور کو پیش کیا ہے جس کا اندازہ اس حدیث سے لگایا جاسکتا ہے ”کعب بن عجرہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم کے پاس سے ایک آدمی گزرا۔ صحابہ ؓ نے دیکھا کہ وہ رزق کے حصول میں بہت متحرک ہے اور پوری دلچسپی لے رہا ہے تو انھوں نے حضور سے عرض کیا اے اللہ کے رسول اگر اس کی یہ دوڑ دھوپ اور دلچسپی اللہ کی راہ میں ہوتی تو کتنا اچھا ہوتا۔ حضور صلعم نے فرمایا کہ وہ اپنے چھوٹے بچوں کی پرورش کے لئے کوشش کررہا ہے اور مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے بچا رہے تو یہ کوشش بھی فی سبیل اللہ ہی شمار ہوگی اور اگر اپنی ذات کے لئے کوشش کررہا ہے اور مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے بچا رہے تو یہ کوشش بھی فی سبیل اللہ ہوگی البتہ اگر اس کی یہ محبت زیادہ مال حاصل کرکے لوگوں پر برتری جتانے اور لوگوں کے دکھانے کے لئے ہے تو یہ ساری محنت شیطان کی راہ میں شمار ہوگی“۔گویا مومن کی پوری زندگی عبادت ہے اس کا ہر کام باعث اجر و ثواب ہے ، اسلام میں زہد و تقویٰ اور عبادت کا کو وسیع تصور ہے وہ اس حدیث سے بخوبی واضح ہوتا ہے ۔ ایک اور حدیث میں ارشاد ہوا ہے ”مومن آدمی اپنی ذات پر اپنی بیوی پر اپنے بچوں پر اور اپنے ملازموں پر جو کچھ خرچ کرتا ہے وہ سب صدقہ اور عبادت ہے جس پر اسے اجرملے گا“۔اس کے علاوہ اسلام ایک آنٹرپرینیور کی تنظیم بھی کرتا ہے اور حلال کمائی کے ذرائع اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے ” حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ رسول صلعم نے ارشاد فرمایا : ائے لوگو اللہ کی نافرمانی سے ڈرتے رہنا اور روزی کی تلاش میں غلط طریقے مت اختیار ناکرنا۔ اس لئے کہ کوئی شخص اس وقت تک نہیں مر سکتا جب تک اسے پورا رزق نہ مل جائے اگر چہ اس کے ملنے میں کچھ تاخیر ہوسکتی ہے تو اللہ سے ڈرتے رہنا اور روزی کی تلاش میں اچھا طریقہ اختیار کرنا۔ حلال روزی حاصل کرو اور حرام روزی کے قریب نہ جاﺅ“۔
اس کے بالمقابل اگرمغربی طریقئہ تجارت پر نظر ڈالی جائے تو وہ ان تمام اخلاقیات سے عاری نظر آتا ہے جہاں سود پر مبنی نظام ِ تجارت رائج ہے جو کہ ایک غیر فطری عمل ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امیر ، امیر تر ہوگیا اور غریب مزید پستی میں چلا گیا لیکن اسلام نے جو طرز تجارت متعارف کروایا ہے وہ تمام انسانوں کے لئے منصفانہ ہے۔ جس میں ہر مستحق کو اس کے استحقاق کے مطابق حق ملتا ہے۔ حضرت محمد نے فرمایا کہ “تمام مسلمان تین چیزوں میں برابر کا حق رکھتے ہیں: پانی ، گھانس اور آگ(ابوداﺅد)۔

 
یہ اسلام کے تجارتی نظام کے اخلاقیات کا سرسری جائزہ پیش کیاگیا لیکن اس کے علاوہ بھی دیگر زاویوں سے قرآن اور حدیث نے انسان کی رہنمائی کی ہے اور اسلامی آنٹرپرینیور کی خصوصیات کو پیش کیا ہے۔ اسلامک آنٹرپرینیور کی چند خصوصیات یہ ہیں :
روزآنہ پانچ وقت کی نماز ادا کرتا ہو۔
ملازم کی تنخواہ وقت سے قبل ادا کرتا ہو
حلال رزق کی کمائی کے لئے جدوجہد کرتا ہو۔
ہمیشہ سچائی سے کام لیتا ہو۔
صارف کے حقوق کو ترجیح دیتا ہو۔
زکوٰة ادا کرتا ہو۔
ہمیشہ اللہ کا شکرگزار رہتا ہو۔
انسانوں کے ساتھ بہتر تعلقات رکھتا ہو۔
سہولیات فراہم کرتا ہو۔
دیگر آنٹرپرینیور کے لئے مددگار ثابت ہوتا ہو۔

اسلام کے اس معاشی نظام کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس نظام کے ذریعہ سے دولت کا انجماد ممکن نہیں ،دولت کی گردش اور اس کی منصفانہ تقسیم ہی حقیقی ترقی ہے ۔ مسلم نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ آنٹرپرینیورشپ کی اس فیلڈ میں اسلامی اخلاقیات کے ساتھ حصہ لیں اور دنیا کو اس بہترین نظامِ معیشت سے متعارف کروائیں۔
نِگہ بلند ، سخن دل نواز، جاں پُر سوز
یہی ہے رختِ سفر میرَ کارواں کے لئے

About The Author

محمد فراز احمد

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*