Home / فکر / مذاہب عالم کی آسمانی کتابیں – قسط دوم
Click Here to Read More

مذاہب عالم کی آسمانی کتابیں – قسط دوم

محمد معاذ

مذاہب عالم کی آسمانی کتابیں – قسط اول

مجوسیت (مذہب زرتشت):

مذہب زرتشت کا مطالعہ دراصل اہلِ ایران کے سب سے قدیم اور معروف مذہب کا مطالعہ ہے۔ اس مذہب کی نسبت عام طور سے زرتشت کی طرف کی جاتی ہے جن کے زمانہ کا تعین آج تک نہیں ہوسکا ہے۔ ہاگ Haugاور بنسنBunsen کی تحقیق کے مطابق ان کا زمانہ ۲۲۰۰ ق م سے ۲۴۰۰ ق م کے درمیان ہے۔ جبکہ Dr. Prideuکے مطابق زرتشت دارا (شاہ ایران) کے ہم عصر تھے۔ دوسری طرف Rene Guenonکا خیال ہے کہ لفظ زرتشت کسی خاص شخص نہیں بلکہ منصب کا نام ہے جس میں نبوت اور قانون سازی کا مفہوم پنہاں ہے۔

اوستا:

زرتشت مذہب کی سب سے مقدس کتاب اوستا کو سمجھا جاتا ہے جس کے متعلق جناب عماد الحسن آزاد فاروقی لکھتے ہیں کہ: ’’اس مذہب کی مقدس کتاب اوستا، جو زرتشت کے جدید مطالعہ کا سب سے بڑا ماخذ ہے، زمانے کی دست برد سے محفوظ نہ رہ سکی اور کہا جاتا ہے کہ آج صرف اس کا ایک چوتھائی حصہ موجود ہے۔،، (دنیا کے بڑے مذاہب، ص ۱۵۵)

یہ کتاب اصلاً پہلوی زبان میں ہے اس کتاب میں کتھاؤں کی زبان ذرا مختلف ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہی دراصل جناب زرتشت سے منسوب حصہ کتاب ہے۔ یہ مقدس کتاب کب اور کس نے مرتب کی اس کے بارے میں کوئی حقیقی اور مستند معلومات یا کتاب کی اصلیت ابھی تک معلوم نہیں ہوسکی فقط اتنی بات معلوم ہے کہ پانچویں صدی قبل مسیح میں ایران میں اس مذہب کے ستر فرقے موجود تھے جن میں سے ہر ایک کا دعویٰ تھا کہ اصلی اوستا صرف اس کے پاس ہے۔ اور دوسروں کے پاس جعلی اوستا ہے۔ ان اختلافات کو مٹانے کے لیے شاہ ایران نے ایک کونسل کا انعقاد کیا، جس میں ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس سلسلے میں غلام احمد پرویزؔ لکھتے ہیں کہ ’’یہ گروہ اس قدر کثیر تھا کہ کونسل کا انعقاد مشکل ہوگیا۔ اس لیے ان میں سے صرف سات مقدس مغ منتخب کیے گئے جو اپنے زہد اور علم و بصیرت کی بنا پر معتمد علیہ تصور کیے جاتے تھے۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ یہ گبن کے الفاظ میں سنیے: ’’ان سات مغوں میں سے ایک مقدس نوجوان، ادوادیرف نامی کے سامنے آتشیں شراب کے تین پیالے پیش کیے گئے۔ اس نے انھیں پیا اور اس کے بعد لمبی اور گہری نیند سوگیا۔ جب وہ بیدار ہوا تو اس نے بادشاہ اور دیگر حاضرین کو بتایا کہ اس نے کس طرح آسمانوں کی سیر کی ہے۔ یہاں مقدس دیوتاؤں سے اس کی ملاقات ہوئی۔ سننے والوں کے شک و شبہ کے خیالات اس نوجوان کی مافوق الفطرت شہادت (آسمانی) کے سامنے دب گئے اور اس طرح زرتشت کے مذہب کا ضابطۂ قوانین مرتب کردیا گیا۔،، (مذاہب عالم کی آسمانی کتابیں، ص ۷۱)

ژند اوستا کے علاوہ دوسرا مجموعہ کتب وساتیر ہے۔ یہ دراصل پندرہ اشخاص کی طرف منسوب ہے اس مجموعہ میں ایک طرف اعلیٰ تعلیمات بھی ہیں تو دوسری طرف آگ اور ستاروں کی پرستش کا بھی ذکر ہے۔

تعلیم اور بنیادی عقائد:

مذہب زرتشت کے مطابق خیر کا مظہر ہرمزو ہے جبکہ اہرمن شر کا پیکر اور تاریکی کا سرچشمہ ہے۔ ان دونوں خداؤں میں ایک مستقل کشمکش جاری ہے۔ اس کے علاوہ مجوسی مذہب میں زرتشت سے بھی زیادہ ایک اور ہستی کو اہمیت حاصل ہے، جسے مترا یا مصرا کہا جاتا ہے۔ جناب غلام احمد پرویزؔ لکھتے ہیں کہ ’’مترا کے متعلق ان کا عقیدہ ہے کہ وہ نوع انسانی کی نجات کے لیے دنیا میں آیا۔ دنیا والوں نے اسے سخت اذیتیں پہنچائیں اور بالآخر اس نے اپنی جان دے کر انسانی گناہوں کا کفارہ ادا کردیا اور تیسرے دن اپنی قبر سے زندہ جی اٹھا۔ مترا کی خارق عادت پیدائش کا دن ۲۵؍دسمبر قرار دیا جاتا ہے اور مرکر جی اٹھنے کا دن ۲۵؍مارچ۔ مترا کے متعلق یہ بھی عقیدہ ہے کہ وہ آخری زمانہ میں پھر دنیا میں آئے گا اور اس کے ہاتھوں بالآخر حق کی فتح اور باطل کی مکمل شکست ہوگی۔ (ص ۷۵، مذاہب عالم کی آسمانی کتابیں)

غور کریں تو یہ تقریباً وہی تصور ہے جو دینِ اسلام میں حضرت عیسیٰؑ کی دو بارہ آمد اور ان کے ذریعے عدل کی حکومت کے قیام کے متعلق احادیث کے توسط سے ہمیں ملتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ غالباً حضرت عیسیٰؑ اور ان کی تعلیمات کا اثر ہے جو کہ زرتشت مذہب پر براہِ راست اثر انداز ہوا۔ علاوہ ازیں مذہب زرتشت میں مترا کی حیثیت انسان اور خدا کے درمیان وسیلہ کی ہے۔ اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ مذہب زرتشت میں مترا کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

وید (ہندو مت):

بنارس ہندو یونیورسٹی کی کوٹ کونسل اور سینٹ کے ممبر گووند داس اپنی کتاب ہندوازم میں لکھتے ہیں: ’’اگرچہ سب سے پہلے اس امر کا تعین کرلینا نہایت ضروری ہے کہ ہندو مت کسے کہتے ہیں اور اس کا مآخذ کیا ہے؟ لیکن جنھوںنے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ہے، وہ خوب جانتے ہیں کہ اس کا جواب کس قدر مایوس کن ہے۔ ہندو دھرم کی کوئی تعریف Definitionممکن نہیں اس لیے کہ اس کے حدود ہی متعین نہیں۔ یہ باب دراصل علم الانسان سے متعلق تھا جسے بدقسمتی سے مذہب کا نام دے دیا گیا۔ ویدوں سے شروع ہوکر اور چند ایک قبائل کے رسم و رواج کو اپنی آغوش میں لے کر یہ آگے بڑھا اور ایک برف کے گولے کی طرح مختلف زمانوں میں لڑھکتے لڑھکتے اپنے حجم میںبڑھتا چلا گیا اور جس قوم اور قبیلہ سے یہ متمسک ہوا اس کے رسوم اور تخیلات کو اپنے اندر جذب کرتا گیا حتیٰ کہ اس وقت تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہ مذہب محیط کل، ہمہ گیر، ہر ایک کو اپنے اندر جذب کرنے والا، سب کچھ برداشت کرلینے والا، ہر ایک کو (اپنی اپنی جگہ) مطمئن رکھنے والا اور ہر ایک کے ارشاد کی تعمیل کرنے والا واقع ہوا ہے۔،، (ص۴۵)

مسٹر گووند داس کے مطابق ہندو دھرم اپنے اندر اتنی لچک رکھتا ہے کہ اس میں وقت اور حالات کے ساتھ ردوبدل کا امکان پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے۔ اس کی ایک وجہ گووند داس جی کے نزدیک یہ بھی ہے کہ ہندو دھرم کی کوئی متعین تعریف اور حدود نہیں ہیں۔
اس کے بعد جناب گووند داس لکھتے ہیںکہ ہندوہونے کے لیے (۱) ہندو گھرانے میں پیدا ہونے کی بھی شرط نہیں (۲)بھارت ورش کے حدود کے اندر پیدائش کی بھی شرط نہیں (۳) ویدوں پر ایمان بھی ضروری نہیں۔ گیتا بڑی سختی سے ویدوں کی تکذیب کرتی ہے۔(۴) ذات پات (یعنی ورنوں کی تقسیم) کا عقیدہ بھی ضروری نہیں۔ (۵) گائے کی تقدیس اور برہمنوں کی عظمت کا عقیدہ بھی ضروری نہیں۔ اچھوت گائے کا گوشت بلا اعتراض کھا جاتے ہیں۔ (۶) خدا پر ایمان بھی ضروری نہیں۔ ہندوؤں کے چھ قدیمی مذاہب فلسفہ میں یوگ کے سوا اور کوئی خدا کا قائل نہیں۔ (۷) زنّار کی بھی شرط نہیں۔ (۸) کھانے پینے میں حلال وحرام کی بھی کوئی پابندی نہیں جو ایک کے نزدیک حلال ہے، وہ دوسرے کے نزدیک حرام ہے ۔ (۹) کوئی رسم و رواج بھی ایسا نہیں جو لاینفک ہو۔ (۱۰) کرم (جزا و سزا) روح اور اوتاروں پر ایمان رکھنا بھی ضروری نہیں۔ (۱۱) ’’ہندولاء،، (ہندوؤں کے مروجہ قانون) کا اطلاق بھی ضروری نہیں۔ اس لیے کہ یہ قانون بھی متضاد عناصر کا مجموعہ ہے جو ایک کے نزدیک نہایت ضروری ہے اور دوسرے کے یہاں یکسر غیر ضروری ہے۔ (۱۲) نسل اور رنگ کا امتیاز بھی کوئی ضروری شرط نہیں، لہٰذا اس سے ظاہر ہے کہ ہر وہ شخص جو ہندو کہلانے سے انکار نہیں کرتا، یوں کہیے کہ جو اقرار کرتا ہے کہ وہ ہندو ہے ، ہندو قرار دیا جاسکتا ہے۔ (ہندو ازم، ص ۵۰-۵۷)

پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی معروف کتاب The Discovery of Indiaجو ۱۹۴۶ء میں شائع ہوئی تھی ہندو ازم کے متعلق اظہارِ خیال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ہندو ازم بحیثیت ایک عقیدہ کے بالکل مبہم، غیر متعین اور بہت سے گوشوں والا واقع ہوا ہے جس میں ہر شخص کو اس کے مطلب کے مطابق بات مل جاتی ہے۔ اس کی تعریف بتانا ممکن نہیں ہے۔ حتی ٰ کہ حتمی طور یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ آیا یہ کوئی مذہب بھی ہے یا نہیں۔ یہ اپنی موجودہ شکل و صورت میں بہت سے عقائد اور رسوم کا مجموعہ ہے جو اعلیٰ سے اعلیٰ بھی ہیں اور ادنیٰ سے ادنیٰ بھی، باہم دگر مختلف۔ حتی کہ ایک دوسرے سے متضاد، اس کا لازمی عنصر غالباً جذبہ رواداری ہے۔ مہاتما گاندھی نے کوشش کی ہے اس کی تعریف پیش کرسکیں چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’اگر مجھ سے کہا جائے کہ ہندو مذہب کی تعریف بیان کرو تو میں صرف اتنا کہوں گا کہ یہ عدم تشدد کے ذریعہ سچائی کی تلاش کا نام ہے۔ ایک شخص خواہ خدا کو مانے بھی نہ لیکن بایں ہمہ وہ ہندو کہلاسکتا ہے۔ ہندو ازم نہایت شدت سے سچائی کی تلاش کا نام ہے۔ ہندو ازم سچائی کا مدہب ہے۔ سچائی ہی خدا ہے۔ خدا کے انکار سے ہم واقف ہیں لیکن سچائی سے انکار کہیں نہیں سنا گیا۔،،

گویا گاندھی جی کے الفاظ میں اہنسا اور سچائی یہ ہے ہندو مذہب ، لیکن بہت سے مشہور اور سچے ہندو کہتے ہیں کہ اہنسا ہندو مذہب کا جزو نہیں ہے۔ لہٰذا باقی رہ گئی صرف سچائی جسے ہم مذہب کہہ سکتے ہیں لیکن یہ تو کوئی تعریف نہیں۔،، (ص ۵۳)

پنڈت جواہر لال نہرو کے نزدیک ہندو مذہب کا اہم اور ضروری جز جذبہ رواداری ہے اور گاندھی جی کی مانیں تو ہندو مذہب صرف سچائی کی تلاش ہے۔ اب ظاہر ہے کہ یہ تلاش ایک خاص فرد کے لیے مفید بھی ہوسکتی ہے اور لاحاصل بھی۔ اسی طرح گووند داس جی کے مطابق ہندو ازم اور لفظ ہندو کی تعریف کرنا ایک نہایت مشکل کام ہے۔

اس پریشان کن مرحلے کے بارے میں کہیں یہ خیال نہ کیجیے کہ یہ کچھ آج کے مفکرین کی آراء یا تحقیق کا نتیجہ ہے یا چند سیاسی مدبرین کے بیانات ہیں۔ نہیں بلکہ خود منوجی کا قول ہے کہ ’’دھرم کی سچی اتباع اپنے آپ کو اپنے ماحول کے قالب میں ڈھال لینے کا نام ہے۔،، (ہندو ازم، ص ۵۹)
ہندو مذہب کا مطالعہ ایک مشکل اور الجھن میں ڈالنے والا کام ہے اس واقعہ کا اعتراف ہندواسکالرس کے علاوہ بعض مستشرقین اور مغربی علماء نے بھی کیا ہے جیسےGeorge Sartonاپنی کتاب Introduction of the History of Science میں لکھتا ہے:

’’وقائع نگاری کے فقدان کی وجہ سے ہندو سائنس کا مطالعہ بہت دشوار ہوچکا ہے ہندوؤں کی بیان کردہ تواریخ اسی صورت میں قابلِ یقین سمجھی جاسکتی ہیں جب ان کی توثیق غیر ہندی (یونانی، عربی، چینی) مؤرخ کریں۔،، (ص ۳۶)

خود بھائی پرمانند کا ارشاد ہےکہ ’’ہندوستان میں عام طور پر جو تاریخی کتابیں رائج ہیں ان کے تین حصے ہیں۔ زمانہ قدیم جو کہ بالکل نامکمل ہے بدقسمتی سے ہمارے بزرگوں کو اپنے حالات قلم بند کرنے کا شوق نہ تھا، اور جوکچھ حالات لکھے ہوئے ملتے ہیں، وہ شاعرانہ مبالغہ سے بھرے ہوئے ہیں۔ جن کی امداد سے صحیح واقعات تک پہنچنا محال ہے۔ غالباً سوسائٹی کے اندر ایسی تبدیلیاں ہوئی ہی نہ ہوں گی، جن کو قلم بند کرنے کا انھیں خیال آتا۔،، (بحوالہ مذاہب عالم کی آسمانی کتابیں، ص ۸۷)

وید کیا ہیں:

غلام احمد پرویزؔ صاحب وید کے معنی اور ان کی حقیقت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’وید کے لفظی معنی ہیں علم۔ اگرچہ آج کل عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ وید چار کتابوں کا نام ہے لیکن درحقیقت یہ کسی خاص کتاب کا نام نہیں ڈاکٹر سریندر ناتھ داس گپتا اپنی مشہور کتاب A History of Indian Philosiphy Vol. No.1میں لکھتے ہیں: ’’ایک مبتدی جسے پہلے پہل سنسکرت لٹریچر سے متعارف کرایا جائے یہ دیکھ کر پریشانی سی محسوس کرے گاکہ متضاد مطالب اور موضوعات پر مختلف مستند کتابیں ہیں لیکن ان سب کا نام وید یا سرتی (سنی سنائی باتیں) ہے۔ یہ اس لیے کہ وید اپنے وسیع مفہوم کے اعتبار سے کسی خاص کتاب کا نام نہیں بلکہ یہ نام ہے قریب دو ہزار سال کے طویل عرصہ پر پھیلے ہوئے لٹریچر کا۔ چونکہ یہ لٹریچر مظہر ہے۔ اس علمی تگ و تاز کے ماحصل کا جو ہندوستان کے رہنے والوں نے مختلف اطراف و جوانب میں اس قدر طویل عرصہ میں جمع کیا، اس لیے اسے لازماً متضاد عناصر کا مجموعہ ہونا چاہیے۔ ،، (بحوالہ مذاہب عالم کی آسمانی کتابیں، ص ۹۰)

معلوم ہوا کہ وید کی اصل حیثیت ایک ایسے لٹریچر کی ہے جو کہ ہمیں دو ہزار سال تک پھیلے ہوئے زمانے کی معاشرت اور حالاتِ زندگی سے واقف کراتی ہے تو اس کی مذہبی حیثیت کیا ہونی چاہیے؟ دوہزار سال کے اس طویل عرصے میں جو کچھ باشندگان ہند کی معاشرت میں تبدیلی ہوئی اسے اس لٹریچر کی مدد سے کسی حد تک سمجھا جاسکتا ہے۔ اس مجموعہ کو اس کے موضوعات کی مناسبت سے چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
۱- سمہتSamhita یا گیتوں کا مجموعہ ۲- برہم
۳- آریک Aryan Yakas ۴- اپنشد

چاروید:

اول الذکر سمہت کے چار حصے ہیں جو وید کے نام سے معروف ہیں سب سے پرانا وید رگوید ہے گرچہ پرانوں کے مطابق سب سے پہلے یجروید تھا اس کو توڑ پھوڑ کر چار وید بنالیے گئے۔ (بحوالہ ہندوازم) ان دو ویدوں کے علاوہ اتھروید اور سام وید بھی اپنی مستقل حیثیت رکھتے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ بائبل عہد عتیق اور عہد جدید کی طرح ویدوں پر بھی ایک زمانہ ایسا آیا جب وہ بالکل ضائع ہوگئے کہا جاتا ہے کہ شروع میں ایک ہی وید تھا۔ بعد میں رشی ویاس جی نے چار حصوں میں تقسیم کردیا۔ کیونکہ معلوم تاریخ کے مطابق وید ضائع بھی ہوچکے تھے اور ویاس جی نے انھیں ازسر نو ترتیب دیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ وہی وید ہے جو بھلادیا گیا تھا یا ضائع ہوگیا تھا۔ اس کے متعلق مسٹر گووند داس لکھتے ہیں: ’’ہم نہایت آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ کتابیں جو آج ہمارے پاس موجود ہیں، ویاس کے مرتب کردہ نسخہ کے مطابق نہیں ہیں۔ اس لیے کہ روایات کی رو سے ویاس بھی کئی ہوگزرے ہیں اور اس کے علاوہ ویدوں کے کئی اور ترتیب دہندگان، سمہت لٹریچر جو آج ہمارے پاس ہے، وہ تو اس مجموعہ کا پانچواں حصہ بھی نہیں جو آج سے قریب ۲۲۰۰ سال پیشتر مہا بھاشا کہ زمانے میں موجود تھا۔ (ہندوازم، ص ۹۴)

ویدوں کا زمانہ تصنیف اور تعلیمات:

ویدوں کی تعلیم اور عقائد اور اوستا (مذہب زرتشت کی کتاب) میں بہت کچھ مماثلت پائی جاتی ہے اسی لیے مؤرخین نے ویدوں کا زمانہ تصنیف متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ اس میں بھی کچھ اختلافات ہیں۔ مسٹر بال گنگا دھر تلک ان کی تصنیف کا زمانہ ۴۰۰۰ ق م اور مسٹر ہاگ قریب ۲۴۰۰ ق م قرار دیتے ہیں۔ البتہ پروفیسر میکس ملر کی تحقیق کی رو سے ان کا زمانہ زیادہ سے زیادہ ۱۲۰۰ ق م قرار دیا جاسکتا ہے۔میکس ملر کے مطابق ویدوں کے عہد کو چار حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
۱- سوتر لٹریچر ۲۰۰ – ۶۰۰ ق م تک
۲- براہمن ۶۰۰ سے ۸۰۰ ق م تک
۳- منتر ۸۰۰ سے ۱۰۰۰ ق م تک
۴-چھند (رگوید کے آخری حصہ سمیت) ۱۰۰۰ سے ۱۲۰۰ ق م تک۔

ویدوں میں متعدد بار تحریفات بھی ہوتی رہیں اور حذف و اضافہ کا عمل بھی جاری رہا۔ یہ حقیقت پوران میں اس طرح بیان کی گئی ہے کہ ’’اس ایک وید میں متعدد بار تحریف ہوئی ہے۔ رشیوں کی نسلوں نے اس میں نگاہ کی خرابی اور دل کی لغزش کی وجہ سے بہت سی اختلافی چیزیں داخل کردیں۔ (بحوالہ مذاہب عالم کی آسمانی کتابیں، ص ۹۹)

ویدوں کے مطالعہ سے ہمارے سامنے قدیم آریوں کے معاشرتی حالات کی ایک تصویر اور ان کی زندگی کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ مثلاً یجروید، ادھیائے ۱۲ منتر ۸۲ میں لکھا ہے : ’’اے انسان! جس طرح طاقت ور گائے نباتات کھا کر بچھڑے اور انسانوں کے لیے عمدہ دودھ دیتی ہے اسی طرح تو بھی پھل پھولوں کے رس کا استعمال کرکے اپنے جسم اور آتماکی طاقت حاصل کر۔،، ویدوں میں خدا کا تصور شرک کی آمیزش لیے ہوئے ہے کیونکہ ہندو دھرم کی اساس دیوتاؤں کی پرستش پر ہے۔ اسی لیے اتھروید کھنڈ ۱۱، اشلوک ۲، منتر ۵-۶ میں لکھا ہے : ’’ہے پشوپتی! جیوؤں کے سوامی پرماتمن! تیرے مکھ کو نمسکار ہے۔ ہے پربھو! سرواتپاک ایشور! تیری جو چکشوئیں (آنکھیں) ہیں، ان کو نمسکار ہے۔ تیری تووچا (چمڑی، جسم) کو نمسکار ہے۔ ہے پرمیشور! تیرے انگوں کو نمسکار ہے۔ تیرے اور بھاگ کو نمسکار ہے، تیری جیبھ کو نمسکار ہے۔،، اسی طرح ہر کام اور ہر ضرورت کے الگ الگ دیوتا ہیں بلکہ ہر چیز کا جداگانہ دیوتا ہے مثال کے طور پر اتھروید کھنڈ ۵ اشلوک ۲۴ میں ہے ’’سوتا دیوتا حاملہ عورتوں کا دیوتا ہے۔ اگنی دیوتا نباتات کا مالک ہے وغیرہ۔،، دیوتاؤں کی تعداد کے متلق گووند داس جی لکھتے ہیں :’’ویدوں میں ۳۳ دیوتا تھے لیکن بعد میں ان کی تعداد ۳۲ کروڑ پہنچ گئی۔،،
معاملات کی دنیا اور عائلی زندگی کے متعلق ویدوں کی تعلیم کا ایک حد تک اندازہ اتھروید کھنڈ ۵ اشلوک ۱۷، منتر ۱۱-۸ سے لگایا جاسکتا ہے اس میں لکھا ہے کہ ’’اگر کسی ایک عورت کے پہلے دس غیر برہمن خاوند موجود ہیں اگر برہمن اس کا ہاتھ پکڑلے تو وہی اکیلا اس کا خاوند سمجھا جائے گا۔،، (ص۱۱۵، مذاہب عالم کی آسمانی کتابیں)
اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ وید بھی خدا کے صحیح تصور اور اس کے نتیجے میں نظام زندگی کی تعمیر کے باب میں واضح رہ نمائی کرنے سے قاصر ہیں۔ وما علینا الا البلاغ المبین

Click Here to Read More

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

مذاہب عالم کی آسمانی کتابیں – قسط اول

محمد معاذ انسانی تاریخ کا مطالعہ دراصل قوموںکے عروج و زوال کی ...