بنیادی صفحہ / تجزیہ ۔ قومی / مدارس کے اساتذہ کی ٹریننگ ایک اہم ضرورت

مدارس کے اساتذہ کی ٹریننگ ایک اہم ضرورت

سید عبیدالرحمن، معروف تجزیہ نگار، مینیجنگ ڈائرکٹرگلوبل میڈیا پبلی کیشنز
مدارس میں نصاب تعلیم کے متعلق بہت تفصیل سے لکھا جا چکا ہے۔ پچھلی ایک دہائی میں کم وبیش سیکڑوں کتا بیں اس موضوع پر شائع ہو چکی ہیں۔ مدارس سے لے کر امریکی اور یوروپین یونیورسٹیز اور جامعات میں سیکڑوں پر وجکٹس اس موضوع سے متعلق مکمل کئے جاچکے ہیں۔ بلا مبالغہ کروڑوں ڈالرس کا ضیاع کرنے کے بعد بھی ’ڈھاک کے وہی تین پات‘ کی طرح بحث بدستور جاری ہے، اور مدارس میں اب بھی وہی کتابیں پڑھائی جارہی ہیں جن کے بدلنے کے بارے میں یہ ساری ریسرچ کروائی گئی تھیں۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مدارس کے نصاب پر ان ساری بحثوں کا کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ تبدیلی آرہی ہے حالانکہ اس میں کوئی شبہہ نہیں ہے کہ تبدیلی تدریجی ہونے کے بجائے کچھ زیادہ ہی تدریجی ہے، اور اگر اس طرح معاملہ چلتا رہا تو شاید دس بیس سالوں میں جاکر کوئی قابل ذکر تبدیلی سامنے آئے گی۔
نصاب تعلیم میں تبدیلی اور جدید کتب، مراجع، مصادر کی شمولیت نہایت اہم ہے۔ لیکن ایک اور بات جس پر ارباب حل و عقد اور مدارس کے ذمہ دار ان کی زیادہ توجہ اب تک مبذول نہیں ہوئی ہے وہ اساتذہ کے انتخاب اور ٹریننگ کے بار ے میں ہے۔
اس کو ایک سانحہ ہی کہا جائے کہ جب نرسری کی معلمات اور اساتذہ کے پری نرسری یا پری اطفال میں پڑھانے کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ وہ پرائمری ٹیچر ٹریننگ کا کورس مکمل کرچکے ہوں، اور جونیر کلاس میں بی ایڈ کے بغیر اساتذہ کا تقرر محال ہے، مدارس میں ٹیچر ٹریننگ کا سرے سے کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ مین اسٹریم اسکولوں میں اب تو بی ایڈ کا ہونا بھی تقرر کے لیے کافی نہیں ہے، اس سے ایک ہاتھ آگے بڑھ کر اب ان مستقبل کے اساتذہ کو جو بی ایڈ کی ڈگری حاصل کرچکے ہیں ایک دوسرے اور بہت سخت امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔
کہتے ہیں کہ بہت مشکل ہے ڈگر پنگھٹ کی۔ بی ایڈ کے بعد CTETکا امتحان اب سرکاری اسکولوں میں Appointment کے لیے ایک لازمی شرط ہے۔ اچھے پرائیویٹ اسکول بھی اب کوشش کرتے ہیں کہ وہ CTET پاس افراد کو ہی اپنے یہاں ملازمت دیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ایک سال صبح شام ایک کرنے کے بعد اور کئی ایک Projectsمکمل کرنے والے بی ایڈ فارغین میں محض ۱۵؍ سے ۲۰؍ فیصد طلبہ ہی CTET کو Qualify کر پاتے ہیں۔
لیکن مدارس میں اساتذہ کی ٹریننگ ایک ایسا موضوع ہے جس کے بار ے میں باقاعدہ بحث بھی شروع نہیں ہوئی ہے۔ ایک دوسرے اور نہایت اہم موضوع’ تبدیلئ نصاب‘ پر کچھ زیادہ ہی توجہ مبذول ہونے کی وجہ سے مدارس کے اساتذہ کی ٹریننگ کے باب میں اب تک کچھ نہیں کیا گیا۔
کئی ایک مدارس سے باقاعدہ روابط اور دوسرے مدارس کے اساتذہ سے مسلسل تعلق میں رہنے کے بعد یہ بات صاف طور پر سامنے آتی ہے کہ اس نہایت اہم موضوع پر اب تک کچھ نہیں کیا گیا ہے۔ عموماً مدارس میں تعلیم ختم کرنے کے بعد ایک طالب علم کو اسی مدرسہ میں ٹیچنگ کے لیے روک لیا جاتا ہے۔ بسا اوقات ایک مدرسہ کا فارغ طالب علم دوسرے مدرسے میں استاذ کے طور پر منتخب ہوجاتاہے۔ شروع میں عموماً اسے عربی کے ابتدائی درجات میں تعینات کیا جاتا ہے یہ سوچتے ہوئے کہ اس کلاس میں کوئی بھی پڑھا سکتا ہے، ایسے نئے اساتذہ فقہ، عربی ادب سے لے کر نحو، صرف اور بسا اوقات حدیث اور تفسیر کی کلاس بھی لینے لگتے ہیں۔
دو چار سال یا کچھ زائد عرصہ کے بعد یہی سینئر اساتذہ کے طور پر سینئر کلاسوں کے طلبہ کو پڑھانے لگتے ہیں۔ دیکھا یہ جاتا ہے کہ یہی اساتذہ جنہیں اپنی تعلیم کے دوران تربیت اساتذہ کے نام پر کوئی ٹریننگ نہیں دی گئی وہ ایسے مضامین بھی پڑھانے لگتے ہیں جن میں ان کو معمولی درک بھی حاصل نہیں ہوتا۔
بعض لوگ جو مدارس کا یونیورسٹیز سے مقابلہ کرتے ہیں ان کا ماننا ہے کہ مدارس عام اسکولوں کی طرح نہیں ہیں بلکہ اعلیٰ تعلیمی ادارے ہیں، جنہیں یونیورسٹیز کے اساتذہ کی طرح ہی عام ٹیچر ٹریننگ کی ضرورت نہیں۔ لیکن یہ بات واضح رہے کہ یونیورسٹی میں عموماً ان افراد کا تقرر ہوتا ہے جن کا اچھا خاصہ Academicکام ہو۔ بعض افراد جب یونیورسٹی کے انٹرویو دینے کے لیے آتے ہیں تو اپنے ساتھ ایک آدھ نہیں بلکہ ایک آدھ درجن مطبوعہ کتابیں لاتے ہیں۔ اب UGCنے باقاعدہ ایک Guideline جاری کردی ہے جس میں بالتفصیل اس کا ذکر ہے کہ کس طرح کی کتابیں Academic workکے طور پر قبول کی جائیں گی۔
میں یہ نہیں کہتا کہ مدارس باقاعدہ سرکاری اور غیر سرکاری بی ایڈ کالجز کے طرز پر اساتذہ مدارس کے لیے ٹریننگ کالجز شروع کریں۔ لیکن کم سے کم یہ تو کیا ہی جاسکتا ہے کہ ان کو منتخب کرنے کے بعد ایک Moduleتیار کرکے ان کی ٹریننگ کا انتظام کیا جائے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دوسرے اسکولوں کی مانند مدارس کے اساتذہ بھی طلبہ کی تعلیمی Performance میں ایک بڑا رول ادا کرسکتے ہیں۔ اساتذہ کی اپنی تعلیمی لیاقت، ان کا رجحان، ان کی ذہنی صلاحیت اور IQ levelطلبہ کی ذہنی اور فکری نشوونما میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ اساتذہ کی ٹریننگ میں ان سب بنیادی چیزو ں پر کافی زور دیا جاتاہے۔ اگر اساتذہ میں تعلیمی صلاحیت، مطالعہ اور تدریسی شعور ہے تو ان کی مزید نشو ونما اور فروغ میں اساتذہ مدارس کی ٹریننگ ایک اہم رول ادا کرسکتی ہے۔
مدارس میں اساتذہ کی ٹریننگ کئی اعتبار سے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ مدارس میں تنخواہوں اور Compensationکا معیار ہمیں بخوبی معلوم ہے، اس لیے اچھے طلبہ اپنے مستقبل کا خاکہ محض مدارس کی تعلیم کے ارد گرد اور صرف اسی تعلیم پر انحصار کرکے نہیں بناتے ہیں۔ ذہین طلبہ کے ذہنوں میں کورس پورا ہونے سے پہلے ہی یہ بات واضح رہتی ہے کہ عالمیت یا فضیلت کے بعد انہیں کس یونیورسٹی کے کس کورس میں ایڈمیشن لینا ہے۔ کئی طلبہ تو آج کل مدارس کی تعلیم کے ساتھOpen Universities سے بی اے کے کورس یا تو فضیلت پوری ہونے سے پہلے کرلیتے ہیں یا کرنے کے قریب ہوتے ہیں۔ اکثر طلبہ جلد از جلد مدرسہ کے باہر آکر مزید کچھ کرنے کے متمنی ہوتے ہیں۔
عموماً وہ طلبہ مدارس سے وابستگی اور وہاں پر تدریس کو ترجیح دیتے ہیں جن کا یا تو قلبی لگاؤ وہاں سے زیادہ ہو، یا پھر ان کے اندر مادر علمی کی خدمت کا جذبہ بطور اتم موجود ہو۔ میں سب سے آخر میں اس ذیل میں یہ بھی تذکرہ کردوں کہ بہت سے وہ طلبہ مدارس میں تدریسی خدمات ادا کرنے کی حامی بھرتے ہیں جو یا تو اوسط درجے کے طلبہ ہوں یا پھر کسی اور وجہ سے وہ تدریس کو مستقبل کے طور پر دیکھنا چاہتے ہوں۔
لیکن تدریسی ٹریننگ کی کمی کی وجہ سے مدارس اسلامیہ کے لاکھوں نونہالوں کو دس پندرہ سال کے مدارس کے تعلیمی سفر میں وہ تعلیمی ماحول فراہم نہیں ہوپاتا جو ان کی صلاحیتوں کو جلا بخشتا اور تعلیمی اور فکری صلاحیتوں کو نکھارنے میں کام آتا ،Pedagogical skills کی کمی کے سبب اساتذہ کو ساری عمر نہیں پتہ چلتا کہ کس طرح وہ طلبہ کو صحیح تعلیمی رہنمائی فراہم کرسکتے ہیں۔ طلبہ کی نفسیات سے ناواقفیت کی بنا پر ایک وہ مدرس جو بہت اچھی طرح طلبہ کی رہنمائی کرسکتا تھا ساری زندگی ان کو اس طرح پڑھاتا ہے کہ بچوں کو کچھ سمجھ میں نہیں آتا اور سال پورا ہوجاتا ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ سالہا سال مدرسہ کے سخت ماحول میں گزارنے کے بعد جب طالب عالم باہر آتا ہے تو وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ اس سارے عرصے میں اس نے علم کے نام پر جو کچھ حاصل کیا ہے وہ اس کے مستقبل کے بنانے میں بہت کم کام آنے والا ہے۔
دس پندرہ سال گزارنے کے بعد نہ تو طالب علم عربی زبان سے صحیح طریقہ سے واقف ہوپاتا ہے نہ ہی ادب سے واقف۔ اکثر طلبہ کو اگر دوچار سطر عربی میں لکھنی پڑے تو مشکل ہوجائے اور اگر کسی نے جدید لٹریچر یا اخبار سامنے رکھ دیا تو بڑی مشکل سے کام نکل پاتا ہے۔ بعض مدارس میں جو جدید مضامین شامل کیے گئے ہیں ان کے بارے میں کچھ نہ کہنا ہی بہتر ہے۔ عموماً استاذ اور طالب علم اس میں ایک صفحہ پر ہی ہوتے ہیں۔ نہ استاد کو مضمون کا درک ہوتا ہے اور نہ طالب علم کو۔ بعض ذہین طلبہ جو ان کتابوں کا مطالعہ کرکے آتے ہیں وہ اساتذہ کو کافی اذیت ناک لمحات سے دو چار کرتے ہیں کیونکہ استاذ نے بھی بس یہی پڑھ رکھا تھا۔
مدارس کا المیہ ایک فرسودہ نظام تعلیم ہی نہیں بلکہ پورے سسٹم میں پڑی دوسری بڑی خامیاں بھی ہیں جس میں ٹرینڈ اساتذہ کی اور اساتذہ کی ٹریننگ کا سرے سے کوئی نظم ہی نہ ہونا بھی شامل ہیں۔
مدارس کے طلبہ دین کا مستقبل ہیں اور یہ قوم کے مستقبل کے رہنما ہیں۔ کیا اس پورے مدارس اسلامیہ کے نصاب اور اس میں تعلیمی صورتحال کو دیکھ کر لگتاہے کہ ہم قوم کے رہنماؤں کو ٹریننگ دے رہے ہیں؟ کیا ہم انہیں مستقبل کی قیادت کے لیے تیار کر رہے ہیں؟
ضرورت اس بات کی ہے کہ جلد از جلد نصاب کو جدید حالات کے مطابق ڈھالا جائے۔ جس زمانے میں ملا نظام الدین نے درس نظامی تیار کیا تھا وہ اس زمانے میں Civil Servantsکو تیار کرنے کے عین مطابق تھا۔ کیا ہمارا نصاب بھی موجودہ زمانے میں Civil Servants اور مستقبل کے قائدین کو تیار کرنے کے لیے کافی ہے؟

تعارف: admin

ایک تبصرہ

  1. بلکل درست بھت عمدہ کالم ہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

سنگھ پریوار: ترجیحی عدم توازن کا شکار

عقل مند وہ ہے جو دوسروں کی غلطی سے ہوشیار ہوجاتا ہے ...