بنیادی صفحہ / تجزیہ ۔ قومی / مدارس اسلامیہ کا تربیتی نظام

مدارس اسلامیہ کا تربیتی نظام

عبدالرب فلاحی، جامعہ ملیہ اسلامیہ

رسول اکرمؐ کی بعثت کے جہاں کئی مقاصد بیان ہوئے ہیں، وہیں ان کا ایک اہم مقصد تربیت وتزکیہ بھی بیان ہواہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بعثت نبوی کے مقاصد یوں بیان کئے ہیں’’ھو الذی بعث فی الأمیین رسولاً منھم یتلو علیھم آیاتہ و یزکیھم و یعلمھم الکتاب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلال مبینo (سورۃ الجمعۃ:2) ترجمہ: وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول خود ان ہی میں سے اٹھایا جو انہیں اس کی آیات سناتا ہے، ان کی زندگی سنوارتا ہے، اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے وہ کھلی گمرہی میں پڑے ہوئے تھے۔
بعثت نبوی کے ان مقاصدکا قرآن میں چار مرتبہ ذکر ہوا ہے، اور چاروں جگہ تزکیہ کا ذکر آیا ہے۔ یہ صرف آپ کی رسالت کے ساتھ خاص نہیں تھا، بلکہ پچھلے جتنے بھی انبیاء آئے ان کا مقصد بھی لوگوں کی تربیت و تزکیہ ہی تھا۔ رسول اللہؐ اصحاب الصفہ کی تعلیم کے ساتھ تربیت بھی خوب کرتے تھے، تاکہ بعد میں وہ معاشرے میں دونوں چیزوں کو عام کرسکیں۔ یہیں سے مدارس کا یہ مقصد قرار پایا کہ وہ دین کی تعلیم کو عام کریں اور اس کی روشنی میں افراد کی تربیت و تزکیہ کا انتظام کریں۔ قرآن و احادیث میں افراد کی تربیت اور اس کے تزکیہ پر بہت زور دیا گیا ہے، چنانچہ مدارس اسلامیہ نے بھی اس چیز کو اپنے نظام ونصاب میں اہمیت دی۔دوسری طرف فارغین مدارس پر نظر ڈالئے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تربیت و تزکیہ کے اس انبیائی مشن میں کافی کوتاہیاں ہورہی ہیں جس کی وجہ سے اس صالح تربیت کا اثر فارغین مدارس اور طلبہ مدارس پر نظر نہیں آتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انبیاء، ائمہ، محدثین، صلحاء و اکابرین ماضی میں تربیت و تزکیہ پر جیسی توجہ دیتے رہے ہیں اس میں کمی بہر حال آئی ہے۔ اس مضمون میں ان ہی پہلوؤں پر گفتگو کی گئی ہے۔ سب سے پہلے ہم تربیت و تزکیہ کے مفہوم کو سمجھتے ہیں۔
تزکیہ عربی لفظ ہے جس کے معنی کسی چیز کو صاف ستھرا بنانا، اس کو نشوو نما دینا اور اس کو پروان چڑھانا ہے۔ گویا بنیادی طور سے اس لفظ کے اندر دو طرح کے معنی پوشیدہ ہیں ایک تو یہ کہ کسی چیز کو گندگی، آلائشوں اور کمزوریوں وغیرہ سے پاک کرنا، دوسرے یہ کہ اس کی صلاحیتوں کو ممکنہ حد تک پروان چڑھانا، مثلاً اگر اس کا اطلاق زمین کے ساتھ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کو جھاڑ جھنکار اور خود رو پودوں سے صاف کیا جائے۔ پتھر و کنکر اور ضرر رساں چیزیں اس سے نکال باہر کی جائیں اور اسے پانی و کھاد دے کر اس قابل بنایا جائے کہ وہ اپنی فطری صلاحیتوں کے مطابق کسی بیج کو پودے کی شکل دے سکے، اور اسے پروان چڑھا سکے۔ اور اسی لفظ کا اطلاق اگر افراد کے لیے ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کو باطل افکار و نظریات سے پاک کرنا، باپ دادا کی اندھی تقلید سے بچانا، توہمات اور سماجی برائیوں سے روکنا، قابل اعتراض چیزوں سے دور رکھنا، انہیں ایک صالح مومن بنانا اور ان کی اچھائیوں میں اضافہ کرنا۔ گویا تزکیہ کا عمل مختلف چیزوں پر مختلف صورتوں میں ظاہر ہوگا۔
مولانا مودودیؒ نے ’’و یزکیھم‘‘ کا ترجمہ ’ان کی زندگی سنوارتا ہے‘ سے کیا ہے۔ جس کی تشریح میں مولانا لکھتے ہیں: ’’نبیؐ لوگوں کی زندگی سنوار رہے ہیں، ان کے اخلاق و عادات اور معاملات کو ہر طرح کی گندگیوں سے پاک کر رہے ہیں، اور ان کو اعلی درجے کے اخلاقی فضائل سے آراستہ کر رہے ہیں۔ یہ وہی کام ہے جو اس سے پہلے تمام انبیاء کرتے رہے ہیں۔ پھر وہ آیات سنانے پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ ہر وقت اپنے قول و عمل سے اور اپنی زندگی کے نمونے سے لوگوں کو کتاب الٰہی کا منشا سمجھا رہے ہیں۔‘‘ (تفسیر سورۃ الجمعہ، تفہیم القرآن جلد پنجم ص: ۴۸۷)
تزکیہ نفس قرآن مجید کی ایک جامع اصطلاح ہے۔ جس کے اندر ایک جامع تعلیم کا پیغام پوشیدہ ہے، اس سے فرد اور معاشرے دونوں کا تزکیہ مطلوب ہے۔ اور یہ انسانی زندگی کے ہر گوشہ پر محیط ہے۔ یہ جسم، روح اور عقل تینوں کو پاک کرنے اور ان کو نشوو نما دینے کا کام کرتا ہے۔ تزکیہ جہاں ایک طرف افراد کی نشو ونما کرتا ہے وہیں دوسری طرف معاشرہ کی تعمیر و ترقی میں بھی نمایاں رول ادا کرتا ہے۔ تزکیہ نفس اپنے کشادہ و وسیع مفہوم میں افراد کے اندر تقوی، خلوص، دیانت داری، بھائی چارہ، رحم دلی، عفو و درگزر اور عزم و بہادری جیسے اوصاف اسی لیے پیدا کرتا ہے کہ وہ معاشرے کا اٹوٹ حصہ بنیں اور اس کی تعمیر و ترقی میں اپنا رول ادا کریں۔ اسی کے ساتھ دوسری نیکیوں کو پھیلانے اور برائیوں پر روک لگانے کا بھی حکم دیا گیا ہے تاکہ معاشرہ میں بھلائیوں کا بول بالا ہو، اور برائیوں کا سر کچلا جاسکے، اور معاشرہ بحیثیت مجموعی بہترین اخلاقی اصولوں کاگہوارہ بن سکے۔
تاریخ کے ہر دور میں لوگوں نے تزکیہ کے عمل کو جاری رکھا، البتہ وقت اور افراد کے مزاج کے ساتھ اس کے طریقے تبدیل ہوتے رہے، اور اس میں بدلاؤ آتارہا۔ اور زمانہ کے حساب سے تزکیہ کے لیے اس کے ہم معنی الفاظ مثلاً تربیت، تصوف، احسان وغیرہ بھی مستعمل رہے ۔
قرآن کی روشنی میں تربیت و تزکیہ کا جو مفہوم بیان ہوا ہے اس کا مختصر خاکہ مندرجہ ذیل سطور میں پیش کیا گیا ہے، مدارس دینیہ اس مختصر اور کم سے کم حصہ کو اپنے تربیتی نظام میں شامل کریں، بغیر اس کے اس انبیائی مشن کی تکمیل کسی بھی صورت ممکن نہیں۔
برصغیر ہند کے اہم اور نمایاں مدارس پر اگر نظر ڈالی جائے تو ان کے تعارفی لٹریچر میں تربیتی نظام کا خلا محسوس ہوتا ہے۔ بعض مدارس نے اس کو واضح تو کیا ہے لیکن تربیت و تزکیہ کے اصولوں کو حاصل کرنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جائے اس کا کوئی تفصیلی خاکہ تحریری شکل میں موجود نہیں ہے۔ البتہ نظم و تربیت کے لحاظ سے جو چیز اکثر مدارس کے تعارفی لٹریچر میں موجود ہے وہ خطابت و صحافت کی مشق، تحقیق و مطالعہ کی ترغیب، کھیل کود اور ورزش کے مواقع، اساتذہ کے وعظ و نصیحت، خارجی جماعتوں و تحریکوں میں شرکت اور عملی تربیت وغیرہ ہیں۔ اس کے علاوہ احکام شریعت کی پابندی، اخلاقی حدود کی پاس داری، وضع قطع کا لحاظ اور منکرات سے اجتناب کے لیے کچھ اصول و ضوابط بھی ہیں لیکن ان میں سے کسی کا بھی کوئی تفصیلی خاکہ موجود نہیں ہے۔
دور حاضر میں مدارس کا تربیتی نظام مربی/ نگراں کی ذات گرامی پر بالکلیہ منحصر ہے اور یہ ان کی صلاحیت، دینی واخلاقی کیفیت، ذوق و مزاج اور محنت و لگن پر منحصر ہوتا ہے۔ چونکہ ان حضرات کے سامنے کوئی واضح نظام یا نقشہ کار موجود نہیں ہوتا اس لیے سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی روایات کی بنیاد پر اپنے ذوق و مزاج اور وجدان کے لحاظ سے پورا نظام تربیت چلانا ہوتا ہے، اس لیے جس طرح وہ چاہتا ہے اس نظام کو چلاتا ہے۔ ان کے فیض سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے وہ طلبہ ہوتے ہیں جو مربی سے زیادہ قریب رہتے ہیں اور ان کی ذات گرامی کی خدمت میں زیادہ وقت لگاتے ہیں۔
آج کل مدارس میں نصاب تعلیم اور نظام تعلیم کو لے کر بڑے بڑے اجتماع، سمینار اور میٹنگ وغیرہ ہوتی ہیں ۔اس سے میری مراد اس کی اہمیت کی تنقیص نہیں۔ لیکن ان میں شاید ہی نظام تربیت زیر بحث آتا ہو۔ نظام تربیت کو موضو ع بحث بنا کر کمزوریوں کا ازالہ کرنے اور اس کو مزید بہتر سے بہتر بنانے اور ایک مبسوط اور مؤثر نظام تربیت مرتب کرنے کی ضرورت ہے، ہمارا نظام تربیت کیسے مرتب ہو، اس کے خط و خال کیا ہوں، اس کا اندازہ ہمیں اسلاف کی گراں قدر تصانیف سے ہوگا۔ تزکیہ نفس اور شخصیت کے ارتقاء پر اسلاف نے بہت وقیع لٹریچر تیار کیا ہے۔
دور حاضر میں (NCERT) اور Iqra International Educational Foundationکی تصانیف میں دیکھتے ہیں کہ ہر کام کی مفصل گائڈ لائن تحریری طور پر موجود ہوتی ہے۔ مثلاً تدریس کے لیے کوئی کتاب مختص ہے تو اس کو پڑھانے کا مقصد کیا ہے، کیسے پڑھائی جائے، امتحان کیسے لیا جائے وغیرہ سب تحریری طور پر موجود رہتا ہے۔ اسی طرح کھیل کود وغیرہ کے اصول و ضوابط، فوائد و نقصانات وغیرہ بھی ہیں، موجودہ مدرسے کا تعلیمی نظام ابھی تک قدیم طرز پر چل رہاہے۔ اس کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے خصوصاً نظام تعلیم اور نظام تربیت کا مفصل خاکہ تیار کیا جائے، اسلاف کی تحریروں کی روشنی میں، تاکہ معلم صرف اس کو سانچے میں ڈھالنے کا کام کرے۔ اس سے ایک طرف افراط و تفریط کا امکان ختم ہوگا، اور دوسری جانب متوقع نتائج برآمد ہونے کے امکان میں بھی اضافہ ہوگا۔
تربیت و تزکیہ کے مقاصد:
جب تک کسی کام کے کرنے کا مقصد واضح نہ ہو اس سے کما حقہ فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا، مقاصد کا شق بہ شق واضح ہونا بہت ضروری ہے، عموماً ہمارے مدارس میں تربیت و تزکیہ کے مقاصد کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ کسی کام کا مقصدضروری نہیں کہ صرف ایک ہو، کئی مقاصد بھی ہوسکتے ہیں، چنانچہ تربیت و تزکیہ کے مقاصد کو اس طرح نکات کی شکل میں واضح کیا جاسکتا ہے:
(۱) قرآن کی اس انداز سے ہمہ جہت تعلیم کہ طلبہ کی شخصیت پر اس کا اثر نمایاں ہو، اور وہ ’’کان خلقہ القرآن‘‘ کا نمونہ بن سکیں۔
(۲) حدیث نبویؐ اور سیرت رسولؐ کی تعلیم جو کہ عبادات، اخلاقیات، معاملات اور زندگی کے ہر شعبہ پر محیط ہے اس کی روشنی میں شخصیت کا ارتقاء۔
(۳) قرآن کے تین بنیادی عقائد توحید، رسالت و آخرت کی اس نہج پر تعلیم کہ شرک و بدعات، خرافات، باطل رسوم و رواج کا اس طرح ابطال ہو کہ وہ دوبارہ راہ نہ پاسکیں، اور دعوت دین کی راہ میں ان چیزوں کی تنکیر آسانی سے کی جاسکے۔
(۴) تربیت و تزکیہ میں اس بات کی خصوصی تعلیم دی جائے کہ اسلام ایک مکمل حیات نظام ہے جو کہ زندگی کے ہر شعبہ میں رہنمائی کرتا ہے اسی کی روشنی میں لائحہ عمل تیار کیا جائے۔
(۵) معاشرے کی اصلاح و تعمیرمیں الٰہی ہدایات کے مطابق سعی کرتے رہنا۔
(۶) امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لیے طلبہ کو تیار کرنا۔
(۷) حالات حاضرہ سے مکمل واقفیت اور درپیش مسائل اور چیلنجز کا حل قرآن کی روشنی میں تلاش کرنا۔
(۸) طلبہ کی تربیت اس نہج پر کرنا کہ وہ جزوی و فروعی، جماعتی و مسلکی اختلافات سے بالا تر ہوں، اور وسعت قلب و نظر کے ساتھ معاشرہ میں دین کی خدمت کے لیے کوشاں رہیں۔
(۹) صحت و تندرستی کی حفاظت کے لیے کھیل کود اور جسمانی ورزش کے مواقع فراہم کرنا۔
عملی خاکہ:
مندرجہ بالا جو مقاصد تربیت و تزکیہ کے بیان کیے گئے ہیں ان کو اگر عملی جامہ نہ پہنایا جائے تو ان کی مثال بھی جزدان میں رکھے ہوئے قرآن کی سی ہوگی، جس کو آدمی تبرکاً کبھی کبھار تلاوت کرلے اور اس کے مطالب جاننے کی کوشش نہ کرے۔ لہٰذا ان نکات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بھی ایک لائحہ عمل تیار کیا جائے تاکہ ان کا نفاذ آسانی سے ہوسکے۔
(۱) طلبہ کو مختلف گروپ کی شکل میں یا فرداً فرداً میدان عمل میں بھیجنا تاکہ وہ معاشرہ میں الٰہی ہدایات کو عام کرسکیں۔ اس سے جہاں معاشرے میں بھلائیوں کی اشاعت ہوگی، وہیں طلبہ کو تجربات حاصل ہوں گے جن کی روشنی میں وہ سماج کے دیگر مسائل کے حل میں بھی شریک ہوسکیں گے۔
(۲) امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے طلبہ سے عام مسلمانوں کے درمیان تقاریر، وعظ و نصیحت، دروس قرآن و حدیث کی خدمت لینا۔
(۳) طلبہ کو دنیا میں رائج افکار و نظریا ت اور حالات حاضرہ سے واقفیت کے ذرائع فراہم کرنا اور دور حاضر کے مسائل و مشکلات کا حل قرآن و سنت کی روشنی میں طلبہ سے حل کرانا، ابتدا میں اساتذہ کی رہنمائی اس عمل میں ضروری ہے۔
(۴) مختلف افکار و نظریات اور مکاتب فکر کا بڑے پیمانے پر لٹریچر طلبہ کو فراہم کرایا جائے، تاکہ طلبہ تمام مکاتب فکر سے واقف ہوں اور اس سے غلط فہمیوں کے ازالہ میں آسانی ہوسکے اور وسعت قلب نظر کے ساتھ معاشرے کی اصلاح کا کام ہوسکے اور دوسرے مکاتب فکر پر طعن و تشنیع سے بچا جاسکے۔
(۵)مدارس اپنے نصاب تعلیم میں تمام مکاتب فکر کی کتب شامل کریں، تاکہ طلبہ گروہی، جماعتی اور مسلکی اختلافات میں مبتلا نہ ہوں۔
(۶) اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے جو کہ زندگی کے ہر شعبہ میں رہنمائی کرتا ہے، اساتذہ اپنے عمل سے اس کا نمونہ پیش کریں تاکہ طلبہ ان ہی کے نقش قدم کی پیروی کریں۔
(۷) شرک و بدعات اور باطل رسومات کے ازالہ کے لیے اولا طلبہ کو توحید، رسالت و آخرت کی واضح تعلیم دی جائے پھر اس کی روشنی میں طلبہ میدان میں کام کریں۔
(۸) صحت و تندرستی کے پیش نظر طلبہ کو ورزش کا سامان مہیا کرایا جائے۔ کھانے میں وٹامن اور پروٹین وغیرہ کا لحاظ کیا جائے۔ کھیلوں میں ایسے کھیل تجویز کیے جائیں جن میں طلبہ کی زیادہ سے زیادہ ورزش ہوسکے، صبح فجر کے بعد تھوڑے وقفہ کے لیے سب کو ورزش کی ہدایت کی جائے۔
مروجہ نظام کی اصلاح اساتذہ و ذمہ داران کے تناظر میں
عملی خاکہ اگر تیار ہوجائے تو سب سے پہلے اساتذہ کو اس کی تفہیم کرائی جائے، اور اساتذہ کی تربیت کا نظم کیا جائے۔ آج کل ہر یونیورسٹی، کالج اور اسکول کے اساتذہ کے لیے سال میں ایک مرتبہ دو تین ہفتوں کا تربیتی کیمپ لازماً لگایا جاتا ہے۔ لیکن افسوس کہ ہمارے مدارس میں اس طرح کی چیز شاذ و نادر بلکہ مفقود ہیں۔ عملی زندگی میں ہم ناتجربہ کار ڈرائیور، درزی، طباخ وغیرہ سے کام لینا پسند نہیں کرتے، تو ہم یہ کیسے توقع کرتے ہیں کہ ایک ناتجربہ کار مربی لائق و فائق افراد تیار کرے، اس کی مثال ببول کے درخت سے آم کی توقع کے مترادف ہے۔اس سلسلے میں ذیل کے امور لائق توجہ ہیں:
(۱) وسعت فکر و نظر : اولا ہمارے اساتذہ اپنے اندر وسعت فکر و نظر پیدا کریں تاکہ وہ طلبہ کی ہمہ جہت تربیت کرسکیں، کسی ایک نقطہ نظر، مسلک وغیرہ سے چپک کرنہ بیٹھے رہیں۔
(۲) زمانہ اور اس کے تقاضوں کا شعور: اساتذہ اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ ہمیشہ زمانے کے ساتھ چلیں، حالات حاضرہ پر گہری نظر ہو، دور حاضر میں درپیش مسائل کا حل موجود ہو۔ تربیتی کیمپ میں اساتذہ کی اس جانب توجہ ضرور مبذول کرائی جائے۔
(۳) جدید و سائل سے استفادہ: مدارس کے اساتذہ اکثر جدید ٹکنالوجی سے واقف نہیں رہتے، اساتذہ پہلے خود جدید وسائل و ٹکنالوجی سے متعارف ہوں، اور اسی نہج پر طلبہ کو بھی سہولیات فراہم کریں۔ اس طرح جدید وسائل اور ٹکنالوجی کو دعوت واصلاح کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔
(۴) جدید نئی قیادت کا وجود: مجموعی مدارس پر اگر نظر ڈالی جائے تو ان میں بزرگ اساتذہ کی تعداد نوجوانوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ملے گی۔ اساتذہ کو یہ بات ذہن نشین کرائی جائے کہ نئی نسل اس لحاظ سے تیار کی جائے کہ وہ مستقبل میں مدارس میں تدریسی خدمات انجام دے سکے۔
(۵) تربیتی کیمپ کے ذریعے اساتذہ کے اندر اس شعور کو پیدا کیا جائے کہ وہ نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے ذریعہ امت اور قوم کا مستقبل تیار کر رہے ہیں۔
مروجہ نظام کی اصلاح۔ طلبہ کے تناظر میں:
طلبہ مدارس کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ا ن کے پاس کوئی ہدف اور گول نہیں ہوتا۔ فراغت کے بعد ان کو یہ سوچنا پڑتا ہے کہ اب کیا کریں۔ طلبہ جس وقت بھی مدرسہ میں داخل ہوں اساتذہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان کا ہدف واضح کرنے میں ان کی مدد کریں۔ عصری اسکولوں کے طلبہ میں روز اول سے یہ ہدف متعین کرادیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ان کو اس طرح کی پریشانیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا جس سے طلبہ مدارس دوچار ہوتے ہیں۔
دوسری اہم چیز جس کی طرف تمام ہی مدارس کو توجہ دینی چاہیے وہ مشق خطابت میں موضوعات کا تعین ہے۔ دعوت دین کے لیے فن خطابت ضروری ہے لیکن اگر اس میں صحیح موضوعات کا تعین نہ ہو تو وہ مضر ثابت ہوتا ہے اور سامعین کو متنفر کرسکتا ہے۔ بعض اداروں میں مثبت فکر، موضوعات میں تنوع، زمانہ سے آہنگی، سنجیدہ و معیاری اسلوب پر مشق خطابت ہوتی ہے، لیکن بعض مدارس ایسے ہیں جن میں صرف ردّ بریلویت، ردّ مودودیت، ردّ دیوبندیت جیسے مضامین پر جارحانہ مشق کرائی جاتی ہے۔ مقصد صرف ایک دوسرے کے جذبات کو مجروح کرنا، اور ایک دوسرے کو چپ کرنے کی کوشش ہوتا ہے۔ ظاہر ہے اس اسلوب بیان کی تعلیم نبیؐ نے نہیں دی۔ اگر کسی سے کوئی غلطی صادر ہوتی تو آپؐ بغیر نام لیے ہوئے شائستگی کے ساتھ تمام افراد کے سامنے اس چیز کی مذمت فرماتے اور صحیح نقطہ نظر کی نشاندہی کرتے۔
یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر تمام ہی مکاتب فکر کو غور کرنا چاہیے، وہ طلبہ کی اس نہج پر تربیت کریں کہ طلبہ صرف عوام کی داد و تحسین نہ قبول کریں، بلکہ آخرت میں اس کے متعلق جواب دہی کا خیال بھی رکھیں۔
تربیت کے نقطہ نظر سے اساتذہ کو طلبہ کی عزت نفس کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہیے۔ انداز تربیت میں اگر طالب علم کی عزت نفس کو مجروح کیا جاتا ہے تو وہ تربیت، تربیت نہیں رہ جاتی بلکہ مربی کے لیے طلبہ کے دل میں بغض و حسد اور نفرت کے بیج بوتی ہے۔ اسی نقطہ کے پیش نظر نبیؐ غلطی کرنے والے کی عزت نفس کا خیال کرتے اور عمومی انداز سے اصلاح فرماتے، نہ تو نام کا ذکر کرتے اور نہ ہی اس کی طرف اشارہ کرتے۔ اگر زیادہ سنگین مسئلہ ہوتا تو اکیلے میں سمجھاتے۔ ہمارے اساتذہ بھی اس طریقہ کو اپنائیں۔ طلبہ بہر حال طلبہ ہی ہیں، جن سے غلطیوں کا امکان ہے لیکن طلبہ کو خصوصاً بڑے طلبہ کو ڈانٹنا اور مارنا مناسب نہیں۔ عمومی طور سے اس کی اصلاح کی جائے یا پھر اکیلے میں سمجھانے کی کوشش کی جائے۔
بعض مدارس میں طلبہ کو کھانا اس طرح دیا جاتا ہے جیسے فقیروں کو، جو قطار در قطار کاسہ بدست ہوتے، ظاہر ہے عالم و فاضل طلبہ جو کل فارغ ہوکر معاشرہ میں قائدانہ رول ادا کریں گے ان کو اپنا پیٹ بھرنے کے لیے اس طرح کی ذلت سے دو چار کرنا کسی طرح مناسب نہیں، ہوسکتا ہے جس وقت اس نظام کو اپنایا گیا ہو،بعض مجبوریوں کی بنا پر ٹھیک رہا ہو لیکن اب بہر حال اس کو تبدیل ہونا چاہیے، اور طلبہ کی عزت نفس کو محفوظ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔
مدارس دین کے قلعہ ہیں۔ آج جو بھی اصلاح ہم اپنے معاشرے میں دیکھ رہے ہیں، وہ ان ہی مدارس کی دین ہے، ہماری یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اس قلعہ کو بوسیدہ نہ ہونے دیں اور اس کو مضبوط سے مضبوط تر بنائیں ۔ وقت کے گزرنے کے ساتھ مدارس اسلامیہ کے قلعوں میں جو بوسیدگی آئی ہے ان کو ہم اپنے مفید تجاویز و مشورہ سے دور کریں۔ یہ ہماری ہی ذمہ داری ہے کوئی دوسری قوم اس کے لیے آگے نہیں آئے گی۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

سنگھ پریوار: ترجیحی عدم توازن کا شکار

عقل مند وہ ہے جو دوسروں کی غلطی سے ہوشیار ہوجاتا ہے ...