بنیادی صفحہ / نظر / متعصب سماج میں دعوت حق کا فریضہ

متعصب سماج میں دعوت حق کا فریضہ

ابوسعد اعظمی

امت مسلمہ داعی امت ہے،اس کا نصب العین بالکل واضح ہے۔قرآن کریم نے اسے خیر امت کے لقب سے سرفراز کیا ہے۔اس کا مقصد ہی لوگوں کو ہدایت ورہنمائی فراہم کرنا ہے ، امر بالمعروف اورنہی عن المنکر اس کے مشن کا اٹوٹ حصہ ہے۔اس کے اندر ایک ایسے گروہ کا پایا جانا انتہائی ضروری ہے جو اسی کام کے لئے وقف ہو،خیر کی دعوت دے،بھلائی کاحکم کرے ،برائی سے روکے یہ قرآن کریم کا مطالبہ ہے۔قرآن کریم نے اس کا طریق کار بھی متعین کردیا ہے کہ دین کی دعوت او ر فریضۂ حق کی ادائیگی میں حکمت کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔گرد وپیش سے واقفیت،حالات کا صحیح فہم اور ماحول کی نزاکت کا احساس ہو تاکہ حکمت وموعظت کے ذریعہ اس ذمہ داری کو صحیح طور پر ادا کیا جاسکے۔انبیاء کرام کی سیرت کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے دعوت حق کے فریضہ کی ادائیگی میں اس حکمت کو خاص طور پر ملحوظ رکھا ہے اور اس راہ میں جن مسائل سے انہیں دوچار ہونا پڑاخندہ پیشانی کے ساتھ انہوں نے اس کا سامنا کیا ہے لیکن کبھی انہوں نے فریضہ حق کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں کی۔

ہندوستان ہمیشہ سے مختلف مذاہب کی آماجگاہ رہا ہے،بہت ساری تہذیبیں یہان پروان چڑھیں اور فنا ہوگئیں۔مذاہب سے عقیدت اوراس سے جذباتی وابستگی باشندگان ہند کے خمیر میں شامل ہے۔مذاہب کے نام پر عرصہ دراز تک ان کا استحصال بھی ہوتا رہاجس کی ایک طویل تاریخ ہے۔مسلمانوں کی آمد نے ہندوستان کا نقشہ ہی بدل دیا۔انہوں نے عدل وانصاف کی دعوت دی،اخوت کا درس دیا اور انسانی مساوات کا نعرہ بلند کیا۔دیکھتے ہی دیکھتے بلاد ہند کے طول وعرض میں مسلمانوں کا اثر ورسوخ بڑھتا گیا اور لوگ جوق درجوق آغوش اسلام میں پناہ لینے لگے۔پھر حالات نے کروٹ بدلی،انگریز ہندستان میں آئے اور اپنے سیاسی استحکام کے لئے انہوں نے ہندو مسلم اتحادمیں دراڑیں پیدا کرنی شروع کیں۔رفتہ رفتہ ان کے سیاسی اثر ونفوذ میں اضافہ ہوتا رہا اور ایک وقت وہ بھی آیا جب وہ ملک کے طول وعرض پر قابض ہوگئے۔آزادی کی تحریک شروع ہوئی اور بے شمار قربانیاں اور لاتعداد افراد کی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ہندستان کوآزادی نصیب ہوئی لیکن انگریز ہندو مسلم اتحاد کو پارہ پارہ کرنے میں کامیاب ہوگئے او ر ان کے درمیان نفرت وعداوت کا ایسا بیج لگادیا جس کی شاخیں اب تک بارآور ہیں۔اس پس منظر کی طویل تاریخ ہے جس کی یہاں گنجائش نہیں۔

ماضی قریب میں ہندوستان کے حالات نے جس تیزی سے تبدیل ہوئے ہیں اور مختلف سطح پر تعصب کو جس طرح فروغ حاصل ہوا ہے اس نے دعوت حق کی راہ میں پہلے سے کہیں زیادہ مسائل کھڑے کردیے ہیں اور ہمیں اس بات پر سوچنے کے لئے مجبور کردیا ہے کہ اس متعصب سماج میں دعوت حق کا فریضہ کیسے ادا کیا جائے۔اگرچہ متعدد ایسی مسلم جماعتیں ہیں جو اپنی سطح پردعوت حق کا فریضہ ادا کررہی ہیں اور اس کے خاطر خواہ نتائج بھی ہمارے سامنے ہیں ۔لیکن نوجوان اور طلبہ اس سلسلہ میں خوف واندیشہ کی جس عجب کیفیت سے دوچار ہیں وہ ہمارے سامنے بالکل واضح ہے اور ملک کے حالات پر جن افراد کی گہری نظر ہے ان کے نزدیک نوجوانان ہند کے یہ اندیشے بجا بھی ہیں ۔اس تناظر میں اس موضوع کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے کہ آج کے اس متعصب سماج میں دعوت حق کی ادائیگی کا صحیح طریقہ کیا ہو۔

قرآنی آیات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جو افراد اس عظیم مشن کے لئے کھڑے ہوں ان کے اندر چند صفات کا پایا جانا انتہائی ضروری ہے:
(۱) اللہ تعالی پر غیر متزلزل یقین
(۲) آخرت کا صحیح تصور
(۳) صبر واستقامت
(۴) نصب العین کاصحیح شعور اور عملی زندگی میں اس کی ہم آہنگی

اسی طرح قرآن کریم سے یہ بھی واضح ہے کہ دعوت کی راہ کبھی بھی آسان نہیں رہی ہے۔انبیاء کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہ ایک خارزار وادی ہے،اس میں مصائب ومشکلات کے انبار ہیں،ابتلاء وآزمائش کا لامحدود سمندر ہے،جان ومال کا زیاں ہے۔لیکن اگر نصب العین کا صحیح شعور اور اس سے حقیقی وابستگی ہو تو اس راہ کی مشکلات بھی پھولوں کی سیج معلوم ہوتی ہیں اور انسان ہنستا کھیلتا اس وادیٔ پرخار سے گزرتا چلا جاتا ہے۔آج کے متعصب سماج میں دعوت حق کے فریضہ سے کما حقہ عہدہ بر آ ہونے کے لئے ضروری ہے کہ زمینی سطح پر اپنے کام کا آغاز کیا جائے ،عوام الناس سے اپنے تعلق کو مضبوط کیا جائے اور سماج کے حقیقی خیر خواہ کی حیثیت سے اپنے آپ کو متعارف کرایا جائے۔اس مشن سے وابستہ ہر فرد حسن اخلاق کا پیکر ہو،خدمت خلق کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دے اور اپنے حسن اخلاق کے ذریعہ لوگوںکو اپنا گرویدہ بنانے کی کوشش کرے۔اس لئے کہ حسن اخلاق ایسا نسخۂ کیمیا ہے جس میں سخت سے سخت متعصب شخص کے دل کو پگھلانے اور اسے مسخر کرنے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ آج کا سماج خواہ کتنا ہی متعصب کیوں نہ ہووہ روشنی کامتلاشی ہے۔اس کو ضرورت ہے امن وآشتی کی،وہ محتاج ہے محبت وشفقت کا ،اس کی نگاہیں عدل وانصاف کے لئے ترس رہی ہیں،وہ انسانی مساوات کا نمونہ دیکھنا چاہتا ہے اور اگر ہم اس متعصب سماج کی سسکتی اور کراہتی ہوئی انسانیت کے سامنے جذباتیت سے عاری ہوکر حکمت وموعظت کے ساتھ ہدایت کی روشنی پیش کرنے میں کامیاب ہوگئے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ ان کے ذہن ودماغ کو متأثر نہ کرے اور انہیں سوچنے پر مجبور نہ کردے۔لیکن جیسا کی واضح کیا گیا اس راہ میں مصائب کے روڑے اٹکائے جائیں گے،مخالفتوں کا طوفان سر اٹھائے گا،ہمیں ہراساں کرنے کی کوشش کی جائے گی،قید وبند کی صعوبتوں سے گزرنا ہوگا اور ممکن ہے جان کا نذرانہ بھی پیش کرنا پڑجائے لیکن اللہ پر غیر متزلزل یقین ہمارا سہارا ہوگا،شہادت ہے مطلوب ومقصود مومن ہمارے عزم وحوصلہ کو مہمیز کرے گا اور اگر صبر واستقامت کے ساتھ ہم اس مشن سے وابستہ رہے اور اپنے نصب العین کی تکمیل کی کوشش کرتے رہے تو کامیابی ضرور ہمارا مقدر ہوگی،تاریکی چھٹے گی اور سپیدۂ سحر نمودار ہوگی۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

مسلمان اور سائنسی تحقیقات – ڈاکٹر محمد اسلم پرویز سے ایک گفتگو

ڈاکٹر اسلم پرویز کا نام علمی دنیا میں ایک معروف نام ہے۔ ...