بنیادی صفحہ / بزم / لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃحسنۃ

لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃحسنۃ

شہمینہ سبحان ، حیدرآباد

خالق کائنات نے جب سے یہ دنیا وجود میںلائی ہے اسی وقت سے انسانوں کی رہنمائی ورہبری کیلئے مختلف ادوار میں مختلف پیغمبر بھیجے ہیں۔ اللہ تعالی نے ہر قوم کیلئے ایک رسول کو مبعوث فرما یااور رسولوں کے مبعوث کئے جانے کا مقصد بتاتے ہوئے اللہ تعالی قرآن میںیوں کہتاہے :
’’ہم نے تمہارے درمیان خود تم ہی میں سے ایک رسول بھیجا جوتمہیں ہماری آیات سناتاہے تمہاری زندگیوں کو سنوارتا ہے ،تمہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتاہے اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہ جانتے تھے۔،،(سورۃ البقرہ ۱۵۱)

ا س طر ح رسولوں کو مبعوث فرماکر اللہ تعالی نے اپنی حجت تمام کردی اور پھر سب سے آخر میں نبی کریمؐ کے ذریعہ تمام انسانیت کیلئے رہتی دنیا تک لوگوں کے واسطے رہبری ورہنمائی کا سامان فراہم کردیاگیا گویا اس آیت میںاسی طرف اشارہ ہے: ’’درحقیقت اللہ کے رسول ؐ کی زندگی میںتمہارے لئے بہترین نمونہ ہے۔،، (سورۃالاحزاب ۔۲۱)

بلاشبہ ہر پیغمبر کی زندگی ایک نمونہ ء عمل ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بالخصوص حضرت ابراہیم ؑ اور نبی کریم ؐ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان (دوپیغمبروں) کی زندگیوں میں تمہارے لئے بہترین نمونہ عمل موجود ہے۔بیشک ابراہیمؑ کی زندگی بھی قربانیوں سے سرشار ہے لیکن موضوع اللہ کے رسولؐ کے متعلق ہے۔ سورۃ الاحزاب کی آیت کا یہ چھوٹا سا حصہ اس پس منظر میں نازل کیاگیا کہ غزوہ احزاب کے موقع پر جسے جنگ خندق بھی کہاجاتاہے جب خندق کھودی جارہی تھی اس وقت اللہ کے رسولؐ بھی اپنے صحابہ کرامؓ کے ساتھ خندق کھودنے میں برابر کا ساتھ دے رہے تھے جو قربانیاں وہ دے رہے تھے اس سے کہیں زیادہ آپؐ دے رہے تھے جن تکالیف میںصحابہ ؓ مبتلاتھے ان تکالیف میں آپؐ بھی مبتلا تھے آپؐ نے پیغمبروقت یا ان صحابہؓ کا لیڈر ہونے کے باوجود اپنے لئے عافیت کوشی یا سہل پسندی کا انتخاب نہ کیاتھابلکہ بھوک سے بدحال ہوکر جب کسی صحابی رسول نے اپنے پیٹ پر دو پتھر باندھے تھے اور رسولؐ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ ؐ نے فرمایا آپ نے دو پتھر باندھے ہیں جب کہ میں نے اپنے پیٹ پر تین پتھر باندھ رکھے ہی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ رسولؐ کی زندگی تمہارے لئے بہترین نمونہ ہے نہ صرف یہ بلکہ آپ ؐکی زندگی کاہر پہلو ایک احسن نمونہ لئے ہوئے ہے۔

حضوراکرم ؐ بذات خود سراپا ہدایت ہیں آپؐ کی تعلیمات دنیا کیلئے ہدایت ورہنمائی، سکون قلبی اور اطمینان ذہنی کا ذریعہ ہے۔ انسانیت کے بھٹکے ہوئے قافلوں کیلئے آپ ؐ کی حیثیت روشنی کے مینار کی سی ہے۔ آپ ؐ آفت زدہ انسانوں کیلئے امن کا شہر ہیںجن لوگوں نے بھی آپؐکے دامن رحمت میں پناہ پائی انہوں نے کسی اور کی پناہ کو پسند نہ فرمایا آپؐ کا لایا ہوا نسخہء کیمیاء زخمی انسانیت کیلئے مرہم شفاہے۔ انبیاعلیہ السلام کے سلسلے کی آخری کڑی حضرت محمد مصطفی ؐخدا کے کلام قرآن مجید کے ذریعہ سے جہاںانسانیت کو خدا کی وحدانیت، انسان دوستی کا، رحمدلی کا، مساوات کااور بھائی چارگی کادرس دیتے ہیں، وہیں اپنے اسوہء حسنہ کے ذریعہ سے تقلید کا ایک بہترین نمونہ چھوڑے جاتے ہیں۔

قرآن جو زمین والوں کے نام ان کے خالق کی آخری آواز ہے یہ مالک کائنات کی وہ واحد کتاب ہے جو قیامت تک لوگوں کو صراط مستقیم کی طرف بلاتی رہے گی جس طرح اس نے مکہ کی گلیوں میں بار بار صدادی تھی ۔قرآن نے بارہا نبی کریمؐ کو دنیا کا واحد رہنمااورآخری ہادی قرار دیااور اگر کوئی واقعی ہدایت کا متلاشی ہے تو اس کو ہدایت آپؐ کے لائے ہوئے نسخے کے سوا اور کہیں سے نہیںمل سکتی۔

رسول عربیؐ نے قرآن مجسم بن کر کتاب اللہ کی عملی تشریح وتفسیر پیش کی ہے۔ حضرت عائشہؓ سے کسی نے پوچھا کہ آپؐ (اپنے برتائو میں) کیسے تھے؟ تو حضرت عائشہ نے یوںجواب دیا کہ کیا تم نے قرآن نے نہیں پڑھا ہے۔ گویا آپؐ کتاب اللہ کی عملی شکل تھے۔ انسانی زندگی کا کوئی گوشہ ایسا موجود نہیں جس کے بارے میں آپؐ کا اسوہ حسنہ موجود نہ ہو آپؐ نے زندگی کے سارے معاملات یعنی سیاست، معاشیات، سماجیات،اخلاقیات حتٰی کہ زندگی میں سونے، جاگنے، کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے ، چلنے پھرنے یہاں تک کہ ضرورتوں سے فارغ ہونے کے آداب تک بتادئیے ہیں اور آپؐ کی زندگی کا ہر سانس اور عمل اور ہر قدم قرآن کی روشنی اور خداکے احکامات کے عین مطابق تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضورؐکی زندگی کو پوری انسانیت کیلئے اسوہ حسنہ قرار دیا۔

آپؐ نے سادگی کا اس قدر اہتمام فرمایا کہ عبادت کے لئے مرکز اسلام مسجد نبوی ؐ تعمیر کی تو وہ اتنی سادہ تھی کہ چھت پر کھجور کی شاخیں، مٹی کی دیواریں، کھجور کے تنوں کا ستون اور منبر کے سہارے کے لئے کھجور کا ہی ایک اور تنہ گاڑلیاجبکہ قیصروکسریٰ کے محلات اس وقت بھی آسمان سے باتیں کرتے تھے لیکن رسول خداؐ نے ہر معاملے میں رضائے الہیٰ کے حصول کو ہی ملحوظ رکھا۔ اس طرح رسولؐ کی زندگی میں بھی انتہائی سادگی تھی بستر میں کھجور کی چٹائی ہوتی تھی جو جسم پر اپنے نقش چھوڑ جاتی تھی حضرت عمرؓ نے کہا کہ قیصر و کسریٰ تو عیش کریں اور آپؐ شاہ عرب وعجم بھی ہو کرآپ کے جسم پر بورئیے اور چٹائی کے نشان ہوں تو آپ ؐ نے فرمایا:اے ابن خطابؓ ! میںتو اس سوار کی مانند ہوں جو کسی چھائو ں میں تھوڑی دیر دم لیتا ہے اور پھر اپنی منزل مقصود کی طرف چلاجاتاہے۔

آپؐ کی گفتگو میں شگفتگی، نصیحت میں پاکیزگی، خوش خلقی اور نرمی کے اجزاء پائے جاتے تھے اور لہجہ محبت لئے ہوئے ہوتاتھا۔ گویا
نرم دم گفتگو، گرم د م جستجو رزم ہویا بزم، پاک دل وپاکباز

آپؐ کی شخصیت ہرخاص وعام کیلئے یکساں تھی۔ حضوؐ ر کی یہی سادگی دوستوں اور اجنبیوں میں احساس اپنائیت پیدا کرنے کا ذریعہ بنتی تھی کہ روم کے صہیبؓ ، عرب کے ابوبکرؓ،عثمانؓ ،علیؓوعمرؓ ، فارس کے سلمانؓ ، حبش کے بلالؓ اور حضرت ابوہریرہؓ ہر رنگ ونسل کے لوگ آپؐکے اطراف جمع ہوتے تھے اور کسی احساس کمتری میںمبتلانہ ہوتے تھے معاشرے میں مساوات کا رنگ غالب رکھنے کے لئے حضورؐ کی یہ سادگی زبردست نفسیاتی اور معاشرتی حکمت عملی پر مبنی تھی وہاں کوئی معیار زندگی کی دوڑ نہ تھی آپ ؐ نے سادگی کے وہ عظیم دروس دیئے تھے کہ صحابہ کے درمیان کبھی کسی کو کسی دوسرے پر مادی اعتبار سے فوقیت پاجانے کا جنون یا خواہش نہ ہوتی تھی بلکہ مادیت کی تو انکی زندگیوں میں کوئی اہمیت نہیں تھی۔

حضورؐ کی یہ سادگی انقلاب آفریں سادگی تھی اس میںسب کے لئے اسوئہ حسنہ موجود تھاچنانچہ حضوراکرمؐ کے صحابہؓ بھی اسی پر عمل پیرا تھے وہ بھی سادگی کے پیکر تھے اور اسی کے سبب وہ فاتح تھے، لیکن جب مسلمانوں نے سادگی کو چھوڑدیااور عیش و عشرت کے دلدادہ ہو گئے تو وہ محکوم بن گئے اور انھوں نے اپنا مقام کھودیا۔ بغداد، اندلس کی تاریخ اس کی خوب مثالیں ہیںخود ہندوستان میں آخری وقتوں میں مغلوں نے بھی عیش و عشرت کو اپنا لیا تھا۔ گویا رسول اللہ ؐ نے فرمایا تھا کہ وہ (یعنی مسلمانوں)پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ ساری دنیا ان پر ٹوٹ پڑے گی جیسے بھوکے دسترخوان پر ٹوٹ پڑتے ہیں اس وقت صحابہؓ کرام نے پوچھا کہ کیا اسوقت مسلمان تعداد میں کم ہوں گے؟ آپؐ نے جواب میں فرمایا کہ نہیں بلکہ تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود ان کی کوئی حیثیت نہ ہوگی کیوںکہ ان میں حُبِ دنیا اور کراہت الموت پیدا ہوجائے گا۔ بالکل اسی طرح مسلمانوں نے جب نبی کریمؐ کے اسوہ کو پس پشت ڈال دیا تو دنیا کی نظروں میں بے حیثیت ہو کر رہ گئے۔

حضوراکرمؐ جس دعوت کے علمبردار تھے وہ ساری انسانیت کو مخاطب کرتی تھی جس نے بھی آپؐ کا ساتھ قبول کیاپھر کبھی جدا ہونا پسند نہ کیا وجہ صرف یہ تھی کہ آپ ؐ بہترین قائد ، بہترین مربی تھے کہ آپؐ نے اپنے صحابہؓ کے درمیان کبھی کوئی امتیاز نہیں برتابلکہ ہر صحابیؓ رسول یہ محسوس کرتے تھے کہ حضرت محمد مصطفی ؐ انھی سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔خو ئے دلنوازی آپ ؐ کا وہ خلقی معجزہ تھا کہ جان کا دشمن یمامہ کا سردار ثمامہؓ بن اثال بھی کہتے ہیں کہ اب مجھے آپ ؐ سے زیادہ کوئی محبوب نہیں۔آپ ؐ کے حلم وبردباری کا یہ مقام تھا کہ لوگ آپ ؐ سے ملاقات کے موقع پر اور آپکی مجلسوں میں غیر معمولی آزادی برتتے، تہذیب کی حدود پھلانگ جاتے پھر بھی آپ ؐ اپنی زبان مبارک سے کچھ نازیبا کلمات نہ کہتے۔

کن کن صفات کا تذکرہ کیا جائے ۔ آپؐ کے صبر کا یہ عالم تھا کہ مشرکین و کفار مکہ آپ ؐ کو اذیتیں دیتے رہے لیکن جب فتح مکہ کے موقع پر آپ ؐ نے فاتح ہونے کے باوجود کسی پر کوئی ظلم نہیں کیا اورآپ ؐ نے سب کو امان دے دی اور معاف فرمادیا۔ طائف کا وہ واقعہ بھی آپؐ کی بے پناہ عظمتوں کی نشاندہی کرتاہے کہ آپؐ کو لہولہان کیے جانے کے باوجود آپؐ نے ان کی نسلوں کے حق میں بہتری کی امید ظاہر کی اور سزا دینے سے منع فرمادیا۔ پھر آپؐ کو خدا کے بندوں سے اتنا پیار تھا کہ آپؐ نے ان کو کھینچ کھینچ کر جہنم سے جنت کی طرف لاتے، آپؐ کالوگوں کو جہنم کی آگ سے بچانے کا یہ داعیہ اور و ہ اونچا مقام ہےکہ قرآن نے کہا: ــ’’اے نبی ؐ! شاید تم اس غم میں اپنی جان گھلادوگے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے،،(سورۃ الشعراء ۳)

آپؐ کو اپنی ذمہ داری کا بھی بے حد احساس تھا کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت کے مطابق ایک مرتبہ حضورؐ نے ان سے تلاوت کی خواہش کی تو حضرت عبداللہ بن مسعودؓ گھبراگئے کہ میں اور مہبط وحی کو قرآن سنائو ں ۔ آپؐ نے اصرار کیا تو عبداللہؓ نے سورۃ النساء کی تلاوت شروع کی اور جب یہ آیات پرپہنچے تو آواز آئی عبداللہ ؓ بس کرو۔’’پھر سوچو کہ اس وقت یہ کیا کریں گے جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور ان لوگوں پر تمہیں یعنی محمدؐ کو گواہ کی حیثیت سے کھڑا کریں گے،،۔( سورۃالنساء۴۱)۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نگا ہ اٹھاکر دیکھا تو آپ ؐ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے ،آپ اس گواہی کے خوف سے لرزجاتے تھے۔آج ہمارے حالات کا اگر تجزیہ کریں تو بحیثیت امت گواہی کے احساس سے تقریباًہم نا آشناہوچکے ہیں۔اس پہلو سے شدید غور کرنے کی ضرورت ہے اور فرد و معاشرے کو رسول اللہ ؐ جیسے احساس ذمہ داری کو اپنانے کی کوشش کرنی ہے۔

لیکن آج افسوس اس بات کا ہے کہ امت مسلمہ اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے دربدر کی ٹھوکریں کھارہی ہے، اس امت نے دامن رحمت سے کٹ کر اغیار سے وابستگی اختیار کرلی ہے اس نے آفتاب مدینہ ؐ کے اسوئہ حسنہ سے منہ موڑلیا اور مغرب کی اندھادھند نقالی شروع کردی اور اسی کو ترقی کانام دے دیا گیا۔ جشن میلاد منانے والی یہ امت، جب اللہ کے رسولؐ کی تعلیمات پر عمل کرکے فاتح عالم بنے گی تو یہ صحیح معنوں میں اور حقیقی جشن ہوگا۔گویا یہ جشن منانے کے بجائے دنیا کو اسلام کے ذریعہ سے تسخیر کرنا ہے، بہترین جشن تب منانا ہی اسوئہ حسنہ کا حق ادا کرنے کی طرح ہوگا اور یہی وقت کا تقاضاہے۔میری دعا ہےکہ اے اللہ مسلمانوں کو صحیح قوت فکر عطا کر، کہ ہم دنیا کو اسلام کا صحیح علمبردار بن کر دکھائیںاور اسلام کے پیغام کو عام کرسکیں۔ (آمین)

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

اسلام میں تفریح کا تصور

محمد فراز احمد انسانی زندگی کا ہر پہلو انتہائی خوبصورت انداز پیش ...