Home / متفرق / قرآن مجید کا طریقہ تعلیم و تربیت

قرآن مجید کا طریقہ تعلیم و تربیت

اللہ تعالیٰ نے پہلا علم جو ہمیں عطا فرمایا ہے وہ قلب کی پاکی اور ناپاکی سے متعلق ہے۔ اسی علم کی بنیاد پرہم صحیح اور غلط اور حق اور ناحق کو جانتے ہیں اور ان میں فرق وامتیاز کرتے ہیں۔ اور اسی کی وجہ سے اچھائیوں کو پسند اور برائیوں کو نا پسند کرتے ہیں۔ کیونکہ پاک صاف رہنا ہماری فطرت ہے اور ناپاکی ہماری فطرت کے خلاف ہے۔ نجاست خواہ جسم کی ہو یا روح کی، ہمارے لیے گھناؤنی چیز ہے۔
قرآن مجید کی ساری تعلیم ہمیں پاک نفس بنانے کے لیے ہے۔ سورہ آل عمران(۱۶۴) میں فرمایا ہے: لَقَدْ مَنَّ اللّہُ عَلَی الْمُؤمِنِیْنَ إِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِہِمْ یَتْلُو عَلَیْْہِمْ آیَاتِہِ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ اس میں تزکیہ کے علاوہ جو امور بیان ہوئے ہیں وہ اس کے حصول کا ذریعہ ہیں۔(فراہی)
یہی سبب ہے کہ مختلف سورتوں میں الگ الگ پہلوؤں سے ہماری تطہیر کی بات آئی ہے۔ مثلاً سورہ بقرہ میں تزکیہ وطہارت کے اصول بیان ہوئے ہیں اور بار بار تقوی کا ذکر آیا ہے۔ سورہ آل عمران میں ان اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی تعلیم دی گئی ہے اور اختلاف وافتراق سے روکا گیا ہے تاکہ امت کا شیرازہ منتشر نہ ہو اور لوگوں میں اتحاد قائم رہے۔ سورہ نساء میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمدلی اور شفقت سے پیش آنے، رشتوں کا پاس ولحاظ رکھنے اور گھریلو نزاعات کو دور کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔[سورہ مائدہ میں طہارت کے ابواب اور ناپاکی کے اسباب بیان ہوئے ہیں۔ تمام پاکیوں کی اصل تقوی ہے اور تمام ناپاکیاں ان چیزوں کی طرف سے بے توجہ ہونے سے پیدا ہوتی ہیں جو قلب کو نجس کرنے والی ہیں جیسے جھوٹ، مکروفریب، کینہ پروری اور حرام خوری۔ چنانچہ یہ سورہ تقوی کو مکمل کرنے والی ہے اور اس پہلو سے سورہ نساء کے ساتھ مربوط ہے۔ اسی وجہ سے تکمیل دین کی سورہ قرار پائی ہے] (فراہیؒ۔ تعلیقات سورہ مائدہ)
ان کے علاوہ بہت سی سورتیں ایسی ہیں جو[مسلمانوں کی اصلاح اور ان کی تطہیر کے لیے نازل ہوئی ہیں(سورہ حدید تاسورہ تحریم) تزکیہ کی ان دس سورتوں میں ہر انسان کو اپنے اور اپنے اہل وعیال کے احتساب کی سختی سے تاکید کی گئی ہے۔۔۔اس سلسلہ کا سب سے مقدم فرض اہل بیت کی اصلاح وتطہیر تھا تاکہ قیامت کے دن ان کو پیغمبرؐ کی صحبت اور معیت نصیب ہو۔ معاملہ کا یہی پہلو تھا جس کی وجہ سے سے سورہ تحریم کی آٹھویں آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بشارت دی ہے کہ آپؐ اور آپؐ کے اصحاب قیامت کے دن رسوائی سے محفوظ ہوں گے۔ اور اسی بشارت سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ محاسبہ کی یہ سخت گیری اس لیے نہیں ہے کہ لوگوں کی زندگی تنگی اور پریشانی میں ڈال دی جائے بلکہ اس کا مقصد لوگوں کو پاک کرکے ان پر اپنی نعمت کو تمام کرنا تھا](فراہیؒ۔ تفسیر سورہ تحریم۔ص:۱۶۰۔۱۶۲)
سورہ مائدہ(۵۔۶) میں فرمایا ہے: الْیَوْمَ أُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْکِتَابَ حِلٌّ لَّکُمْ وَطَعَامُکُمْ حِلُّ لَّہُمْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْکِتَابَ مِن قَبْلِکُمْ إِذَا آتَیْْتُمُوہُنَّ أُجُورَہُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْْرَ مُسَافِحِیْنَ وَلاَ مُتَّخِذِیْ أَخْدَانٍ وَمَن یَکْفُرْ بِالإِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہُ وَہُوَ فِیْ الآخِرَۃِ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ۔ یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِذَا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلاۃِ فاغْسِلُواْ وُجُوہَکُمْ وَأَیْْدِیَکُمْ إِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُواْ بِرُؤُوسِکُمْ وَأَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَیْنِ وَإِن کُنتُمْ جُنُباً فَاطَّہَّرُواْ وَإِن کُنتُم مَّرْضَی أَوْ عَلَی سَفَرٍ أَوْ جَاء أَحَدٌ مَّنکُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَاء فَلَمْ تَجِدُواْ مَاء فَتَیَمَّمُواْ صَعِیْداً طَیِّباً فَامْسَحُواْ بِوُجُوہِکُمْ وَأَیْْدِیْکُم مِّنْہُ مَا یُرِیْدُ اللّہُ لِیَجْعَلَ عَلَیْْکُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَـکِن یُرِیْدُ لِیُطَہَّرَکُمْ وَلِیُتِمَّ نِعْمَتَہُ عَلَیْْکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ۔
[پہلے کھانے کی چیزوں میں سے جو چیزیں جائز ہیں ان کو بیان کیا، پھر جن عورتوں سے نکاح جائز ہے ان کو بیان کیا، پھر وضو کا ذکر فرمایا۔ ان کی مناسبت پر غور کریں گے تو دو باتیں سامنے آئیں گی۔ ایک شے، ایک شرط شے، شرائط میں سے وہ چیزیں بیان کیں جن سے یہ پاک ہوتی ہیں۔ دیکھیے ذبح چوپایوں کو پاک کرتا ہے۔ مہر اور نکاح سے عورتیں پاک ہوتی ہیں اور وضو نماز کی پاکی ہے۔ پھر اس تمام حقیقت کو آخر میں یہ فرما کر کھول دیا: ’’ما یرید اللہ لیجعل علیکم من حرج ولکن یرید لیطھرکم و لیتم نعمتہ علیکم‘‘۔
یہ شرائط کا بیان ہے۔ اب اشیاء پر غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ یہاں تین چیزیں بیان کی گئی ہیں: طیباتِ طعام، طیبات نساء اور طیبات نماز۔ اگر اس سے زیادہ تعمق کی نگاہ سے دیکھیں گے تو معلوم ہوگا کہ یہ دنیا چونکہ عالم کون وفساد ہے اس وجہ سے یہاں تین عالموں عالم شخص، عالم نوع اور عالم روح کے نقص کی تلافی تین چیزوں: طعام، نکاح اور نماز سے فرمائی] (فراہیؒ مقدمہ نظام القرآن۔ص ۵۰۔۱۵)
جہاں تک نماز کا تعلق ہے [وہ نہ صرف اللہ سے قربت کا ذریعہ ہے بلکہ عین تقرب الٰہی ہے](فراہیؒ ،تفسیر سورہ کوثر، ص: ۴۴۶)
یعنی یہ بارگاہ قدس میں انسان کی حاضری ہے جس کے لیے با ادب ہونا ضروری ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اپنے سامنے حاضری کے وقت فرمایا: إِنِّیْ أَنَا رَبُّکَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْْکَ إِنَّکَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًیo وَأَنَا اخْتَرْتُکَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوحی إِنَّنِیْ أَنَا اللَّہُ لَا إِلَہَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِیْ وَأَقِمِ الصَّلَاۃَ لِذِکْرِی (سورہ طہ: ۱۱-۱۴)
نماز میں ہماری تعلیم وتربیت کے کئی پہلو ہیں:
۱۔ نماز کی نیت کرتے وقت ہم کہتے ہیں’’۔ إِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِیْفاً وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِکِین (سورہ انعام: ۷۹)
[یہ حضرت ابراہیمؑ نے اللہ تعالیٰ کو اس کی صفت توحید کے ساتھ پہچان لینے کے بعد فرمایا تھا۔ اس آیت میں جس توجہ الی اللہ کا ذکر ہے۔ نماز اسی توجہ الی اللہ کی عملی تصویر ہے۔ اسی وجہ سے ہماری نمازوں کا عنوان یہی مبارک کلمہ قرار پایا] (فراہیؒ تفسیر سورہ کوثر،ص:۴۳۱)
شرک کو اللہ تعالیٰ نے سب سے بڑی نجاست قرار دیا ہے اس لیے نماز کا شائبہ شرک سے پاک ہونا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ اگر ہمارے اندر ذرہ برابر بھی شرک ہوگا تو ہماری نماز االلہ کے لئے خالص نہ ہوگی۔ سورہ روم(۳۰۔۳۱) میں فرمایا ہے: ’’فَأَقِمْ وَجْہَکَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفاً فِطْرَۃَ اللَّہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْْہَا لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللَّہِ ذَلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَلَکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمونَo مُنِیْبِیْنَ إِلَیْْہِ وَاتَّقُوہُ وَأَقِیْمُوا الصَّلَاۃَ وَلَا تَکُونُوا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ‘‘۔
۲۔ نماز قلب وذہن کو کبرونخوت سے جو کہ کفر کی علامت ہے پاک صاف کرنے والی عبادت ہے[خشوع نماز کا سب سے نمایاں پہلو ہے اسی وجہ سے فرمایا ہے: قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنون الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ صَلَاتِہِمْ خَاشِعُونَ(سورہ مومنون: ۱-۲) ۔ (نیز فرمایا ہے ’’ وَاذْکُر رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعاً وَخِیْفَۃً وَدُونَ الْجَہْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالآصَالِ وَلاَ تَکُن مِّنَ الْغَافِلِیْنَo إِنَّ الَّذِیْنَ عِندَ رَبِّکَ لاَ یَسْتَکْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِہِ وَیُسَبِّحُونَہُ وَلَہُ یَسْجُدُونَ o (سورہ اعراف: ۲۰۵-۲۰۶)
دوسرے مقام پر ہے: ’’ وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِیْنَ یَمْشُونَ عَلَی الْأَرْضِ ہَوْناً وَإِذَا خَاطَبَہُمُ الْجَاہِلُونَ قَالُوا سَلَاماًo وَالَّذِیْنَ یَبِیْتُونَ لِرَبِّہِمْ سُجَّداً وقیاماo (سورہ فرقان: ۶۳-۶۴) ](فراہیؒ۔ تفسیر سورہ کوثر، ص: ۴۳۶۔ ۴۳۷)
۳۔ نماز رجوع الی اللہ اور حشر میں پروردگار کے حضور ہمارے کھڑے ہونے کی تصویر ہے۔ گویا بندہ جس وقت نماز میں کھڑا ہوتا ہے اس وقت وہ اللہ کے سامنے اپنی حاضری کے دن کو یاد کررہا ہوتا ہے۔ یہ اشارہ مندرجہ ذیل آیت سے نکل رہا ہے:
’’َإِنَّہَا لَکَبِیْرَۃٌ إِلاَّ عَلَی الْخَاشِعِیْنَo الَّذِیْنَ یَظُنُّونَ أَنَّہُم مُّلاَقُوا رَبِّہِمْ وَأَنَّہُمْ الیہ رَاجِعونَo (سورہ بقرہ: ۴۵۔۴۶)
جن لوگوں کو یہ یقین ہوجاتا ہے کہ ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا اور اپنے تمام اعمال واقوال کی جواب دہی کرنی ہے وہ تمام غفلتوں اور گناہوں سے تائب ہوکر لازماً اللہ کی طرف جھک جاتے ہیں، اور جو خشیت اور پستی اللہ کے سامنے آخرت میں ان پر طاری ہونے والی ہے اس کا عکس دنیا ہی میں ان پر نظر آنے لگتا ہے۔ سورہ نور(۳۷) میں ہے’’ رِجَالٌ لَّا تُلْہِیْہِمْ تِجَارَۃٌ وَلَا بَیع عَن ذِکْرِ اللَّہِ وَإِقَامِ الصَّلَاۃِ وَإِیْتَاء الزَّکَاۃِ یَخَافُونَ یَوْماً تَتَقَلَّبُ فِیْہِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ‘‘](فراہیؒ۔ تفسیر سورہ کوثر: ۴۴۱۔۴۴۲)
۴۔ نماز شکر اور صبر دونوں کی جامع ہے[نماز کا شکر ہونا تو بالکل ظاہر ہے۔ یہاں تک کہ بعض جگہ نماز کی تعبیر ہی شکر کے لفظ سے کی گئی ہے’’ فَاذْکُرُونِیْ أَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُواْ لِیْ وَلاَ تَکْفُرُونِ (سورہ بقرہ:۱۵۲)] (فراہیؒ۔ تفسیر سورہ کوثر۔ص: ۴۴۰)
اور جہاں تک صبر کا تعلق ہے(قرآن مجید نے صبر اور نماز کا متعدد آیات میں ایک ساتھ ذکر کیا ہے۔ ’’واستعینوا بالصبر والصلاۃ‘۔
سورہ رعد(۲۲) میں ہے۔ ’’وَالَّذِیْنَ صَبَرُواْ ابْتِغَاء وَجْہِ رَبِّہِمْ وَأَقَامُواْ الصَّلاَۃَ‘‘ نیز فرمایا ’’فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللَّہِ حَقٌّ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِکَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ بِالْعَشِیِّ وَالْإِبْکَارِ‘‘ (سورہ مومن:۵۵)] (فراہیؒ۔ تفسیر سورہ کوثر۔ ص: ۴۴۳۔ ۴۴۴)
۵۔ ایک نماز ہی ایسی عبادت ہے جس کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ فحشاء اور منکر سے رو ک دیتی ہے۔ نماز کے بعد دوسرا بڑا اہم حکم زکوٰۃ کا ہے جس کے معنی ہی پاکی کے ہیں[زکوٰۃ کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ وہ نفس اور مال دونوں کے لیے پاکی اور برکت اور انھیں پروان چڑھانے کا ذریعہ ہے۔ اس طرح اگر اس کا تنہا ذکر ہو تواس کے مفہوم میں پاکی اور نمو دونوں ہی پہلو آگئے۔ فرمایا ہے: ’’ خُذْ مِنْ أَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ وَتُزَکِّیْہِم بِہا‘‘ (سورہ توبہ: ۱۰۲) نیز فرمایا ہے: ’’ وَمَا آتَیْْتُم مِّن رِّباً لِّیَرْبُوَ فِیْ أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُو عِندَ اللَّہِ وَمَا آتَیْْتُم مِّن زَکَاۃٍ تُرِیْدُونَ وَجْہَ اللَّہِ فَأُوْلَئِکَ ہُمُ الْمُضْعِفُونَ‘‘ (سورہ روم: ۳۹)
ان دونوں آیتوں میں زکوٰۃ کو زکوٰۃ کے نام سے موسوم کرنے کے دونوں پہلو بتادیے](فراہیؒ۔ تفسیر سورہ بقرہ:۲۱۸۔ ۲۱۹)upu
(جاری)

 

از: ڈاکٹر عبید اللہ فراہی

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

نظم

کھا نہ دھوکا گردش ایام سے اب تو کٹتی ہے بڑے آرام ...