بنیادی صفحہ / فکر / قرآن اورعروج و زوال کی داستان

قرآن اورعروج و زوال کی داستان

ڈاکٹر سلیم خان

سورۂ اعراف میں قوموں کے عروج و زوال کی تاریخ اور اس کے پس پشت کارفرما عوامل کو مثالوں کے ساتھ نہایت دلنشین انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی اس سورہ کے تعارف میں فرماتے ہیں ’’اس میں پہلے ان (قوموں )کی فرد قرارداد جرم کی طرف اجمالاً اشارہ کیا، اس کے بعد تفصیل کے ساتھ ان تمام پچھلی قوموں کی تاریخ سنائی جو اس ملک میں اقتدار پر آئیں اور پھر یکے بعد دیگرے اسی جرم میں کیفر کردار کو پہنچیں ‘‘۔ رب کائنات نےمختصر اور جامع تمہید کے بعد انسانوں کے دنیا میں بسائے جانے کاذکر اس طور فرمایا کہ ’’ہم نے تمھیں زمین میں اختیارات کے ساتھ بسایا اور تمہارے لیے یہاں سامان زیست فراہم کیا‘‘(اعراف۱۰)۔ اس آیت میں تمکین سے مراد محض ٹھکانہ فراہم کرنا نہیں بلکہ اختیار، تصرف اور اقتدار سے نوازنا ہے ۔

کائنات ہستی میں عروج و زوال کے طلسم ہوشربا کا مرکزی نکتہ یہی فکر و عمل کی آزادی ہے ۔ جو مخلوقات اس صفت عالیہ سے محروم ہیں ان کے لیے نہ عروج ہے اور نہ زوال ہے۔ چرند ، پرند ،شجر ،ہجر،چاند ،تارے ، ستارے ،سیارے یہاں تک کہ فرشتوں کو بھی اس نعمت عظمیٰ سے سرفراز نہیں کیا گیا اس لیے وہ تغیر و ارتقاء سے بے بہرہ جیسےتھے ویسے ہی ہیں ۔ تصرف و اقتدارکی خداداد صفت کے ساتھ عروج و زوال کا رخ متعین کرنےوالے انسانی رویہ کی بھی نشاندہی اس آیت کے اختتامی فقرے میں کردی گئی ہے’’ مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو‘‘ (اعراف۱۰)یعنی سپاس و احسا ن مندی کے بجائے کفر و انکار کی راہوں پر چلنےوالےبلندی سے پستی کی جانب گامزن ہوتے ہیں ۔ شکر و کفر کی میزان ہی عروج و زوال کی داستان رقم کرتی ہے۔

اس آفاقی و ابدی اصول کو بیان کردینے کے بعد تخلیق آدم کا واقعہ بیان ہوا ہے جس کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ ’’ہم نے تمہاری تخلیق کی ابتدا کی، پھر تمہاری صورت بنائی، پھر فرشتوں سے کہا آدمؑ کو سجدہ کرو اس حکم پر سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا‘‘ (اعراف۱۱)۔ خالق کائنات نے حضرت آدم ؑ کو متعارف کرنے کے لیے فرشتوں کی مجلس سجائی۔ اس میں ایک جن کی موجودگی اس کے عروج کی علامت تھی۔ علم و دانش نے اسےمہتمم بالشان محفل میں شرکت کا اہل بنایا مگر کبر و سرکشی اس کی بلندی کو نگل گئی اور وہ پستی کی انتہا پر پہنچ کر راندۂ درگاہ ہوگیا۔ مسجود الملوک آدم کے لیے ابلیس کے انجام بد میں درس عبرت تھا اور وہ خود اپنی رسوائی کا ذمہ دار تھا۔ ارشاد ربانی ہے ’’ اچھا تو یہاں سے نیچے اتر تجھے حق نہیں ہے کہ یہاں بڑائی کا گھمنڈ کرے نکل جا کہ در حقیقت تو ان لوگوں میں سے ہے جو خود اپنی ذلت چاہتے ہیں‘‘ (اعراف۱۳)۔

ابتدائے آفرینش کا یہ واقعہ گواہ ہے کہ بنی آدم کے سفر کی شروعات عروج سےہوئی ہے۔ قیامِ بہشت کے دوران شیطان کے بہکاوے میں آکر اس نے اپنے مالک حقیقی کو غضبناک تو کیا مگر جب غلطی کا احساس ہوا تو’’دونوں (آدم ؑ اور حوا) بول اٹھے، ’’اے رب، ہم نے اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تو نے ہم سے در گزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقیناً ہم تباہ ہو جائیں گے‘‘(اعراف۲۳)۔ ابلیس کی ہٹ دھرمی کے برخلاف اپنے گناہ پر پچھتاوہ ، رجوع الی اللہ اور توبہ و استغفار نےحضرت آدم ؑ کو پھر سے سربلندی عطا کردی۔جنت الفردوس میں اس آزمائش سے گزارنے کے بعد حضرت آدم ؑ کو ا’س زمین پر اتارا گیا جس کی خلافت ان کا مقصد تخلیق تھی۔ فرمایا، ‘‘اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے ایک خاص مدت تک زمین ہی میں جائے قرار اور سامان زیست ہے۔وہیں تم کو جینا اور وہیں مرنا ہے اور اسی میں سے تم کو آخرکار نکالا جائے گا ‘‘(اعراف۲۴تا ۲۵)۔

انفرادی بلندی وپستی کا ضابطہ بیان کردینے کے بعد سورہ اعراف میں قوموں کے عروج و زوال کے متعلق یہ حتمی فیصلہ صادر کیا گیا کہ ’’ہر قوم کے لیے مہلت کی ایک مدت مقرر ہے، پھر جب کسی قوم کی مدت آن پوری ہوتی ہے تو ایک گھڑی بھر کی تاخیر و تقدیم بھی نہیں ہوتی‘‘(اعراف ۳۴ )۔ آگے چل کر انسانی کامیابی و ناکامی کو انبیاء ؑ کے ساتھ ان کے سلوک سے جوڑ کر فرمایا گیا’’اے بنی آدم، یاد رکھو، اگر تمہارے پاس خود تم ہی میں سے ایسے رسول آئیں جو تمہیں میری آیات سنا رہے ہوں، تو جو کوئی نافرمانی سے بچے گا اور اپنے رویہ کی اصلاح کر لے گا اس کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔ اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلائیں گے اور ان کے مقابلہ میں سرکشی برتیں گے وہی اہل دوزخ ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے (اعراف۳۴ تا ۳۶)۔ اس اصول کا اطلاق انفرادی و اجتماعی دونوں سطح پر ہوتا ہے۔اسی کے تحت قومیں دنیا میں دسرخرو اور کامیاب یا ذلیل ورسوا ہوتی ہیں۔ افراد کی آخرت اسی کی بنیاد پر سنورتی یا بگڑتی ہے۔ ویسے ابولہب یا اڈوانی جیسے لوگوں کودنیا میں بھی ذلیل و خوار کردیا جاتا ہے۔

اس کے بعدجنت اور دوزخ کے درمیان کی دیوار پر بلند برجوں کے اوپر سےاعراف والےدونوں طرف کے لوگوں سے تبادلہ خیال کرتے نظر آتے ہیں۔ اس منظر میں وہ عروج پر پہنچنے والے خوش قسمت لوگوں پر تحیہ و سلام بھیجتے ہیں اور زوال پذیرہونے والے بدبختوں سے کہتے ہیں ’’ دیکھ لیا تم نے، آج نہ تمہارے جتھے تمہارے کسی کام آئے اور نہ وہ ساز و سامان جن کو تم بڑی چیز سمجھتے تھے‘‘(اعراف۴۸)۔ یعنی اللہ پر توکل کرنے کے بجائے فوج اور سازو سامان پر فخر جتانے والے دنیا کے بعد آخرت میں رسواکن عذاب کا شکار ہوتے ہیں ۔ خدا فراموش آخرت کے منکرین کی گرفت اس طرح کی گئی ہے کہ ’’جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تفریح بنا لیا تھا اور جنہیں دنیا کی زندگی نے فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اللہ فرماتا ہے کہ آج ہم بھی انہیں اسی طرح بھلا دیں گے جس طرح وہ اِس دن کی ملاقات کو بھولے رہے اور ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے‘‘(اعراف۵۱)۔ اس بھیانک انجام کو بیان کرنے کے بعد اس سے بچنے کی شاہِ کلید یہ کہہ کر عطا کی گئی کہ ’’خبردار رہو! اُسی کی خلق ہے اور اسی کا امر ہے‘‘ (اعراف۵۴)۔ اس حقیقت کو نظر انداز کردینے والا کبھی اپنے آگے دوسروں کے سرجھکانے کی سعیٔ بے سود کرتا ہے تو کبھی اپنے جیسے انسانوں کے آگے سربسجود ہوجاتا ہے۔ وہ رب کائنات کی اس تلقین کو بھول جاتا ہے کہ ’’زمین میں فساد برپا نہ کرو جبکہ اس کی اصلاح ہو چکی ہے‘‘ (اعراف۵۶)۔

حضرت آدم ؑ کے بعد سورۂ اعراف میں ان انبیاء کی مختصر تاریخ بیان ہوئی ہے جنھیں اللہ تعالیٰ نے جزیرۃ العرب کے آس پاس مبعوث کیا تھا اور جن کے آثارو نوادر سے عربی تجارتی قافلے واقف تھے۔ حضرت نوحؑ، حضرت ہودؑ، حضرت صالحؑ، حضرت لوط ؑاور حضرت شعیب ؑ کی قومیں مختلف قسم کے فساد میں مبتلاء تھے۔ کہیں تعیش پسندی اور نمود و نمائش ان سے پہاڑوں میں محل بنواتی تھی تو کسی جگہ تفاخر و امتیاز ان کی راہ کا روڑا بن گیا تھا۔ کہیں اخلاقی انحطاط نے ہم جنسی کو خوشنما بنادیا تھا۔ توکوئی معاشی استحصال و بے ایمانی کو اپنا شعار بنائے ہوے تھا ۔ انواع اقسام کی برائیوں میں گرفتار یہ قومیں اپنے اپنے وقت میں عروج پر تھیں۔ مادی ترقی نے انہیں خدا اور آخرت سے بیگانہ کردیا تھا۔ ان کی طرف مبعوث انبیاء نے جب انہیں غفلت سے بیدار کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے رعونت سے اللہ کا پیغام ٹھکرا دیا اور عذاب الٰہی کے مستحق بن گئے۔ ان کا عذاب بھی گمراہیوں کی مانند مختلف نوعیت کا تھا۔

سورہ اعراف میں بنی اسرائیل کے جلیل القدر نبی حضرت موسیٰ ؑ سےقبل ایک مکمل رکوع عروج و زوال کی ایسی عمومی تاریخ بیان کرتا ہے جس کا اطلاق ماضی کے ساتھ ساتھ مستقبل پر بھی ہوتا رہے گا۔ فرمانِ خداوندی ہے ’’ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی بستی میں نبی بھیجا ہو اور اُس بستی کے لوگوں کو پہلے تنگی اور سختی میں مبتلا نہ کیا ہو اس خیال سے کہ شاید وہ عاجزی پر اتر آئیں‘‘ (اعراف۹۴)۔ اس آیت میں تنگی و سختی سے گھمنڈ کا بت ٹوٹنے بمعنیٰ عجزوانکسار کے پیدا ہونے کی حکمت بیان ہوئی ہے۔ عام طور پر لوگ فقر و فاقہ میں اپنے خالق و مالک کو بہت یاد کرتے ہیں۔ اپنے گریبان میں جھانک کر جائزہ و احتساب لینے کے مواقع اس حالت میں زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ آزمائش عامتہ الناس میں سے بہت سوں کو راہِ راست پر لے آتی ہے۔

کفر و الحاد سے بچانے کے لیے یہ آزمائش کافی ہے لیکن جذبۂ شکر کا شجر انعام و اکرام کےبجا سے جنم لیاہے۔ انسان اپنے خالق و مالک سے یہ کہہ سکتا ہے کہ تو نے تو ہمیں ہمیشہ نانِ جویں کا محتاج رکھا، اگر نوازتا تو دیکھتا کہ ہم کس کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے۔ رب کائنات اتمامِ حجت سے قبل وہ صورتحال بھی برپا فرما دیتا ہے اور مادی نوازشیں قوموں ترقی کے مدارج طے کرواتی ہیں ۔ قرآن کا فرمان ہے ’’ پھر ہم نے ان کی بدحالی کو خوش حالی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ خوب پھلے پھولے‘‘ (اعراف۹۵)۔ اس احسان مندی کا تقاضہ یہ ہے کہ شکر و اعتراف کیا جائے۔ پاک پروردگار کی تعریف و توصیف بیان کی جائے لیکن اکثر ایسا نہیں ہوتا ۔اکثرو بیشتر مواقع پر پسماندگی کا آسودگی میں بدل جانا غفلت و رعونت میں اضافہ کردیتا ہے۔ دنیا کی حرص وطلب بڑھ جاتی ہے اور اس کے بطن سے جبر و استحصال کا عفریت نمودارہوجاتا ہے۔ ایسے میں عالمِ انسانیت کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کی خاطر اور ان زنجیروں سے آزادی کے لیے جن میں لوگوں نے اپنے آپ کواور دوسروں کو جکڑ رکھا ہوانبیائے کرم کی دعوت لازم ہو جاتی ہے۔

قرآن حکیم میں جن انبیاء کا ذکر ہے ان میں سے بیشتر کی بعثت ترقی یافتہ اور طاقتوراقوام میں ہوئی ہے لیکن جب وہ عوام و خواص کو مالک حقیقی کا شکر بجالانے کی دعوت دیتے ہیں تو قوم بے نیازی کے ساتھ جواب دیتی ہے’’ہمارے اسلاف پر بھی اچھے اور برے دن آتے ہی رہے ہیں‘‘(اعراف۹۵)۔ یہی احسان فراموشی اور ناقدری، اللہ کے غضب کو دعوت دیتی ہے اور پھر یہ ہوتا ہے کہ ’’ آخر کار ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا اور انہیں خبر تک نہ ہوئی‘‘(اعراف۹۵)۔ رب کائنات اپنے بندوں سے بے حد محبت کرتا ہے اور نہیں چاہتا کہ ان کے عروج کو زوال میں بدل دے اسی لیے لوگوں کو اپنی سنت سے اس طرح آگاہ فرماتا ہے کہ ’’اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھو ل دیتے، مگر اُنہوں نے تو جھٹلایا، لہٰذا ہم نے اُس بری کمائی کے حساب میں انہیں پکڑ لیا جو وہ سمیٹ رہے تھے‘‘(اعراف۹۶)۔

یہ آیت بتاتی ہے کہ قوموں کے عروج کا زوال میں بدل جانا ان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے۔ اسی لیے فرمایا’’ اللہ کی چال سے وہی قوم بے خوف ہوتی ہے جو تباہ ہونے والی ہو‘‘(اعراف۹۹)۔ اس کے ساتھ تباہ ہونے والی اقوام کی جو صفات بیان کی گئی ہیں ان کی روشنی میں ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہیے فرمایا ’’ہم نے ان میں سے اکثر میں کوئی پاس عہد نہ پایا بلکہ اکثر کو فاسق ہی پایا‘‘(اعراف ۱۰۲)۔ اس میں شک نہیں کہ امت کے نہ صرف خشیت الٰہی سے بے نیاز ہوگئی ہےبلکہ خالق و مخلوق کے ساتھ بدعہدی اور فسق و فجور میں بھی بہت آگے نکل گئی ہے ۔ اس عمومی گفتگو کے بعد حضرت موسیٰ ؑ کا تذکرہ اس طرح شروع ہوتا ہے کہ ’’پھر اُن قوموں کے بعد (جن کا ذکر اوپر کیا گیا) ہم نے موسیٰؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس بھیجا مگر انہوں نے بھی ہماری نشانیوں کے ساتھ ظلم کیا، پس دیکھو کہ ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا‘‘ (اعراف۱۰۴)۔

حضرت یوسف ؑ کے زمانے میں بنی اسرائیل مصر میں جاکر آباد ہوگئے تھے۔ آگے چل کر جب وہ انحطاط کا شکار ہوئے تو فرعون کو ان پر مسلط کردیا گیا۔ حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ فرعون کا ظالمانہ سلوک اس کو لے ڈوبا اور اسے غرقاب کردیا گیا۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کو فلسطین میں غلبہ عطا کیا گیا لیکن پے درپے بدعہدی ان کو مختلف ارضی و سماوی آزمائشوں میں مبتلاء کرتی رہی۔ حضرت داود ؑ سے قبل مشرک قوموں نے متحدہ حملہ کرکے بنی اسرائیل کو فلسطین سے بے دخل کردیا اور تابوت سکینہ تک ان سے چھین کر لے گئے۔ نبی سموئیل ؑ کے زمانے میں ان کی حمیت بیدار ہوئی اور طالوت کی قیادت میں جالوت سے جنگ کی۔ اس جنگ میں بظاہر کمزور نظر آنے والے گرو ہ (بنی اسرائیل) کو فتح مندی سے نوازا گیا۔ حضرت داؤد ؑ اور ان کے بیٹے حضرت سلیمان ؑ کی سلطنت بنی اسرائیل کی عروج کا زمانہ تھا۔ ان واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ اگر کوئی قوم مائل بہ اصلاح ہو اور جہاد فی سبیل اللہ کے لیے کمر بستہ ہو تو اس کی مغلوبیت کو خدائے لم یزل غلبہ میں بدل دیتا ہے۔ حضرت سلیمان ؑ نے ۹۶۱ تا ۹۲۲ ق م کے دوران مسمار شدہ مسجد اقصیٰ کو اسی جگہ تعمیر کردیا جہاں حضرت ابراہیم ؑ نے اسے بنایا تھا ۔

بنی اسرائیل نے پھر دین سے انحراف اور شریعت سے کھلواڑ کیا ۔ سرکشی کی اس انتہا کو پہنچے کہ ایک رقاصہ کے کہنے حضرت یحییٰ ؑکو شہید کردیا۔ اس انحطاط کا لازمی تقاضہ مغلوبیت تھا۔ ۷۲۱ ق م میں آشوریوں نے حملہ کرکے مسجد اقصیٰ کو مسمار کردیا۔ اس طرح عروج پھر سے زوال پذیر ہوگیا اور بخت نصر بنی اسرائیل کو غلام بناکر بابل لے گیا۔ ایران کے سائرس نے وہاں سے آزاد کرایا اور وہ فلسطین واپس آئے تو سکندر اعظم نے حملہ کرکے بنی اسرائیل کو ملک سے نکال دیا۔ یعنی دوسروں کے بل بوتے پر ظلم و جبر سے عارضی نجات تو مل جاتی ہے لیکن اگر کوئی قوم اس دوران اپنی صفوں کو منظم و مستحکم نہ کرے تو اس کا خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا ۔ وطن عزیز میں مختلف جماعتیں جب فسطائی طاقتوں کو شکست فاش سے دوچار کردیتی ہیں تو ہمیں عارضی قلبی راحت تو ملتی ہے لیکن کوئی دیرپا فائدہ نہیں ہوتا۔ اس کے لیے امت اپنے داخلی محاذ پر اس طرح کام نہیں کرتی جیسا کہ ۱۶۵ ق م کے اندر بنی اسرائیل نے حضرت عزیر ؑ کی قیادت میں تجدیدو احیائے دین کی سعی کی تھی۔ اس کے نتیجے میں پھر سے ان کی ایک زبردست حکومت قائم ہوگئی۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی بنی اسرائیل دین کی جانب پلٹے ان کو غلبہ نصیب ہوا اور جب روگردانی کی تو مغلوبیت ان کا مقدر بن گئی۔

بنی اسرائیل جس وقت آشوریوں کی غلامی کا شکار تھے فلسطین کے مشرق میں ایران جیسی بڑی طاقت ابھر چکی تھی۔ اس نے بنی اسرائیل کو آزادی بھی دلوائی اور بغاوت کرنے پر اسے سزا بھی دی ۔مغرب کی جانب یونان میں افلاطون ، سقراط اور ارسطو نےعلم و فلسفہ کے میدان میں زبردست معرکہ سر کیے۔ اس علمی و فکری بالادستی نےسکندر اعظم جیسے فاتحِ عالم کو جنم دیا جو مصرو فلسطین کو روندتا ہوا ایران آیا اور وہاں فتح کا پرچم لہرا کر ہندوستان کی سرحد پرپہنچ گیا۔ عالم شباب میں دوران سفر سکندر اعظم کی اچانک وفات نے یونانیوں کو خانہ جنگی کا شکار کردیا ۔ ایک طرف یونانیوں کا زور ٹوٹا دوسری جانب بنی اسرائیل حضرت عزیر ؑ کی قیادت میں مجتمع ہوگئے لیکن حضرت عیسیٰ ؑ کے انکار ودشمنی نے انہیں پھر سے برباد کردیا۔

یہ ستم ظریفی ہے کہ عیسیٰ ؑ کو جس قوم کی جانب مبعوث کیا گیا تھا اس نے انہیں صلیب پر چڑھانے کی مذموم کوشش کی جبکہ ان سے برسرِ پیکار رومی اور یونانی ایمان لے آئے۔ تاریخ نے ایک اور پلٹا کھایا۷۰ عیسوی میں رومی شہنشاہ ٹائٹس نے یہودیوں کو غلام بنا کر فلسطین سے باہر بیچ دیا۔ نبی کریم ؐکی بعثت کے وقت یہودی فلسطین وجزیرۃ العرب میں بکھرے ہوئے تھے لیکن نسلی عصبیت کی بناء پروہ انکار کی روش پر قائم رہے اور مغلوبیت ان کا مقدر بنی رہی یہاں تک کہ بازطینی بادشاہ نے ۶۳۶ عیسوی میں بیت المقدس حضرت عمرؓ کے حوالے کردیا۔ یہ بھی حسن اتفاق ہے کہ جس طرح حضرت عیسیٰ ؑ پر روم و یونان کے لوگ ایمان لے آئے اسی طرح نبی کریم ؐکی دعوت پر ایرانیوں نے لبیک کہا اور دین اسلام مشرق کی جانب پھیلتا چلا گیا۔ بنی اسرائیل میں جس طرح انبیاء کی بعثت ہوتی رہی اور ان کی نصرت یا بغاوت انہیں عروج یا زوال سے دوچار کرتی رہی اسی طرح امت مسلمہ کے اندر انبیائی مشن کو آگے بڑھانے والے علماء اور مجاہدین کے ساتھ ملت کا رویہ اس کے عروج وزوال کا سبب بنتا رہا ۔ سرزمینِ ہند پرسید احمد شہید کی اسلامی تحریک کے ساتھ جس بے اعتنائی کا مظاہرہ ہندوستان کی امت مسلمہ نے کیا اس کی قیمت وہ اب تک چکا رہی ہے۔

تحریک اقامت دین تو قرآن مجید کی اس پکار پر لبیک کہہ کر اٹھتی ہے کہ ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب، اللہ تم سے زیادہ اُن کا خیر خواہ ہے لہٰذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے‘‘۔ اب اگر کوئی اپنے اقتدار کی خاطر یا اپنے دنیوی آقاوں کی خوشنودی کے لیے خداپرستوں اور حق کے گواہوں کا دشمن بن جائے تو اس کا انجام تباہی و بربادی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے؟ ارشاد ربانی ہے ’’جو لوگ اللہ کے احکام و ہدایات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اس کے پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی جان کے درپے ہو جاتے ہیں، جو خلق خدا میں عدل و راستی کا حکم دینے کے لیے اٹھیں، ان کو درد ناک سزا کی خوش خبری سنا دو ‘‘(سورہ آل عمران ۲۱)۔ اس آیت میں پیغمبروں کے ناحق قتل کے شانہ بشانہ ایسےحق پرستوں کی ابتلاء و آزمائش کا ذکر کیا گیا ہے جو ظلم و ناانصافی کے خلاف عدل و قسط کا علم بلند کرتے ہیں اور ان پر ظلم ڈھانے والوں کو دردناک عذاب کی بشارت دی گئی جس کی مثالیں آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی نظر آتی ہیں۔

حضرت عثمان غنی ؓ سے لے کر حضرت حسین ؓکی شہادت تک کے دل دہلادینے والے سانحات نے اسلام کے نظام سیاست پر منفی اثرات مرتب کئے مگر تعلیم ،عدالت، معاشرت اور حربی بالادستی کی وجہ سے مسلمانوں کو دنیا کے ایک بڑے حصے پر غلبہ حاصل رہا۔ لیکن خلافت عثمانیہ کے خاتمہ نے نہ صرف امت کے بین الاقوامی سیاسی اتحاد کو پارہ پارہ کردیا۔ تاریخ کے اس موڑ پر پہلی بار امت نے اپنی فکری شکست کو تسلیم کرلیا اور اپنے سیاسی نظام کی بنیادعقیدۂ خلافت کو نظریہ ٔ قومیت سے بدل دیا۔ ترکی قوم پرستی کے جواب میں عربی اور ایرانی قومیت کوفروغ حاصل ہوا ۔ جنگ عظیم کے مغربی فاتحین نے مسلم دنیا کوجن مختلف ممالک میں تقسیم کیاان میں سے ہر ایک کا منفردتشخص دین اسلام کے بجائے وطن تھا ۔ علامہ اقبال ان تبدیلیوں کے شاہد تھے۔ جنگ عظیم میںقوم پرست یوروپ کی تباہ کاری سے واقف اقبال جانتے تھے کہ وطن کا حصار ملی اتحاد کی پیٹھ میں خنجر ثابت ہو گااور امت کی سیاست کو روحِ اسلامی سے محروم کرکے منتشر کردے گا۔ اس لئے حکیم الامت نے واشگاف انداز میں خبردارکیا ؎

ان تازہ خداوں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے

قوم پرستی کے نشے میں چور مسلم حکمراں بظاہر روشن خیال نظر آتے تھےلیکن وہ اسلام کی مخالفت میں بہت شدید تھے۔ مصطفیٰ کمال اتاترک کی شدت پسندی کا یہ عالم تھا کہ وہ اذان و نماز میں بھی عربی کا روادار نہیں تھا بلکہ ترکی زبان پر اصرار کرتا تھا ۔ ایران کا رضا شاہ پہلوی بھی اسلام کا کٹرّ دشمن تھا۔ ان ظالم حکمرانوں میں سےایک بادشاہ اور دوسرا فوجی آمرتھا ، ایک شیعہ و دوسرا سنی تھامگردونوں اپنی اسلام دشمنی کے سبب مغرب کے منظور نظر تھے۔ اسی طرح غیر جانبدارممالک کی تحریک کا اہم ستون اور جو عرب ممالک کی تنظیم کا سربراہ اشتراکیت نواز جمال عبدالناصر بھی اسلام دشمنی میں پیش پیش تھا۔ شام کے حافظ اسد اور عراق کے صدام حسین اس کے ہمنوا تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جبر وظلم کے خلاف اسلام کے احیاء کی بڑی تحریکیں مصر ، ترکی اور ایران سے اٹھیں بقول صفی لکھنوی ؎

اس دین کی فطرت میں قدرت کے لچک دی ہے
اُتنا ہی یہ اُبھرے گا جتنا کہ دبا دیں گے

مشرق وسطیٰ کے زیرو بم کو اگر اسلام پسندوں اور اس کے دشمنوں کی کشمکش کے تناظر میں دیکھا جائے تو حالیہ تاریخ نہایت دلچسپ انکشافات کرتی ہے۔ یہاں اسلام پسند سے مراد وہ تحریکات ہیں جو مغرب سے مستعار فاسد نظریات مثلاً قوم پرستی، لادینیت، اشتراکیت اور سرمایہ داری کو مسترد کرکے زندگی کے تما م شعبوں بشمول سیاست میں دین کا نفاذ چاہتی ہیں۔ اس کے برعکس اسلام دشمن وہ عناصرہی جو اسلام کو سیاست سے خارج کرنے کا دعویٰ کرکےعملاً زندگی کے تمام شعبوں سے بے دخل کردینا چاہتے ہیں۔ مغرب کے یہ ذہنی غلام دین اسلام کو عبادات اور انفرادی زندگی تک محدود کردینے کے قائل تو ہیں لیکن ان کی اپنی ذاتی زندگی بھی دین سے خالی نظر آتی ہے۔ مغرب زدہ مسلم حکمرانوں نے اسلامی تحریک کے نظریاتی چیلنج کو اپنے اقتدار کیلئے خطرہ سمجھ کر اس کی سرکوبی تو کی لیکن اپنے ناپاک مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہےکہ ان میں سے ہر ایک رسوا ہوکر دنیا سے گیا۔ اس لئے کہ ارشاد ربانی ہے : ’’اوریادرکھو،تمہارےربنے خبردار کردیاتھا کہاگرشکرگزاربنوگےتومیںتم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کفران نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے‘‘۔ (ابراہیم۷)۔

ترکی میں مصطفیٰ کمال اتاترک نے اسلام کی بیخ کنی میں ساری اخلاقی حدود وقیود کو پامال کیا ۔شراب نوشی نے اتاترک کا جگر تباہ کردیا تھا اور آخری وقت میں اسے سرخ چیونٹی کامرض لاحق ہوگیا (جس میں یوں محسوس ہوتا ہے گویا سارے جسم پر چیونٹیاں رینگ رہی ہیں)۔ اس کے بعد وہ بے چینی کے عالم میں مختلف محلات میں مارا مارا پھرتا رہا اور بالآخر دم توڑ دیا۔ اس کے الحاد کی شدت اس قدر تھی کہ اول تو کسی نے نماز جنازہ پڑھانے کی جرأت نہیں کی اور جب بہن نے اصرار کیا تو وہ نماز عربی کے بجائے ترکی زبان میں پڑھائی گئی۔ اتاترک کی موت کے بعد مغرب پرست دانشوروں، فوجیوں، ججوں اور انتظامیہ میں بڑے عہدوں پر فائز افسران نے ظلم و جور کا بازار گرم رکھا۔ عوام کی مرضی سے اقتدار میں آنے والے حکمرانوں کو نہ صرف بر طرف بلکہ کھلے عام تختہ ٔ دار پر چڑھانے کی مذموم حرکت بھی کرڈالی اس کے باوجود ترکی کے اندر پھر سے اسلام پسند غالب ہوگئے اوراب ان کی حکومت ہے۔ اس کا تختہ الٹنے کی فوجی کوشش کو عوام نے میدان میں اتر کر ناکام بنادیا۔

ایران میں بھی جب اسلامی بیداری آئی تو شاہ ایران نے اسلام پسندوں کے خلاف اسرائیل کی موساد تک کا تعاون لینے سے گریز نہیں کیا اور اسلام پسندوں کو نہ صرف سخت سزائیں دیں بلکہ ملک بدر کردیا۔ بالآخر رضا شاہ پہلوی کا جبر شکست کھا گیا۔ اس کو وطن چھوڑ کر فرار ہونا پڑا۔ امریکہ نے اپنے ملک میں پناہ دینے سے انکار کردیا اور وہ مصر کے اندر گمنامی کی موت مرا۔ اس شہنشاہ کی تدفین اس کے اپنے گھر کے اندر کسمپرسی کے عالم میں ہوئی کہیں ایک آنسو نہیں بہا۔ ایران میں اسلامی انقلاب کو کچلنے کیلئے جس صدام حسین کو امریکہ اور روس نے جنگ پر آمادہ کیا وہ امریکی فوج کشی کی بھینٹ چڑھ گیا ۔ ایک زمانے تک یاسر عرفات کے ساتھ مسلم دنیا تھی لیکن اب الفتح کا دبدبہ ختم ہوچکا ہے اور فلسطینی مسلمانوں کی قیادت اسلامی تحریک حماس کے ہاتھوں میں آگئی ہے۔ آج اسرائیل بھی حماس سے خوفزدہ ہے اور ساری دنیا محمود عباس کے بجائے اسماعیل ہٰنیہ کواہمیت دیتی ہے ۔

مصر کےجمال عبدالناصر کو اپنی فوجی طاقت پر بہت ناز تھا۔ شام میں اس کا ہم فکر حافظ الاسد برسرِ اقتدار تھا۔ ان دونوں نے مل کر بیک وقت اسرائیل پر حملہ کردیا مگر ابتدائی کامیابی کے بعد انہیں شکست کا منہ دیکھنا پڑا اور صحرائے سینا ہاتھ سے نکل گیا۔ اس ناکامی نے عرب دنیا میں ناصرکو بے وزن کردیا موت سے قبل اسے عربوں کی سربراہی سے معزول کردیا گیا۔اس کا وارث انور سادات سوویت کیمپ سے نکل کر امریکہ کا بندۂ بے دام بن گیا۔ اسرائیل سے معاہدے کے سبب وہ فوجی پریڈ کے دوران قتل کردیا گیا۔ انورسادات کا دست راست حسنی مبارک عوامی احتجاج کے نتیجے میں رسوا ہوکر گیا اور اولین غیر جاندارانہ انتخابات کے تینوں مرحلوں میں وہی اخوان المسلمون کامیاب رہی جسے مغرب نوازوں نے نیست و نابود کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی فرمان خداوندی ہے:’’ کہو! خدایا! مُلک کے مالک! تو جسے چاہے، حکومت دے اور جسے چاہے، چھین لے جسے چاہے، عزت بخشے اور جس کو چاہے، ذلیل کر دے بھلائی تیرے اختیار میں ہے بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے(آل عمران ۲۶)‘‘۔

مصر کے اسلامی انقلاب کا تختہ سازش اور فوجی بغاوت سے الٹ دیا گیا اس لئے کہ اس سے اسرائیل، عرب حکمراں اور ان کے مغربی آقاخوفزدہ ہوگئے تھے۔ اسلامی بہار سے قبل جزیرۃ العرب کے حکمران اسلامی تحریکات کو اپنے اقتدار کیلئے خطرہ نہیں سمجھتے تھے یہی وجہ ہے کہ مصرو شام کے معتوب اخوانیوں کو سعودی عرب، کویت، امارات اور قطر میں پناہ مل جاتی تھی۔ جزیرۃ العرب میں تعلیمی ترقی، طبی سہولیات ، معاشی استحکام، بلدیاتی نظام اور دینی بیداری میں اخوانی اساتذہ اوردانشوروں کے کردار سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ مصر میں اخوانی حکومت کے بعدمسلم حکمرانوں کو یہ خوف دلایا گیا کہ یہ اسلامی لہر ان کو تخت و تاج سے بے دخل کردے گی۔ اس لئے وہ اخوانیوں کو اقتدار سے ہٹانے کے گھناونے کھیل میں شامل ہوگئے۔ پہلی مرتبہ تیل کی دولت کا بے دریغ استعمال اسلام پسندوں کا ناحق خون بہانے کیلئے کیا گیا اور تختہ الٹنے کے بعد اس پر علی الاعلان مسرت کا اظہار اس آیت کی مصداق کیا گیا: ’’اوراگراللہ اپنے بندوں کے لیے رزق میں فراخی کر دیتا تو وہ زمین میں فساد کرنے لگتے لیکن اللہ جس قدر چاہتا ہے اندازے کے ساتھ نازل کرتا ہے‘‘۔ (الشوریٰ۲۷)

اس سازش میں شامل ہونے والوں کے لئے نعمتِ الٰہی کی ناقدری بے برکتی بن گئی ۔ تیل کےبھاو ایسے گرے کہ دولت کا نشہ کافور ہوگیا۔ اس پر یمن کی جنگ نے نہ صرف خزانہ خالی کیا بلکہ رسوائی سے دوچار کیا۔ اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ فی الحال یمن کی راجدھانی سناء بظاہرکمزور نظر آنے والے حوثیوں کے قبضے میں ہے اور بزور قوت حصول کا امکان مفقودہے۔ آلِ سعود کی خانہ جنگی نے سعودی عرب کے اقتدار کو ایک آتش فشاں کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ امریکہ کی شئے پر مصر میں تختہ الٹا گیا تھا لیکن ۱۱ستمبر کے نقصان کی بھرپائی کا قانون بنا کر اس نےسعودی عرب کی پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا ۔ ڈاکٹر محمد مورسی کو اقتدار سے ہٹا کرجس عبدالفتاح السیسی کو اقتدار میں لایا گیا تھا اس سے چند غیر آبادجزیروں کو لے کر سعودی عرب تعلقات بے حد خراب ہوگئے ہیں ۔ اسلام پسندوں کے خلاف ایک دوسرے کے ہمنوا سعودی حکمراں اور السیسی ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ہیں۔

ایران کو مشیت نے ایک عرصہ تک مغرب کی ریشہ دوانیوں سے محفوظ رکھا۔ جنگ اس کا کچھ نہ بگاڑ سکی معاشی مقاطعہ کے باوجود وہ مستقل حماس اور فلسطین کی حمایت کرتا رہا ۔ اس کی پرورش کردہ حزب اللہ نے اسرائیل کو ناکوں چنے چبوادیئے اور حمایت یافتہ حوثیوں کو بھی کامیابی ملی لیکن شام کے اندر ایران کے رہنماوں نے خود اپنے پیر پر کلہاڑی چلادی۔ ساری دنیا میں مستضعفین کی حمایت کا دم بھرنے والے شام میں اسلام پسندوں کے بجائے ظالم بشار الاسد کے ساتھ ہوگئے۔ روس جب اپنے فوجی اڈے کو بچانے کی خاطر شام کی سرزمین پر آسمان سے بم برسا رہا تھا تو زمین پر حزب اللہ کے جنگجو شیطان لعین بشار کے ہاتھوں کا کھلونا بن کر علی الاعلان مظلوموں کا ناحق خون بہارہے تھے۔ قومی مفاد نے ایرانی حکمرانوں کو ان کے فرضِ منصبی سے غافل کردیا ۔جیسا کہ ارشاد ہے: ’’رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے، تو انہیں ہم بتدریج ایسے طریقہ سے تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ انہیں خبرتک نہ ہوگی۔ میں ان کو ڈھیل دے رہا ہوں، میری چال کا کوئی توڑ نہیں ہے‘‘ (اعراف۱۸۲،۱۸۳)

ترکی نے جب روسی طیارے کو مار گرایا تو دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات بے حد کشیدہ ہوگئے لیکن فوجی بغاوت کی ناکامی کے بعد ترکوں نے امریکہ سے قطع تعلق کرکے روس کی جانب ہاتھ بڑھایا اور شام کے مسئلہ میں وہ ایک اہم فریق بن گیا جس سے ایران کی سیاسی بساط سمٹ گئی۔ایران کی مرضی کے خلاف ترکی روس کو جنگ بندی پر راضی کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ ایران پر لگی اقتصادی پابندیاں جب ختم ہوئیں تو مغرب ایران کے اسی طرح کے قصیدے پڑھنے لگا جیسے دبئی کے پڑھا کرتا تھا اور ایرانی وزیرخارجہ نے داعش کی دہشت گردی کیلئے سعودی عرب کو اسی طرح ذمہ دار ٹھہرادیاجیسے کہ کبھی سعودی حکمراں اسلامی شدت پسندی کیلئے ایران کو موردِ الزام ٹھہراتے تھے لیکن امریکہ اور ایران کی دوستی کے دن اوبامہ کے ساتھ لد گئے اور ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے تئیں وہی قدیم معاندانہ موقف اختیار کرلیا ہے۔

ڈونالڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آتے ہی امریکی انتظامیہ نے عربوں کے ساتھ پینگیں بڑھانی شروع کردیں اور ایران پر شکنجہ کسنےلگا۔ ایرانی حکمرانوں کا دماغ ٹھکانے آرہا اور وہ پھر سے مسلم ممالک کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ ایران کے صدر نے عمان، کویت اور پاکستان کا دورہ کرکےباہمی احترام و تعاون اور اتحاد و اعتماد کی فضا بنانے کی سعی کرچکے ہیں۔ خلیجی تعاون کونسل کے ارکان نے اس اقدام کاخیر مقدم کیا تھا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان ممالک قومی اور ذاتی مفادات سے اٹھ کراسلامی اخوت کا رشتہ استوار کریں۔ اپنے تنازعات باہم گفت و شنید سے حل کریں تاکہ دشمن کو اس کی آڑ میں امت کی معیشت اور قیمتی جانوں کو ضائع کرنے کا موقع نہ ملے۔ اللہ تعالیٰ نے جو بیش بہا مادی نعمتیں عطا کی ہیں اور ایمان کی جس نعمت عظمیٰ سے نوازہ ہے اس کی ناقدر ی سے بچیں اس لئےکہ نبیٔ رحمت ؐ کا رشاد ہے:’’ نافرمانیاں نعمت کو یوں کھا جاتی ہیں جیسے آگ لکڑی کو۔ جب تو دیکھے کہ نا فرمانی کے باوجود تم پر نعمتیں پوری طرح نازل ہورہی ہیں تو تجھے ڈرنا چاہیے کہ یہ استدراج ہوسکتا ہے‘‘۔

دنیا بھر میں تحریکات اسلامی کم وبیش ان حالات سے دوچار ہیں جن سے نبی کریم ؐ مکہ مکرمہ میں نبردآزما تھے۔ کبھی ان پر دباو ڈالا جاتا ہے تو کبھی ان سے مفاہمت کی کوشش کی جاتی ہے۔ مفسرین نے سورہ ص کا یہی پس منظر بیان کیا ہے۔ اس سورہ میں پہلے خالق کائنات اپنے حبیب مکرم ؐ کی ڈھارس بندھا تا ہے: ’’ اے نبیؐ، صبر کرو اُن باتوں پر جو یہ لوگ بناتے ہیں‘‘ (سورہ ص ۱۷)۔اس کے بعدحکم دیا کہ ان سرکش وباغی حکمرانوں کے مقابلے جن کا ذکر اوپر گذر چکا ہے ایک فرمانبردار فرمانروا کی صفات عالیہ سے انہیں آگاہ کرو :’’ اور اِن کے سامنے ہمارے بندے داؤدؑ کا قصہ بیان کرو جو بڑی قوتوں کا مالک تھا ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رجوع کرنے والا تھا ۔ ہم نے پہاڑوں کو اس کے ساتھ مسخر کر رکھا تھا کہ صبح و شام وہ اس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے ۔ پرندے سمٹ آتے اور سب کے سب اُس کی تسبیح کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے ‘‘(سورہ ص ۱۷ تا ۱۹)۔

حضرت داود ؑ کوئی گوشہ نشین بزرگ نہیں تھے بلکہ ان کی بابت یہ بھی فرمایا کہ :’’ ہم نے اس کی سلطنت مضبوط کر دی تھے، اس کو حکمت عطا کی تھی اور فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت بخشی تھی‘‘(سورہ ص ۲۰)۔ اس تعارف کے بعد حضرت داودؑ کے سامنے پیش ہونے والے ایک قضیہ کا تفصیل کے ساتھ ذکر فرمایا گیا اورخلاصہ ٔ کلام اس طرح بیان ہوا کہ :’’ (ہم نے اس سے کہا) "اے داؤدؑ، ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے، لہٰذا تو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ حکومت کر اور خواہش نفس کی پیروی نہ کر کہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں یقیناً اُن کے لیے سخت سزا ہے کہ وہ یوم الحساب کو بھول گئے” (سورہ ص ۲۶)۔ اس آیت میں جہاں حق کے ساتھ حکومت کرنے کی تلقین ہے وہیں خواہش نفس کے چور دروازے کا ذکر بھی کردیا گیا ہے جس سے داخل ہوکر شیطان اپنی پیروی کرواتا ہے۔ اسی کے ساتھ خواہش نفس پر لگام لگانے کیلئے اپنے خلیفہ ہونے کا استحضاراور یوم الحساب میں جوابدہی کا احساس بھی پیدا کیا گیا ۔

ابلیس چونکہ خود گھمنڈی ہے اس لئے وہ حکمرانوں کو بہ آسانی تکبر کے جال میں پھنسا لیتا ہے۔ شیطان کی بابت قرآن حکیم بارہا خبردار کرتا ہے کہ وہ انسانوں کا کھلا دشمن ہے۔وہ حکمرانوں کو اقتدار بچانے کیلئے ظلم وستم کی حکمت عملی سجھاتا ہے اور وہ اسے اپنا خیر خواہ سمجھ کر جبر وظلم کی راستے پر چل پڑتے ہیں۔ یہ تباہی کا راستہ بالآخر ان کو اقتدار سے محروم کردیتا ہے لیکن جس وقت انہیں اس کا احساس ہوتا ہے بہت دیر ہوچکی ہے۔اس انجام بد سے بچنے کی واحد سبیل یہ ہدایت ہے کہ :’’ اے ایمان لانے والو! تم پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو جاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ جو صاف صاف ہدایات تمہارے پا س آ چکی ہیں، اگر ان کو پا لینے کے بعد پھر تم نے لغز ش کھائی، تو خوب جان رکھو کہ اللہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے(البقرہ۲۰۸، ۲۰۹)۔
حکمراں طبقہ جب تک اپنے آپ کو اللہ کا خلیفہ اور اقتدار کو اللہ کی امانت سمجھتا ہے شیطان کی چالوں سے محفوظ و مامون رہتا ہے۔ قوم عروج پر ہوتی ہے لیکن جب یہ شعور کمزور ہوجا تا ہے۔وہ خدا کے اقتدار اعلیٰ کا انکار کرکے اپنی من مانی کرنے لگتے ہیں اور قوم بھی خوف یا ابن الوقتی کا شکار ہوکر ان کا ہاتھ بٹانے لگتی ہے تو وہ دشمن کیلئے نرم چارہ اور آلۂ کار بن زوال پذیر ہوجاتی ہے ۔ شیطان کے فریب میں آکر طاوس رباب پر فریفتہ ہوجانے والوں کےشمشیر و سناں کا ہدف دشمن نہیں دوست ہوتے ہیں حالانکہ اس کی یہ صفت بتائی گئی تھی کہ : ’’۔۔۔(وہ) کافروں پر بہت سخت اور زور آور ہیں آپس میں بہت نرم دل اور شفیق ہوتے ہیں(فتح ۲۹)۔ بقول اقبال اس دور ِ پر فتن میں امت کے عروج کا دراسی شاہ کلید سے کھل سکتا ہےکہ ؎

ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

خطبے کی زبان اور زمانے کی پکار

محی الدین غازی بغیر سمجھے کتنے ہزار سال تک سنا جائے گا ...