قراردادیں

ایس آئی او آف انڈیا کی مرکزی مشاورتی کونسل کا اجلاس مورخہ ۵؍تا ۶؍اکتوبر ۲۰۱۳ ؁ء کو دہلی میں منعقد کیا گیا۔ اس اجلا س میں ملک کی موجودہ صورتحال ، تعلیم اور تعلیمی اداروں میں حکومت کی عدم دلچسپی، کرپشن، فسطائی قوتوں کے ذریعہ سے ملک میں فرقہ واریت عام کرنے کی کوششوں وغیرہ پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اس اجلاس میں درج ذیل قراردادیں پاس کی گئیں۔ (ادارہ)

سی اے سی کا یہ اجلاس ملک میں حالیہ دنوں میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی کے واقعات، اس کی روک تھام میں حکومتی مشنریز کی ناکامی پر سخت تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ ملک میں آنے والے دنوں میں انتخابات کے پیش نظر فسطائی طاقتیں سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے ماحول کو خراب کرنے کی ہرممکن کوشش کررہی ہیں، اور اس ماحول میں بیشتر سیاسی پارٹیاں اپنے سیاسی فوائد سمیٹنا چاہتی ہیں۔ یہ اجلاس مرکزی وریاستی حکومتوں سے پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ اس ماحول کو زہرآلود ہونے سے ہرصورت بچایا جائے، اور یہ بروقت اقدامات سے ہی ممکن ہے۔ اسی کے ساتھ ملک کے تمام امن پسند شہریوں سے اپیل کرتا ہے کہ خاموش تماشائی کا رول ادا کرنے کے بجائے وہ آگے آئیں، اور اس زہر کو ملک سے دور کرنے کے لیے مشترکہ جدوجہد کے لیے کمربستہ ہوں۔ اسی طرح یہ اجلاس مرکزی حکومت سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ جلد از جلد انسداد فرقہ وارانہ فسادات بل کو قانون کی شکل دے۔
n ۲۰۱۴ ؁ء میں عام انتخابات کے مدنظر تمام سیاسی پارٹیوں نے اپنی انتخابی مہمات کا آغاز کردیا ہے۔ اگرچہ کہ کسی سیاسی پارٹی نے اپنے انتخابی منشور کا اعلان نہیں کیا ہے، لیکن ان کے لیڈرس کے بیانات سے پارٹیوں کے ایجنڈوں کا اندازہ ہورہا ہے۔ بحیثیت طلبہ تنظیم ایس آئی او آف انڈیا کی مرکزی مشاورتی کونسل کا یہ احساس ہے کہ ملک کی آبادی کی ایک بڑی اکثریت طلبہ برادری کی سب سے بڑی ضرورت یعنی تعلیم کے موضوع پر کسی سیاسی پارٹی نے اپنے عزائم اور منشور کا تاحال اعلان نہیں کیا ہے۔ سی اے سی کا یہ اجلاس تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ تعلیم کو ایک اہم موضوع کے طور پر اپنے ایجنڈے میں شامل کریں اور کئی سالوں سے زیرتکمیل اہم مطالبات جیسے تعلیم پر جی ڈی پی کے ۶؍فیصد اخراجات معیار تعلیم کی بلندی کے سلسلے میں ہوں، وغیرہ امور پر اپنے موقف کو واضح کریں اور بعد از انتخابات ان مطالبات کی تکمیل کریں۔
n سی اے سی کا یہ اجلاس ملک میں بڑھتے عصمت دری کے واقعات پر فکرمند ہے۔ پچھلے دنوں دہلی کے مشہور واقعہ اور اس کے بعد ملزمین کو سنائی گئی سزا کے باوجود ان واقعات میں لگاتار اضافہ ہورہا ہے، سی اے سی کا احساس ہے کہ ان واقعات کو روکنے کے لیے نہ صرف سخت قوانین کی ضرورت ہے بلکہ حکومتی اداروں، پولیس، اور دیگر اداروں کے درمیان ان واقعات کو روکنے کے لیے قوت ارادی، اور آپسی تعاون کی بھی شدید ضرورت ہے۔ اسی کے ساتھ اہم ہے کہ ان واقعات کے اصل اسباب کو تلاش کیا جائے، اور ان اسباب کا ازالہ کرنے کی کوشش کی جائے۔
n سی اے سی کا یہ اجلاس مصر میں پیش آئے حالیہ واقعات پر اپنے غم وغصہ کا اظہار کرتا ہے، فوجی حکمرانوں کے ذریعے جمہوریت کا قتل اور عوام کے جائز مطالبات کو بزور کچلنا ایسے اقدامات ہیں، جن کی مہذب دنیا میں ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی۔ یہ اجلاس اسی کے ساتھ مغرب اور عرب دنیا کے ممالک کے دوہرے رویے کی بھی مذمت کرتا ہے، جو کہ جمہوریت کے تئیں اپنے عہد کے باوجود ان حکمرانوں کے ساتھ تعاون اور نرمی کا معاملہ کررہے ہیں۔ یہ اجلاس حکومت ہند سے بھی مطالبہ کرتا ہے کہ وہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے تئیں اپنے عہد کی پاسداری کرے، اور مصری حکمرانوں پر دباؤ ڈالے۔
n سی اے سی کا یہ اجلاس ملک میں پے درپے رونما ہونے والے کرپشن کے واقعات پر بھی اپنی گہری فکرمندی ظاہر کرتا ہے، ملک میں لوٹ کھسوٹ کے واقعات اپنے عروج پر پہنچ چکے ہیں، اس کے ذریعہ سیاسی طبقہ ہر خواہش کو پورا کرنے میں لگاہوا ہے۔ اس کا اثر عوامی زندگی میں ہرسطح پر اور ہر جگہ پر نظر آتا ہے۔ یہ اجلاس اس مکمل صورتحال میں اس بات کی شدت سے ضرورت محسوس کرتا ہے کہ عوامی زندگی اور سیاسی حلقوں میں ہر جگہ سے کرپشن کا مکمل خاتمہ ہو، اس کے لیے جہاں قوانین کی ضرورت ہے، وہیں تعلیمی اداروں میں طلبہ اور نوجوانوں کی اس سلسلے میں ذہن سازی کی بھی ضرورت ہے۔
n سی اے سی کا یہ اجلاس پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے نام پر بے قصور مسلم نوجوانوں کی غیرقانونی طریقے سے گرفتاری کا جو سلسلہ چلایا گیا ہے، اسے فوری بند کیا جائے۔ سیکڑوں مسلم نوجوانوں کو غیرقانونی طریقے سے گرفتار کرکے، ان کے اندر عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا جارہا ہے، جو ملک میں رہنے والے نہ صرف اقلیت بلکہ عام طلبہ ونوجوانوں کے اندر خوف اور ہراس کی فضا پیدا کررہا ہے۔ اس سلسلے میں مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے کے ذریعہ ریاستوں کے وزراء اعلی کو لکھے گئے خطوط پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔ اور سالوں سے جیلوں میں بند بے قصور مسلم نوجوانوں کو رہا کیا جائے۔ ساتھ ہی بغیر کسی تحقیق کے اس طرح کی غیرقانونی گرفتاریاں اور پولیس وخفیہ ایجنسیوں کے ذریعہ ہراساں کیے جانے پر روک لگائی جائے۔
n مرکزی مشاورتی کونسل ایس آئی او آف انڈیا علیحدہ تلنگانہ ریاست کے قیام کے فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہے۔ اجلاس کا یہ احساس ہے کہ الگ ریاست وہاں کی ایک بڑی آبادی کے پچھڑے پن کو سامنے رکھتے ہوئے اور سماجی انصاف کی راہ میں ایک اہم فیصلہ ہے۔ اس فیصلے سے وہ علاقہ جو بنیادی ترقیاتی منصوبے کا فائدہ نہیں اٹھاسکا ہے، اور بہت سارے مسائل سے دوچار ہے، اس کو بہتر انداز میں حصہ داری مل سکے گی۔ اسی کے ساتھ اجلاس یہ محسوس کرتا ہے کہ نئی ریاست اور سیما آندھرا کے درمیان وسائل و مالیہ، پانی، الیکٹریسٹی، تعلیم جیسے امور پر منصفانہ انداز میں تقسیم عمل میں آئے اور ارباب سیاست ان دونوں علاقوں کی عوام کے مفادات کا تحفظ کریں

 

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

روہت: مزاحمتی تحریکات کے لیے ایک روشن ستارہ – نحاس مالا

روہت ویمولا کے یونیورسٹی انتظامیہ کے دباؤ میں خودکشی کی دوسری برسی ...