غزل

ہوامغرب سے کچھ ایسی چلی آہستہ آہستہ
متاع دین ودانش لٹ گئی آہستہ آہستہ

تمنا یہ ہے صبح زندگی سے پیار اب کرلوں
یہ شمع زندگی بجھنے لگی آہستہ آہستہ

اندھیرے دھیرے دھیرے جہل کے روپوش ہوتے ہیں
بڑھاتی ہے قدم جب آگہی آہستہ آہستہ

تجلی جب ضعیفی کی اداکاری کی ہنستی ہے
مٹاتی ہے سیاہی زلف کی آہستہ آہستہ

گناہوں کے اندھیرے آنسوؤں میں خون کے ڈوبے
جگر میں شمع توبہ جب جلی آہستہ آہستہ

کوئی جب چپکے چپکے جام مے کو منہ لگاتاہے
لٹادیتاہے عزت آدمی آہستہ آہستہ

ہوا عزم سفر آراستہ جب قلب سالک میں
مرے نزدیک منزل آگئی آہستہ آہستہ

سالک بستوی (ایم ۔ اے)

غزل

کوئی کہتا ہے جینے کو، کوئی کہتا ہے مرنے کو
کوئی محدود رہنے کو، کوئی حد سے گزرنے کو

بلندی پر پہنچنے کو میں جب پرواز کرتا ہوں
میرا اپنا ہی لے آتا ہے قینچی پر کترنے کو

کبھی غیروں کے در پہ جھانک کر میں نے نہیں دیکھا
مجھے کافی ہے سیرت کا ہی اک شیشہ سنورنے کو

جو کچھ اعمال کرنے ہیں وہ کرلے زندگانی میں
وہاں مہلت نہ مل پائے گی دوبارہ سدھرنے کو

نہ جانے کیوں ذرا سی پیاس کا اظہار کر ڈالا
وہ دریا ہی اُٹھا لایا مجھے سیراب کرنے کو

بلندی پر پہنچنے کا ہنر جس نے سکھایا تھا
وہ اب مجبور کرتا ہے مجھے نیچے اترنے کو

اب اس کی رہنمائی میں نہیں چلنا ہمیں طارقؔ
بتاتا ہے ہمیں سیلاب جو چھوٹے سے جھرنے کو

ریاض طارقؔ ، مانگرول، راجستھان
09785805379

About Admin Rafeeq

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

اعتراف حقیقت

(حالات حاضرہ کے تناظر میں) میں مسلمان ہو ں اور فخر سے ...