غزل

رات دن فرض نبھاتے ہوئے تھک جاتے ہیں
آئینے عکس دکھاتے ہوئے تھک جاتے ہیں
بن تھکے جن کے لیے دوڑا میں سارا جیون
وہ میرے پیر دباتے ہوئے تھک جاتے ہیں
دل کی آتش پہ توجہ نہیں دے پاتے ہم
پیٹ کی آگ بجھاتے ہوئے تھک جاتے ہیں
اس قدر دور کی منزل کو چنا ہے ہم نے
راہبر راہ دکھاتے ہوئے تھک جاتے ہیں
یوں بھی ہوتا ہے کہ کچھ لوگ کئی صدیوں تک
قرض لمحوں کا چکاتے ہوئے تھک جاتے ہیں
روک دیتے ہیں وہ اک روز سفر کو دل کے
غم جو دھڑکن کو بڑھاتے ہوئے تھک جاتے ہیں
کوئی رشتہ ہی نہیں آتا غریبوں کے گھر
بوجھ بیٹی کا اٹھاتے ہوئے تھک جاتے ہیں
عیب پوچھو تو زباں ہلتی نہیں ایک کی بھی
خوبیاں اپنی گناتے ہوئے تھک جاتے ہیں
زندگی ہو تو بھنور سے بھی سلامت نکلیں
ورنہ ساحل بھی بچاتے ہوئے تھک جاتے ہیں
دھیان سے سنتی ہے جو بزم تری سرگوشی
ہم وہیں شور مچاتے ہوئے تھک جاتے ہیں
کرنے لگتے ہیں پھر آرام کسی نیزے پر
اہل حق، حق کو مناتے ہوئے تھک جاتے ہیں
کوئی تھکتا ہی نہیں آگ پہ چلتے چلتے
تالیاں لوگ بجاتے ہوئے تھک جاتے ہیں
انس نبیل، مہاراشٹر

 

(بہ رنگِ اقبال) ؒ
تقا ضے بہ سو دائے جاں ، اور بھی ہیں
مقالاتِ سود و زیاں، اور بھی ہیں

ہوئے جس سے بسمل ، یہو د و نصاریٰ
وہ تیر اپنے تر کش میں ، ہاں، اور بھی ہیں

ابھی حرف و معنی کے دفتر کھلیں گے
مگر دل کے ذکر و بیاں ، اور بھی ہیں۔

مجھے روز و شب کے اشاروں میں ڈھونڈ و
کہ ہستی کے میری ، نشاں، اور بھی ہیں

فسوں تیرا ہے کہ مفاہیمِ ا لفت
عیاں چند، لیکن، نہاں ، اور بھی ہیں

ابھی ہے جہانوں کی تسخیر باقی
ابھی تیرے آگے ، مکاں اور بھی ہیں

یہ چپکے سے اقبالؔ ؒ ، عاقبؔ سے بولے
ابھی دور ِ تیغ و سناں ، اور بھی ہی
خان حسنین عاقب ؔ
علامہ اقبال ٹیچرس کالونی۔ مومن پورہ، واشم روڈ، پوسد، مہاراشٹر ۔ ۴۴۵۲۰۴

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

ائے کاش ایسا دیس ہو..!!

کبھی دل کرے سرگوشیاں میں جاؤں کہیں دور تک جیسے جاتی ہیں ...