Home / سخن / غزل
Click Here to Read More

غزل

نوجوانِ قوم اب تو تُو بھی غافل ہوگیا
مغربی بدکاریوں میں تُو بھی شامل ہوگیا

مال ودولت کی ہوس میں اتنا زیادہ کھوگیا
دیکھ لو انسان ہی انساں کا قاتل ہوگیا

جو کبھی اسلام کا منبع تھا اب وہ ملک بھی
یار وہ جاکر رقیبوں ہی میں شامل ہوگیا

ہم مجاہد ہیں، نہیں ہے جان کی پروا ہمیں
جہاں بھی کشتی اپنی ڈوبی، وہاں ہی ساحل ہوگیا

تُو تو وہ شاہین ہے جو تھک نہیں سکتا کبھی
دل سے جو بھی کرلیا وہ عزم کامل ہوگیا

اپنے بندوں کی دعا کا رہتا ہے وہ منتظر
دل میں جو بھی کرلیا وہ عزم کامل ہوگیا

شمع بھڑکی دیکھ ساغر، کتنے پروانے جلے
پھر شہیدوں کے لہو سے دُور باطل ہوگیا
عبدالقادر ساغر،
الجامعۃ الاسلامیہ شانتاپرم۔ کیرلا

Click Here to Read More

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

اگر ضمیر کی چڑیاحلال کردیتے

عبدالحفیظ ۔ر،تلنگانہ   مرزا کا چھینکتے چھینکتے براحال تھا۔ ہم نے پوچھا ...