غزل

نگا ہیں تیز ہوں تو پھر نشانا خوب لگتا ہے
زمانہ ساتھ اسکے ہے جو اسکے ساتھ چلتا ہے

بہت رونا اگرآیا تو خود کی بات پر آیا
جہاں میں غیر کی خاطر بھلا اب کون روتا ہے

پرندے قید ہیں صیاد سے خود کو چھپاکر بھی
جدھر ڈالیں نظر اپنی وہیں صیاد دکھتا ہے

اگر بے خوف ہوجائو سمندر خود بنے ساحل
ہزاروں مشکلیں آئیں سفینہ پار لگتا ہے

خطائیں بھول کر ساری خوشی کے گیت گائیںگے
دلوں میں بغض رکھنے سے فقط کردار مرتا ہے

میں اس سے دور ہوکر بھی بہت نزدیک رہتا ہوں
اسے تکلیف ہوتی ہے تو میرا دل تڑپتا ہے

طبیبوں کی دوائوں سے اثر کچھ بھی نہیں ہوگا
مرض ایسا ہے یہ جس کو فقط عاشق سمجھتا ہے

تمہارے حسن کو ساغرؔ بیاں کرنے سے قاصر ہے
سنا ہے آسماں پر چاند تیرا ذکر کرتا ہے

(ساغر بدایونی)

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

غزل اس کا کیا آج ہے کردار ذرا پوچھ تو لیں کیوں ...