غزل

آئیے خواب کی تعبیر کریں
اپنا گھر آپ ہی تعمیر کریں
وہ جو احسان کیے جاتے ہیں
عین ممکن ہے کہ تقصیر کریں
چاند تاروں پہ پہنچ سے بہتر
اپنی دنیا ہی کی تسخیر کریں
رامش ورنگ کے قبضے میں سہی
پر نکلنے کی تو تدبیر کریں
دکھ پہنچ جائے اگر اپنوں سے
خود ہی اچھی کوئی تفسیر کریں
ہم نہیں سر کو جھکانے والے
اپنے ماتھے پہ یہ تحریر کریں
آؤ مل جل کے کریں کوشش تو
دل کی آواز کو تصویر کریں
غیر کوئی بھی نہیں ہے ہم میں
بس اسی بات کی تشہیر کریں
برف سینے کی پگھل جائے گی
آؤ پھر نالہ شب گیر کریں
محمد امین احسن،
بلریاگنج، اعظم گڑھ

About Admin Rafeeq

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

اعتراف حقیقت

(حالات حاضرہ کے تناظر میں) میں مسلمان ہو ں اور فخر سے ...