بنیادی صفحہ / نظر / عقیدہ و اخلاق کی تعمیر صفات الٰہی کی روشنی میں

عقیدہ و اخلاق کی تعمیر صفات الٰہی کی روشنی میں

پروفیسر عبیداللہ فراہی، سابق صدر شعبہ عربی لکھنؤ یونیورسٹی
سورہ آل عمران (۱۸) میں فرمایا ہے: ’’شَہِدَ اللّہُ أَنَّہُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ وَالْمَلاَءِکَۃُ وَأُوْلُواْ الْعِلْمِ قَآءِمَاً بِالْقِسْطِ لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ‘‘۔
] عقیدۂ الوہیت میں اس کی دو صفتیں عزیز اور حکیم شامل ہیں۔ اس کے عزیز (غالب) ہونے کی صفت کے ساتھ لازم ہے کہ وہ اپنی ذات میں تنہا ہو۔ اور اس کا حکیم ہونا اس امر کا متقاضی ہے کہ وہ عدل و قسط پر قائم ہو اور روز جزا لائے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی شہادت کہ وہ وا حد اور عادل ہے اس بات کا تقاضا کر تی ہے کہ وہ پیغمبروں اور ایسے افراد کو بھیجے جو اس شہادت کو تمام انسانوں تک پہنچا دیں۔ یعنی عقیدۂ تو حید کو عام کریں اور لوگوں کو بتائیں کہ وہ اچھے کاموں کا اچھا اجر دیتا ہے اور اچھے اور برے لوگوں کے درمیان فرق و امتیاز کرتا ہے۔
اس کی صفت حکمت کا تقا ضا ہے کہ لوگوں کو مہلت ملے اور ان کا فوراً موا خذہ نہ ہو جیسا کہ دوسری جگہوں پر اسے واضح کردیا ہے۔
نیز حکمت کی بنیاد رحمت پر ہے کیونکہ حکمت اچھے مقصد کو پیش نظر رکھتی ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کو کسی چیز کی حاجت نہیں ہے اس لیے اس نے مخلوق کو محض رحم فرمانے کی خاطر پیدا کیا ہے۔ اور اس کی رحمت ہی کا تقاضا ہے کہ اپنی حکمت سے انہیں دوبارہ اٹھائے جیسا کہ فرمایا ہے’’ کَتَبَ عَلَی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ لَیَجْمَعَنَّکُمْ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ لاَ رَیْْبَ فِیْہِ‘‘(سورہ الانعام :۱۲)
جس طرح حکمت کی بنیاد رحمت پر ہے اسی طرح اس کی صفت ’’عزت‘‘ کی بنیاد بھی رحمت پر ہے، کیونکہ شر، ظلم اور عذاب دینے کے لیے طاقت کا استعمال صفت عزت کے منافی ہے جیسا کہ قلب سلیم اس کی شہادت دیتا ہے، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی صفت عزت کے حوالہ سے کئی جگہوں پر اس طرف اشارہ ہے۔ سورہ مائدہ میں ہے:
’’ وَإِن تَغْفِرْ لَہُمْ فَإِنَّکَ أَنتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ‘‘ (آیت:۱۱۸) ایک اور جگہ ہے’’ وَإِن یَمْسَسْکَ بِخَیْْرٍ فَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْْءٍ قَدُیْر‘‘۔ ( سورۃ الانعام:۱۷)
یہی وجہ ہے کہ حکمت صرف رحمدل اور بردبار لوگوں کو عطا ہوتی ہے۔ اور انسان کے اندر رحمدلی کا جذبہ اس سے شکر گزاری کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ انعام فرما نے والے کا جو حق اس پر ہے اسے ادا کر سکے۔ چنانچہ شکر بندوں پر پہلی واجب چیز ہے اور ان کے شکر کی مقدار کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ ان پر اپنی نعمتوں کو بڑھاتا ہے۔ کیونکہ اس کی جانب سے شکر کی قدردانی کا مطلب یہی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی نعمتوں میں اضافہ کرے یہاں تک کہ سب سے اعلی نعمت یعنی حکمت سے اپنے بندہ کو نواز دے۔
معلوم ہوا کہ رحمت اصل الا صول ہے۔ اسی سے خلق کا آغاز ہوا اور اسی پر اس کا اختتام ہوگا۔ رب کی صفات میں اس کی حیثیت اصل کی ہے اور بندوں کی صفات میں بھی اسی کو اولیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رحمدل لوگ تمام مخلوق میں اللہ سے سب سے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ یہی نماز کی اصل ہے جس طرح زکوٰۃ کی اصل ہے، اور یہی توحید کی بنیاد ہے جس طرح آخرت کی بنیاد ہے۔ نیز رسالت اور شریعت کی اصل بھی یہی ہے۔[
( مولانا حمید الدین فراہیؒ ۔ تعلیقات سورۃ آل عمران)
رحمت کی صفت ذات الٰہی کے ساتھ اس طرح جڑی ہوئی ہے کہ اسے اللہ کہیں یا رحمن ایک ہی بات ہے:
’’ قُلِ ادْعُواْ اللّہَ أَوِ ادْعُواْ الرَّحْمَنَ أَیّاً مَّا تَدْعُواْ فَلَہُ الأَسْمَاء الْحُسْنَی‘‘۔( سورۃ بنی اسرائیل:۱۱۰)
اسی طرح اس کے خالق اور رب ہونے کے ساتھ اس کے لازم کی حیثیت سے اس کا ذکر آیا ہے۔ چنانچہ ان صفات کے حوالہ سے اس نے اپنے کو تنہا معبود قرار دیا ہے۔ سورۃ البقرۃ میں ہے:
’’وَإِلَہُکُمْ إِلَہٌ وَاحِدٌ لاَّ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِیْمُ‘‘۔ (آیت: ۱۶۳)
اللہ تعالیٰ کو تمام صفات میں اس کی صفت رحمت وغضب کے مظاہر سے ہم سب سے زیادہ متأثر ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے کے لیے مذہبی کتا بوں میں ان کا ذکر بار بار آیا ہے، کیونکہ آئے دن ہم ان کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً طوفانی ہواؤں،سمندری لہروں اور امڈتے ہوئے سیلاب کو دیکھ کر ہم پر ہیبت طاری ہوتی ہے اور انہیں ہم قدرت کا قہر کہتے ہیں اور اللہ کی پناہ ڈھونڈ تے ہیں۔ اسی طرح نرم ٹھنڈی ہواؤں، خوش گوار موسم ، ہرے بھرے کھیت، سبزہ زار اور پھلوں سے لدے ہوئے باغ اور چمن کو دیکھ کر ہمارے اندر انبساط پیدا ہوتا ہے اور ہم اللہ کے شکر گزار ہوتے ہیں۔ ناگہانی حادثات اور اچانک ملنے والی خوشیوں کو بھی ہم اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ ایسے بے شمار امور ہیں جن سے اللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور اس کا رحیم و کریم و قا در مطلق اور فعاّل لما یرید ہونا ثابت ہوتا ہے۔
آیت الکرسی جو اللہ تعالیٰ کے اقتدار اعلی کے ذکر میں ہے اس کے اندر اس کی کئی صفات بیان ہوئی ہیں جن سے ہم نصیحت حاصل کر سکتے ہیں۔ مثلاً اس کا حیّ وقیوم ہونا اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہماری زندگی اور ہمارا قیام اسی کے سہارے پر ہے۔ اس کا آسمان وزمین کی ہر شئے کا مالک ہونا ہمیں اس کے محتاج ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ ہمارے ہر معاملہ سے اس کا با خبر ہونا محسوس کرا تا ہے کہ ہم ہر وقت اس کی نظروں کے سامنے ہیں اور اپنے چھوٹے سے چھوٹے کاموں کے سلسلہ میں ہمیں محتاط رہنا چاہیے۔اس کے اقتدار کی وسعت بتاتی ہے کہ ہم اس کی ماتحتی میں ہیں۔ اور اس کا محافظ ہونا ہمارے لئے اطمینان اور سکون کا باعث ہوتا ہے کہ ہم ایک نہایت اعلیٰ اور عظیم ہستی کے سایۂ عا طفت و رحمت میں ہیں۔
وہ عالی مرتبت ہے ارض و سماکے مالک اور حاکم ہونے کے اعتبار سے اور عظیم ہے اپنی حکومت میں ہر چیز کی حفاظت کے پہلو سے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی بعض متقابل صفات بیان ہوئی ہیں جو کئی پہلوؤں سے غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں۔ فرمایا ہے:’’ہُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُ وَہُوَ بِکُلِّ شَیْْءٍ عَلِیْم‘‘ (سورۃ الحدید:۳) ]ہر چیز کا اسے علم ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ بلحاظ زمانہ ان کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس طرح وہ اول بھی ہے اور آخر بھی۔ اور با عتبار مکان بھی ان کو محیط ہے۔ یعنی اس کی قدرت اور اس کا علم اندر اور باہرہر طرف سے انہیں گھیرے ہوئے ہے اس طرح وہ ظاہر بھی ہے اور باطن بھی۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ جب کچھ نہیں تھا تب بھی وہ تھا اور جب سب کچھ فنا ہوجائے گا تب بھی وہ باقی رہے گا۔
’’ ذو الجلال و الاکرام‘‘ یعنی اپنی شان کے اعتبار سے وہ جلیل ہے اور اپنی رحمت اور مغفرت کے پہلو سے کریم ہے۔ کسی کی تعریف ان ہی دو پہلوؤ ں سے ہوتی ہے۔
سورۃ الحشرمیں اس کی کئی جلالی اور جمالی صفات ایک ساتھ آئی ہیں۔ فرمایا ہے:
’’الْمَلِکُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُہَیْْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ‘‘۔( آیت:۲۳)
اس کا باد شاہ ہونا اس کی صفت جلال کو ظاہر کرتا ہے اور اس کی قدوسیت(پاکی) اس کی صفت جمال کو بیان کرتی ہے۔ اس کے بعد اس کی تین جمالی اور تین جلالی صفات آئی ہیں۔
اسی کے مثل سورۃ الجمعۃ میں ہے:’’ یُسَبِّحُ لِلَّہِ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الْأَرْضِ الْمَلِکِ الْقُدُّوسِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ‘‘۔(آیت:۱)
’’الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ‘‘ مشابہ ہے ’’الْمَلِکِ الْقُدُّوسِ‘‘ کے ان میں پہلی جلالی صفت ہے اور دوسری جمالی صفت ہے۔ پاک اوصاف ہونا اخلاق کا جمال ہے اور حکیم ہونا عقل کا جمال ہے۔ ان ہی سے ملتی جلتی صفات ہیں ’’وَہُوَ الْغَفُورُ الْوَدُودُ۔ ذُو الْعَرْشِ الْمَجِیْد۔ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْد‘‘ (سورۃ البروج : ۱۴۔۱۶)[ (فراہیؒ ۔ القائد الی عیون العقائد)
اس کی جلالی صفات سے خوف کی حالت پیدا ہوتی ہے اور جمالی صفات سے ہمارے اندر پاکیزگی اور رحم و کرم کا احساس ابھرتا ہے۔
] ’’ اَلغَنِيُّ اَلحَمِیدُ‘‘ ان سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اگر تم نا شکری کرو گے تو وہ اس سے بے نیاز ہے کہ تم اس کے شکر گزار بنو، وہ اپنے آپ لائق حمد ہے۔ اپنی تعریف کے لئے اسے کسی کی احتیاج نہیں۔ اپنی ذات وصفات میں کامل اور ہر چیز سے اعلیٰ وار فع ہے۔ جس طرح مخلوق کو وجود میں لانے سے پہلے وہ غنی تھا اسی طرح ان کی پیدائش کے بعد بھی وہ سزا وار حمد ہے۔[ (القائد الی عیون العقائد)
’’ اَلعَزِیزُ اَلرَّحِیمُ‘‘ یہ صفات سورۃ الشعراء میں کئی بار دہرائی گئی ہیں۔ اور قوموں پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ذکر کے بعد آئی ہیں۔ آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو کل کی نصیحت کے ساتھ ان کا ذکر آیا ہے۔ غالباً اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلّی دینا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ آپؐ کے مخالفین اور دشمنوں پر پورا غلبہ رکھتا ہے اور آپؐ پر اپنی رحمت کا سایہ کیے ہوئے ہے۔
اللہ تعالیٰ کی تمام صفات میں اس کی صفت رحمت دنیا میں سب کے لیے عام ہے جس طرح اس کی دنیاوی نعمتیں سب کے لیے عام ہیں۔ اس معاملہ میں اس نے مومن و کافر کے درمیان فرق نہیں کیا ہے۔ نیز اس کے میزان عدل میں سب برابر ہیں اور اس کا قانون مجازاۃ سب کے لیے ہے۔ مزید بر آں کم وبیش عقل اور سمجھ دینے میں بھی اس نے تفریق نہیں کی ہے۔ اسی طرح اپنی ہدایت کو سب کے لیے عام کیا ہے تاکہ کسی کو اپنے خالق اور رب سے شکایت نہ ہو۔ پھر اپنے آسمانی علم کو آسان بنایا ہے، فلسفہ نہیں بنایا ہے کہ کوئی خدائی علم کا دعویدار بن کر دوسروں پر اپنی برتری جتانے کا حق رکھے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبروں نے اپنی قوم کے سامنے صاف اعلان کر دیا کہ انہیں وحی الٰہی کے علاوہ کوئی اور علم حاصل نہیں ہے اور جو نشانیاں انہیں ملی ہیں وہ من جانب اللہ ہیں اور ان میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں۔کیونکہ( معجزہ یا نشانی لانا پیغمبر کا کام نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کا فعل ہے جو ان کی رسالت کی گواہی دینے کے لیے ظاہر ہوتا ہے جیسا کہ قرآن مجید اور دوسرے صحیفوں میں اس کی صرا حت ہے۔ اگر یہ پیغمبر کا فعل ہوتا تو اس سے رسالت کے بجائے الو ہیت ثابت ہوتی۔ اس لیے پیغمبروں کا یہ اعلان کرنا واجب ہوا کہ انہیں اس کی قدرت نہیں۔[ (فرا ہیؒ عیون العقائد، باب رسالت)
الوہیت میں اللہ تعالیٰ کے منفرد ہونے کا مطلب ہی ہے کہ وہ تنہا متصرف اور فاعل الکل ہو جیسا کہ فرمایا ’’أَفَرَأَیْْتُم مَّا تَحْرُثُون۔ أَأَنتُمْ تَزْرَعُونَہُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُون‘‘ ( سورۃ الواقعۃ:۶۳۔۶۴)
بیسویں صدی کے مشہور فلسفی ولیم ارنسٹ ہاکنگ نے اس سلسلہ میں بہت خوبصورت بات کہی ہے کہ’’ جب ہر کام خدا ہی کرتا ہے تو کسی چیز کو معجزہ کہنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس کی بنائی ہوئی ہر چیز معجزہ ہے اور اس کا سب سے بڑا معجزہ اس کی خاموشی اور خود نمائی سے اس کا گر یز ہے‘‘۔ ( انواع فلسفہ)
یہی وہ علم ہے جو ہر انسان کو فطری طور پر ملا ہے جیسا کہ آیت ’’األَستُ بِرَبِّکُم۔۔۔)‘‘ سے واضح ہے۔ اور اسی کی بدولت لوگ اللہ کو ماننے پر خود کو مجبور پاتے ہیں اور اسی بناپر بہت سے سلیم الفطرت افراد انفس و آفاق میں اس کی نشا نیوں کو دیکھ کر ایمان لائے ہیں اور آئندہ بھی ایمان لاتے رہیں گے۔
جس طرح خدائے واحد پر ایمان انسان کی فطرت ہے اسی طرح جزاء اعمال بھی فطری ہے۔ کیونکہ ہر آدمی کے اندر احساس گناہ پایا جاتا ہے اور وہ جرم کی سزا چاہتا ہے۔قرآن مجید میں جو سزائیں ہیں وہ اسی فطری طلب کے موافق ہیں لیکن زیادہ تر برائیوں سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے کیونکہ اصل مقصود معاشرہ کو پاکیزہ بنانا ہے تاکہ اس میں برائیوں کو پنپنے اور بڑھنے کا موقع نہ ملے۔
لیکن برائی سے پاک معا شرہ جس کی سب آرزو رکھتے ہیں ابھی تک نہیں بن پایا ہے۔ حالانکہ پاکیزگی کا وصف ہماری فطرت میں ہے اور ہم طبعی طور پر برائیوں سے بچتے اور اچھائیوں کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ اسی خوبی کی بنا پر معاشرہ میں اچھائیاں زیادہ اور برائیاں کم ہیں۔ لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بعض برائیاں ایسی ہیں جو پورے معاشرہ کو تباہ و برباد کر رہی ہیں اور انہیں روکنے کے لئے کوئی مؤثر تدبیر نہیں اختیار کی گئی ہے۔چنانچہ بہت سے لوگ اپنے حقوق سے محروم اور ظلم اور نا انصافی کے شکار ہیں اور ان کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
اس سے آخرت اور جزاء اعمال کا ضروری ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو حق اور ناحق، صحیح اور غلط ، نیکی اور بدی، اور فجور اور تقویٰ یکساں ہو جائیں گے، اور اللہ کا ہونا یا نہ ہونا برابر ہو جائے گا، اور ہم اسے مانیں یہ نہ مانیں ہماری زندگیوں پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ دنیا کے سارے بے بس اور مظلوم اپنے رب سے رحم و کرم کی امید چھوڑدیں گے اور دنیا کی زندگی ان کے لیے عذاب کی زندگی ہوجائے گی اور اپنے خالق سے یہ پوچھنے میں وہ حق بجانب ہوں گے کہ اس نے انہیں پیدا ہی کیوں کیا اور کیا دنیا کو اس نے چند آسودہ حال لوگوں کے لیے بنایا ہے اور انہیں ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے؟
جبکہ اس کے بر خلاف انہیں فطری طور پر پورا اطمینان ہے کہ ایک دن ان کے تمام دکھوں کا مدا وا ہوگا اور ان کے ساتھ پورا انصاف ہوگا جیسا کہ اس نے شہادت دی ہے کہ وہ قائم بالقسط، عادل اور رحیم ہے۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

خود کشی سماجی اور نفسیاتی مباحث کی روشنی میں

شمس الضحیٰ خود کشی مایوسی، احساس کمتری اور بزدلی کا انجام ہوتی ...