Home / رزم / عظیم پریم جی یونیورسٹی

عظیم پریم جی یونیورسٹی

عظیم پریم جی یونیورسٹی ، حکومت ِریاست کرناٹکا کے عظیم پریم جی یونیورسٹی ایکٹ 2010 کے تحت قا ئم ہوئی تھی۔ یو جی سی سیکشن 2F کی رو سے مسلمہ شدہ یہ یونیورسٹی ہندوستان کے سلیکان ویلی یعنی شہر گلستاں بنگلور میں واقع ہے۔عظیم پریم جی فاﺅنڈیشن ، جو ایک غیر سرکاری ادارہ ہے، پچھلے دس (10)سالوں سے ملک کی آٹھ (8)ریاستوں میں تعلیمی میدان میں کام کررہاہے، سرکاری اداروں سے اشتراک کرتے ہوئے فاﺅنڈیشن ابتدائی تعلیمی شعبہ میں خاموش خدمات انجام دے رہا ہے۔ جس کا راست فائدہ تقریباََ تین لاکھ، پچاس ہزار(3,50,000) سکولوں کو پہونچ رہا ہے۔فاﺅنڈیشن کی جانب سے برسوں سے جاری ابتدائی تعلیمی میدان میں تحقیق کے دوران آنے والی رکاوٹوں اور چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے اور حاصل شدہ تجربہ کو بروئے کار کرتے ہوئے عظیم پریم جی یونیورسٹی یونیورسٹی کی بنیاد رکھی گئی۔
یونیورسٹی کاواضح وژن) (Visionہے کہ یہ ایسے سماج کو پروان چڑھانے کیلئے کام کرتی ہے جو انصاف پر مبنی ہو، مساویانہ حقوق کا علمبردارہو، انسانیت کا آئینہ دارہو اور مضبوط و پائیدار بنیادوں پر مشتمل ہو۔
یونیورسٹی کا مشن سماج کی مجموعی ترقی کیلئے تعلیمی میدان اور دیگر ضروری میدانوں میں تحقیق و ترقی کا رواج ڈالنا ہے۔ یونیورسٹی ، ملک میں تعلیمی میدان میں جاری تدریج میں حمایت و بہتری اور ملک گیر تعلیمی پالیسی و عمل میں عوامی رابطہ اور مختلف ذرائع کے ذریعہ اثر انداز ہوتی ہے۔
یونیورسٹی کا فلسفہ محرک ، تعلیم کو ذریعہ معاش) (livelihoodسے منسلک کرتا ہے اورتعلیم کو، مضبوط و پائیدار معیشت کیلئے اہم اور انسانی ترقی کیلئے لازم چیزگردانتا ہے۔

یونیورسٹی ایسے مختلف النوع اکتسابی پروگرامس کا پیش کش کرتی ہے جوہندوستان کے مخصوص سیاسی و ثفاقتی ماحول کے مد نظر طلباءمیں علمی ترقی، ناقدانہ پرکھ ) (Critical Thinkingاور فن و مہارت (value & Skill)کو پروان چڑھاسکے۔ یونیورسٹی کا ماحول کسی بھی قسم کے طالب علم کو خودکار اکتساب و آگہی پر ابھارتا ہے اور کھوج و دریافت کی راہ پر ڈال دیتاہے۔

ایک امتیازی یونیورسٹی:
عظیم پریم جی یونیورسٹی ، سماجی میدان میں کام کئے ہوئے اور پروفیشنل و تجربہ کار ماہرین اساتذہ پر مشتمل ہے۔ دور حاضر کی ضروریات کو پورا کرنے والا نصاب جو جدت و تنوع پر مبنی ہے ، سن 2010 سے خود کار سیکھنے والے طلباءکی کھیپ کی کھیپ تیار کررہاہے ۔ یونیورسٹی کی جانب سے ملک کے دور افتاد، نسبتاََ پسماندہ اور قبائلی علاقوں کے طلباءپر خاص توجہ دی جاتی ہے کیونکہ اس کا مشن ہی ہیکہ ملک کی مجموعی تعلیمی صورتحال پر اثر انداز ہو اور ایسے گریجویٹس کی تیاری کرے جو پالیسی و عمل اور عوامی و خانگی شعبہ جات میں مروجہ پروگرامس میں مثبت مداخلت کرسکیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فی الحال یونیورسٹی میں ہندوستان کی تقریباََ 26 ریاستوں کے طلباءتعلیم پذیر ہیں۔کُل طلباءمیں 46% طلباءدیہاتی علاقوں (Rural Area)سے تعلق رکھتے ہیں۔
نصاب (Curriculum)کو خاص طورپر اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ طلباءمیں تجسس اور دلچسپی کا عنصر بتدریج ترقی کرتا جائے۔ یہاں استاد اکتسابی عمل میں مدد گار(Facilitator) کا رول نبھاتا ہے، نصاب کی تیاری میں بھی اہم رول ادا کرتا ہے اور تدریسی طریقوں کو بقدر ضرورت بدل بھی سکتا ہے ۔یونیورسٹی میں مروج تدریسی اصول طلباءکو ایک دوسرے سے سیکھنے پرابھارتے ہیں ۔طلباءکا آپسی اشتراک ان کے درمیان سماجی تنوع کے مسائل کو حل کرنے میں مدد دیتاہے۔ فاﺅنڈیشن کے تحت چلنے والے فیلڈ یونٹس اور دیگر تعلیمی وتحقیقی مقامات میں ریسرچ کا منفرد موقع ہے۔

ہفتہ واری انٹرویو: بین الاقوامی سطح پر مشہور سکالرز، محققین اور ماہرین سے ربط اور ان سے فائدہ اٹھانے کیلئے ہفتہ واری کولوکیم (Colloquium)کا انعقاد ہوتا ہے۔
سیمینار/کانفرنس / ورکشاپ: یونیورسٹی میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس برائے قانون، حکومت اور ترقی(International Conference for Law, Governance & Development)، ، کانفرنس برائے فلسفہ تعلیم (Conference on Philosophy of Education)، اور سالانہ کانفرنس برائے تحقیق ©”منتھن (Annual conference on research – MANTHAN)”وغیرہ اپنی نوعیت میں آپ شمار کی جاتی ہیں۔
طلبائی کلبس(Students Clubs): طلبائی کلبس جن میں تھیٹر، فوٹو گرافی، کھیل کود، سماجی کام کاج، شاعری، میوزک اور ثفاقتی سرگرمیاں ہوتی رہتی ہیں۔
مدارس اور مراکز(Schools & Centres): یونیورسٹی کے دائرہ کار میں پانچ عدد مدارس اور ایک کل جامعاتی تحقیقاتی مرکز چلتا ہے۔
کیمپس(Campus ambience): ہوسر روڈ، الکٹرانکس سٹی ، بنگلور کے مضافات میں موجود بارہ12) ( ایکڑ پر مشتمل یونیورسٹی، تقریباََ 120,000 مربع فٹ کی جگہ کلاس روم و لیبوریٹریز کا احاطہ کرتی ہے۔کلاس روم اور لیبوریٹریز بصری آلات، سیمینار ہال،کانفرنس روم وغیرہ پر مشتمل ہوتے ہیں۔
دیگر اداروں سے اشتراک: مشی گن اسٹیٹ یو نیورسٹی (Michigan state university)، ایڈمینسٹریٹیو ٹریننگ انسٹیٹیوٹ میسور(Administrative Training Institute, Mysore)، انسٹیٹیوٹ برائے ماحولیاتی سوچ(نیو ایکولوجیکل تھنکنگ) Institute for new-ecological thinking جیسے منفرد ارادوں کے ساتھ اشتراک کے ذریعہ مختلف پروگرامس و ورکشاپ انجام دئے جاتے ہیں۔
زمینی تحقیقی (Field Research)کیلئے ڈیگیانٹر(Digantar)، ایکلویا(Eklavya)، ٹیچر پلَس(teacher plus) اور رشی ویالی (Rishi Valley)جیسے اداروں سے اشتراک ہوتا ہے۔
متنوع سماجی پس منظر کے حامل طلباءکیلئے موزوں نصابی و تدریسی ماحول جو ذات پات، مذہب ، صنف ، زبان،علاقہ اور معذوری وغیرہ جیسے عناصر کے اثر کو کم سے کم کرتا ہو، یونیورسٹی کی منفرد خصوصیات میں سے ایک ہے ۔آ ئیے اب ہم یونیورسٹی کی طرف سے پیش کئے جانے والے کورسیس پر نظر ڈالتے ہیں۔
گریجویٹ کورسیس: بی۔اے میں دو (2)اور بی۔ایس۔سی میں دو2) ( کورسیس موجود ہیں۔
بی۔اے۔ ہیومیانٹیز (ہیومن سائنسز) BA in Human Sciences: انسانی تاریخ ، خیال اور تجربہ کے ہمہ رخی تنوع کی تحقیق و آگہی کیلئے تاریخ، زبان ، ادب اور فلسفہ ہر ایک میں بیچلر آف آرٹس کورس موجود ہے۔
بی۔اے۔ سوشیل سائنسBA in Social Sciences: مجموعی سماجی ڈھانچہ کا ادراک، فرد پر اسکے اثرات اور سماج کی موجودہ ہئیت و نظم کی آگہی کیلئے معاشیات میں بیچلر آف آرٹس کورس موجود ہے۔
بی۔ایس۔سی سائنسBSC Science: قدرت کی گہری سمجھ و ادراک اور اسی ادراک کا ٹکنالوجی کی شکل میں ہوئے ظہور کی آگہی کیلئے بیالوجی اور طبیعات میں بی۔ایس۔سی کورسیس موجود ہیں۔
مذکورہ کورسیس کے ساتھ مندرجہ ذیل آپشنل مائینر مضامین بھی لئے جاسکتے ہیں ۔
ڈیٹا سائینسیز(Data Sciences)، ڈیولپمنٹ (Development)اور سسٹینبلٹی(Sustainability)، تعلیم، اپلائڈ میاتھس(Applied Mathematics)، طبیعات، بیالوجی، معاشیات اور ہیومیانٹیز (Humanities)وغیرہ۔
اہلیت:ملک کی کسی بھی مسلمہ یونیورسٹی یا بورڈ کے تحت بارہویں کامیاب یا کسی مساویانہ بین الاقوامی کورس کئے ہوئے طلباءجو 50% نشانات لائے ہوں اور جن کی عمر 19 یا اس سے کچھ کم ہو داخلہ کے لئے درخواست دے سکتے ہیں۔
پوسٹ گریجویٹ کورسیس: ماسٹرس کورسیس میں مندرجہ ذیل چار ڈسپلن (Discipline)شامل ہیں۔ تمام ہی ایم۔اے کورسیس میںتخصص(Specialization)موجود ہے۔
(1ایم ۔اے۔ ایجوکیشن: دو) (2 سال پر مبنی اس کورس میں تعلیمی میدان کے نظریات ، معمولات، تحقیقات، منصوبے اور پالیسیوں کی آگہی و پراکٹیکل کروایا جاتا ہے۔ اختصاصی کورس (Course Specialization)کے ذریعے مختلف جہتوں سے تعلیمی میدان میں درکار مضامین و مسائل کا علم دیا جاتا ہے ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہیکہ اکثر طلباءکورس کے اختتام تک سماجی انصاف کے علمبردار بن کر نکلتے ہیںاور متعلقہ اداروں میں اپنی خدمات کے ذریعہ مثبت رول ادا کرتے ہیں۔

مندرجہ ذیل مضامین، تخصص (Specialization)کے تحت لئے جاسکتے ہیں۔
.iسکول آرگنائزیشن، لیڈرشپ اینڈ مینیجمنٹ School Organisation, leadership & Management
.iiکریکلم پیڈاگوگی۔ درسی نصاب Curriculum Pedagogy
.iiiایرلی چائلڈ ہوڈ اور ایجوکیشن۔ ابتدائی بچپن اور تعلیم Early Childhood & Education
.ivٹیچر پروفیشنل ڈیولپمنٹ۔ پیشہ وارانہ ترقی برائے استاد Teacher Professional Development
ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں فلسفہ، نفسیات، سوشیالوجی، تاریخ، پولیٹیکل سائنس(Political Science) اور آرگنائزیشنل اسٹڈیز (Organisational Studies)غرض ہر دو ڈسپلن کے ماہرین موجود ہیں۔ علم و تعلیم کے علاوہ مذکورہ ماہرین تحقیق، پالیسی اور بین الاقوامی احیاءتعلیم پر کام کرتے رہتے ہیں۔ یونیورسٹی کا عظیم پریم جی فاﺅنڈیشن سے اٹوٹ ربط ہے جوطلباءو فیکلٹی کو میدان میں کام کرنے کا شاندار موقع فراہم کرتا ہے کیونکہ فاﺅنڈیشن ، ملک کی آٹھ8 صوبائی ریاستوں کے اشتراک سے ابتدائی تعلیم میں پالیسی و پراگرام پر عمل درآمدکررہا ہے۔

(2ایم ۔اے۔ ڈیولپمنٹMA in Development: مذکورہ کورس کے ذریعہ ملک میں جاری ڈیولپمنٹ کے مختلف نظریات کی مکمل آگہی، سیاسی، سماجی اور مذہبی تنوع پر مبنی سماج میں ڈیولمپنٹ کے نظریات پر مبنی پالیسی وپروگرام کے اثر کا ادراک حاصل کرتے ہوئے ، ڈیولمپنٹ کے چیلنجز سے نبرد آزمائی کرنے والے افراد کی تیاری کی جاتی ہے۔ ڈیولپمنٹ کے ہمہ جہت رخ سے آگہی کی خاطر اختصاصی کورس (Specialization Course) میں، صحت عامہ(Public Health)، ذریعہ معاش(Livelihood)، لاءگورننس اور پالیسی اور سسٹینیبلٹی(Governance, Policy & Sustainability) جیسے مضامین کو شامل کیا گیاہے۔

(3ٰٰٓٓٓایم۔اے۔ پبلک پالیسی اور گورننس: پبلک پالیسی اور گورننس میں پیش آنے والے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ، اس کورس میں پالیسی کے خدوخال اور عوامی و خانگی اداروں کے اندرونی نظم کی آگہی دی جاتی ہے۔
علاوہ ان کے ایک سالہ ایل۔ایل۔ایم کورس برائے قانون بھی موجود ہے۔
ٓ
طلباءاہم ہیں: تعلیمی میدان میں طلباءکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے انگلش لینگویج سپورٹ سنٹر(English Language Support Centre)، اکیڈمک لرننگ اینڈ رائٹنگ کلاسیس(Academic Learning & Writing Classes)، وقف شدہ فیکلٹی کلاسیس (Dedicated Hours of Facultuy)اور مختلف ورکشاپس منعقد کئے جاتے ہیں۔
طلباءکی شخصی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے کونسلنگ اور میڈیکل خدمات دی جاتی ہیں ۔
مستحق طلباءکو سکالرشپ اور لون اور تمام ہی طلباءکو انشورنس (Insurance)کی خدمات دی جاتی ہیں۔فی الحال اقامت کی سہولت کیمپس کے باہر ہی ہے۔ مزید یہ کہ سکالرشپ حاصل کرنے والے طلباءکو ترجیح دی جاتی ہے۔
یونیورسٹی ایسے گریجویٹ طلباءکو بھی داخلہ دیتی ہے جو کسی بھی پیشہ وارانہ ذمہ داری انجام دے رہے ہوں ،البتہ متعلقہ میدان میں کم از کم 40% یا30% تجربہ رکھتے ہوں اور علم و تعلیم میں تحقیق و تجسس کے ذریعہ سماج کے دھارے کو مثبت رخ دینے کا جذبہ رکھتے ہوں۔
کیرئیر: ایک ماسٹرس کامیاب طالب علم ، کلاس روم میں تدریس سے لیکرپالیسی سازی تک اور تعلیمی نظریات کی تجاویزجیسے اہم رول ادا کرسکتا ہے۔
ایسی غیر سرکاری آرگنائیزیشنس (Non-Governmental Organizations NGOs) جو عوامی اور خانگی شعبہ میں تعلیمی میدان پر کام کررہی ہوں، اسکولی نصاب سے متعلق تدریسی و اکتسابی وسائل کی تیاری کرتی ہیں۔ جہاں ایک ایم ۔اے ایجوکیشن طالب علم کی بے حد ضرورت ہوتی ہے۔ تعلیمی اداروں اور پالیسی ساز اداروں میں محقق کا رول بھی بہت اہم ہوتا ہے۔ مختلف النوع سکولوں میں استاد کا رول توبہت عام ہے۔
پچھلے چار (4)سال میں تقریباََ دو سو) (200آرگنائیزیشنس نے لگ بھگ سات سو(700) طلباءکو کیمپس پلیسمنٹ کے ذریعہ ملازمت عطا کی۔ اوسطاََ پچیس سے تیس (25,000-30,000)ہزار ماہانہ کی تنخواہ حاصل کرنے والے ان طلباءمیں نوے فیصد (90%)کسی نہ کسی سماجی و تعلیمی ادارے میں اپنی خدمات ادا کررہے ہیں۔
داخلہ : داخلہ امتحانات ملک کے تقریباََ 30 شہروں میں منعقد کئے جاتے ہیں۔ جبکہ 15 شہروں میں مابعد تحریری امتحانات انٹرویو کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ سماجی و معاشی محاذ پر کمزور و پسماندہ طلباءکیلئے مخصوص نشانات دئے جاتے ہیں۔ کیونکہ یونیورسٹی کا وژن اس بات پر زور دیتا ہیکہ پسماندہ طلباءکو تعلیمی میدان میں آگے بڑھایا جائے۔
عام طور پر تحریری امتحانات جنوری کے مہینے میں منعقد کردئے جاتے ہیں اور داخلہ کا عمل مئی و جون کے مہینہ تک مکمل کردیا جاتا ہے۔ لہٰذا ایسے طلباءجو ایسے سماج کا خواب دیکھتے ہیں جو سماجی انصاف کاعلمبردار ، مساویانہ نظم ضبط پر مبنی ، اور پائیدار بنیادوں پر مشتمل ہواور اپنے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں
پیہم سرگرداں ہیں ، اس یونیورسٹی میں داخلہ لے سکتے ہیں ۔
تحریک اسلامی کے ابتدائی دور میں چند ایسی شخصیات گزری ہیں جنہوں نے تعلیمی میدان میں ناقابل فراموش خدمات انجام دی تھیں۔ مولوی ابو سلیم عبد الحی، استاد افضل حسین، مائل خیر آبادی وغیرہ وہ نام ہیں جن کے بعد اب کوئی قابل ذکر نام نہیں پایا جاتا جو تعلیمی میدان میںاس سطح پر خدمات انجام دیا ہو ہا دے رہا ہوجس طرح مذکورہ اکابرین نے کیا ہو۔موجودہ صورتحال پر نظر ڈالنے پر معلوم ہوتا ہیکہ تحریک میں ایک ہندسی ایسے افراد موجود ہیں جو واقعی تعلیمی میدان میں پالیسی سازی کی سطح پر کام کررہے ہوںیا نصابی تیاری کے کسی ادارے سے منسلک ہوں!
بہرحال، حالات کا تقاضہ اور معاشرے کی ابدی ضرورت ہیکہ صالح سوچ والے نوجوان تعلیمی میدان میں اپنی خدمات انجام دیں اور دین کے مطلوبہ سماج کی تیاری کیلئے بنیادرکھیں۔

وسائل:
http://www.azimpremjiuniversity.edu.in/SitePages/index.aspx
https://en.wikipedia.org/wiki/Azim_Premji_University
http://www.azimpremjifoundation.org/

About The Author

از : محمد عبد الموئمن

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*