Home / تجزیہ ۔ قومی / طلبائی منشور برائے انتخابات 2014

طلبائی منشور برائے انتخابات 2014

ابراہم لنکن کے مطابق جمہوریت دراصل عوام کی، عوام کے لئے اور عوام کے ذریعے حکومت کا نام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کسی ملک میں جمہو ری نظام کو اختیار کیاجاتا ہے تو وہاں کے شہری حکومت کی جانب سے فیصلہ سازی کے عمل میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ عوام کو اس بات کی جازت ہوتی ہے کہ قومی پالیسیز کی ڈیزائننگ ،قانون ساز ی اور قومی ترقی کے کاموں میں وہ اپنی رائے رکھ سکیں۔
ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہیں۔ ہندوستان کے قانون کی دفعہ 326(پارٹXV) کے تحت ہر اس شخص کو جو ہندوستان کا شہری ہے اورجس کی عمر 18؍سال سے کم نہ ہو، ووٹ کی آزادی کا حق حاصل ہے چاہے وہ کسی بھی ذات، نسل، مذہب، جنس وغیرہ کا حامل ہو۔
ہر پانچ سال میں ایک دفعہ ملک کے تمام شہری کسی سیاسی جماعت یا شخص کے حق میں ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے نمائندے کا انتخاب کرتے ہیں۔انتخابات کے دوران عوام اور سیاسی جماعتوں کے درمیان باہمی ربط مستحکم ہوجاتا ہے اور اس طرح ان کا یہ آپسی تبادلہ ایک دوسرے کی مدد کرتا ہے۔ پالیسی سازی میں عوام کی مضبوط شرکت مستحکم اور بہتر حکمرانی میں معاون ہوتی ہے۔
ا س موقع کا استعمال کرتے ہوئے تما م سیاسی جماعتوں اور ان کے امیدواروں کے سامنے ایس آئی او آف انڈیا اپنے \”طلبائی منشور\”کو پیش کررہی ہے۔
یہ طلبائی منشور ہندوستان میں طلبہ ، تعلیم اور نوجوانوں کو درپیش اہم مسائل کو پیش کرتا ہے۔ اس منشور میں ان تمام مسائل کے ممکنہ حل کو بھی بحیثیت مطالبات اور تجاویز شامل کیا گیا ہے۔ ہندوستان کی طلبہ برادی اور نوجوانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے ہم تمام سیاسی جماعتوں سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اس منشور میں موجودمسائل پر توجہ دیں۔
تعلیم: تعلیم انسانی ترقی اور ارتقاء کے لئے ایک اہم ذریعہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ایک تعلیم یافتہ آبادی جو علم، بہتر رویہ اور صلاحیتوں سے بہرہ مند ہو ،وہ قوم کی سماجی اور معاشی ترقی کے لئے لازمی ہے۔ جملہ آبادی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کا بڑا تناسب ، کسی بھی قوم کے درخشاں مستقبل کی نشانی ہے۔ سماج میں تعلیم کی اسی اہمیت کے مدنظر تعلیم اور طلبہ سے متعلقہ مسائل کو ہم نے اپنے \’طلبائی منشور\’میں اولین مقام دیا ہے۔
موجودہ صورتحال: پلاننگ کمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق ، تعلیم کی اہمیت کے مدنظر گیارہویں منصوبے کی مدت کے دوران تعلیم پر عوامی اخراجات میں اضافہ ہوا، تعلیم پرخرچ جملہ GDP کے 3.3فیصد(2004 ؁ء)سے بڑھ کر 2012 ؁ء میں 4؍ فیصد ہوگیاہے۔ اسی طرح فی کس (per-capita) عوامی اخراجات میں 888؍ روپئے (2004)سے لے کر 2012 میں 2985؍ روپئے تک اضافہ ہوگیا۔
اسی رپورٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ پرائمری تعلیم کی سطح پر بچوں کے داخلوں میں بھی اضافہ ہواہے ۔ اسی کے ساتھ، قومی خواندگی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے جو لگ بھگ 74؍فیصد ہے۔ یہ اعداد وشمار ہندوستان کی تعلیمی شعبے میں ترقی کو ظاہر کرتے ہیں۔
اس ترقی اور کامیابی کے باوجود چند چیلنجز درپیش ہیں۔اسی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی اوسط اسکول عمر 5.12سال(2012 ) ہے جو ترقی پذیر ممالک کی شرح سے کافی کم ہے۔ پرائمری اور سیکنڈری سطح پر بڑے پیمانے پر ڈراپ آؤٹ پایا جاتا ہے۔\” اسکول سے باہر \”طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہواہے بالخصوص پسماندہ طبقات میں۔
اگر ہم طلبہ واساتذہ کی صورتحال شرح (PTR) کی روشنی میں دیکھیں تب District Information System for education کے مطابق ان اسکولس کی تعداد کافی زیادہ ہے جو حق تعلیم کے قانون میں درج قواعد کی پابندی نہیں کرتے۔ تقریباً 40؍ فیصد اسکولس میں یہ شرح کافی کمزور ہے اور لگ بھگ 8.1؍لاکھ اساتذہ NCTE(National Council for teachers education)کے منظور کردہ بنیادی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے حامل نہیں ہیں۔
ان مسائل کے علاوہ نصاب میں موجود جانبدار اور ازکار رفتہ معلومات تعلیم کے معیار میں گراوٹ کا باعث بن رہی ہے۔
اسی کے ساتھ جنسی نابرابری کی بنا پر لڑکیاں تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہورہی ہیں۔
سفارشات
بے روزگاری ختم ہونی چاہئے:اگرچہ کہ ماضی میں حکومت نے کچھ اقدامات اٹھائے ہیں جیسے نیشنل یوتھ پالیسی 2003 اور 2005 میں قائم کردہ نیشنل کونسل فار اسکل ڈولپمنٹ جن کا مقصد نوجوانوں میں صلاحیت اور خود روزگار کی قابلیت پیدا کرنا، نیز انھیں روزگار کے اچھے مواقع فراہم کرنا، لیکن یہ اقدامات بے روزگاری کے مسائل ختم کرنے لئے کافی نہیں تھے۔ چنانچہ بیروزگاری کے مسئلے سے نپٹنے کے لئے مزید جامع پروگرامس کی ضرورت ہے۔
الکوحل، تمباکواور ڈرگس کے استعمال کو روکا جائے: آج، نوجوانوں کی بڑی تعداد الکوحل، تمباکو اور ڈرگس جیسی چیزوں کے استعمال میں ملوث ہے، جو ان کی صحت پر اثراندازہورہی ہے، اور اس سے ان کی جانوں کو خطرہ لاحق ہے۔ اس لئے مندرجہ بالا اشیاء کے استعمال پر پابندی لگائی جائے، اور وہ لوگ جو ان اشیاء کی لت میں مبتلا ہیں، ان کے لئے مناسب نفسیاتی اور اخلاقی کونسلنگ اور علاج کے مراکزکا انتظام کیا جائے۔
بے قصور نوجوانوں کی گرفتاریوں کو بند کیا جائے:یہ ایک اہم ترین مسئلہ ہے جہاں کئی بے قصور مسلم نوجوانوں بشمول طلبہ اور پروفیشنلس کو دہشت گردی کے نام پر گرفتار کیا گیا۔ انھیں عدالت میں الزامات ثابت ہونے سے پہلے ہی دہشت گرد کا نام دیا گیا ۔ اس قسم کی تصویر کشی میں میڈیا کے رول کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس قسم کے ناانصافی کو بند کیا جائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ بے گناہ لوگ ظلم کا شکار نہ ہوں۔
اوپر بیان کئے گئے نکات کے علاوہ مطالبات کا خلاصہ نیچے درج کیا جارہا ہے:
مطالبات:
ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کی دوتہائی سے زائد آبادی 25؍سال سے کم عمر ہے۔اور ماہرین کے مطابق اس تعدادمیں2025تک مزید اضافہ ہوجائے گا۔یہ آبادی ہماری معاشی اور سماجی ترقی کی بنیاد ہے۔ ان میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ قوم کو امن اور ترقی کے راستے پر ڈال سکیں۔ اس حقیقت کے مدنظر اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا نے نوجوانوں سے متعلق اہم مسائل کو اپنے منشور میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
*اخلاق اور اقدار کو نصابی تعلیم کا حصہ بنایا جائے، اسی کے ساتھ الکوحل، ڈرگس کے چلن اور فحش تفریحات پر روک لگائی جائے۔
*حق تعلیم قانون کو مؤثر طور پر نافذ کیا جائے۔ اگر کوئی اسکول اس قانون کی پاسداری میں ناکام رہے تواس کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے جائیں۔
*اساتذہ کی خالی پوسٹ کو پر کیا جائے اور جو بھی استادکنٹرکٹ کی بنیاد پر کام کررہا ہے اس کی ملازمت کو مستقل کیا جائے۔
*حساس صنفی ضروریات کے مدنظر خصوصی تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کی کوشش کی جائے۔
*سیکولرازم کے تئیں بنیادی عہد کے ساتھ قومی نصاب تعلیم فریم ورک(National Cirriculum Framework)2005پر نظرثانی کی جائے۔
*تعلیم کے تجارتی کرن پر روک لگائی جائے۔
*MBBS/MD/MSکے لئے ملک بھر میں موجود تمام کالجز کی جملہ سیٹوں کی تعداد بڑھائی جائے۔
*تکنیکی تعلیم کے معیار، اس میں تحقیق اوراس کے موجود مقام کی جانچ کے لئے چوکس اور نگران کار میکانزم بنایا جائے۔
*باوقار اداروں جیسے آئی آئی ٹیز، آئی آئی ایمز اور سینٹرل یونیورسٹیز کے ذریعے میڈیسن، انجینےئرنگ، سائینس اور ہیومینٹیز جیسے کورسیس میں مفت آئن لائن کورسیس فراہم کئے جائیں، جس کا انتظام ویب اور ویڈیو کورسیس کے ذریعے ہو۔
*تعلیمی اداروں میں صلاحیتوں کے ارتقاء اور روزگار کے حصول میں تعاون کے سیلس قائم کئے جائیں۔
*دہلی یونیورسٹی کے چارسالہ ڈگری پروگرام (FYUP)پر نظر ثانی کی جائے۔
*تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیز کو پسماندہ طبقات کے طلبہ کے لئے اصلاحی (Remedial) کوچنگ سینٹرس کا آغاز کرنا چاہئے ، ، تاکہ وہ تعلیمی چیلنجز اور اصلاحات کے ساتھ ہم آہنگ ہوسکیں۔
*UGC-NETکے سینٹرس کی تعداد بڑھائی جائے۔
*MCDsکے تحت کالجز اور ہوسٹلس کی تعداد بڑھائی جائے۔
*تعلیم پر مختص بجٹ کو بڑھایا جائے اور اس میں جملہ GDPکے6%تک اضافہ کیا جائے۔
*علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو اقلیتی کردار عطا کیا جائے۔
*UPSCامتحانات کے اختیاری مضمون میں بیرونی زبان کے انتخاب کو پھر سے شامل کیا جائے۔
*سچر کمیٹی اور مشرا کمیشن کی رپورٹس میں شامل تمام سفارشات کو نافذ کیا جائے۔
*اعلیٰ تعلیم میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ کے لئے غیر سودی قرض فراہم کیا جائے۔
*بیرون ممالک کے لئے تعلیمی صلاح کاروں کی جانچ کے لئے ایک نگران کار باڈی قائم کی جائے۔
*ایک قومی سطح کا انسٹی ٹیوٹ جیسے National Institute of Education قائم کیا جائے جو تعلیمی پالیسیز کو ڈیزائن کرنے نیز معیاری اور موزوں نصاب کی تیاری کے لئے درکار تحقیق کے کام میں مصروف رہے۔
*کیمپسیز میں نفسیاتی کونسلنگ اور بحالی سینٹرس قائم کئے جائیں۔
*لنگدوہ کمیشن کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے طلبائی سیاست اور الیکشن کی کیمپس میں اجازت دی جائے۔
*نوجوانوں کے لئے تکنیکی اور Vocational Skill development سینٹرس کو بڑے پیمانے پر قائم کیا جائے اور ساتھ ہی خودروزگار کے لئے سہولت فراہم کی جائے۔
*وہ تمام بے گناہ نوجوان جنھیں غیرقانونی طور پر حراست میں لیا گیا اور جو بعد میں بے گناہ ثابت ہوئے ، انھیں معاوضہ فراہم کیا جائے۔ انھیں کیریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے تاکہ وہ اپنی تعلیم یا روزگار کو جاری رکھ سکیں۔
اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا آ پ کی جانب سے مندرجہ بالا مسائل کے حل کے لئے ایک مثبت ردعمل کی توقع کرتی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کے اقدامات ہندوستان کو پر امن اور ترقی یافتہ ملک بنانے میں معادن و مددگار ہوں گے۔
جاری کردہ: مرکز ایس آئی او آف انڈیا

About Admin Rafeeq

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

دادری کا وحشیانہ قتل: فسطائی دہشت گردی

دادری کا تازہ واقعہ ہو ، مظفرنگر ہو ، بلبھ گڑہ ہو ...