بنیادی صفحہ / تجزیہ ۔ قومی / شمالی ہند میں تعلیم کا مسئلہ

شمالی ہند میں تعلیم کا مسئلہ

ملک ہندوستان کے اندر شمالی علاقہ اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے اور مختلف دور میں اس علاقے کی ریاستوں کا ملک کی سیاست میں نمایاں کردار رہا ہے۔ بالخصوص بہار ، اترپردیش، جھارکھنڈ وغیرہ پر مشتمل شمالی ہند کا یہ علاقہ ایک خاص جغرافیائی خدوخال رکھتا ہے۔اگر ہم یہاں کی سیاسی، سماجی اورمعاشی صورتحال کا جائزہ لیں تو اس کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ان ریاستوں میں ہندوستان کی د وسری ریاستو ں کے بالمقابل زبان کی یکسانیت پائی جاتی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ تہذیبی اعتبار سے بھی یہ علاقہ اپنے اندر کافی یکسانیت رکھتا ہے، ذہنیت اور طرز زندگی میں بھی بہت حد تک ہم آہنگی محسوس کی جاتی ہے۔ اس پورے خطہ کی سماجی صورتحال بھی کم و بیش ایک جیسی ہے۔ ان ریاستوں کا بیشتر حصہ زراعتی ہے۔ ان ریاستوں کی آبادی بھی زیادہ ہے۔ یہاں غربت اور وسائل کی کمی بھی یکساں طور پر پائی جاتی ہے۔ یہاں کی سماجی صورتحال، پانی، ذات پات اور آپسی برتاؤ بھی بہت حد تک دوسری ریاستوں کے مقابلے میں ایک جیسا ہے۔ ان ریاستوں کی معاشی صورتحال کو سمجھنے کے لیے MPI کی رپورٹ کا معائنہ کرسکتے ہیں جو کہ UNDPاور OPHD1 کے اشتراک سے تیار کی گئی ہے، جس کے مطابق ریاست بہار، یوپی، جھارکھنڈ ملک کی غریب ترین ریاستوں میں سے ایک ہیں۔ وہیں پلاننگ کمیشن کے پروفیسر سریش ٹنڈیلکر کی رپورٹ کے مطابق 37% ہندوستانی خط غربت سے نیچے گزارا کررہے ہیں۔ وہیں 54.4% بہار کی آبادی خط غربت کے نیچے گزر بسر کرنے پر مجبورہے جب کہ یوپی کی شرح 40.9ہے۔ جھارکھنڈ کی 45.3% ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان ریاستوں کی بڑی آبادی معاشی بحران کا شکار ہے۔ ان ریاستوں کی سیاسی صورتحال بھی کم و بیش ایک جیسی ہے۔ خواہ معاملہ آزادی سے پہلے کا ہو یااس کے بعد کا ہو، ان ریاستوں کے نمایاں اور موثر کردار اور اس کے اثرات کو ہندوستان کی سیاست میں نظرانداز نہیں جاسکتا۔ مختلف تحریکات کو انہی ریاستوں سے آغاز بھی ملا ہے اور ترقی بھی۔ سماجی تبدیلی کے پہلو سے آج بھی ہندوستان کی یہ ریاستیں زیادہ اثر رکھتی ہیں اب آئیے ان حالات اور ان کی روشنی میں ہم یہاں کی تعلیمی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں۔
شمالی ہند کی تعلیمی صورتحال
ہندوستان میں حصول تعلیم ایک بنیادی حق ہے اور ہمارا دستورنہ صرف تعلیم کو بنیادی حق کے طور پر تسلیم کرتا ہے بلکہ حصول تعلیم کی طرف توجہ بھی دلاتا ہے۔ ہندوستان کے دستور کے آرٹیکل 13، 15 ، 21A، 28، 30، 41، 45، 46وغیرہ میں تعلیم سے متعلق نکات دیکھے جاسکتے ہیں ان نکات کی روشنی میں چند باتیں ہمارے پیش نظر رہنی چاہئیں:
*ہندوستان کے ہر شہری کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ بنیادی تعلیم حاصل کرے۔
* کسی بھی مذہب یا قوم کو اس بات کی آزادی ہے کہ وہ اپنے مذہب کی روشنی میں تعلیم حاصل کریں یا تعلیمی ادارے چلائیں۔
* اقلیتوں کو یہ حق ہے کہ وہ اپنا تعلیمی ادارے قائم کریں اور اپنے مطابق اس کو چلائیں۔
* سماج کے کمزور طبقہ ایس سی، ایس ٹی وغیرہ کی تعلیمی اور معاشی بہتری کے لیے خرچ دیا جائے گا۔
* بنیادی تعلیم کو یہاں کی مادری زبانوں میں فراہم کرایا جائے گا۔
دستور میں تعلیم کی حیثیت اور اس کے سلسلے میں چند اہم باتیں سامنے لانے کے بعد اب یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ہندوستان میں حصول تعلیم کے سلسلے میں کیا نظم کیا گیاہے اور اس کی صورت حال کیا ہے۔
ہندوستان میں تعلیم کو دو سطح پر کنٹرول کیا جاتا ہے ایک تومرکزی سطح پر اور دوسرا ریاستی سطح پر جس کے تحت کچھ ذمہ داریاں مرکزی سطح پر رکھی گئی ہیں جبکہ باقی تمام معاملات میں ریاستی حکومتوں کو اختیارات دئیے گئے ہیں۔ ہندوستان میں فیڈرل، اسٹیٹ اور لوکل سطح پر کنٹرولنگ اور فنڈنگ کا نظم رکھا گیا ہے۔ اس مختصر سی تمہید کے بعد اب ہم شمالی ہند کی ریاستوں کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں۔ جس کے لیے ہم نے کئی ایک معیاروں کی روشنی میں جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔
سب سے پہلے (EDI) Education Development of India کو دیکھتے ہیں جو کہ NUEPA اور حکومت ہند کی جانب سے تیار کی گئی ہے۔ اس میں 23بنیادوں پر مختلف ریاستوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کے تحت آخری دس ریاستوں میں بہار، جھارکھنڈ اور اترپردیش کا نام سرفہرست ہے۔ گویا کہ یہ ریاستیں اس معیار کے نچلے حصے میں ہیں۔ ریاست بہار کا EDI 0.4ہے جو کہ سب سے کم ہے اور 30ویں (آخری) مقام پر ہے۔ جب کہ جھارکھنڈ 0.49اور اترپردیش 0.586 ہے۔ یہ معیار کچھ نکات پر مشتمل ہے جو کہ اس طرح ہیں:
اسکولوں کی تعداد جن کے پاس پکا مکان ہے۔جہاں پینے کا پانی مہیا ہے۔ طہارت خانہ ہے۔ طالبات کے لیے علیحدہ طہارت خانہ ہے۔ کمپیوٹرہے۔ کلاس روم کی مطلوبہ تعداد ہے۔ مردوخواتین اساتذہ کی بھی مطلوبہ تعداد ہے۔
اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شمالی ہند کی ان اہم ریاستو ں کی تعلیمی صورتحال کیا ہے۔ دوسرا معیارشرح خواندگی ہے۔
اس کے بعد ہم شمالی ہند کی ریاستوں کی GDP اور FDIپر نظر ڈالتے ہیں۔ کسی بھی ریاست میں باہری سرمایہ کاری (FDI) اس ریاست کی GDP اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کو سامنے رکھتے ہوئے کی جاتی ہے۔ Associated Chambers of Common & Assocham industry of Indiaیہ وہ چند ایک معیار ہیں جن کی بنیاد پر شمالی ہند کی ریاستوں کی موجودہ تعلیمی صورتحال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق شمالی ہند کی ریاستوں میں سال 2016 تک 15-24سال کے 106 ملین لوگ ہوں گے۔ ایسا اندازہ کیا جاتا ہے کہ 33.4 ملین طلبہ اعلی تعلیم کے حصول میں لگ جائیں گے جب کہ ان ریاستوں کے تعلیمی اداروں کی قوت انتہائی کم ہے۔
منتخب دس ریاستوں میں بہار ،جھارکھنڈ کا نام نہیں ہے۔ یوپی کا نام صرف اس کی زراعتی پیداوارکی بنیاد پر ہے۔ ایسے میں اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان ریاستوں میں تعلیمی اداروں کی تعدادبہت کم ہے۔
ان معیاروں کی روشنی میں اور دیگر حقائق کی روشنی میں چند نکات مرتب کیے جاسکتے ہیں جو اس طرح ہیں:
* ان ریاستوں میں تعلیمی اداروں کی تعداد انتہائی کم ہے۔ خواہ وہ پرائمری سطح پر ہو یا اعلیٰ تعلیم کا معاملہ ہو۔ جس کی وجہ سے منتخب طلبہ ہی یہاں تعلیم میں آگے بڑھ پاتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں ان ریاستوں میں ترک وطن کی شرح کافی زیادہ ہے۔
* اچھے اور معیاری تعلیمی اداروں کے فقدان کی وجہ سے ان ریاستوں میں اچھا تعلیمی معیار قائم نہیں ہوپارہا ہے۔ صرف اترپردیش جہاں کچھ اچھے تعلیمی ادارے ہیں جیسے Central University Kanpur، AMU, BHU وغیرہ۔
* حالیہ دنوں میں کئی اچھے اداروں کا قیام زیر غور ہے لیکن کچھ سیاسی اور کچھ دیگر جوہات کی وجہ سے یہ اہم فیصلے روبہ عمل نہیں آرہے ہیں۔
* ریاستی حکومتوں کی جانب سے چلائے جارہے ادارہ یا اسکولوں کی صورتحال کافی خستہ ہے اور تمام کوششوں کے باوجود ان کے معیار میں کوئی تبدیلی نہیں آرہی ہے۔
*حکومتوں کی تعلیم کے سلسلے میں پالیسی بھی ان ریاستوں کی خراب تعلیمی صورتحال کے لیے ذمہ دار ہے۔ حکومت کارپوریٹ اور پرائیویٹ سیکٹر کو بڑھاوا دینا چاہتی ہے۔
اس وقت مرکزی حکومت کی جانب سے کئی تعلیمی اداروں کا قیام زیر غور ہے لیکن ریاستی اورمرکزی حکومتوں کی سیاسی چپقلش کے سبب یہ فیصلے مکمل نہیں ہوپارہے ہیں۔
* اعلیٰ تعلیم کے سلسلے میں ریاستی حکومتوں کا رویہ سرے سے نقصاندہ ہے جس کی وجہ سے بہار اور دوسری ریاستوں میں اعلیٰ تعلیم کی صورتحال کافی خراب چل رہی ہے۔
* ان ریاستوں میں طلبہ کی بڑی تعدادمالی اعتبار سے کمزور ہے اور مہنگی تعلیم حاصل نہیں کرسکتی، لیکن حکومت کی توجہ اس جانب نہیں ہے۔
* اقلیتوں کے اپنے تعلیمی ادارہ بہت کم ہیں، جس کی وجہ سے اقلیتی طلبہ کی بڑی تعداد تعلیم حاصل نہیں کرپارہی ہے۔
* بالخصوص اقلیتوں کی بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کر رہی ہے اور ان کے یہاں ڈراپ آؤٹ طلبہ کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ اس کی بڑی وجہ صحیح رہنمائی کا نہ ہونا اور معاشی تنگی ہے۔
* سچر رپورٹ کے بعد طلبہ کے لیے کئی اسکیمیں شروع کی گئیں ہیں لیکن یہ اسکیمیں ریاستی حکومتوں کی بے توجہی کا شکار ہیں۔
2n2

 

محمد ارشادحسین، پٹنہ
(ایڈیٹر ماہنامہ چھاتر ومرش)

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

سنگھ پریوار: ترجیحی عدم توازن کا شکار

عقل مند وہ ہے جو دوسروں کی غلطی سے ہوشیار ہوجاتا ہے ...