Home / کیمپس / سول سروسز امتحانات اور ہندوستانی زبانوں کا مسئلہ
Click Here to Read More

سول سروسز امتحانات اور ہندوستانی زبانوں کا مسئلہ

یو نین پبلک سروس کمیشن (UPSC) کی جانب سے ہر سال ملک کی سب سے بڑی نوکری کے لیے منعقد کیے جانے والے انڈین ایڈمنسٹریٹو امتحان (IAS) میں لسانی (Language) تعصب کے خلاف ملک بھر سے جمع ہوئے طلبہ کی جانب سے گزشتہ 6؍جولائی 2014 سے احتجاج مستقل جاری ہے۔ دھوپ کی شدت اور بے حال کردینے والی گرمی کو برداشت کرنے والے طلبہ کی آواز پر مرکز کی نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے ابھی تک انتہائی غیر سنجیدہ رویہ اختیار کر رکھا ہے۔پہلے ہی یو نین پبلک سروس کمیشن (UPSC) کے طریقہ کار سے پریشان طلبہ حکومت کی بے حسی و غیر سنجیدگی سے مزید دل آزاری محسوس کر رہے ہیں۔ احتجاج کا یہ سلسلہ ملک کے مختلف علاقوں میں بھی جاری ہے۔ طلبہ یو نین پبلک سروس کمیشن (UPSC) کے سول سروس امتحان (IAS) میں سول سروس اپٹیٹیوڈ ٹسٹ (CSAT) پرچے کو ختم کرنے کولے کر اپنے مطالبے پر جمے ہوئے ہیں۔ ہندی سمیت دیگر علاقائی زبانوں میں سول سروس امتحان(IAS) کی تیاری کرنے والے طلبہ کا الزام ہے کہ یو نین پبلک سروس کمیشن (UPSC) 2011 ؁ء سے ان کے ساتھ تعصب برت رہا ہے۔
غور طلب ہے کہ سال 2010 ؁ء تک سول سروس کے ابتدائی مرحلے کا امتحان 450 نمبرات پر مشتمل ہوتا تھا۔ اس میں دو پرچے ہوتے تھے۔ تاریخ، سیاسیات، فزکس جیسے20 متبادل موضوعات میں سے ایک کاپرچہ 300 نمبروں پر مشتمل ہوتا تھا اور دوسرا 150 نمبروں والا جنرل نالج کا پرچہ۔ 2011 ؁ء میں نافذ کیے گئے سول سروس اپٹیٹیوڈ ٹسٹ (CSAT) میں 450 نمبروں کے بجائے 200۔200 نمبرات پر مشتمل دو پرچے ہونے ہونے لگے۔ پہلا جنرل نالج کا ہے اور دوسرے میں ذہنی لیاقت، ریزننگ، اعداد وشمار کے تجزیہ اور انگریزی زبان سے متعلق سوالات ہوتے ہیں۔ یو نین پبلک سروس کمیشن (UPSC)نے یہ تبدیلی پروفیسر ایس کے کھنا کی زیر صدارت کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر کی تھی۔ لیکن طلبہ کے ایک بڑے طبقہ کو یہ تبدیلیاں منظور نہیں ہیں، اور وہ اس میں اصلاحات کے طالب ہیں۔
حالیہ تنازعہ اسی دوسرے پرچے سے متعلق ہے۔ احتجاج کر رہے طلبہ کا کہنا ہے کہ جب دوسرے مرحلے کے امتحان (Main Exam) میں انگریزی کا ٹسٹ ہوتا ہی ہے، تو پھر ابتدائی مرحلے میں اس کی کیا ضرورت ہے؟ طلبہ کی شکایت ہے کہ اس طریقہ کار کے تحت مینجمنٹ اور انجینئرنگ کی پڑھائی کرنے والے طلبہ کو اضافی فائدہ پہنچتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار دیہی وقصباتی علاقوں سے پڑھ کر آنے والے طلبہ کے سامنے بہت بڑی رکاوٹ کھڑی کردیتا ہے، جبکہ انگریزی زبان میں پڑھنے والے شہری طلبہ کے لیے راستہ مزید آسان ہو جاتا ہے۔
آخر تنازعہ کی جڑ ہے کیا؟ یو نین پبلک سروس کمیشن (UPSC)کے CSAT پرچے کولے کر اٹھے تنازعے کی جڑ ہے لسانی نا برابری۔ ہندوستان میں ایک طبقہ زبردستی اسے ہندی بنام انگریزی کی لڑائی بتا رہا ہے۔ تنازعے کو انگریزی بنام ہندی اور ہندی بنام دیگر زبانوں کے پھندے میں پھنسانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ایسے لوگ یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ جیسے ہندی ذریعہ سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ انگریزی جانتے ہی نہیں ہیں، اور اسی وجہ سے وہ اس کی مخالفت کر رہے ہیں، جبکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔واضح رہے کہ یہاں انگریزی سے کسی کو اعتراض نہیں ہے۔ دوسرے مرحلے کے امتحان (Main Exam) میں برسوں سے انگریزی کا ایک پیپر ہوتا آ رہا ہے، آج تک کسی نے اس کی مخالفت نہیں کی۔ اصل دقت UPSC کے امتحان کے اس نئے طریقہ کار CSAT سے ہے جو ہندی و دیگر علاقائی زبانوں کے طلبہ کو تو نقصان پہنچاتا ہے، لیکن انگریزی و سائنس کے طلبہ کو اضافی فائدہ پہنچاتا ہے۔
طلبہ کی اس تحریک میں حصہ لے رہے سول سروس کی تیاری کرنے والے طالب علم سریندر دوبے نے بتایا کہ UPSC کی سول سروسیز میں غیر انگریزی زبان والے طلبہ کے ساتھ تعصب برتا جارہا ہے۔ یہ ناانصافی تب سے مزید بڑھ گئی ہے جب سے ان امتحانات میں CSATکا طریقہ کار اختیار کیا گیا۔ امتحانات کے نتائج سے متعلق UPSC کے دستاویز ات دکھاتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ 2005 سے 2010 کے درمیان سول سروسز کے ابتدائی مرحلے کے امتحانات میں ہندی ذریعہ سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی کامیابی کی شرح میں کافی گراوٹ آئی ہے۔ تب جہاں 40 سے 45 فیصدی طلبہ کامیاب ہوتے تھے، وہیں 2011 میں ان کی شرح گر کر صرف 15 فیصدی ہی رہ گئی۔
اسی طرح 2005تا 2010 کے درمیان سول سروسز کے حتمی نتائج میں جہاں ہندی ذریعہ سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی کامیابی کی شرح 10 تا 15 فیصد ہوتی تھی ، وہیں 2013 میں یہ شرح گر کر صرف 2.3 فیصد پر ہی رک گئی۔ امسال منتخب ہوئے کل 1122امیدواروں میں تقریباً 26 ہندی ذریعہ تعلیم سمیت کل ہندستانی زبانوں کے 53 طلبہ ہی آخری مرحلے میں کامیاب ہوئے۔
اس احتجاج میں اول روز سے موجود اتر پردیش سے آئے لنکیش نے کہا کہ نہ صرف ہندی زبان والے طلبہ بلکہ اردو، تامل، ملیالم، تلگو، مراٹھی، بنگلہ سمیت سبھی ہندوستانی زبانوں کے طلبہ اس تفریق کا شکار ہیں۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ انگریزی کا امتحان پاس کرنا لازمی کیے جانے کے بعد سے تو انگریزی میں ناکام رہنے والے طلبہ کی موضوع سے متعلق کاپی کو جانچا تک نہیں جاتا۔ انگریزی کا پرچہ جنرل انگریزی کا نہیں ہوتا، بلکہ امریکہ و لندن میں بولی جانے والی انگریزی میں ہوتا ہے۔
اب ذرا پرچوں کے فارمیٹ پر نظر دوڑاتے ہیں۔ CSAT میں کل 80 سوالات ہوتے ہیں۔ ان سوالات میں سے 40 سوال ایسے ہیں جو سیدھے سیدھے انگریزی زبان کے طلبہ کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ ان 40 سوالات میں سات یا آٹھ انگریزی زبان سے ہوتے ہیں۔ تو ظاہر طور پر ان سوالات کو وہی بچے جلدی حل کر لیں گے جنہوں نے انگریزی زبان پڑھی ہوگی۔ 32 سوالات ذہنی لیاقت جانچنے کے لیے ہوتے ہیں۔حقیقی طور پر یہ سوالات انگریزی میں تیار کیے جاتے ہیں۔ اور بعد میں ان کا ترجمہ ہندی میں کیا جاتا ہے۔ اب ان تراجم کودیکھیے تو سمجھ میں آئے گا کہ ہندی ذریعہ تعلیم کے بچے ان سوالات کو کیسے حل کر پائیں گے؟ ہندی میں نہایت بے کار ترجمہ کی وجہ سے ان سوالوں کو سمجھنے کے لیے انگریزی میں چھپے سوالات ہی پڑھنے ہوں گے، تب تک انگریزی والا کئی سوالات حل کر چکا ہوتا ہے۔ یہ کوئی عام امتحان نہیں ہے بلکہ یہ ایک اعلیٰ درجہ کا امتحان ہے، جس میں ایک ایک لمحہ قیمتی ہوتا ہے۔ کیا یہ سراسر تفریق نہیں ہے؟ کیا اس کی مخالفت نہیں ہونی چاہیے؟ کیا یہ صرف ہندی بنام انگریزی کا معاملہ ہے؟
UPSCکی جانب سے منعقد کیے جانے والے سول سروس امتحان کے تنازعہ کی جڑ میں ترجمہ کی خامیاں خاص طور سے منظر عام پر آئی ہیں۔ جس امتحان کے ذریعہ سے آپ ملک کی سب سے بڑی نوکری کے لیے پڑھائی میں ممتاز حیثیت رکھنے والے لاکھوں طلبہ کے درمیان انتخاب کر رہے ہوں، اور اس کا پرچہ ایسی زبان میں ہوجسے نہ ہندی والے سمجھ پائیں نہ انگریزی والے، تو اسے ملک کی بد قسمتی نہیں مانیں تو اور کیا مانیں؟
آزادی کے فوراً بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ اب اس ملک کی مادری زبان اردو کے بجائے ہندی ہونا چاہیے۔ جذبات کی رو میں بہنے کے بعد کیے گئے اس فیصلے نے ہندوستانی زبانوں کے درمیان تفریق وتعصب کی گندی ذہنیت کی بنیاد رکھی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عام عوام کو اپنی مادری زبان کی قربانی دینی پڑی لیکن یہ عام عوام ٹھیٹھ ہندی سے نا آشنا ہونے کی وجہ سے نہ اردو کی رہی اور نہ ہی ہندی کو اختیار کر سکی۔ اس تعصب کا سب سے زیادہ فائدہ بالآخر انگریزی کو ہی ہونا تھا لہٰذا وہ ہوکررہا۔ جس کا ہرجانہ آج ملک کو ایسی صورتحال سے دو چار ہوکر چکانا پڑ رہا ہے۔
آزادی کے فوراً بعد کی دہائیوں میں ایک قانونی دفعہ کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا کہ انگریزی اگلے پندرہ سال تک چلتی رہے گی اور ان سالوں میں ہندی سمیت سبھی ہندوستانی زبانوں میں ایسے لٹریچر کا ترجمہ کیا جائے گا یا تشکیل دیا جائے گا، جس سے کہ اس کے بعد ہندوستانی زبانوں میں کام کیا جا سکے۔ لیکن ہوا اس کا بالکل اُلٹا۔
گزشتہ بیس تیس سالوں میں ایسا ترجمہ سامنے آرہا ہے کہ اسے پڑھنے کے بجائے آپ حقیقی زبان میں پڑھنا بہتر سمجھتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے خطوط میں تو یہ باربار کہا جاتا ہے کہ جہاں بھی سمجھنے میں شک و شبہ ہو، انگریزی کو ہی حتمی مانا جائے گا۔ نتیجہ دھیرے دھیرے یہ ہوا کہ حکومتی ترجمہ اتنی لاپروائی سے ہونے لگا کہ جس کا ثبوت حالیہ CSAT کے امتحان میں کھل کر سامنے آیا، جہاں Confidence Buldingکا ترجمہ ’وشواس بھون‘ اور Land Reformکا ترجمہ ’آرتھک سدھار‘ کیا گیا ہے۔ اور جو زبان استعمال کی گئی ہے اسے گوگل یا کمپیوٹر بھلے ہی سمجھ لے لیکن کوئی گوشت پوست والا انسان اس کو سمجھنے سے قاصر ہے۔یہ سوال اور بھی اہم اس لیے ہو جاتا ہے کہ جب آپ امتحان گاہ میں بیٹھے ہوتے ہیں تو آپ کے پاس اٹکلیں لگانے یا حقیقی سوال سے بھٹکنے کا وقت نہیں ہوتا ہے۔
CSAT مخالف تحریک نے ملک بھر کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے،جو کہ اس ملک میں اقتدار پر قابض لوگوں کی جانب سے برتے گئے تعصب کا نتیجہ ہے۔اس تحریک نے جہاں سسٹم میں موجود خامیوں کی جانب عوام کا دھیان اپنی طرف کھینچا ہے، وہیں حکومت اس مسئلہ کے حل کے لیے بالکل بھی سنجیدہ نظر نہیں آ رہی ہے۔ بلکہ اس کے بر خلاف حکومت نے سخت رخ اپناتے ہوئے UPSCکو اس سال کے سول سروس امتحان کو طے شدہ وقت پر ہی کرانے کا حکم جاری کر دیا ہے، جو کہ اسی ماہ کی 24؍اگست کو ہونا ہے اور جس سے احتجاج کر رہے طلبہ کو تیاری کا وقت بھی نہیں مل سکا ہے، اور اس سے ان کا ایک سال مزید برباد ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ حکومتی ترجمان جس اعلان کو اپنی سرکار کی بڑی کامیابی بتانے کا پرچار کر رہے ہیں اس کے لیے تو طلبہ نے نہ کبھی مانگ کی اور نہ اس کے خلاف کبھی اعتراض درج کرایاتھا۔واضح رہے کہ مودی حکومت نے احتجاجیوں کے غصہ کو کم کرنے کی غرض سےUPSCکے سول سروس امتحان میں انگریزی کے 20نمبرات کو میرٹ میں نہیں جوڑے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے برتی جا رہی لاپروائی کی مخالفت بھی ہونے لگی ہے۔اس سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت کے یہ اعلانات واقعی طلبہ سے ہمدردی کے نتیجہ میں کیے گئے ہیں تو ان کو اتنی شدت کی گرمی میں تحریک جاری رکھنے کی سزا کیوں دی جارہی ہے؟حکومت کو اگر واقعی طلبہ سے ہمدردی تھی تو اس سال کی سول سروس کے ابتدائی مرحلے امتحان کو ٹالنے کا مطالبہ کیوں مسترد کر دیا گیا؟
طیب احمد بیگ، مدیر معاون چھاتر ومرش

Click Here to Read More

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

جمہوریت کے علمبرداروں کو جامعہ میں جمہوریت کے لئے جدوجہد کی حمایت کرنی چاہئے :ایس آئی او

نئی دہلی (2 نومبر، 2017): جو لوگ جمہوریت کے علمبردار ہیں اور ...