Home / متفرق / سوامی رام تیرتھ

سوامی رام تیرتھ

سوامی رام تیرتھ دورِ حاضر کے یوگی اور صوفی مانے جاتے ہیں۔ سوامی جی ۲۲؍ اکتوبر ۱۸۷۳ئ(سوامی جی کے بھتیجے برج لال کی تحقیق کے مطابق ان کی پیدائش ۱۸۷۰ء میں ہوئی تھی ۔) کو مغربی پنجاب کے ایک گائوں مرالی والہ (ضلع گجرانوالہ)میں پیدا ہوئے ۔ان کے باپ گو سائیں ہیرا نند ایک غریب برہمن تھے ۔پیدا ہونے کے کچھ ہی دنوں کے بعد ماں کا انتقال ہو گیا ۔والد نے کم عمری ہی میں ان کی شادی کر دی۔ بچپن ہی سے انہیں پڑھنے لکھنے اور مذہبی کاموں سے بڑی دلچسپی رہی ہے ۔

سوامی جی کی تعلیم مکتب سے شروع ہوئی ۔اردو اور فارسی دونوں کے لیے ان کے اندر بڑا شوق تھا ۔شیخ سعدی کی گلستاں اور بوستاں کے بہت سے اشعار انھیں حفظ ہو گئے۔ ان کے دل میں اپنے استاد مولوی محمد علی کا بڑا احترام تھا ۔مدرسہ کی تعلیم ختم کرنے کے بعد بھی انہوں نے اپنی تعلیم جاری رکھی گرچہ اس کے لیے انھیں غیرمعمولی تکالیف اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔۱۸۸۸ء میں انھوں نے ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا ۔اعزہ کا خیال تھا کہ اب انھیںکوئی نوکری کر لینی چاہیے ۔اس زمانے میں میٹرک پاس کرنے کے بعد اچھی ملازمت مل سکتی تھی ۔لیکن سوامی جی کالج کی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے لاہور چلے گئے ۔ان کا داخلہ لاہور کے مشن(فارمن کرشچین)کالج میں ہو گیا ۔مشکلات اور پریشانیوں کے باوجود ۱۸۹۰ء میں انھوں نے انٹر کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کر لیا ۔اس موقع پر پھر اس بات پر زور دیا جانے لگا کہ وہ کوئی نوکری کر لیں لیکن سوامی جی ہمت ہارنے والے نہ تھے ،انھوں نے اپنی تعلیم جاری ہی رکھی ۔۱۹۸۲ء میں انہوں نے اختیاری مضمون فارسی کی جگہ سنسکرت لے لی ۔ان کی فارسی اچھی تھی ۔سنسکرت سے وہ بالکل ناواقف تھے لیکن محنت اور جانفشانی کی وجہ سے صرف یہی نہیں کہ امتحان فرسٹ ڈویژن سے پاس کیا بلکہ ساری یونیورسٹی میں اول آئے ۔ ارتھمیٹک میں تیرہ سوال میں سے صرف ۹ سوال حل کرنے تھے ۔سوامی جی نے دیے ہوئے وقت میں سبھی سوالات حل کر دیے ۔

بی ۔ اے کر نے کے بعد سوامی جی نے ایم۔ اے کے لیے سرکاری کالج میں داخلہ لے لیا ۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ قدرت کے جلوؤں اور فطرت کی رنگینیوں سے ان کی دلچسپی بڑھتی گئی ۔جن کا وہ نہایت حسین انداز میں اپنے خطوط میں ذکر کرتے ہیں ۔میتھ میٹک ان کا محبوب مضمون تھا اور اس میں انھوں نے کمال حاصل کر لیا تھا ۔۱۸ ہندسوں والے عدد کو وہ ۱۷ ہندسوں والے عدد سے ایک ہی بار میں ضرب کر دیتے تھے ،اور وہ بھی ایک سطر میں ۔اس کے ساتھ ’’یوگ وسشٹھ‘‘جو یوگ کی ایک گہری کتاب ہے کا مطالعہ بھی کر رہے تھے ۔یہ کوئی کرشمہ نہ تھا محض مشق و تمرین کے نتیجے میں ان کے اندر یہ صلاحیت پیدا ہو گئی تھی ۔۱۸۹۵ء میں انھوں نے ایم ۔اے کر لیا ۔طالب علمی کے زمانے سے ہی ان کے خیالات سنتوں اور دھارمک گروؤں جیسے تھے ۔اسی زمانے میں انھوں نے اپنے والد کے دوست دھنا مل کو لکھے ہوئے اپنے ایک خط میں اپنے اس خیال کا اظہار کیا تھا:

’’ہمیں اگر شانتی چاہیے تو ہمیں اپنے جسم تک کو اپنانہ سمجھ کر ایشور کا ماننا چاہیے اور اپنا سارا وقت اسی کا کام کرتے ہوئے صرف کرنا چاہیے ‘‘۔

ایم ۔ اے ۔پاس کرنے کے بعد اس کا پورا امکان تھا کہ وہ کوئی بڑی سرکاری ملازمت حاصل کر لیتے ۔سرکاری کالج کے پرنسپل نے جب صوبائی سول سروس (Provincial Civil service)کے لیے انھیں نامزد کرنا چاہا تو انھوں نے جواب دیا کہ ’’اتنی محنت میں نے اپنی فصل کو بیچنے کے لیے نہیں ،اسے تقسیم کر دینے کے لیے کی ہے ۔‘‘کوئی اونچے سے اونچا سرکاری منصب حاصل کرنے کے بجائے انھوں نے تدریس کو اپنے لیے پسند کیا ۔مشن کالج اور اورینٹل کالج میں کچھ عرصہ تک انھوں نے تدریس کا کام کیا اور بڑی ہی قابلیت اور ذمہ داری کے ساتھ انھوں نے اپنے فرائض انجام دیے لیکن وہ اس زندگی پر مطمئن نہ ہو سکے ۔سنسکرت کی یوگ اور روحانیت سے متعلق کتابوں کے مطالعے نے ان کی روحانی پیاس مزید بڑھادی ۔وہ ڈی۔ ایس۔ سی کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے کچھ ریسرچ کرنا چاہتے تھے ،لیکن یہ ممکن نہ ہو سکا۔میتھ میٹک کے مطالعے کی اہمیت پر انھوں نے کچھ تقاریر کیں اور انہیں شائع بھی کرایا۔ان میں سے ایک تقریر ان الفاظ میں شروع ہوتی ہے :’’علم کو علم ہی کے لیے حاصل کرنا سیکھو ‘‘۔انھوں نے کہا ہے کہ ’’یہ میتھ میٹک ناسمجھ لوگوں کے لیے بالکل بد رنگ معلوم پڑتی ہے ،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ قوس وقزح کے رنگوں سے اس کی تخلیق ہوئی ہے ۔‘‘وہ کہتے ہیں:’’ریاضی ہمیں محدود چیزوں سے لا محدود کی طرف لے جاتی ہے ۔صرف تیسری آنکھ کی ضرورت ہے ۔‘‘

سوامی جی کی بے تابی روز بہ روز بڑھتی جا رہی تھی ۔وہ کرشن کے روپ میں خدا کو یاد کرتے اور دن رات تڑپتے رہتے ۔وہ تنہائی پسند ہو گئے ۔لاہور میں دریائے راوی کے کنارے گھنٹوں دھیان میں بیٹھے رہتے ۔۱۹۶۶ء میں انھوں نے متھرا ،وندر اون اور دوسرے مقامات کا سفر بھی کیا ۔لاہور لوٹے تو بھگتی یوگ پر تقریر کرنے لگے ۔امرتسر میں ہونے والی ان کی تقریروں سے آر۔ ایس نارائن جو آریہ سماجی تھے بے حد متأثر ہوئے ، اور زیادہ وقت نہیں گزرا کہ نارائن ان کے شاگرد ہو گئے۔

اتفاق سے دوارکا کے جگت گرو شنکرا چاریہ مہادیو تیرتھ لاہور آئے ۔شنکراچاریہ نے نہ صرف یہ کہ اپنی تقاریر سے سوامی رام تیرتھ کو متأثر کیا بلکہ شخصی طور سے بھی انھیں وحدت الوجود کے اصولوں کو سمجھانے کی خاصی کوشش کی ۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کرشن کے لیے ان کی بھگتی آتم درشن(خودشناسی)کے اضطراب میں بدل گئی ۔ویدانت پر لکھی گئی کتابوں کا اب وہ خاص طور سے مطالعہ کرنے لگ گئے ۔امریکہ کے مصنفین میں ان کی خاص دلچسپی ایمرسن،تھورو اور والٹ ہوٹ مین(Emerson,Thoreau,Walt Whitman)سے ہو گئی ۔اب سوامی رام تیرتھ ویدانت کے مطالعہ اور اس کے ریاض میں پورے طور سے مصروف ہو گئے ۔کالج کی مصروفیات کے بعد اپنا زیادہ وقت وہ فکر و تدبر اور پوجا میں صرف کرنے لگے ۔ان کا دعویٰ تھا :’’سنسار میں اب کوئی حق ہے تو وہ صرف ویدانت ہے‘‘۔ان سے جب کوئی پوچھتا کہ کتنے بجے ہیں تو خواہ صبح ہو یا شام یا دوپہر وہ ہمیشہ یہی جواب دیتے :’’رام کی گھڑی میں تو ہمیشہ ایک ہی بجا رہتا ہے ‘‘۔یہ کیفیت اتنی بڑھی کہ انھوں نے اعلان کر دیا  :’’میں نے بے خوفی حاصل کر لی ہے ‘‘۔ وہ اب تیزی کے ساتھ سنیاس کی طرف بڑھ رہے تھے ۔انھوں نے اپنے والد کو لکھا:’’آپ کے بیٹے تیرتھ رام کا جسم تو اب فروخت ہو گیا، خدا کے ہاتھ بک گیا ۔اب اس پر اس کا اپنا کوئی اختیار نہیں رہ گیا ۔آج دیوالی ہے ۔میں جوئے میں اپنا جسم ہی ہار بیٹھا ہوں ،لیکن اس کو گنوا کر میں نے ایشور کو پالیا ہے۔میں آپ کو مبارک باد کہتا ہوں ۔اب آپ کو جس چیز کی ضرورت پیش آئے ،میرے مالک سے مانگ لیجیے ‘‘۔

ان کے والد کو اس خط سے سخت صدمہ پہنچا ۔وہ ہاتھ مل کر رہ گئے ۔انھوں نے اپنے دوست دھناّ مل کو لکھا کہ تیرتھ رام کی یہ حالت تمہاری وجہ سے ہوئی ہے ۔ تمھیں عقل مند سمجھ کر میں نے اسے تمھارے سپرد کیا تھا ۔

نومبر ۱۸۹۷ء میں سوامی وویکانند لاہور آئے ۔ان کے ساتھ ان کے امریکن شاگرد بھی تھے ۔وویکانند کی تقریروں کا بھی سوامی رام تیرتھ پر گہرا اثر پڑا ۔خاص طور سے وہ سوامی وویکانند کی خطابت سے بے حد متأثر تھے۔عجب نہیں کہ وویکانند سے مل کر ان کے اندر یہ جذبہ ابھرا ہو کہ سنیاس اختیار کر کے عملی ویدانت کی اشاعت و تبلیغ میں لگ جائیں۔

۱۸۹۸ میں رام تیرتھ نے ’’ادویت امرت درشنی سبھا‘‘ کے نام سے ایک سوسائٹی قائم کی ،جس کا مقصد ادویت مت (نظریۂ وحدت الوجود )کا پرچار تھا ۔گرمیوں کی تعطیل میں انھوں نے ہردوار،رشی کیش اور دوسرے مقامات کا سفر کیا ۔گنگا میں نہانے سے انھیں خاص سکون حاصل ہوتا تھا ۔ندی میں ڈبکی لگا کر گویا وہ زمانے کے حدود سے باہر نکل جاتے تھے ۔رشی کیش سے چھ میل کے فاصلے پر پتوبن میں پہنچ کر انھوں نے عزم کیا کہ یا تو انھیں خودشناسی کی دولت (آتم درشن)حاصل ہوگی یا وہ خود کشی کر لیں گے۔جب انھوں نے اس میں اپنے آپ کو ناکام ہوتے ہوئے دیکھا تو برسات کی بھری گنگا میں کود پڑے۔کہتے ہیں کوئی طاقت انھیں ایک چٹان کی طرف کھینچ لے گئی اور اس پر بیٹھے بیٹھے ان کی دلی خواہش پوری ہو گئی ۔اور دیر تک وہ سمادھی(وجد)کی حالت میں رہے ۔کوہستان کے اس سفر میں پیش آنے والی قلبی واردات کو انھوں نے اپنے ایک اردو مضمون ’’جلوۂ کوہسار‘‘ میں بیان بھی کیا ہے ۔

سوامی رام تیرتھ کی خلوت پسندی اس درجہ کو پہنچ گئی کہ اب وہ تنہا مطمئن حالت میں رہ سکتے تھے ۔ویدانت کے تذکرے اور مراقبہ میں گزرے ہوئے وقت کو ہی وہ صحیح طور سے گزرا ہوا وقت سمجھنے لگے ۔کالج میں صرف ہونے والے چھ گھنٹے اب انھیں گراں محسوس ہونے لگے ۔وقتاًفوقتاً وہ کلاس میں مذہبی گفتگو بھی کرتے رہتے تھے ۔اور گفتگو کے دوران انگریزی،اردو اور پنجابی شعروں (جیسے بلّے شاہ)کے اشعار بھی پیش کرتے تھے ۔

۱۸۹۹ کے آخر ی دنوں میں سوامی رام تیرتھ سخت بیمار ہو گئے ۔اچھے ہونے پر انھوں نے ایک رسالہ نکالنے کا منصوبہ بنایا ۔اس کا نام انھوں نے ’’الف‘‘ رکھا جو فارسی اور عربی حروف تہجی کا پہلا حرف تھا ۔اس رسالہ کا پہلا شمارہ ’’آنند‘‘ کے موضوع پر شائع ہوا ۔اس کی اتنی مانگ ہوئی کہ اس کے پہلے دو شماروں کو دو دو بار پھر سے شائع کرنا پڑا۔

کچھ ہی دنوں بعد رام تیرتھ نے نوکری سے مستعفی ہو جانے کا ارادہ کر لیا۔بیوی کے علاوہ ان کے دو بچے بھی تھے ۔جب ان کے ایک دوست نے پوچھا کہ بچوں کو کیا کھلائیں گے ؟کیا آپ گھر کی ذمہ داری سے غفلت برتنا چاہتے ہیں ؟جواب میں انھوں نے کہا کہ وہ نہ تو کسی کے نوکر ہیں اور نہ مالک۔انھوں نے کہا اصلی اور سچا کام تو اپنے کو جاننے کا ہے ۔اس کے بعد سارے کام خود بخود ہونے لگتے ہیں ۔سوامی رام تیرتھ نے یہ بھی کہا :

’’میں خود اپنی خوراک ہوں ۔اور ایسی خوراک جس کا انحصار کسی دوسرے پر نہیں ‘‘۔

سوامی جی اورینٹل کالج کی ذمہ داریوں سے سبک دوش ہو گئے اور ہمالیہ کے پہاڑوں اور جنگلوں میں جا کر رہنے کا ارادہ کر لیا۔سوامی جی کی نوکری سے استعفیٰ دینے کی خبر سن کر لوگوں کو بے حد رنج ہوا ۔کچھ لوگوں نے کہا پروفیسر تیرتھ رام پاگل ہو گئے ہیں ۔لیکن جاننے والے جانتے تھے کہ یہ دیوانگی کوئی عام دیوانگی نہ تھی ۔علّامہ اقبال سے جب کسی نے کہا کہ پروفیسر تیرتھ رام کا دماغ خراب ہو گیا ہے تو انھوں نے جواب دیا :’’اگر پروفیسر تیرتھ رام کا دماغ خراب ہے تو کسی کا دماغ بھی ٹھیک نہیں ہے ۔‘‘ سفر میں جن لوگوں کو سوامی جی اپنے ساتھ لے جانے والے تھے وہ تھے ان کے بچے ،بیوی اور کچھ دوسرے لوگ ،جن میں ان کے شاگرد خاص نارائن بھی شامل تھے ۔سوامی جی جنگلوں ،پہاڑوں میں جاکر ،جس طرح بے خوف ہو کر گھومتے اور قیام کرتے رہے وہ ان کی قوت عزم کا بہترین ثبوت ہیں ۔وہ نہ وحشی جانوروں سے ڈرے اور نہ برف باری کا انھیں کوئی خوف ہوا ۔کچھ ہی دنوں کے بعد انھوں نے باقاعدہ سنیاس لے لیا اور گیرو ا لباس پہن لیا۔اسی دن انھوں نے اپنا نام رام تیرتھ رکھا ۔اس سے پہلے وہ تیرتھ رام تھے ۔نام بدلنے میں گویا اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ انھوں نے زندگی کے رخ کو بدل دیا اور خارجی دنیا سے اپنا رخ موڑ کر اندرون کی دنیا میں داخل ہو گئے ۔بیان کیا جاتا ہے کہ سوامی جی کے بیٹے مدن موہن نے جب پہلی بار اپنے والد کو گیروا لباس پہنے دیکھا تو وہ بری طرح رونے لگ گیا ۔

سوامی جی راہبانہ زندگی اختیار کرنے کے بعد کوہستانی خطے میں رہنے لگے ۔اب گیان دھیان ہی ان کا اصل مشغلہ تھا ۔اسی دوران متھرا میں انھوں نے ایک مذہبی کانفرنس میں شرکت کی ۔یہ کانفرنس مختلف مذاہب کی تھی جس میں انھیں صدارت کا فرض انجام دینا تھا ۔یہ کانفرنس ان کی زندگی کے ایک نئے دور کا پیش خیمہ ثابت ہوئی ۔کانفرنس کی اپنی تقریر سے انھوں نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ قدیم فلسفہ کے ہی نہیں جدید سائنس کے بھی بڑے عالم تھے ۔ان کی شخصیت کا گہر اثر شرکاء اجتماع پر پڑا۔ان کے آنند کا جادو سب پر چھا گیا ۔دوسروں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار انھوں نے نہایت بے خوفی کے ساتھ کیا ۔

۱۹۰۲ء میں ٹیہری کے راجہ نے کسی اخبار میں چھپی ہوئی یہ خبر سنائی کے جاپان میں مختلف مذاہب کی ایک کانفرنس ہونے والی ہے ۔راجہ نے اپنی یہ خواہش ظاہر کی کہ سوامی جی اس کانفرنس میں شریک ہو کر ہندو دھرم کی نمائندگی کریں ۔سوامی جی کانفرنس میں شرکت کے لیے جاپان روانہ ہو گئے ۔راستہ میں ہانگ کانگ میں وہ ایک ہفتہ کے لیے رکے اور وہاں ’’گرو بھکتی‘‘کے موضوع پر ان کی تقریر ہوئی ۔وہاں سے چل کر وہ پہلے یوکو ہامہ اور پھر ناگا ساکی میں قیام کیا ۔جاپان پہنچنے پر معلوم ہوا کہ کانفرنس کی خبر غلط تھی ۔دار السلطنت ٹوکیو پہنچے اور پروفیسر پورن سنگھ سے ان کی ملاقات ہوگئی ۔پورن سنگھ بھارت سے جاپان اعلیٰ تعلیم کے لیے آئے ہوئے تھے اور ٹوکیو میں بھارت جاپان کلب کے ناظم تھے ۔سوامی جی سے مل کر وہ بہت خوش ہوئے اور وہ ان سے اتنے متأثر ہوئے کہ کچھ ہی دنوں کے بعد انھوں نے بھی سنیاس لے لیا۔

جاپان میں سوامی جی نے دو تین تقریریں کی اور کئی اہم اشخاص سے ان کی ملاقات رہی ۔ٹوکیو میں ایک دن پورن سنگھ انھیں بیرن نائبو کے گھر لے گئے ۔ سوامی رام تیرتھ سے بات چیت کرتے ہوئے بیرن نائبو اچانک اٹھ کر اندر چلے گئے اور پھر جلد ہی اپنے بیوی اور بچوں کو لے کر آئے ۔انھوں نے بتایا کہ وہ اندر اس لیے گئے تھے کہ جو سعادت اور سرور انھیں حاصل ہوا ہے اس میں وہ بیوی بچوں کو بھی حصہ لینے دیں ۔ٹوکیو کے کامرس کالج میں سوامی جی کی جو تقریر ہوئی اس کا عنوان تھا ’’کامیابی کا راز‘‘۔

جاپان کی تہذیب اور جاپانی لوگوں نے سوامی جی پر اپنی گہری چھاپ ڈالی ۔ اپنی تقریروں میں انھوں نے کہا کہ ان کا دھرم حقیقت میں وہی ہے ،جس کو مہاتما بدھ کے پیرو جاپان لائے تھے ۔فرق صرف یہ تھا کہ سوامی جی اس کی شرح جدید سائنس اور فلسفہ کے پس منظر میں دورِ حاضر کے تقاضوں اور ضرورتوں کے مطابق کر رہے تھے ۔ڈاکٹر مہیش چرن سنگھ ، جو ٹوکیو میں طالب علم تھے کہتے تھے:

’’جاپانی عورتوں کو میں نے یہ تک کہتے سنا کہ رام تیرتھ گویا ان کے بے رنگ پھولوں میں بھی خوشبو پیدا کر دیتے ہیں ۔جو ایسا کر سکتا ہے وہ یقینا ایک ماورائی مقدس شخص ہوگا ۔‘‘

سوامی جی کے جاپان سے چلے آنے کے بعد جاپان کے ایک بزرگ بدھسٹ نے کہا:

’’آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ان کی مسکراہٹ حسین پھولوں کی طرح کھلی ہوئی ہے ‘‘۔

جاپان میں نارائن بھی سوامی جی کے ساتھ تھے ۔واپسی کے موقع پر سوامی جی نے یہ تجویز رکھی کہ وہ خود تو امریکہ جائیں اور نارائن ان کے فکر کی اشاعت برما،لنکا،افریقہ اور یورپ جا کر کریں۔ چنانچہ نارائن ہانگ کانگ واپس آکر وہاں سے سنگا پور ،انڈونیشیا ،برما اور لنکا گئے ۔بعد میں انہوں نے مشرقی اور وسط افریقہ کا بھی سفر کیا۔اور ۱۹۰۳ء کے آخر تک لندن پہنچے ۔لیکن وہاں ان کی صحت خراب ہو گئی ،جس کی وجہ سے انھیں بھارت واپس آنا پڑا۔

سوامی جی ایک سرکس کے لیے تیار جہاز میں سوار ہو کر جاپان سے امریکہ کے لیے روانہ ہو گئے ۔ یہاں ایک قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ویدانت کے پرچار کے لیے ،جس سفر پر سوامی جی اور نارائن نکلے تھے ،اس کے لیے دونوں میں سے کسی کے پاس روپیہ نہ تھا۔سوامی جی جب امریکہ پہنچے اور جہاز بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا تو ایک امریکن نے سوامی جی کو جہاز کی چھت پر لوٹ پوٹ ہوتے ہوئے دیکھا تو ان سے پوچھا:’’آپ کا سامان کہاں ہے ؟‘‘سوامی جی نے کہا:’’سارا سامان بس یہی ہے ‘‘۔ جب اس امریکن کو معلوم ہوا کہ سوامی جی کے پاس روپے پیسے نہیں ہیں تو اسے سخت تعجب ہوا۔ اس نے پوچھا:

’’آپ کا کام کیسے چلتا ہے؟‘‘

سوامی جی کا جواب تھا :

’’میں سبھی لوگوں کو پیار کرتا ہوں ،اس لیے میرا کام چل جاتا ہے ‘‘۔

اس نے دریافت کیا کہ کیا امریکہ میں آپ کا کوئی دوست ہے ؟سوامی جی نے کہا کہ ہاں ہے ۔اور یہ کہتے ہوئے سوامی جی نے اس کے بازوؤں پر اپنے ہاتھ رکھ دیے ۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ شخص بھی سوامی جی کے قدر دانوں میں شامل ہو گیا اور آگے چل کر اس نے اس کا اعتراف کیا کہ رام تیرتھ کی محض موجودگی سے لوگوں کو ایک نئی زندگی حاصل ہو جاتی ہے۔

( دوسرا حصّہ اگلے شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)

 

از: مولانا فاروق خان

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

نظم

کھا نہ دھوکا گردش ایام سے اب تو کٹتی ہے بڑے آرام ...